احمد ندیم قاسمی: ادب کے ذریعے سماج کی تعمیر میں کردار
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 15 / اکتوبر / 2016
- 81694
انسان کی عظمت کے گیت گانے والے عہد ساز ادیب اور بے مثال شاعر احمد ندیم قاسمی تمام عمر مختلف اصنافِ ادب کی تخلیق میں مصروف رہے۔ جن میں نظم ، غزل ، افسانہ ، کالم نویسی ، بچو ں کی کتابیں، تراجم ، تنقید، انشائیے اور ڈرامے وغیرہ شامل ہیں۔ وہ مدیر، کالم نویس، سیاسی مبصر اور صحافی بھی تھے۔
انہوں نے جاپانی نظموں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لازوال ڈرامے بھی لکھے۔ ان کے افسانوں کا بڑا حصہ نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ بہت سے افسانے روسی، چینی، فارسی اور انگریزی کے علاوہ پنجابی، بنگلہ، سندھی، گجراتی اور مراٹھی جیسی علاقائی زبانوں میں بھی منتقل ہو چکے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے ان کے تین شعری مجموعوں، دشت وفا، محیط اور دوام پر انہیں ’’آدم جی ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز ہے۔ اس اعزاز کے علاوہ انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
احمد ندیم قاسمی کچھ عرصہ ادبِ لطیف، سویرا اور کچھ عرصے نقوش کے مدیر رہے۔ پھر انہوں نے اپنے ادبی جریدے فنون کا اجرا کیا۔ روزنامہ جنگ، امروز اور حریت کے لیے کالم لکھتے رہے۔ وہ مختصر مدت کے لیے انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ وہ ایک اصلاح پسند شخصیت، درد مند دل رکھنے والے، غیر جانب دار صحافی، بے غرض نقاد اور فطری شاعر تھے۔ نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہے۔
احمد ندیم قاسمی کی تحریروں میں ’’انسان‘‘ سرفہرست ترجیح رہا۔ وہ انسان کی عظمت اور اہمیت کے قائل تھے۔ انہوں نے دوستوں کو عزیز جانا مگر دشمنوں کی بھی تحقیر نہیں کی۔ وہ جتنے بڑے شاعر تھے، اتنے ہی بڑے افسانہ نگار، اتنے ہی اعلیٰ انسان بھی تھے۔ان کا گمبھیر آواز میں شاعری سنانے کا انداز بے حد منفرد تھا اور مجھے ذاتی طور پر بہت پسند بھی۔
احمد ندیم قاسمی نے سماجی حقیقت نگاری کے ذریعے نہ صرف اپنے افسانوں میں دیہی رہن سہن، طبقاتی تضاد، سماج کے پسے ہوئے استحصالی طبقات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو موضوع بنایا بلکہ سیاست اور مذہب کے ٹھیکے دار بھی جو اپنے مفاد کے لیے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں ان کے قلم کی زد سے بچ نہ پائے۔ ان کا تعلق میرے شہر سرگودھا کے قریب ایک گاؤں انگہ سے تھا۔ خوب صورت وادئ سون کا یہ گاؤں اب تحصیل خوشاب کا حصہ ہے۔ ایک گاؤں سے تعلق کی وجہ سے ہی دیہات کا جاگیرداری ماحول قاسمی صاحب کے براہِ راست مشاہدے میں رہا۔ ان کا زمین اور زمین زادوں سے رشتہ دور سے یا بالائی سطح پر نہیں بلکہ گہرائی میں تھا۔ قاسمی کا فرد اور سماج سے ایک گہرا رشتہ تھا، جو ان کے افسانوں اور شاعری میں جھلکتا ہے۔ ان کے افسانے حقیقت نگاری پر مبنی رہے اور بقول خود ان کے، حقیقت جامد چیز نہیں ہوتی۔ اس کا ماضی کی تاریخی حقیقتوں سے رشتہ ہوتا ہے اور یہ مستقبل کے ساتھ بھی ایک رشتہ بناتی ہے۔
