نیپرا اور حکومت ۔ برداشت کے ٹوٹتے بند
- تحریر
- جمعہ 14 / اکتوبر / 2016
- 4584
ہائی ویز پر اکثر ٹرکوں، بسوں اور ویگنوں کی پشت پر لکھا دیکھا، برداشت کر یا پاس کر! پہلے پہل تو پڑھ کر لکھنے والے کی حس مزاح کو داد دی لیکن جب ان گاڑیوں کو پاس کرنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ یہ صرف اطلاع عام کے لیے ہی نہیں لکھا گیا، بلکہ ایک کھلا چیلنج ہے۔ جسے زندگی اور گاڑی کی سلامتی عزیز نہیں وہ کوشش کرکے دیکھ لے۔ ایسے میں اکثر برداشت کیے ہی بنتی ہے، پاس کرنے کی کوئی صورت نہیں نکلتی ۔ بس ایک بے بسی اور اند رہی اندر ایک غصہ نیم پاگل کر دیتا ہے یا ادھ موا۔
حکومت بھی آج کل کچھ ایسی ہی ایک صورتحال سے دوچار ہے۔ حکومت نے اپنا سب سے بڑا سیاسی داؤ 2018 تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے پر لگا رکھا ہے۔ سی پیک کا ذکر ہو یا آر ایل این جی، کوئی بھی سرمایہ کاری فورم ہو یا رسمی سفارتی ملاقات، حکومت کی تان دو سال بعد لوڈ شیڈنگ ختم کر نے کے عزم پر ٹوٹتی ہے۔ لیکن کیا کیجیے کہ حکومت کے اپنے ہی پہلو میں ایک ادارہ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے بقول ساری کوششوں کے سامنے سپیڈ بریکر بن کر آ جاتا ہے۔ نیپرا نام کے اس ریگولیٹری ادارے نے حکومت کے کئی اقدامات کی توثیق نہیں کی بلکہ الٹا کئی ایک سفارشات پر مخالف فیصلہ سنا دیا۔ حکومت قانون میں موجود اپنے حقوق یعنی نظر ثانی اور نئی پٹیشن نئے حقائق کے ساتھ کا آپشن استعمال کر چکی لیکن نیپرا کا دل نہ پسیجا۔ 2018 ہے کہ سر پر آن پہنچا ہے، انرجی سرمایہ کار شکوہ کناں ہیں کہ ایک ذرا سی نظرثانی ، ایک ذرا سا اضافہ ہی تو ٹیرف میں مطلوب تھا لیکن بات کا بتنگڑ بن گیا۔ حسب خواہش اضافہ ممکن نہ ہو سکا۔ ایک طرف سرمایہ کار ہیں کہ جن کا نخرہ بھلے وقتوں کے محبوب سے بھی سوا ہے اور دوسری طرف یہ ریگولیٹری ادارہ ہے کہ اسے اپنے اختیارات پبلک انٹرسٹ میں استعمال کرنے کا سودا سمایا ہوا ہے۔
سو اب حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ نیپرا کے بنیادی قانونی ڈھانچے میں ترمیم کرکے اسے صرف حکومت کا ایک مشاورتی ادارے کا درجہ دے دیا جائے۔ ایسی صورت میں وزارت پانی و بجلی کی ہدایات پر من و عن عمل ہی اس کے نیک چال چلن کی ضمانت سمجھا جائے گا۔ اطلاعات یہی ہیں کہ وزارت نے ترامیم کا مسودہ سٹیک ہولڈرز میں رائے زنی کی غرض سے تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے اسے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ امکان یہی ہے کہ ایک یا دو صوبے اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ساری محنت اکارت جا سکتی ہے لیکن حکومت نے بھی کچھ سوچ کر ہی ریگولیٹر کو سینگوں سے تھامنے کا رسک لیا ہوگا۔!
چند سال قبل ہمارے ایک دوست اسلام آباد میں اکنامک افیرز ڈویژن میں ایک سینئیر آفیسر تھے۔ ان دنوں پرویز مشرف کا طوطی بول رہا تھا۔ سندھ میں ان کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی کا بھی طوطی ان ہی کی طرح دبنگ بولی بولتا تھا۔ کچھ یہی عالم دوسرے صوبوں اور وفاق میں ان کے وزراء اور رفقاء کا تھا۔ ہمارے یہ دوست ان دنوں این جی اوز کے لیے بیرونی امداد کی تقسیم پر مامور تھے۔ منسٹری کے اپنے طے شدہ قواعد اور ضوابط کے مطابق بیرونی امداد کے لیے درخواست دینے والی این جی اوز کے لیے پروجیکٹ کی فیزیبلٹی، این جی اوز کی رجسٹریشن اور تین سالہ قیام اور انجام دیے گئے پروجیکٹس وغیرہ کی تفصیلات معمول کی کاغذی کاروائی تھی۔ نئی حکومت اور نئی دولہن کے ناز نخرے کچھ الگ ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے دوست کو ان نئے نئے کارپردازان وطن کے فون کچھ اس حاکمانہ شان سے موصول ہونے لگے: “یہ صاحب آ رہے ہیں۔ بہت قریبی دوست اور اہم شخصیت ہیں۔ ان کی ایک این جی او بھی ہے۔ انھیں دو کروڑ کی گرانٹ دے دیں“۔
