کیا پنجابی بیہودہ زبان ہے

بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی انتظامیہ نے زیر تعلیم طلبہ کے والدین کے نام ایک خط جاری کیا ہے۔ اس خط کی نقل  میرے سامنے ہے ۔ میں نے اسے متعدد بار پڑھا ، جس میں لکھا گیا ہے کہ پنجابی ایک بے ہودہ زبان ہے تمام طلبہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ انہیں سکول کے اوقات اور گھر پر بھی یہ زبان بولنے کی اجازت نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ سکول انتظامیہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پالیسی کے مطابق سکول کے نظم وضبط پر من وعن عمل کیا جائے ۔

قارئین ! یہ وہی بیکن ہاؤس سکول ہے جس میں کسی عام آدمی کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرتا۔ ملک میں رائج دیگر درجنوں اقسام کے نظام تعلیم کی طرح بیکن ہاؤس سکول کا بھی اپنا نظام ہے۔ آپ اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن جب میری ماں بولی زبان پنجابی کےلئے ’’فاؤل ‘‘ جیسا لفظ استعمال کریں گے تو اس پر لازمی احتجاج کیا جائے گا۔

یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ مجھ سمیت کروڑوں پنجابیوں کے دل دکھے ہیں۔  سوشل میڈیا پر تو قصوری اینڈ فیملی کے خلاف جنگ بپا ہے اور ان کی شان میں اس اقدام کے بعد ناقابل بیان الفاظ کہے جارہے ہیں۔  میری صرف بیکن ہاؤس سکول انتظامیہ سے یہ گزارش ہے کہ  والدین کے نام متنازعہ خط لکھنے سے قبل قصوری اینڈ فیملی کو اپنے نام  اور پنجابی سے اس کی نسبت کے بارے میں ہی غور کرلینا چاہئے تھا۔  پندرھویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان مسلمان صوفی بزرگوں  نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم تحریریں رقم کیں۔ سب سے مقبول بزرگوں میں بابابلھے شاہؒ شامل ہیں، جن کی وجہ سے قصور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ ان کی شاعری کافیوں پرمشتمل ہے۔ قصوری اینڈ فیملی اگر بھول گئی ہے تو انہیں یاددہانی کرواتا چلوں کے بابابلھے شاہ ؒ کا تمام کلام پنجابی زبان میں ہے۔ وہی پنجابی زبان جس کے بارے میں آپ نے ’’فاؤل‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔

قصہ خوانی بھی پنجابی ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ سب سے مشہورقصہ ہیراوررانجھے کی محبت کا قصہ ہے جوکہ وارث شاہؒ کے قلم سے رقم ہوکرامرہوچکاہے۔ دیگرصوفی شعرامیں شاہ حسینؒ ،سلطان باہوؒ اورخواجہ غلام فریدؒ ؒ جیسی برگزیدہ ہستیوں کا موازانہ کرتے ہیں جن کے پنجابی اشعار آج بھی کسی روحانی محافل میں نہ پڑھے جائیں تو محافل کی رونق برقرار نہیں رہتی۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جویورپ سمیت دنیا بھر کے کسی بھی نامور اداروں سے تعلیم یافتہ نہیں تھیں ، لیکن اگر انہیں اپنی ہستی میں پوری کی پوری یونیورسٹی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ انہوں نے ایسی ایسی گہری باتیں کہیں جنہیں آج بھی لوگ رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

پنجابی ادب کی بات آئے گی تو اس میں سکھ مت کے بانی باباگورونانک کا نام کبھی نہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔  بابا گرونانک اور سکھوں کے پانچویں گوروارجن دیونے گوروگرنتھ صاحب کی تالیف بھی پنجابی میں کی تھی۔ پنجابی کے جدید ادباء میں موہن سنگھ، شوکمار بٹالوی، امرتا پریتم، سرجیت پاتر، منیر نیازی، استاد دامن، انورمسعود ، منوبھائی اور بابا نجمی شامل ہیں۔  جنہوں نے پنجابی میں شہرہ آفاق تحریریں لکھیں۔ چلتے چلتے ڈاکٹرفقیرمحمد فقیرکی مدون کی ہوئی کتب کا ذکر نہ کرنا پنجابی ادب کے ساتھ زیادتی ہوگی جس میں کلیات ہدایت اللہ، ابیات علی حیدر، کلیات بلھے شاہ اورچٹھیاں دی وار، مرزاصاحباں، سوہنی مہینوال، شعری کتب میں صدائے فقیر، نیلے تارے، مہکدے پھول، ستاراں دن، چنگیاڑے اورعمرخیام کی رباعیات کے منظوم تراجم شامل ہیں ۔

بیکن ہاؤس سکول انتظامیہ جس پنجابی زبان کےلئے’’ فاؤل ‘‘ کا لفظ لکھ رہی ہے وہ عالمی شماریات کی رپورٹ بھی تھوڑا سا وقت نکال کر پڑھ لے جسے دنیا کی گیارھویں بڑی زبان کہا جاتا ہے۔ اسی لئے تو پنجابی امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اورکینیڈا میں اقلیتی زبان کے طورپربولی جاتی ہے۔ ان سب حقائق کے باوجود اگر کوئی پنجابی زبان کو ’’فاؤل“ کہے تو وہ احمق ہی ہوسکتاہے۔