احمد ندیم قاسمی ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن رہے۔ اگرچہ اس کی ذہنی و فکری تشکیل میں مارکسزم کا ایک نمایاں کردار تھا۔ لیکن انہوں نے مارکسزم کو ادبی پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بنایا۔ وہ نہ تو ترقی پسند ہونے کو دین کے خلاف سمجھتے تھے اور نہ ہی ایسے ادب کے قائل تھے جس میں لکھنے اور پڑھنے والے صرف زبان وبیان میں ہی الجھے رہ جائیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دونوں طرف کی تنقید کا نشانہ بنے۔ اور یہی سبب ہے کہ انہوں نے جس زمانے میں ’’انسان عظیم ہے خدایا‘‘ جیسی باکمال نظمیں اور رئیس خانہ جیسے افسانے لکھے، انہی دنوں وہ حمدو نعت بھی لکھتے رہے۔
قاسمی صاحب کی جڑیں اپنی مٹی میں بڑی گہری تھیں۔ یوں وہ ایک غیر جانب دار ادیب کے روپ میں ابھرتے ہیں جن کے افسانوں اور شاعری میں نظریہ تو موجود ہے لیکن نظریے کا بلاوجہ پراپیگنڈا دکھائی نہیں دیتا اور دوسری طرف ان کا دیہی پس منظر اور وطن کی مٹی سے محبت کا حوالہ بھی ان کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے اشتہاری ادب کی تخلیق سے گریز کیا اور ترقی پسند تحریک کے وہی رجحانات اپنائے جو معاشرے میں قابل قبول تھے۔ جب ادبی حلقوں میں ’’ادب برائے فن‘‘ یا ’’ادب برائے زندگی ‘‘ کی بحث جاری تھی، انہوں نے ادب میں مقصدیت پر زور دیا لیکن اپنے فن کو مجروح ہونے بھی نہیں دیا۔ ان کی کمٹمنٹ موجودہ سماج کے انسان سے تھی جواس دور کی الجھنوں، پریشانیوں اور ناانصافیوں کی زد میں ہے ، کسی سیاسی نظریے سے ان کی کمٹمنٹ نہیں تھی ۔
وہ دوسری جنگ عظیم اور پھر تقسیم ہند کے واقعات کے براہِ راست شاہد رہے، یوں اس وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں لکھی جانے والی ان کی تحریریں غیر جانب د اری سے انسانی فطرت کی سفاکی، جبر اور بربریت کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ انہیں اپنا وطن عزیز تھا، لیکن انہوں نے خود پر جذباتیت کو غالب نہ آنے دیااور انسان دوستی کو اپنے سامنے رکھا۔
احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کا ایک اہم موضوع تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے فسادات ہیں، جن کے پس منظر میں ظلم و جبر، انسانیت کی تذلیل، پست انسانی ذہنیت اور بربریت کی کہانیاں ہیں۔ اردو کے تقریباً سبھی بڑے افسانہ نگاروں نے اس موضوع پرلکھا۔ مگر بیشتر لکھاریوں نے تصویر کا صرف ایک ہی رخ دکھایا۔ پاکستانی ادیبوں نے سکھوں اور ہندوؤں کے ظلم و تشدد کوتحریر کیا اور ہندوستانی لکھاریوں نے مسلمانوں کی بربریت کو موضوع بنایا۔ لیکن احمد ندیم قاسمی اور سعادت حسن منٹو کے اس پس منظر میں لکھے گئے افسانے اپنی غیرجانبداری کی وجہ سے اہم ہیں۔ انہیں ادراک تھا کہ کسی بھی قوم یا مذہب کے لوگ ایسے حالات میں مشتعل ہوسکتے ہیں۔ اچھے برے لوگ سماج کے تمام طبقوں میں ہوتے ہیں اور انسان کی محرومیاں، ناکامیاں یا نفسیات ایسے سانحوں کا سبب بنتی ہیں۔ اپنی حب الوطنی کے باوجود انہوں نے فسادات کے موضوع پر لکھتے ہوئے جذباتیت کو خود پر غالب نہیں آنے دیا اور ایک بڑے ادیب کے طور پر اپنے فرائض سے منہ نہ موڑا۔ اس موضوع پر قاسمی صاحب کا افسانہ ’’پرمیشر سنگھ‘‘ بہت اہم ہے۔
