پابندی نہ لگاؤ میں نشے میں ہوں

دنیا بھر میں شراب پینایا پلانا اگر کہیں محفل کی شان ہوتی ہے تو کہیں کافی بُرا مانا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں شراب کو پیدائش سے لے کر مرنے تک استعمال کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب شراب نے دنیا کے لگ بھگ تمام ممالک کے لوگوں کو اپنا دلداہ بنا لیا ہے اور ہر کوئی اسے یا تو کھلے عام پی رہا ہے یا کوئی چھپ چھپا کر پیتا ہے۔

برطانیہ میں شراب کا پینا زندگی کی ان چند ضروریات میں سے ہے جس سے زیادہ تر انگریز لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ کچھ تو ماحول کا اثر اور کچھ گھریلو پریشانیاں جس کے سبب ہر عام و خاص شراب کا سہارا لینا ضروری سمجھتا ہے۔ یوں بھی برطانوی ثقافت میں شراب اب بھی اپنی آن و شان کے لئے سر چڑھ کر بولتی ہے اور آج بھی شراب ہر محفل میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ برطانیہ میں شراب پینے کی جگہ کو  (Pub) کہتے ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر گھریلو مسائل سے لے کر ملک، کھیل  اور دنیا کے حالات پر تبادلۂ خیال بھی کرتے ہیں۔

آج کل برطا نیہ میں شراب پینے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جس کی ایک وجہ عورتوں کا با اختیار ہونا یا سماج میں عورتوں کو برابری کا درجہ مانا بھی ہے ۔ اس کے علاوہ کم عمر کے لڑکے اور لڑکیوں میں بھی شراب پینے کا رحجان کافی  ہے۔ حالا نکہ برطانیہ میں اٹھارہ برس سے کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو شراب بیچنا ممنوع ہے۔ لیکن یہ لڑکے اور لڑکیاں کسی طرح اپنی خواہشات کو پوری کرنے کے لئے شراب کا انتظام کر لیتے ہیں۔ آئے دن شراب پینے کے متعلق ڈاکٹر حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اس پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ ہسپتال میں شراب نوشی کے مریضوں میں کافی اضافہ ہورہا ہے ۔ اس کے علاوہ شراب نوشی لوگوں میں گھریلو تشدد، قرض، اور شراب کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے حادثات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے، جس سے پولیس پریشانِ حال ہے۔

میں تو ذاتی طور پر شراب کی بوتل کو دیکھ کر یا تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں یا پھر ایک مریض کی طرح پھلوں کا رس  مانگتا ہوں ۔ جس سے اُس محفل میں ہماری قدر یا تو اس بچے جیسی ہوجاتی ہے جس پر شراب ممنوع ہے یا پھر ایک گنوار جیسی جو شراب کی قدر سے ناواقف ہو۔

حیرانی تو یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں 1920 Volstead Actکے تحت شراب پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ لیکن امریکہ میں 1920 Volstead Act کے خاتمہ کی ایک وجہ یہ تھی کہ جب 1929میں امریکہ کا مالی مرکز وال اسٹریٹ بد حال ہوگیا اور حکومت کو پیسوں کی سخت ضرورت تھی تو سیاستدان نے شراب پر سے پابندی کو اٹھا لیا تاکہ اس کی خرید و فروخت سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن 80 سال بعد اب شراب پر پابندی کا تجربہ ہندوستان کے کئی شہروں میں کیا جارہا ہے، جس کے حوالے سے برطانیہ کے کئی اخباروں میں اس موضوع پر بحث بھی ہوئی ہے۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ دنیا میں شراب پینے والوں کے مقابلے میں ہندوستان کے لوگ اب بھی شراب کم پیتے ہیں (Organisation for Econimic Co-operation and Devlopment) کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے بیس سالوں میں ہندوستان کے لوگوں میں شراب پینے کا رحجان لگ بھگ 55% فی صد بڑھا ہے جو کہ ایک پریشان کن بات ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس کی ایک وجہ لوگوں کی اقتصادی حالت میں سدھار ہے۔ لیکن اس کے علاوہ سماج میں شراب کو پینا ایک شان کی بات سمجھا جا نا لگا ہے اورگھریلو پریشانیوں سے اکتا کر شراب کا سہارا لینا بھی ایک اہم وجہ ہے۔

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی شراب کی لت لوگوں کی صحت سے لےکر سماجی اور معاشی زندگی پر بُرا اثر ڈال رہی ہے۔ جن چار ریاستوں میں شراب پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے نام ہیں گجرات، بہار، منی پور اور ناگا لینڈ  ہیں۔  ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اور بھی کئی صوبوں میں شراب پر پابندی لگا دی جائیگی ۔ ہندوستان میں بھی شراب نوشی سے گھریلو تشدد، قرض کے بوجھ میں دبنا، چھوٹے موٹے جرائم اور نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے حادثات جیسے مسائل عام ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شراب پر پابندی لگا دینے سے مسئلہ کا حل نکل آئے گا؟ مثال کے طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے صوبہ گجرات میں شراب پر پابندی 1958میں لگائی گئی تھی۔ لیکن اب بھی وہاں شراب آسانی سے دستیاب ہے اور دیہات میں چھپ چھپا کر اب بھی شراب کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی مجرمانہ گروپ پابندی کا فائدہ اٹھا کر پڑوس کی ریاست سے شراب لا کر خوب اپنے دھندے کو چمکائے ہوئے ہیں، جس میں سیاست دان ، پولیس اور اعلی افسر  بھی شامل ہوتے ہیں۔

