جاگیرداری ثقافت میں جمہوریت؟
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- بدھ 12 / اکتوبر / 2016
- 12022
پاکستان ثقافتی حوالے سے جاگیردارانہ ثقافت رکھتا ہے۔ اسی لیے لوگوں کا مزاج منطقی نہیں بلکہ فیصلہ کن، فتویٰ جاری کرنے والا مزاج ہے۔ ایک منطقی ملک کا مزاج اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ منطقی ثقافت میں لوگ منطق اور سائنسی رائے کا مزاج رکھتے ہیں۔
جدید جمہوریت کی کامیابی بھی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب سماج منطقی ہوجائے۔ اسی لیے ایسی جدید جمہوریت کو پولیٹیکل سائنس میں صنعتی جمہوریت Industrial Democracy کہا جاتا ہے۔ معاشرہ منطقی Rational ہوتا ہے۔ ہمارا سماج جاگیردارانہ ثقافت کے ساتھ ساتھ قبائلی رحجانات بھی رکھتا ہے۔ اسی لیے سماج میں عام لوگوں سے لے کر دانشوروں تک میں دھڑے بندی عام پائی جاتی ہے ۔ ایسا سماج، زمینی حقائق، منطقی Rational رائے نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں جمہوریت کا مزاج بھی جاگیردارانہ اور قبائلی ہے اور اس پر ذات پات اور خاندانوں کی ہزاروں سال پرانی روایات۔ اس جاگیردارانہ ثقافت کو آپ سیاست سے لے کر زندگی کے ہرشعبے میں دیکھ سکتے ہیں۔ دانش، فکر، ادب، صحافت، مذہبی گروہوں اور زندگی کے تمام طبقات میں۔
ایسے سماج میں جب جاگیردارانہ طبقات سے نکل کر جاگیردارانہ ثقافت درمیانے اور نچلے طبقات تک پھیل جائے تو کیا سماج ابھرتا ہے؟ اسی میں ہم رہ رہے ہیں۔ Feud کا مطلب ہی لڑائی جھگڑا ہے۔ Feudal Culture لڑائی ، جھگڑے، دھونس، دھاندلی، اپنے نظریات، خیالات، افکار، خواہشات اور عقائد مسلط کیے جانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ فیوڈل کلچر جب اپنے حقیقی طبقے (فیوڈل) سے باہر نکل کر عام یعنی تمام طبقات میں رچ بس جائے تو ایسا معاشرہ ، منطق، دلیل اور سائنسی اپروچ کی بجائے فتوے بازی پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں اسی لیے جمہوریت کا مزاج جاگیردارانہ ہے کہ سماج کی ثقافت جاگیردارانہ ہیں ۔ جمہوری سماج اور جاگیردارانہ سماج میں یہی فرق ہوتا ہے۔ کسی فیوڈل سماج میں Democratic Societyجنم ہی نہیں لے سکتی۔
ہم جب عمران خان کو فتویٰ جاری کرتا دیکھتے ہیں تو درحقیقت وہ فیوڈل ثقافت کا بڑا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اُن کی جمہوری جدوجہد کو جاگیردارانہ ثقافت سے لبریزدیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ آپ کا آئیڈیل نظام کیا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں قبائلی نظام، جرگہ وغیرہ۔ یہ سوال میں نے اُن سے اُن کی سیاسی جدوجہد کے آغاز میں بھی کیا اور اس کے بعد بھی۔ اُن کے جواب پر میرا سوال تھا کہ آپ ایک طرف قبائلی نظام کو پسندیدگی سے دیکھتے ہیں اور دوسری طرف سب سے زیادہ جمہوری Democratic سماج، سیکنڈے نیوین ممالک(سویڈن، ناروے اور فن لینڈ) کی تعریف کر رہے ہیں۔ کیا وہاں قبائلی نظام ہے؟ اُن کے پاس جواب کی بجائے آئیں بائیں شائیں تھا۔
