شکورا
مصرع تھا ہی کچھ ایسا کہ شعر دو لخت ہو جاتا تھا۔۔
آتا ہے یاد مجھ کو پکڑا ہوا کبوتر
دست قضا میں ہائے جکڑا ہوا کبوتر
سو پنکی مستانہ اس پر رات بھر شعر بنانے کی ناکام کوشش کے بعداب خاصے بیزار بیٹھے دودھ پتی کا انتظار کر رہے تھے جو ان کی اہلیہ ساس پین میں کھولا رہی تھیں۔ قیدی کبوتر پر نظم لکھنے کا خیال پنکی صاحب کو ایک پاکستانی کبوتر کی گرفتاری پر آیا تھا جسے بھارتی سینا نے جاسوس قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا۔
چند سال قبل بھی جاسوسی کے ایسے ہائی ٹیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھارتی ایجنسیوں نے ایک جاسوس کبوتر پکڑ لیا تھا اور شاید وہاں کی پنجاب پولس نے اس پر چھترول کرکے بہت کچھ اگلوا بھی لیا تھا۔ اس سے پہلے چھپ کر راجستھان میں داخل ہونے والا ایک جاسوس اونٹ بھی پکڑ ا جا چکا تھا اور اس پروہاں حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ چلو کبوتر کی تو خیر ہے ، پر پاکستانیوں نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ایک ہائی ٹیک جاسوس اونٹ کو بھی اتنی آسانی سے بھارتی ناکے میں سے گزارا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی سوئی کا ناکہ تو ہے نہیں۔
بہرحال چائے تیار تھی اور پھرتخلیق کے کرب سے گزرتے مستانہ صاحب نے جیسے ہی ہونٹ سکیڑکر کھولتی چائے کا پہلا اورحیات بخش گھونٹ لینا چاہا ، شکورے نے دھڑا م سے ڈیوڑھی کا دروازہ کھولتے ہوئے آواز لگائی:
ساب جی !تیاری کر لو ۔ سرجیکل ہو گیا ہے۔‘‘
یوں اچانک چونکا دیے جانے پر مستانہ صاحب اچھلے تو ہونٹ بری طرح جل گئے ۔ جھلا کربولے:
’’ کیا بکتاہے۔ کس کا آپریشن ہو گیاہے۔‘‘
’’ آپریشن نہیں ساب جی ۔۔ سر جیکل۔‘‘
شکورے نے مستانہ صاحب کی لا علمی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا :
’’ کمال ہے سر جی آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں۔ اپنا ایک کبوتر اور پکڑا گیا ہے ۔ وہ تو صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ اب یدھ ہو گا۔ ادھر اپنے ٹیلیویژن والے ڈاکٹر صاحب بھی بہت غصے میں ہیں۔ کہتے ہیں مہاشوں کے دانت کھٹے کرنے ہی پڑیں گے۔ بہت کھی کھی کرنے لگے ہیں۔‘‘
’’ کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا‘‘‘
مستانہ صاحب نے بیزاری سے کہا:
’’ ٹیلیویژن کے ڈاکٹروں کی باتوں پر دھیان نہ دیا کر۔ بس یونہی الٹی سیدھی ہانکتے رہتے ہیں۔‘‘
’’ نہ سر جی۔ کیا بات کرتے ہیں۔ پورے شہر میں جلوس نکل رہے ہیں۔ وہاں ملک صاحب کی دکان پرمحلے والے بھی اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کوئی دفاعی کمیٹی بن رہی ہے۔ آپ کو بھی بلایا ہے۔ جلدی کریں۔ اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ کسی وقت بھی نیا سرجیکل ہو سکتا ہے۔‘‘
بیگم مستانہ جو شوہر کے دیر سے ناشتہ کرنے پر خفا ہوتی دوپہر کے کھانے کے لئے آلو چھیل رہی تھیں، جنگ کا سن کر سہم سی گئیں۔ گبھرا کر پوچھنے لگیں :
’’ ارے شکورے یہ سرجیکل کوئی نیا ہتھیار ہے کیا۔ غضب خدا کا۔ ایٹم بم سنبھلتا نہیں۔ اب سرجیکل بنا لیا ہے۔‘‘
’’ پتہ نہیں باجی! کوئی خطرناک چیز ہی لگتی ہے۔‘‘
