طلاق ثلاثہ میڈیا اور مسلمانوں کا لائحہ عمل
- تحریر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
- اتوار 16 / اکتوبر / 2016
- 4742
ہندوستان میں باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ ان دنوں دیکھ رہا ہے کہ سارا ہندوستانی میڈیا بس اس بات کوپیش کرنے میں لگا ہوا ہے کہ ہندوستان میں طلاق ثلاثہ کو لے کر مسلم عورتوں پر بہت ظلم ہورہا ہے۔ مظلوم عورتوں نے جب اپنی فریاد سپریم کورٹ تک پہنچائی اور سپریم کورٹ نے جب حکومت سے سوال کیا کہ وہ ان عورتوں پر ہونے والے ظلم کے مداوے کے لیے کیا کر رہی ہے تو حکومت نے ان عورتوں کی تائید میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کردیا۔ اور وعدہ کیا کہ وہ ایسا قانون بنائے گی جس کے ذریعے نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے تمام طبقات کی عورتوں پر ظلم نہ ہوں۔
لا کمیشن نے مسلمانوں سے رائے طلب کرنے کے لیے سوال نامہ جاری کیا کہ وہ اپنی رائے دیں۔ جس پر مسلم پرسنل لا بورڈ نے بیک آواز یہ کہہ کر لا کمیشن کے سوال نامے کا بائیکاٹ کردیا کہ ہم حکومت کے حلف نامے اور لا کمیشن کے سوال نامے کو شریعت میں مداخلت تصور کرتے ہیں۔ اسے اس سازش کا پیش خیمہ کہتے ہیں جس کے ذریعے حکومت مسلمانوں پر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے واضح کرنے کی کوشش کی کہ حلف نامہ کا سول کوڈ سے کوئی تعلق نہیں لیکن میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں ایسا ماحول گرم کیا جارہاہے کہ مسلمان عورتوں پر طلاق ثلاثہ کے ذریعے ظلم ہورہاہے۔ اور اسے فوری روکنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ جو لوگ گھر میں بیٹھے نیوز چینل دیکھ رہے ہیں یا اخبار پڑھتے ہیں، انہیں اندازہورہا کہ میڈیا کے مختلف گروپوں کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے ایک اچھا مسئلہ مل گیا ہے۔ اسے خوب نمک مرچ لگا کر اچھالا جارہا ہے۔ اس کے لیے ہر چینل طلاق ثلاثہ کی تائید اور مخالفت میں کچھ بولنے والوں کو مدعو کرتے ہیں اور مسلم پرسنل لا اور علماء و قضایت طبقہ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا جارہا ہے کہ بولو آپ کیا کہتے ہیں۔
اس بات پر کہ طلاق ثلاثہ یعنی بیک وقت زبانی، ایس ایم ایس یا واٹس اپ پیغام کے ذریعے طلاق دے کر عورتوں کو جس طرح مسلم طبقے میں ظلم سے دوچار کیا جارہا ہے، یہ درست ہے یا غلط، سوال کرنے والے اینکرز میں سے اکثریت اس بات سے واقف نہیں ہے کہ اسلام میں طلاق ثلاثہ کی حقیقت کیا ہے۔ تین طہر میں طلاق کیا ہے اور طلاق کے بعد اگر حلالہ کے ذریعے سابقہ بیوی سے نکاح کے صورت نکالی جائے تو اس کے امکانات کیا ہیں۔ بس سیدھے سوال کیا جارہا ہے اور تائید میں کہا جارہا ہے کہ پاکستان ، ایران، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں طلاق ثلاثہ کو غلط قرار دیا جارہا ہے تو ہندوستان کے علماء کیوں اس کی تائید کرتے ہیں۔ میڈیا جو کل تک پاکستان کو ہندوستان کا نمبر ایک دشمن کہہ رہا تھا آج وہ مثال دے رہا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اس کی تقلید کرنی چاہئے۔ جبکہ ہندوستانی علماء نے کہہ دیا ہے کہ ہماری شریعت قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور ہمیں اپنی شریعت پر عمل پیرا ہونے کے لیے کسی اسلامی ملک کی مثال لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