انہوں نے بڑی بڑی بیگمات اور صاحب لوگوں کی کاغذی این جی اوز کو مطلوبہ کوائف پورے نہ ہونے پر اپنے تئیں ملکی مفاد کے تحفظ اور سچے آفیسر ہونے کے ناطے انکار کرنے سے گریز نہ کیا۔ ایک، دو، تین۔۔۔ وزراء اور مشیران کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ایک ایسی ہی کال نے موصوف کا تبادلہ کسی کھڈے لائن میں کر دیا۔ ہمیں ان کا ایک فقرہ آج تک یاد ہے۔ “مجھے یوں محسوس یوتا ہے کہ میں ایک ایسے موکل کا کیس لڑ رہا تھا جو خود سویا ہوا تھا۔ اس کی ہمدردی میں میرے ساتھ کیا بیت گئی ، اسے خبر ہی نہیں“۔ موصوف نے بعد کی کئی اہم پوسٹنگز پر سوئے ہوئے موکل یعنی قوم کے لیے ایسے ہی کارنامے انجام دینا جاری رکھا۔ اور یوں جتنا عرصہ ڈیوٹی پر گزارا اس سے کچھ زیادہ آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی رہے۔ گذشتہ سال ریٹائرمنٹ پر ان کی یہ آزمائش ختم ہوئی اور انہوں نے بھی اپنے موکل کی طرح سونا شروع کیا۔
ریگولیٹری ادارے اپنی روح میں غیر جانبدار اور بے لاگ ہونے چاہیں۔ اسٹیٹ بنک، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، کامپیٹیشن کمیشن آف پاکستان۔ نیپرا، اوگرا اور کئی دیگر ادارے اسی اسپرٹ کے مطابق قائم گئے۔ ان میں سے اکثر اداروں کے قیام کے قوانین اور ضوابط تو بڑے شاندار اور دھوم دھام سے عالمی معیار کے مطابق بنے لیکن جب عمل درآمد کی باری آئی تو ان قوانین اور ضابطوں میں پوشیدہ نکات اور ان کا آئینی تحفظ پاؤں کی زنجیر بننے لگے۔ ایسے میں حکومت ان اداروں میں اپنے منظور نظر لگانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس میں قباحت یہ آن کھڑی ہوتی ہے آئینی ادارے ہونے کی وجہ سے ان ریگولیٹری اداروں میں پہلے سے موجود حکام کی مدت آئینی طور پر مقرر ہوتی ہے اور حکومت انہیں اپنی مرضی سے چلتا نہیں کر سکتی۔ یوں کئی ایک صورتوں میں ایک کشا کش یا سرد جنگ سی شروع ہو جاتی ہے۔
نیپرا سے وزارت پانی و بجلی کو کئی گلے ہیں۔ وزارت نے بار بار پیٹیشن پیش کی کہ نندی پور بجلی گھر منصوبے کے لیے ٹیرف 65 ارب روپے کی لاگت پر طے کیا جائے جس سے اگلے تیس سالوں کے لیے اس کا ٹیرف تقریبا 15.63 روپے طے ہونا چاہیے ۔ نیپرا کے مطابق جانچ پڑتال او ر صرف محتاط Prudent اخراجات کو شامل کرنے کے بعد پروجیکٹ کی لاگت 42 ارب کو ہی بنیاد بنایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ٹیرف 11.64 روپے بنتا ہے۔ نیپرا کا اصرار ہے کہ RLNG پائپ لائن کی لاگت گیس کمپنی کے ذمے ہونی چاہیے نہ کہ پروجیکٹ کے۔ اسی طرح مٹیاری لاہور پائپ لائن کے ٹیرف کی تعین میں بھی سرمایہ کار کمپنی طے کردہ ٹیرف سے ایک تہائی کے لگ بھگ زائد پر مصر ہے لیکن نیپرا ہے کہ ماننے پر آمادہ نہیں۔ اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں سسٹم لاسز، Ineffecencies اور بجلی چوری کو صارفین کی جیب کی طرف منتقل کرنے میں بھی نیپرا کو تامل ہے۔ اب حکومت نے تنگ آکر ایک دو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹکانے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن اب تک کا تجربہ زیادہ تر کیسز میں یہ رہا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں نے ریگولیٹری ادارے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
2018 سر پر کھڑا ہے اور بجلی پیداوار کے کئی منصوبے ایسی تکنیکی دقتوں سمیت کئی مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ حکومت ہماری طرح بے بس تھوڑی ہے کہ برداشت کرے اور پاس نہ کرے۔ مشترکہ مفادات کونسل میں مشکل تو ضرور پیش آ سکتی ہے لیکن حکومت کے پاس کرنے کے بہت طریقے ہیں۔ آخرSECP وSEC اوراسٹیٹ بنک جیسے خود مختار اداروں کا ڈنک بھی تو نکال ہی لیا۔ مدت ہوئی کہ SECP یا CCP نے کسی بڑے کارٹل یا مگر مچھ کو ہاتھ ڈالا ہو۔ سب چین سے ہیں، بڑے بڑے کارٹل بھی اور حکومت بھی۔ رہا پبلک انٹرسٹ تو اس وقت سب 30 اکتوبر پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔
موجودہ حکومت ہی کیا، سرکاری ملازموں کو محض ربڑ سٹیمپ کے کردار میں دیکھنے کی خواہاں ماضی کی سب سیاسی اور غیر سیاسی حکومتیں رہی ہیں۔ سالہا سال کی سیاسی مداخلت نے معاملہ یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ فیڈرل پبلک سروسز کمیشن سر پکڑے بیٹھا ہے کہ اس بار سی ایس ایس کے امیدواروں کے پاس ہونے کا تناسب بمشکل دو فی صد کیوں رہا؟ ہمارے دوست جیسے سرپھرے بار بار کی انتظامی سزاؤں کے بعد اب نایاب ہو رہے ہیں، آئینی تحفط کی چھتری میں ایک آدھ ریگولیٹر ہی بابو جی ذرا دھیرے کا مشورہ دینے کے باوجود اپنی پوسٹنگ برقرار رہنے کا سوچ سکتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے اب حکومتی برداشت جواب دے رہی ہے۔