پوری طرح باخبر نہ ہونے پر شکورے نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ اور یہ ندامت تھی بھی بجا ۔ کیونکہ وہ تو گلی کا اخبار سمجھا جاتا تھا۔
شکورا مسیح گلی کا خاکروب ہے۔ جین اور جوگر پہنے ہر وقت کسا کسایا رہتا ہے۔عمر یہی کوئی پچیس چھبیس سال ہو گی ۔ کچھ سال بھنگیوں کے سکول میں پڑھتا رہا ہے سو تھوڑی بہت گٹ مٹ بھی کر لیتا ہے۔ والدہ مقامی اسپتال کے سرجیکل وارڈ میں صفائی کا کام کرتی ہے۔ باپ دو سال پہلے مین ہول صاف کرتے ہوئے زہریلی گیس سے مر گیا تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ ڈیوٹی کے دوران مرا جس پر سرکار نے بیٹے کو نوکری دے دی اور وہ بھی بغیر کسی سفارش کے۔ رشوت دینے کے پیسے تو تھے نہیں۔ سو بہت خوش ہے۔ اب سرکاری نوکری ہے لیکن محلے والے گھر کے کام بھی کروا لیتے ہیں۔ یوں بھی گلی میں صفائی کا کام وہ کم ہی کرتا ہے۔ کبھی ملک صاحب کلچہ فروش کے ہاں دکھائی دیتا ہے تو کبھی حاجی قدرت اللہ پنساری کی دکان پر بوریاں آگے پیچھے کر رہا ہوتا ہے۔ گاہے مولوی صاحب بلوا لیتے ہیں تو کبھی کوئی اور۔ کیا کرے بیچارہ۔ سرکاری تنخواہ میں تو گزارا ہوتا نہیں۔ بس ادھر ادھر منہ مار کے دن بھر میں سو پچاس بنا ہی لیتا ہے۔ گٹر بند ہو جائیں تو انہیں کھولنے کے پیسے الگ لیتا ہے۔ محلے کے آوارہ لونڈے تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ خبیث خود ہی بند کردیتاہے تاکہ مال پانی بنا سکے۔
مستانہ صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی جب ملک صاحب کلچہ فروش کی دکان پر پہنچے تو وہاں تو مجمع لگا تھا اور چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان، سبھی نعرے لگاتے قومی جذبے کا اظہار کر رہے تھے۔ شکورا اپنی سائیکل کے کیریر میں بڑا جھاڑو پھنسا کران سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر نعرے لگانے والوں میں شامل ہو چکا تھا۔ اور اب بھولا قصائی کے پہلو میں کھڑا تمتماتے چہرے کے ساتھ اچھل اچھل کر زندہ باد، زندہ باد۔۔ مردہ باد، مردہ باد ۔۔ کے نعرے لگا رہا تھا۔
بھولا ہے تو قصائی لیکن زیادہ دلچسپی کبوتر اڑانے میں لیتا ہے۔ ہفتے میں بس ایک آدھ دن ہی دکان کھولتا ہے اور وہ بھی ایسے جیسے کسی پر احسان کر رہا ہو۔ بے ضرر اور معصوم ہے لیکن چہرے سے انتہائی سفاک اور اوباش دکھائی دیتا ہے۔ ہونٹوں کو ڈھانپے بھاری مونچھیں، گال پر کسی پرانے زخم کا نشان، ماتا کے داغ، آگے کے دانت باہر کو اٹھے ہوئے جن پر بڑی بڑی شرابی آنکھیں۔ دکان نہ بھی کھولے تو اکثر کام کے دوران پہننے والا کرتا ہی اوڑھے رکھتا ہے جس پر خون کے دھبے ایسے نمایاں ہوتے ہیں جیسے ابھی ابھی کسی کو قتل کر کے آرہا ہو۔ گوشت بناتے وقت چھری کا رخ ہمیشہ گاہک کی جانب کرکے پوچھتا ہے :
’’ ہاں جی ! ران کا بناؤں یا گردن کا ؟ ‘‘
ایسے میں گاہک ران کا بنوانے میں ہی عافیت جانتا ہے۔
بھولا اس وقت اپنے تجربے کی بنیاد پرکبوتروں کی اقسام اور عادات پر بات کر رہا تھا:
’’ دیکھیں جی ! سچ پوچھیں تو مجھے توہر سرکاری کام کی طرح اس میں بھی دو نمبری لگتی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دو کبوتر آگے پیچھے پکڑے جائیں۔ ضرور جنگلی ہوں گے۔ کم بختوں نے پیسے لیے ہوں گے نسلی کے اور سدھائے ہوں گے جنگلی۔ پھر سرجیکل تو ہونا ہی تھا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ قاصد کبوتر چٹھی لے کر جائے رانجھے کے نام اورجا بیٹھے کیدو کی ران پر۔ توبہ ہے جی۔ توبہ ۔ ہم سے پوچھ لیتے۔ ساری عمر اسی کام میں گزری ہے۔ ایسا کبوتر بھیجتے کہ ان چڑی ماروں کے باپ سے بھی نہ پکڑا جا سکتا۔‘‘
پھر مجمع کا اشتیاق دیکھ کر بتانے لگا:
’’ دیکھیں جی راز کی بات یہ ہے کہ کبوتر پکڑنے کے لئے کبوتریاں چھوڑی جاتی ہیں۔ آخر کو مرد ذات ہے لڑھک جاتا ہے۔ ہاں اگر اصلی نسلی ہو تو مجال ہے آنکھ اٹھا کر بھی کسی کبوتری کو دیکھے، خواہ گھنٹوں اڑتا رہے۔ سیدھا مچان پر واپس آتا ہے جی۔ سکھانا پڑتا ہے۔ خاطر داری کرنی پڑتی ہے۔۔ جان مارنی پڑتی ہے۔۔ ایسے تو نہیں کہ۔۔
اس موقع پر ملک کلچہ فروش کی دکان کے سامنے رکھی آٹے کی بوریوں پر بیٹھے مولوی صاحب نے ڈپٹ کر اسے روک دیا:
’’ اوئے بھولے بد ذات! یہ کون سا موقع ہے ایسی فحش باتیں کرنے کا۔ ادھر سرجیکل ہو چکا ہے اور تو کبوتروں کے جنسی تعلقات پر تقریریں کر رہا ہے۔ شرم کر۔ یہاں بچے بھی موجود ہیں۔‘‘
بھولا یوں ٹوک دیے جانے پر ابھی خجل ہو ہی رہا تھا کہ اس بیوی بھی اسے ڈھونڈتی ڈھانڈتی وہاں آ پہنچی۔ خاصی بد مزاج اور غصے والی ہے۔ دیکھتے ہی دور سے چلائی:
’’ ستیا ناس بھولے۔ تو نے آج پھردکان نہیں کھولی۔ بچوں کو بھوکا مروائے گا کیا۔ چھوٹے کی طبیعت کل سے خراب ہے۔ تجھے فکر ہی نہیں۔ چل اسے ڈاکٹر کے پاس لےجانا ہے۔‘‘
بھرے مجمعے میں بیوی سے جھاڑ کھانے پر بھولے کی اوپر کو اٹھی مونچھیں نیچے کو ڈھلک گئی تھیں اور اب وہ قاتل کی بجائے مقتول دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے بس میں ہوتا تو کبوتروں کی بجائے اپنی گھر والی کو ہی بارڈر پار بھیج دیتا۔ بھرائی آواز میں بولا:
’’ حمیداں ! تجھے کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ سرجیکل ہو چکا ہے۔ جنگ چھڑنے والی ہے اور تجھے دکان کھولنے کی پڑی ہے۔ تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ ‘‘
بد مزاج حمیداں نے جاتے جاتے رک کر ایک نظر بھولے کو دیکھااور وہیں سے چلائی:
’’ توگھرتو آ۔ آج میں کرتی ہوں تیرا سرجیکل۔‘‘
سب جانتے ہیں کہ مولوی صاحب اور پنکی مستانہ کی آپس میں نہیں بنتی۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی الجھنے کا بہانہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ مولوی صاحب اس وقت نعرے لگاتے مجمع سے خطاب فرما نے والے تھے۔ پنکی مستانہ کو دیکھتے ہی ان کے لہجے میں سختی آ گئی۔ تلخ ہوتے ہوئے بولے :
’’ پنکی صاحب کچھ پتہ ہے آپ کو بارڈر پر کیا صورتحال ہے۔ کبوتر پکڑے جا چکے ہیں۔ سرجیکل ہو چکا ہے، ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکل رہے ہیں اور آپ گھر میں بیٹھے حسن و عشق کے افسانے گھڑ رہے ہیں۔ ہماری نظر میں تو ایسی شاعری واقعی حرام ہے۔‘‘
پنکی صاحب بھلا کہاں چوکنے والے تھے۔ پلٹ کر بولے :