میڈیا نے اب تک جو تصویر بنائی ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے بشمول ہندوستان کے علماء کا وہ طبقہ جو یہ بات مانتا ہے کہ جہالت اور دیگر اسباب کی وجہ سے کوئی مسلمان مذکورہ انداز میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ طلاق ہوجاتی ہے، لیکن اس کے بعد عورت پر جو مظالم معاشی حالات کے پیش نظر ہورہے ہیں اس کے لیے مسلم سماج میں جہاں زکوۃ اور بیت المال کا نظام مستحکم ہونا چاہئے۔ لیکن اس کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو میڈیا مسلم پرسنل لا کے معاملے میں طویل المدتی انفعالیت اور مسلم طبقے میں سماجی و عائلی مسائل کے حل کے لیے شرعی پنچایت اور قضایت نظام کی کمزوری کو واضح کرچکا ہے۔ ہندوستان میں مسلکی اعتبار سے بھی طلاق ثلاثہ کے معاملے میں بعض مسالک کے متضاد رویے موجود ہیں۔ اسے بنیاد بنا کر ہندوستانی مسلمانوں کو بانٹنے کی کامیاب کوششیں ہو رہی ہیں۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دانشور طبقہ، علمائے کرام اور ہندوستان کا عام مسلمان اس معاملے کو کیسے حل کرے۔ سب سے پہلی یہ بات یہ ہے کہ اس معاملے کو میڈیا پر کم سے کم لانے کی کوشش کی جائے۔ ہندوستان کے ان تمام دانشوروں سے کہا جائے کہ گر وہ کسی میڈیا چینل پر بات کرنے جارہا ہے تو چینل والے سے پوچھ لے کہ وہ اسلامی شریعت کو کس حد تک جانتا ہے ۔ طلاق کے معاملے میں اس کی معلومات کیا ہیں اور وہ ہمیں اپنی بات صاف طورپر پیش کرنے کا کس قدر موقع دے گا۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ میڈیا کے بعض بدنام گھرانے علما اور پرسنل لا بورڈ سے متعلق بعض احباب کو مدعو کررہے ہیں اور انہیں مکمل طور پر اپنی بات پیش کرنے کا موقع نہیں دیتے۔ حقوق نسواں کی علمبردار بعض خواتین کو بلایا جارہا ہے اور وہ کہہ رہی ہیں کہ یوپی، بہار اور دیگر تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ریاستوں میں عورتوں پر یک بارگی طلاق کی بے شمار مثالیں ہیں جن کی جانب علما اور مذہبی ادارے کچھ نہیں کرتے ۔ اس لیے عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں علما کہہ رہے ہیں کہ طلاق ثلاثہ سے متاثرہ عورتوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اور حکومت سوچے سمجھے پروگرام کے تحت اس معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو مسلمانوں کے کسی معاملے سے دلچسپی نہیں ہے لیکن وہ اچانک مسلم عورتوں کی اس قدر ہمدرد کیسے بن گئی۔ سوال کرنے والے سے پوچھا گیا کہ کیا یہ یوپی الیکشن سے قبل مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی چال تو نہیں یا یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی طرف ایک قدم ہے؟ اس سارے معاملے کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے وہ مسلم طبقے کے لیے کچھ اچھی نہیں ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھلے ہی لا کمیشن کے سوال نامے کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی آواز اس معاملے میں حکومت تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ ، ہندوستانی مسلمانوں کے تمام مسالک اور ہندوستان کے تمام شہروں میں موجود نظام قضایت کے لیے یہ وقت عمل کا ہے باتوں کا نہیں۔ وہ اٹیک اس دا بیسٹ ڈیفنس کے طور پر حقوق نسواں، عورتوں کے مظالم پر آواز اٹھانے والی تنظیموں اور عمومی طور پر سارے ہندوستان میں یہ اعلان کرے کہ کن کن عورتوں پر طلاق ثلاثہ کی وجہ سے ظلم ہوا ہے وہ آکر بتا دیں ۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ ہندوستان کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں میں کتنے فیصد مسلم خواتین کو اس طلاق ثلاثہ معاملے سے نقصان پہنچا ہے۔ ان عورتوں کی معاشی اعتبار سے آباد کاری کی جائے اور سماجی اعتبار سے ان کی شادی اور تحفظ کی بات کی جائے۔