اپریل میں بہار کی حکومت نے شراب پر مکمل پابندی عائد کر دی جس کے بعد سیاست کا بازار گرم ہوگیا۔ بہار میں شراب کو تیار کرنے کی پابندی سے لے کر خرید و فروخت پر پابندی لگاتے ہوئے سخت سزا کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس میں سزائے موت  اور عمر قید جیسے سخت سزائیں شامل ہیں۔ بہار میں اس اعلان کے بعد کاروائی بھی شروع ہوگئی ہے اور ایک گاؤں میں جہاں ہر گھر میں  شراب پین والے موجود تھے۔  ان پر 5,000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے جب کہ بہار کے اوسط گھرانے کی سالانہ آمدنی 36,000 ہے۔ اب تک ان تمام باتوں کے باوجود بتا یا جا رہا ہے کہ بہار میں شراب اب بھی ہر جگہ دستیاب ہے۔ پچھلے مہینے جشن آزادی کے موقع پر ایک گاؤں کے تیرہ لوگوں کی جان لیوا شراب پینے سے موت ہوگئی۔ بہار میں شراب پر پابندی لگا کر حکومت کو لگ بھگ 450 کروڑ روپے کا نقصان اٹھا نا پڑے گا جو کہ بہار جیسے غریب صوبے کے لئے ایک کثیر رقم ہے۔ پھر یہ بھی سوال ذہن میں آتاہے کہ کیا حکومت اتنے بڑے نقصان کو برداشت کر پائے گی۔

ہندوستان کا ایک اور صوبہ تامل ناڈو بھی شراب پینے کی لت سے دوچار ہے۔ تامل ناڈو کی حکومت ریاست کے لوگوں میں شراب کی لت سے پریشانِ حال ہے لیکن شاید شراب کے خرید و فروخت کی آمدنی کی وجہ سے ریاستی حکومت نے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اُ ٹھایا ہے۔ حکومت کے ماتحت چلنے والی شراب کی دکانوں پر روزانہ شام کو گاہکوں کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے جو دن بھر کی مزدوری کے بعد اپنی تکان کو اتارنے کے لئے روزانہ یہاں شراب لینے آتے ہیں۔ ان میں مزدوری کرنے والے، رکشہ ڈرائیور اور گورنمنٹ کلرک وغیرہ ہوتے ہیں۔

تامل ناڈو میں شراب کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم مکّل ادھیکرم کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 10 میلین لوگ بُری طرح شراب کی لت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق 7میلین لوگ روزانہ شراب پیتے ہیں۔ مکّل ادھیکر م کا کہنا ہے کہ شراب پینے والوں میں کسان، مزدور، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ شراب کھلے عام اسکولوں کے قریب، گرجا گھروں کے پاس، مندروں کے قریب اور ہسپتالوں کے قرب و جوارمیں بیچی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ عورتوں پر جنسی حملوں ، ڈکیتی، اور تشدد کی وجوہات کے پیچھے شراب کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی چونکا دینے والی ہے کہ تامل ناڈو ایک ایسا ریاست ہے جہاں 30 سال سے کم عمر کی عورتیں سب سے زیادہ بیوہ پائی جاتی ہیں جس کی ایک وجہ شراب نوشی ہے۔

پچھلے دو سال سے تامل ناڈو میں شراب نوشی کے خلاف کافی مہم چلائی جارہی ہے اور اس مہم میں عورتیں کافی بڑھ چڑھ کر حصہّ لے رہی ہیں۔ زیادہ تر عورتوں کا ماننا ہے کہ ان کے شوہر روزانہ مزدوری کرنے کے بعد اپنی کمائی کو شراب پینے میں برباد کر دیتے ہیں اور جب وہ گھر آتے ہیں تو ان کی جیب میں تھوڑا پیسہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے گھر میں تشدد  ہوتا ہے اور شرابی شوہر  بیوی کی پٹائی کرتا ہے۔

شراب نوشی ایک ایسی لت ہے جس سے افراد ہی نہیں  بلکہ  پورا سماج تباہ ہو رہا ہے۔ شراب پینا جہاں آن و شان سمجھا جاتا ہے وہیں اس عادت سے امیر و غریب سبھی یا تو اپنی جان گنوا رہے ہیں یا وہ ایسے جرم کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نہ کہ صرف پچھتاوا ہوتا ہے بلکہ انہیں اپنے رشتہ داروں اور سماج میں ذلّت بھی اُٹھانی پڑتی ہے۔ شراب کی پابندی پر اگر حکومت سست ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ شراب کی لاگت سے حکومت کو بیٹھے بیٹھائے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے، جس سے سیاستداں اپنی عیاشی کا سامان دستیاب کر لیتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف عام آدمی اپنی بیو قوفی سے اپنی روز کی کمائی کو شراب پینے کی لت میں چند لمحوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ جس کا احساس اسے شاید نشہ اترنے کے بعد ہوتاہے، جب وہ اپنی غریبی اور کسمپرسی کو روازانہ اپنی دُکھ بھری آنکھوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔

میں شراب بنانے اور پینے کی سخت مخالفت کرتا ہوں جس نے آج تک کروڑوں معصوم انسانوں کی بلا وجہ جان لے لی ہے۔ میں چاہوں گا کہ دنیا کے ہر حصّے میں جہاں انسان شراب نوشی سے دوچار ہے اس کی عادت میں سدھار ہو اور وہ اس بُری لت سے آزاد ہو کر ایک صحت یاب اور نیک انسان کی طرح اپنی زندگی کا لطف اُٹھائے۔ تاکہ نہ کوئی عورت بیوہ ہو اور نہ کوئی بچہ یتیم ہو۔