’’ قبلہ آدھی جنگ تو ترانوں سے جیتی جاتی ہے جو ہم جیسے شاعر ہی لکھتے ہیں۔ پینسٹھ کی جنگ یاد ہے آپ کو جب سبز پوش گھڑ سواروں نے دشمن کے بم گھونپے تھے۔ کس نے لکھے تھے اس جنگ کے ترانے۔ ظاہر ہے ہمیں شاعروں نے ہی لکھے تھے۔‘‘
اس سے پہلے کے بات آگے بڑھ جاتی ، معاملہ فہم ملک صاحب کلچہ فروش آج شام کے جلسے کی تفصیلات مولوی صاحب کو بتانے لگے۔ عظمت اسلام کا یہ جلسہ سرحدوں پر پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں بلایا جا رہا تھا۔ بعد میں شیرینی بھی تقسیم ہونی تھی۔
’’ ڈیڑھ من لڈو کافی رہیں گے۔‘‘ملک صا حب نے رائے دی۔
’’ تھوڑے زیادہ کر لیجئے۔ ‘‘ مولوی صاحب ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولے:
’’ آپ تو جانتے ہی ہیں کچھ حریص بد بخت دو دو دفعہ بھی تبرک لے جاتے ہیں۔ اب ان کا کیا کیا جائے۔ سبز پنے میں دو دو لڈو پیک کروائیے اور تقسیم پر بھولے قصائی کو بٹھا دیجئے۔ سنبھال لے گا۔‘‘
جلوس روانہ ہونے لگا توکلچے بنانے والے ایک نان پاس کواپنی سائیکل اور جھاڑو کا بطور خاص خیال رکھنے کا کہہ کر شکورا بھی اس میں شامل ہو گیا اور ہاتھ میں پکڑی سبز ہلالی جھنڈی لہراتے ہوئے زور زور سے نعرے لگانے لگا۔
مولوی صاحب کی نظر پڑی تو وہیں بوری پر بیٹھے بیٹھے دھاڑے:
’’ اوئے شکور مسیح ! توکدھر ! چل ادھر آ۔‘‘
جذبات سے مغلوب ہوتا شکورا اب جلوس کا حصہ بن چکا تھا اور کسی صورت اس سے الگ نہ ہونا چاہتا تھا۔ بادل نخواستہ وہاں آیا تو مولوی صاحب نے ایک مرتبہ پھر پو چھا:
’’ تو کدھر جاتا ہے۔ بڑا شوق ہے تجھے سیر سپاٹے کا۔‘‘
’’ سیر سپاٹا نہیں مولوی جی۔ میں تو جلوس کے ساتھ جارہا ہوں۔ سرجیکل کیا ہے جی دشمن نے ہمارے اوپر۔ بڑا غصہ آ رہا ہے مجھے۔‘‘
شکورے نے سبز ہلالی جھنڈی ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’ تیری برادری والوں کے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود ہی سنبھال لیں گے۔‘‘
مولوی صاحب نے درشتی سے کہا:
’’ اورتجھے پتہ نہیں آج پچھواڑے کے میدان میں جلسہ ہے۔عید کے بعد سے کتنا گند جمع ہو چکا ہے وہاں۔ کس بات کی سرکاری تنخواہ لیتا ہے تو حرامخور۔ صفائی تیرا باپ کرے گا۔ اوپر شکایت ہو گئی تو نوکری سے جائے گا۔ سمجھا ۔‘‘
’’ جی مولوی جی !‘‘
نوکری جانے کی دھمکی سے شکورا سہم ساگیا اور اس کے ہاتھ میں لہراتی جھنڈی نیچے کو ڈھلک گئی ۔
مولوی صاحب کھنکھارتے ہوئے ہدایات دینے لگے:
’’ تنبو قناتوں والے بس آتے ہی ہوں گے۔ تو ایسا کر کہ ان کے دریاں بچھانے سے پہلے اچھی طرح جھاڑو لگا کر گند وہاں سے ہٹا دے۔ اللہ رسول کانام لیا جانا ہے۔ جگہ پاک صاف ہونی چاہیئے۔‘‘
شکورے نے ہاتھ میں پکڑی جھنڈی اپنے سائیکل کے ہینڈل میں جمائی اور اسے گھسیٹتا ہوا پچھواڑے کے میدان کی طرف ہو لیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا ہوگا کہ ملک صاحب کلچہ فروش نے آواز لگائی:
’’ اوئے شکورے !رات ایک آرڈر کینسل ہو گیا تھا۔ کافی سارے نان بچے پڑے ہیں۔ گھر جاتے ہوئے لیتا جائیں۔‘‘
’’ جی ملک صاحب۔‘‘ شکورے نے چلتے چلتے کہا۔
پھر اسے کچھ خیال آیا تو رک کر پوچھنے لگا:
’’ ملک صاحب ! رات کا کوئی سالن بچا پڑا ہو تو وہ بھی لیتا جاؤں۔۔‘‘