سارے ہندوستان میں جوابی طور پر ایک تحریک کے طور پر یہ شعور عام کیا جائے کہ وہ کون سا طبقہ ہے جو تین طلاق معاملے کو اتنی آسانی سے لے رہا ہے جب کہ بنیادی طور پر تھوڑا بہت اسلام جاننے والا مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وصلم نے یہ واضح کردیا کہ اچھی باتوں میں سب سے نا پسندیدہ عمل طلاق ہے۔ اس طرح کی طلاق یا مسلمانوں کے دیگر عائلی مسائل کو سب سے پہلے شرعی پنچایتوں میں پیش کیا جائے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علمائے ہند اور اوقاف کے تحت کام کرنے والے قضایت نظام کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہر اور بڑے بڑے قصبوں میں شرعی پنچایت نظام کو مستحکم کیا جائے۔ جس میں قاضی وقت، مفتی، عالم، مسلمان وکیل اور سماجی کارکن ہوں جو دونوں فریقین میں پہلے افہام و تفہیم کرائیں اور بات نہ بنے تو شرعی طریقے سے طلاق یا دیگر امور کے بارے میں فیصلے کئے جائیں۔ فریقین کو پابند کیا جائے کہ وہ شرعی پنچایت کے فیصلے کوایسا ہی مانے جیسا کہ کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہیں۔ ہندوستان کے بعض شہروں میں شرعی پنچایت کا نظام ہے لیکن اسے مسلکی اختلافات میں الجھا کر کمزور کیا گیا ہے۔ اس کے لیے بین المسلکی شرعی پنچایت بنائی جائے تو بہتر ہوگا۔ لیکن موجودہ صورتحال کے حل اور لوگوں کے سامنے اچھی تصویر پیش کرنے کے لیے یہ کام از حد ضروری ہے اور اسے فوری عمل میں لایا جائے۔
عمومی طور پر جب بین المذاہب سروے کیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی سب سے کم شرح ہے ۔ مسلمانوں کے تعدد ازدواج معاملے کو بھی لایا گیا کہ مسلمان مرد زیادہ شادیاں کرکے عورتوں پر ظلم کر رہا ہے تو واضح کیا جائے کہ تعدد ازدواج کی اکثر مثالیں عورت کو تحفظ دینے کے لیے ہیں نہ کہ نفسانی خواہشات کی تکمیل یا پہلی عورت پر ظلم کرنے کے لیے۔ سماج پر یہ بھی واضح کردیا جائے کہ مسلمانوں میں زنا کاری کی شرح سب سے کم ہے جب کہ دیگر سماج میں جہاں تعدد ازدواج پر پابندی نہیں، زنا کاری اور عورتوں پر مظالم کس قدر زیادہ ہیں۔ تمام شہروں اور دیہاتوں میں جلسوں کے انعقاد کے ذریعے اس بات کو عام کیا جائے کہ اسلام دین فطرت ہے جہاں اس نے شادی بیاہ اور زندگی کے تمام امور میں آسانی رکھی ہے وہیں اس نے میاں بیوی میں علٰحیدگی کی ناپسندیدہ صورت میں بھی طلاق کا احسن طریقہ ا رکھا ہے۔ میڈیا کے مباحث میں مسلمانوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اگر حکومت مسلم عورتوں پر مظالم کو کم کرنے کے لیے کسی قسم کی قانون سازی کرتی ہے تو اس کی نوعیت کیا ہوگی۔ کیوں کہ جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ ہندوستان میں ہر قسم کا قانون ہونے کے باوجود جرائم کی تعداد کم نہیں ہوتی تو اس معاملے میں قانون سازی کے بعد صورت حال کیسے بہتر ہوگی۔ طلاق دینے والے مرد کو کیا سزا ہوگی یا اسے کیسے طلاق جیسے عمل سے روکا جائے گا۔ جب وہ شراب کی نشے میں یا کسی اور وجہ سے طلاق دے رہا ہو تو اسے کس قانون کے تحت پابند کیا جائے گا کہ وہ طلاق نہ دے۔ اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا کہ حکومت آخر کس قسم کی قانون سازی لانا چاہتی ہے۔
میڈیا کے اس یک طرفہ حملے کے جواب کے طور پر مسلم دانشوروں کو متحد ہونا ہوگا اور انہیں میڈیا کے سامنا کرنے سے قبل اپنے آپ کو علمی اعتبار سے مکمل تیار ہوکر جانا ہوگا۔ یا یہ کہہ دیا جائے کہ ہم میڈیا کے ذریعے اس معاملے پر بات کرنا نہیں چاہتے ۔ یہ کام ہندوستانی علماء اور پرسنل لا بورڈ کا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے۔ علمائے کرام کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے کے حل کے لیے مسلمانوں میں شعور بیدار کیا جائے گا۔ موجودہ صورتحال میں مسلم دانشور طبقے کو کئی طرح سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