ہمارے ہاں ادیبوں کی ذاتی وابستگیاں انہیں محدود موضوعات سے آگے دیکھنے ہی نہیں دیتیں۔ قاسمی صاحب نے اپنی سماجی حقیقت نگاری میں حقیقت اور رومان کے درمیان تضاد کو ختم کیا۔ یوں انہوں نے تخلیق کاروں کو بھی نئی راہیں سجھائی ہیں۔ اگرچہ ان سے پہلے لکھنے والوں کی ٹھوس حقیقت نگاری پر اعتراض اٹھتا رہا اور اسی تخلیقی طرزِعمل کی وجہ سے ترقی پسندی کے مزاج میں رومانیت کی لہر بھی ابھری۔ لیکن قاسمی صاحب نے حقیقت اور رومان کو ملا کر حقیقت نگاری کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی ایک اور منفرد خصوصیت ان کی دیہات کی منظر کشی ہے۔ ان کے اپنے خاندان کا ذریعہ معاش کاشتکاری تھا اور اس دور میں ایک معمولی کاشتکار کی زندگی آج سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ سو اُن کی لکھی جگ بیتی بھی آپ بیتی کا سا مزاج رکھتی ہے۔ ان استحصال زدہ دیہاتیوں کی زندگی کا ماحول ہمیں قاسمی صاحب کے افسانوں میں نظر آتا ہے جس میں خود ان کی اپنی زندگی کا پس منظر، تجربہ اور گہرا مشاہدہ شامل ہے۔
ان کے افسانوں میں بیشتر ماحول وادئ سون کا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کو پنجاب کی دیہی زندگی کا افسانہ نگار بھی کہا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دیہی پس منظر میں لکھے ان کے افسانے ہمارے دیہات، وہاں کے طرزِزندگی ، رہن سہن، ثقافت، طبقاتی تفریق اور قدرتی حُسن کے بھی جیتے جاگتے نمونے ہیں۔ اردو میں پنجاب کے دیہات کی تصویر کشی کرتی ایسی خوبصورت کہانیاں اور کسی نے نہیں لکھیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ احمد ندیم قاسمی کی پیدائش سرگودھا کے ایک گاؤں میں ہوئی اور ان کا بچپن وہیں اور لڑکپن اٹک میں گزرا۔ اسی سبب دیہات کی سادگی اور بے ساختہ پن ان کے ادبی لب و لہجے میں رچ گیا۔ ان کی تحریروں میں زمین اور انسان سے ان کی بے پایاں محبت کھل کر سامنے آتی ہے۔ ان کا تخیل پنجاب کی فضاؤں کے چپے چپے سے آشنا ہے۔ انہوں نے لہلہاتے کھیتوں ، گنگناتے دریاؤں کو ایک نئی زبان دی۔ دیہی پنجاب کی رومانی فضااور وہاں کے لوگوں کی سادگی ، زندہ دلی ، جرأت،جفاکشی اورخدمت و ایثار کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل اور مشکلات ان کے افسانوں میں لازوال ہو گئے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی نے دیہی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کے سماجی مسائل کو بھی اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوں میں شہر کی غربت، بے روزگاری، مزدور، بھکاری، کلرک، افسر وغیرہ کے مسائل بھی ملتے ہیں۔ قاسمی صاحب کے افسانوں کا بنیادی موضوع طبقاتی تضاد ہے جو ترقی پسندوں کوہمیشہ پسندرہا مگر اجتماعی موضوع سے ہٹ کر احمد ندیم قاسمی کی ہر کہانی کے جیتے جاگتے کردار خود اپنی شناخت بھی رکھتے ہیں۔ ان کے کردار ایک موضوع پر اپنے اجتماعی دکھ بیان کرتے ہوئے ایک انسان کی کہانی بھی سناتے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں کردار محض کسی ایک طبقے کے نمائندہ نہیں بلکہ سماج کی علامت بن جاتے ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے صرف مجبور اور بے کس کردار ہی تخلیق نہیں کیے۔ ان کے افسانوں میں اس نظام اور جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے کردار بھی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے ان کرداروں کی ذہنی کیفیات کی بہترین عکاسی کی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی نے شہری متوسط طبقے یا دیہی زندگی کا انتخاب یہ سوچ کر کیا ہو کہ متوسط یا زیادہ تر نچلے طبقے زمین میں اپنی جڑیں مضبوط رکھتے ہیں اور مٹی سے ان کا ناتا بھرپور ہوتا ہے۔
منافقت کے حوالے سے لکھے گئے قاسمی صاحب کے افسانوں کا بنیادی موضوع معاشی ناہمواریاں ہیں جو ہماری زندگی میں قدم قدم پر موجود ہیں اور مختلف طرح سے ہمارا استحصال کرتی ہیں۔ انہی کی وجہ سے ظلم و انتقام کی بے شمار صورتیں نظر آتی ہیں اور سیاست و مذہب کے ٹھیکیدار اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے بڑھ کر اس تفریق سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (افسانے: گھر سے گھر تک، سفارش)۔
احمد ندیم قاسمی کی انفرادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں کے لیے ایسے موضوعات کو بھی چنا جن پر ان کے ہمعصرترقی پسند افسانہ نگاروں کی نظر نہ پہنچی، یا اگر پہنچی بھی توانہوں نے اپنے افسانوں میں ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جن سے ان کی واقفیت سنی سنائی تھی، انہیں اس کا براہ راست تجربہ یا مشاہدہ نہ تھا ۔ جیسا کہ پسماندہ مسلمان طبقے میں ضعیف الاعتقادی، پیری فقیری اور اس کی آڑ میں چلنے والے غیر اخلاقی دھندے (افسانہ: بین)، مذہب کے نام پر ظاہر داری اور توہمات، دیہی سماج میں خاندانی رقابتیں۔ اس کے برخلاف احمد ندیم قاسمی نے دیہی زندگی کے اس طبقاتی اور معاشرتی نظام کا برسوں تجربہ کیا تھا۔ پھر شہر منتقل ہونے والوں کی زندگی ، اس کا مصنوعی پن ، دوستی اور منافقت، رشتے اور موقع پرستی یعنی ہر رویہ ان کے ذاتی اور انفرادی تجربوں سے گزرا۔ ان کا افسانہ صرف پنجابی ماحول اور اسی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ آفاقی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں کوایسی وسعت دیتے ہیں کہ اس میں پنجاب کے باہر کی دنیا بھی شامل ہو جاتی ہے۔
قاسمی صاحب نے شاعری کی ابتدا 1931ء میں کی۔ انہوں نے مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر پہلی نظم لکھی جوروزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی۔ یہ ان کے لیے بڑا اعزاز تھا۔ انہیں نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوگئی تھی۔ ابتدا میں قاسمی صاحب نے عام شاعروں کی طرح رومانی انداز اپنایا لیکن پھر وہ سوچ کی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے جہاں انہوں نے افسانے کی طرح شاعری میں حقیقت پسندی کا نظریہ اپنا لیا اور ان کی شاعری میں انسانیت دوستی اور سماجی مساوات و انصاف کا رنگ نظر آنے لگا:
