عدالتوں کا اعتبار اور انصاف

ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس اقبال حمیدالرحمان نے آسیہ بی بی کے مقدمے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ کہنے کو تو یہ بس ایک خبر ہے لیکن اس خبر کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہوا لگتا ہے۔  یہ وہی آسیہ بی بی ہے جس پر ایک کھیت میں کام کرتی کچھ مزدور عورتوں نے توہین رسالت کا الزام عائد کیا تھا اور اس کو ایک محلے کے مولوی کی وساطت سے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

مولوی صاحب کی گواہی پر پولیس نے مقدمے کا اندراج کیا اور تفتیش مکمل کرنے کے بعد عدالت میں چالان پیش کیا اور عدالت نے آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی تھی ۔ اسی مقدمے کے دوران اس وقت کے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے ملاقات کی اور ایک بیان میں توہین رسالت کے قانون پر تنقید کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا۔  اس کے نتیجے میں گورنر  کی سیکورٹی پر مامور ایک سپاہی ممتاز قادری نے گورنر پنجاب پر حملہ کر کے انہیں قتل کردیا تھا۔ ان کا مقدمہ کئی مراحل سے گزر کر آخر کار ممتاز قادری کی پھانسی پر منتج ہوا ، جس کے نتیجے میں ملک میں مذہبی جماعتوں نے بہت ہنگامہ کھڑا کیا اور ممتاز قادری کو شہید قرار دیا ۔ 

لیکن آسیہ بی بی کا مقدمہ ہنوز جاری ہے اور پہلی عدالت سے سزائے موت کے بعد ہائی کورٹ بھی اس کی اپیل کو خارج کر چکی ہے۔ اب اس مقدمے کی اپیل پر سپریم کورٹ میں کارروائی جاری ہے۔ ایک دن پہلے سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کے مقدمے کی سماعت تھی اور اسی اثناء میں ایک معزز رکن بینچ جناب جسٹس اقبال حمیدالرحمان نے اس مقدمے کی کارروائی میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر سلمان تاثیر کے مقدمے کی سماعت کی تھی۔ اس لئے وہ آسیہ بی بی کے مقدمے کی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی معزز جج  نے کسی مقدمے کی سماعت سے انکار کر دیا ہو ۔ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر کئی جج صاحبان لوئرکورٹس میں بھی اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی کئی مقدمات کی سماعت سے انکار کر چکے ہیں ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے پاناما لیکس پر بھی ایسا ہو چکا ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن سوال جب آزاد عدالت کا اور انصاف کا ہو تو پھر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا تو پھر یہی مطلب لیا جائے گا نا کہ اس ملک میں انصاف کا ترازو پکڑنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہے۔

کسی بھی ملک کو چلانے میں،  ملک کے دفاع میں،  ملک کی ترقی میں،  ملک کی سلامتی میں، ملک کی معیشت میں اور ملک کی مضبوطی میں سب سے بڑا رول انصاف کا ہوتا ہے۔ اور انصاف دینا عدالتوں کا کام ہوتا ہے۔ اسی لئے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیراعظم چرچل کے اس بیان نے بڑی شہرت حاصل کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری عدالتیں معاشرے میں انصاف بہم پہنچا رہی ہیں تو پھر ہم جنگ نہیں ہار سکتے ۔  اس سے اندازاہ لگایا جا سکتا یے کہ کسی بھی معاشرے اور ملک میں انصاف کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ لیکن انصاف کرنے کے لئے آزاد عدالتی نظام ازحد ضروری ہے۔  ایسا عدالتی نظام جس میں فیصلے کرتے وقت جج صاحبان کے سامنے صرف انصاف کا ترازو ہو اور ان کو کسی قسم کا خوف ہو اور نہ ان کے فیصلوں پر کوئی تنقید ہو سکے ۔

اسی وجہ سے پوری دنیا میں توہین عدالت کا قانون بھی نافذ ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جج صاحبان کسی خاص مقدمہ میں کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟  کیا ان کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ وہ انصاف نہیں کر پائیں گے؟  یا پھر یہ کہ اس ملک میں کچھ طاقت ور گروہ ان کے انصاف کرنے پر ہنگامہ کھڑا کر دیں گے؟  ایسا کیوں ہے؟  کیا اس ملک میں ایسے طاقتور گروہ موجود ہیں جو سب کچھ اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اور خود کو کسی قانون، قاعدے اور آئین سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ جب کوئی عدالتی فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہ آئے تو وہ خطرہ بن جاتے ہیں؟ یا پھر ہماری عدالتوں پر حکومتی دباؤ اور حکومتوں پر کوئی غیر ملکی دباؤ انصاف کے آڑے آجاتا ہے؟ (جیسا کہ رائمنڈ کیس میں ہؤا)

لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم اسلام کے نظام عدل کی تعریف کرتے ہوئے اسے پوری دنیا میں بہتر نظام سمجھتے ہیں اور خلفائے راشدین کے دور کے عدالتی نظام کی مثالیں پیش کرتے ہیں، تو پھر ان خلفائے راشدین کے دور کے قاضی صاحبان کی طاقت کو کیوں کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ان کی طاقت کے سامنے خلیفۂ وقت بھی کمزور ہوتے تھے۔  کیا ہماری حکومت اور عوام ملکی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے ہر طرح کے عدالتی فیصلے ماننے اور منوانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کچھ سوچیں گے۔

  اگرچہ جج صاحبان سے بھی بعض اوقات فیصلے کرنے میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے کیوں کہ وہ بھی انسان ہیں اور ان تک معلومات پہچانے والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ملکی بیانیے میں مکمل سچ کی بھی کوئی فراوانی نہیں ہے ۔ لیکن ہمیں اپنی اعلی عدالتوں کے فیصلوں پر بنا چوں و چراں سرخم تسلیم کرنا چاہیے اور اپیل کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ہم نظرثانی کی اپیل کا حق بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔ لیکن عدالتی فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانا چائیے تاکہ جج صاحبان ہر طرح کے خوف سے مبرا اپنے فیصلے دے سکیں۔ خواہ بعض اوقات یہ فیصلے مسلم ملک میں مسلمان کے مقابلے میں کسی غیر مسلم کے حق میں ہی کیوں نہ ہوں ۔  کبھی ایسا موقع نہیں آنا چاہیے کہ کسی معزز جج کو کسی مقدمے کی سماعت سے دستبردار ہونا  پڑے ۔ حکومت سمیت کوئی بھی ادارہ یا کوئی سیاسی یا مذہبی گروہ قانون و انصاف سے بالاترنہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کو عدالتی کارروائی میں مخل ہونے کی جرات ہونی چاہیے ۔

آئیں سب مل کر انصاف کو مضبوط کریں۔ اپنے جج صاحبان کی عزت و احترام کریں۔ ان کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کریں۔ اسی طرح اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ باہر سے یا اوپر سے کوئی نازل ہونے والا نہیں ہے۔