اگر آپ اُن کی مقبولیت کے زمانے سے سیاست کے انداز کو دیکھیں تو وہ زیادہ جاگیردارانہ ثقافت کی نمائندگی کرنے لگے ہیں۔ اردو نہ پڑھ سکنے والا، انگریزی بولنے والا، برطانوی نظام کی اہم درسگاہ ایچیسن کالج اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور دنیا کی لبرل سوسائٹیز کے مقبول کھیل کرکٹ کا ہیرو، مگر ثقافت جاگیردارانہ ، یہ اُن کی شخصیت کا اہم تضاد ہے۔ پنجاب میں نئی مڈل کلاس کا ابھرا لیڈر، خیبر پختون خوا میں پسماندہ قبائلی رسم ورواج میں شہرت پانے والا لیڈر، طالبان کو آئیڈیل قرار دینے والا، لبرل دنیا (کرکٹ کی دنیا) کا ہیرو۔ ذرا تضاد کو مدنظر رکھیں۔ اُن میں اور سارے رہنماؤں میں یہی جاگیردارانہ مزاج ہے جو اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ چوں کہ یہ افراد ایسے نظام کی پیداوار ہیں جنہوں نے فیوڈل ثقافت میں جنم لیا۔ جہاں لیڈر کی رائے پہلی اور آخری ہوتی ہے۔
یہ فیوڈل ثقافت آپ اہل دانش میں بھی دیکھ سکتے ہیں جو فیصلہ کن انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے قلم کو استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح الیکٹرانک میڈیامیں بھی بڑے سے بڑا تجزیہ نگار بھی فیصلہ کن رائے دیتا نظر آتا ہے۔ ذرا آپ مغرب کے کسی چینل کو غو ر سے دیکھیں تو آپ کو فیوڈل ثقافت اور ڈیموکریٹک ثقافت میں صاف فرق نظر آجائے گا۔ ہمارا کوئی بھی معروف تجزیہ نگار کسی ایک شعبے میں یا کسی ایک موضوع پر مہارت Specialized کا حامل نہیں ۔ وہ ہر موضوع پر بول لیتا ہے اور اہم یہ ہے کہ فیصلہ کن بولتا ہے۔ ہمارے معروف اور سینئر تجزیہ نگاروں کو آپ ٹی وی چینلز پرایسے جملے کہتے دیکھ سکتے ہیں’’میں جانتا ہوں‘‘ ، ’’میں کہہ رہا ہوں‘‘، ’’مجھے معلوم ہے‘‘ جب کہ اس کے مقابلے میں مغرب کے کسی اہل علم دانشور کو مغرب کے کسی ٹی وی چینل پر آپ یہ کہتا سنیں گے،"I think, may be I am wrong.."۔ حتیٰ کہ آپ ناؤم چومسکی کو سنیں، وہ کبھی بھی فتویٰ گیری اور فیصلہ کن اندازمیں تجزیہ کرتے نظر نہیں آئیں گے۔ جب کہ ہمارے ہاں دانشور فیصلہ کن اور حتمی علم رکھنے کا دعویٰ کرتے نظر آئیں گے۔ یہ فرق ہے ایک فیوڈل سماج اور فیوڈل ثقافت اور ڈیمو کریٹک سماج کے درمیان۔