داورِمحشر مجھے تیری قسم
عمر بھر میں نے عبادت کی ہے
تو میرا نامۂ اعمال تو دیکھ
میں نے انساں سے محبت کی ہے
ان میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔ انہوں نے انسان دوستی کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ وہ اپنی شاعری میں نئی زندگی اور نئے نظام کے اقدار کی باتیں کرتے تھے اور اس دھرتی پر نئے آدم کی آمد کے زندگی بھر منتظر رہے جس سے ان کو بڑی امیدیں تھیں۔ وہ تحریک پاکستان کا حصہ رہے، ان کی شاعری میں جنگ ستمبر، سقوطِ ڈھاکہ، ملکی حالات، سب کا رنگ جھلکتا رہا۔
افسانے کی طرح شاعری میں بھی ان کا مقام بلند ہے۔ ان کی شاعری کے اعلیٰ معیار کی سب نے تعریف کی۔ جوش ملیح آبادی جیسا شاعر جو بہت کم ہی کسی کی تعریف کرتا تھا، وہ بھی ان کی شاعری کے معترف تھے۔ احمد ندیم قاسمی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں شاعری کی۔ اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے وہ اس دور کی تخریبی فضا میں بھی ایک نئی دنیا کی تعمیر کے خواب دیکھتے رہے۔ ان کی شاعری میں وسعت نظر، گہری فکر، آدمی کی عظمت کے احساس اور انسان اور سماج کی اندرونی قوت پر بے پناہ اعتماد کا اظہار نظر آتا ہے۔ اسی طرح قیامِ پاکستان سے لے کر پاک بھارت جنگوں میں لکھے گئے ان کے ترانے اور بے مثال نظمیں ان کی انسانیت پر امید کی عکاس ہیں:
وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشت انساں پر
کسی بھی شہر میں جاؤں غریب شہر نہیں
وہ صرف گُل وبلبل کے شاعر نہیں تھے۔ اْن کا مشاہدہ بہت گہرا تھا۔ ان جیسے شاعر کم کم ہی ہیں جو اپنی فکری اور تہذیبی روایات کے ساتھ اپنے سماج سے جڑے رہیں۔ قاسمی صاحب اپنی شاعری میں بھی انسان دوستی ، احترام آدمیت اور عظمت انسان کے داعی رہے:
جب میرے خیال سے خدا تک
صدیوں کا سکوت خیمہ زن ہو
اْس وقت مرے سلگتے دل پر
شبنم سی اْتارتا ہے کوئی
یزداں کے حریمِ بے نشاں سے
انساں کو پکارتا ہے کوئی
احمد ندیم قاسمی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جو ایک عرصہ میدانِ ادب میں سرگرم رہے۔ انہوں نے شہرت کی ایسی بلندیوں کو چھوا جو بہت کم لکھاریوں کو نصیب ہوئی۔ قاسمی صاحب نے شاعری کی، افسانے لکھے، اخبارات کے لیے کالم لکھے، ان سب تحریروں اور شاعری میں ان کے ترقی پسند نظریات غالب رہے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کا حصہ بھی رہے ۔ لیکن قاسمی صاحب کے فن کے باعث ان کے کردار کسی ایک طبقے کے نمائندہ نہیں رہے، بلکہ کئی ہزار انسانوں کی علامت بن گئے۔ احترامِ آدمیت ان کی شاعری کا بھی موضوع رہا جس نے اردو زبان اور ادب پر اپنا اثر چھوڑا ہے۔ ان کی تخلیقی جہات کو کھوجنا ابھی باقی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے بغیر اردو شعر وادب کی تاریخ نامکمل ہے:
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
(یہ مقالہ احمد ندیم قاسمی کی 100ویں سالگرہ پر انقرہ یونیورسٹی کی انٹرنیشنل اردو لٹریچر کانگرس 12-15اکتوبر 2016ء میں پڑھا گیا، جو انطالیہ ترکی میں منعقد ہوئی)