سویڈن کی نازی و نسل پرست پارٹی

سویڈ ن کے وزیر اعظم  سٹیفان لؤفوین نے گزشتہ روز قومی ٹیلیویژن پر ایک مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ’’ انتہائی دائیں بازو کی غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف متحرک ’’ سویڈن ڈیموکریٹس‘‘ پارٹی ایک ’’ نازی اور نسل پرست ‘‘ پارٹی ہے ۔‘‘

سویڈن میں غیر ملکیوں اور  مسلمانوں کے خلاف ملکی و علاقائی سطح پر پائی جانے والی نفرت و نسلی تعصب کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلے سال جب سے ملک میں شامی مہاجرین کی ایک  بڑی تعداد در آئی ہے، اس نفرت اور نسلی تعصب میں بھی اسی رفتار سے اضافہ  ہو تا جا رہا ہے۔ سویڈن ڈیموکریٹس ( ایس ڈی) ‘‘ پارٹی اِس  نفرت و تعصب کو ہوا دینے والے سیاسی اور تارکین وطن مخالف دیگر حلقوں میں پیش پیش ہے ۔

وزیر اعظم سٹیفان لؤفوین نے ٹیلیویژن پر مباحثے کے دوران ایس ڈی پارٹی کے حقیقی سیاسی ایجنڈے کا پردہ چاک کرتے ہوئے اس کا اصل چہرہ ناظرین کو دکھایا ہے۔ اس پر ملک بھر میں اور خاص کر ان علاقوں میں جہاں یہ پارٹی اپنے قدم جما چکی ہے، ایک ایسی سیاسی بحث نے سر اٹھا لیا ہے۔ یہ مباحث  مستقبل قریب میں سویڈش جیسے روایتی اعتدال پسند اور انسان دوست سماج میں  ’’ سیاسی تلخی ‘‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ اس کا خمیازہ تارکین وطن اور مسلمانوں کو ہی بھگتنا ہی پڑے گا۔ یہ بحث قومی سیاست کو بھی ایک نیا رخ دے سکتی ہے ۔ لیکن وزیر اعظم نے ایس ڈی پارٹی کو ایک ’’ نازی و نسل پرست‘‘ پارٹی  قرار دیتے ہوئے جس طرح اس پارٹی کی غیر ملکیوں کے خلاف سیاست کو نشانہ بنایا ہے کیا وہ درست ہے؟ اور سویڈن جیسے جمہوری معاشرے میں ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے اپنی حریف پارٹی پر اس  طرح کا الزام لگانے پر ملک کے ماہرین کیا رائے رکھتے ہیں؟  ایس ڈی پارٹی اپنے حقیقی سیاسی ایجنڈے کو ظاہر کرنے کی بجائے کہاں کہاں جھوٹ بولتی ہے ۔

 سٹاک ہولم کی سؤدرٹؤرن یونیورسٹی میں سیاسیات کے سینئر لیکچرار  نیکولاس ایلوٹ کا کہنا ہے کہ  ایس ڈی پارٹی کے متعلق ایسا کہنا کوئی متنازعہ بات نہیں کیونکہ 1980 میں سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی کو قائم کرنے والے وہی لوگ تھے جنہیں نازیوں کے طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں اپنے تشخص پر کوئی ندامت نہیں تھی بلکہ وہ اس پر فخر محسوس کرتے تھے ۔ لیکن اُس وقت جو سچ تھا ضروری نہیں کہ وہ اب بھی سچ ہی ہو ۔ لیکن دوسری جانب  اتنی طویل مدت گزر جانے پر ایس ڈی اب کوئی ’’ نومولود پارٹی‘‘ تو رہی نہیں لہٰذا اس پارٹی کی جڑیں دیکھنا اور اُن کے حوالے سے اِس کے سیاسی ایجنڈے اور سیاسی تشخص کے متعلق بات کرنا جائز  اور ضروری ہے ۔ سویڈش وزیر اعظم نے ایس ڈی پارٹی کے متعلق ٹیلیویژن مباحثے کے دوران اپنے بیان کو اگلے روز یہ کہہ کر وضاحت کی کہ دراصل ان کا مطلب یہ تھا کہ ایس ڈی پارٹی نازی جڑیں رکھتی ہے ۔ کیونکہ  یہ پارٹی نسل پرست تنظیم ’’ وائٹ پاور ‘‘ کی تحریک سے وجود میں آئی تھی ۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی میں یورپی سیاسیات کے ماہرپروفیسر لان مانرس بھی اس سے متفق ہیں کہ سویڈن ڈیموکریٹس کی جڑیں ہی اس کے موجودہ سیاسی تشخص پر  وہ ’’ لیبل ‘‘ لگاتی ہیں جو اس پر نہ صرف اب بلکہ بہت عرصہ  پہلے سے لگا ہؤا ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سٹیفان لؤفوین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ  ایس ڈی پارٹی کی نازی جڑیں رکھتی ہے اور  1980 میں یہ  نسل پرست ’’ نئے نازیوں ‘‘ ہی پر قائم تھی جس نے  1990 اور 2000  میں اس پارٹی  کی پرداخت میں مضبوط کردار ادا کیا۔ اس کے اثرات اب تک برقرار ہیں ۔ سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی اور غیر ملکیوں اور مسلمان مخالف کئی  دوسرے متحرک گروپوں کو  انتہائی دائیں بازو  کی پارٹی یا گروپس کہا جاتا ہے۔  ان کے بارے میں نازی ، نیو نازی، اینٹی امیگرنٹس یا اینٹی اسلام ہونے کا ذکر بہت کم کیا جاتا ہے۔ یوں یہ پارٹی دیگر  گروپوں کے اصل سیاسی عزائم کبھی کھل کر سامنے نہیں آئے ۔

سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں سیاسیات کی  ماہر لِی بینش بیؤرکمان بھی یہ نہیں سمجھتیں کہ ایس ڈی انتہائی  دائیں بازو  کی پارٹی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دائیں یا بائیں بازو کی سیاست کے بیچ ایس ڈی کسی بھی معیار سے ’’ انتہائی دائیں بازو ‘‘ کی پارٹی نہیں ۔ چند  وجوہات کی بنا پر وہ ایک  درمیانی سیاسی پارٹی ہے ۔ لیکن اس میں قومیت پرستی اور اس سلسلے میں پارٹی کے نظریات اس پر متعصب ہونے کا غازہ لگاتے ہیں ۔ جو بظاہر دکھائی نہیں دیتا ۔ سؤدرٹؤرن یونیورسٹی کے سینئر لیکچرار  نیکولاس ایلوٹ کا کہنا ہے کہ   ایس ڈی پارٹی پر انتہائی دائیں بازو کے ہونے کا لیبل لگانا براہ راست کوئی معاملہ نہیں کیونکہ  ایس ڈی  خود دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایک  قومیت پرست  پارٹی ہے اور وہ قومیت پرستانہ روّیہ رکھتی ہے ۔

 کسی ایک پارٹی پر  انتہائی دائیں بازو کی پارٹی ہونے یا قومیت پرست ہونے کا لیبل لگاتے ہوئے دراصل اِس ساری بحث میں اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا  اعلانیہ اعتراف وزیر اعظم سٹیفان لؤفوین نے ٹیلیویژن پر مباحثے کے دوران کیا ہے۔ یعنی  سویڈن ڈیموکریٹس ایک نازی و نسل پرست پارٹی ہے۔ الفاظ کی اس جنگ میں  دیکھنا یہ ہے کہ ’’ نازی ازم اور قومیت پرستی ‘‘ نے دوسری عالگیر جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف کیا گھناؤنے جرائم کیے تھے۔ لیکن اس طرف کسی کا دھیان نہیں اور وزیر اعظم نے جو کچھ ایس ڈی پارٹی کے متعلق کہا اسے’’غلط‘‘ قرار دینے کے لیے ایک فضول  عالمانہ بحث شروع کر دی گئی ہے

سویڈن ہی نہیں یورپی ممالک میں  انتہائی دائیں بازو سے متعلق ہونے کا لیبل انہی پارٹیوں پر لگایا جاتا ہے جو  غیر یورپی تارکین وطن کے خلاف ہیں۔ اور انہیں اپنے  ہاں دیکھنا نہیں چاہتیں۔ یہ پارٹیاں غیر ملکیوں کے خلاف ہر حربہ استعمال میں لاتی ہیں۔ اس حوالے سے  ملکی قوانین یا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ضوابط یا یورپی یونین کے اصول و ضوابط  کا بھی لحاظ نہیں کیا جتا۔  جب کہ ایسی انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں کو قومیت پرست پارٹیاں کہنا ہی اِن کے اصل سیاسی تشخص کو اجاگر کر سکتا ہے۔ اور یہی حقیقت بھی ہے۔ 

 سویڈن کی اس سیاسی مباحث میں حصہ لینے والے بیشتر غیر سیاسی و غیر جانبدار سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سیاسی پارٹیوں کے دائیں یا بائیں بازو  کی طرف  ہونے کی تشریحات میں الجھا دیا گیا ہے۔ اس طرح شاید ان پارٹیوں کے حقیقی  نصب العین کو سامنے نہ لانے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خاص کر دائیں بازو کی انتہا پسند اور قومیت پرستی کے لبادے اوڑھ کرغیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف بولنے والی پارٹیوں کو یورپ بھی میں اپنے قدم مضبوط  کرنے کی  چھٹی دی جا رہی ہے ۔ یہ صورت حال  سویڈن ہی نہیں بلکہ یورپ بھر میں  ایک  ’’ نئے نازی ازم ‘‘ کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہے ۔حالات اس قدر  تشویشناک ہیں کہ یہ نہ صرف سویڈن بلکہ یورپ میں بھی  غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی کسی ممکنہ  تحریک کی نشاندہی کرتی ہے ۔

( نصر ملک ‘اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے، کے مدیر ہیں)