پاکستان میں منطقی معاشرہ نہیں بن سکا۔ اس سماج کے ساری روایات Norms فیوڈل ہیں۔ اسی لیے، جمہوریت اور ثقافت بھی فیوڈل ہے۔ حکومت اور اپوزیشن بھی فیوڈل ہے۔ امیر بھی فیوڈل ہے اور درمیانہ طبقہ بھی ثقافت کے حوالے سے فیوڈل ہے۔ ہم جس جمہوریت کو اپنے ہاں لانا چاہتے ہیں یا اس کا دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ آگئی، اسے جدید اور جمہوری دنیا میں بورژوار ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ لیکن عملاً یہاں بورژوا ڈیموکریسی ابھی تک نہیں آئی۔ اس لیے کہ سماج کا سارا معاشی نظام غیر بورژوا ہے۔ معیشت کی بنیاد جاگیردارانہ ہے۔ ہمارا دکان دار طبقہ یا چھوٹی موٹی ملوں کا مالک بھی جاگیردارانہ ثقافت کا مالک ہے۔ دہائیوں کی آمریت نے اس فیوڈل ثقافت کو مزید فروغ دیا۔ آمرانہ طرزِ حکمرانی نے حکمرانی کے نظام اور حکمران طبقات کے اندر ہی آمرانہ ثقافت کو فروغ نہیں دیا بلکہ آمرانہ نظام سماج کے تمام طبقات میں سرایت کر گیا۔ اسی لیے آپ عام لوگوں میں جنرل ضیا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ اور جنرل مشرف کا بگڑا ہوا مزاج دیکھ سکتے ہیں
آمرانہ حکومتیں Dictatorial Regimes کسی بھی سماج میں آمرانہ ثقافت Dictatorial Culture کو فروغ دیتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لیڈر جو جمہوریت کی جدوجہد کررہے ہوتے ہیں، وہ بھی Dictatorial Culture کو اپنا لیتے ہیں۔ اور ایک ایسا سماج جو منطقی نہ ہو، وہاں آمرانہ ثقافت کی زیادہ آبیاری ہوتی ہے۔ پاکستان میں اِن آمرانہ حکومتوں اور نظام نے جاگیردارانہ ثقافت میں اسی لیے زیادہ فروغ پایا۔ جاگیردارانہ ثقافت اپنے انداز، چال ڈھال میں بڑی مغرور ہوتی ہے۔ کبھی آپ جدید دنیا کے کسی حکمران کو جہاز پر چڑھتے اور اترتے دیکھیں، تو فرق نظر آ جائے گا۔ دنیا کی کسی بھی بڑی مغربی جمہوریت کا حکمران اپنی چھتری بارش میں خود اٹھائے نظر آئے گا، تیز تیز قدموں کے ساتھ جہاز پر چڑھتا اترتا۔ ہمارے جیسے سماج کا حکمران نخرے کے ساتھ قدم اٹھاتا اور اپنے جاگیرداری نظام کے کارندوں کے ساتھ جن کے ہاتھوں میں اس کے لیے اور اس کی خاتون کے لیے چھتری ہوگی۔ ہمارے معروف کالم نگار جب ترقی کرکے یورپ میں سفر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اُن کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں اس جمہوری ثقافت کو دیکھ کر جہاں وزیر اور وزیراعظم ٹرینوں، ٹراموں پر سفر کرتے ہیں۔ وہ پھٹی نگاہوں سے ان کو دیکھ کراپنے قارئین کو قلم کے ذریعے حیران کن خبریں دیتے نظر آتے ہیں کہ یورپ میں یوں ہوتا ہے، یورپ میں ووں ہوتا ہے۔ چوں کہ وہ خود غربت سے معروف ہونے کے سفر کے دوران خود بھی کسی جاگیردار کی طرح رویہ Behave اختیارکر رہے ہوتے ہیں۔ اکڑی گردنیں اور مسکراہٹ سے اجتناب۔ ہر ثقافت اپنے ذرائع پیداوار کے سبب گہرے اثرات حاصل کرتی ہے۔ ہمارے ذرائع پیداوار جاگیردارانہ نظام سے پیوستہ ہیں۔ اسی لیے یہاں کا حکمران طبقہ درمیانے طبقہ، حتیٰ کہ نچلا درمیانہ طبقہ، جمہوری جدوجہد کے علم بر دار اور اہل دانش جاگیردارانہ ثقافت میں رچے بسے ہیں۔