ارنب گو سوامی کے ایک سوال پر جب ایک مسلم دانشور نے کہا کہ طلاق کا احسن طریقہ تین مہینوں میں الگ الگ طلاق دینے کا ہے تو اسلامی شریعت سے ناواقف ارنب گوسوامی نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ کیا طلاق ای ایم آئی ہے جو قسط وار دی جاتی ہے۔ یہ بات کسی نے نوٹ نہیں کی جب کہ ایک مباحثے میں کہا گیا اور یوٹیوب پر یہ ویڈیو موجود ہے۔ مسلمان میڈیا پر اپنی شرائط اور سامنے والے کے اسلامی شریعت سے واقفیت کی بنا بات کریں۔ دوسرے یہ کہ اسلامی شریعت کو بہتر طور پر پیش کرنے کے لیے اپنا کوئی میڈیا ہاؤس ہو یا کسی ہم خیال چینل سے بات کی جائے۔ این ڈی ٹی وی کے راوش کمار نے نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے اس معاملے پر اچھی بات کی ہے۔ چنانچہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم دانشور طبقہ اس طرح کے پلیٹ فارم سے اپنی بات واضح کرے۔ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے سارے ملک میں اس تعلق سے شعور بیداری مہم چلائی جائے۔ مسلمانوں کا سنجیدہ طبقہ جو انگریزی میں لکھ سکتا ہے اور بول سکتا ہے وہ اس پہلو کو اپنی تحریروں سے واضح کرے۔
سیاسی سطح پر حکومت کے خلاف جوشیلے بیانات دینے کے بجائے حکومت سے پوچھا جائے کہ مسلم عورتوں کے مظالم پر مگر مچھ کے آنسو بہانے والی حکومت مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کیا کررہی ہے۔ طلاق کی بنیادی وجہ معاشی بدحالی ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ ہندوستانی مسلمان مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر حکمت عملہ تیار کریں۔ اور حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔ جو لوگ قانون جانتے ہیں وہ حکومت اور سپریم کورٹ تک اپنی آواز پہنچائیں کہ جب دستور ہند مسلمانوں کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی دیتا ہے تو مسلمانوں کو شادی بیاہ اور طلاق جیسے معاملے میں حکومت یا سپریم کورٹ کی ہدایت کی کیوں ضرو رت ہے۔ اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ میں جوابی عرضی داخل کی جائے اور سپریم کورٹ سے پوچھا جائے کہ مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں دستوری تحفظ ہے کہ نہیں۔
مسلم دانشور اور پرسنل لا بورڈ ان انفرادی گروپوں سے بھی نمٹے جو یہ تصویر پیش کر رہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان عورت کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔ مختلف چینلوں پر جو خواتین بات کرتی نظر آرہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ سے متاثرہ عورتوں کے لیے کوئی نظام نہیں ہے۔ اس جانب بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک اور اہم پہلو جسے نشانہ بنایا جارہا ہے وہ فوری توجہ طلب ہے کہ ایس ایم ایس ، واٹس اپ یا کسی اور ذریعے سے جب کسی عورت کو طلاق نامہ ملتا ہے تو اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔ جب کہ فقہی سوالات میں یہ سوال بھی پیش ہوا کہ کسی خاتون کے مرد کا فون اس کے دوست نے لے لیا اور اس فون سے طلاق بھیج دی گئی۔ مرد کو پتہ ہی نہیں کہ اس کے فون سے طلاق نامہ گیا اور عورت جب قاضی یا عالم کے پاس جاتی ہے تو اس کے طلاق کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ نئے زمانے کے اس طرح کے مسائل پر اجتہاد کی ضرورت ہے۔ جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وصلم کے زمانے کی دو مثالیں احادیث میں ملتی ہیں کہ ایک میں ایک صحابی نے تین طلاق دی تھی لیکن اللہ کے رسول کے پاس کہا تھا کہ ان کا انداز تاکید کا تھا اور وہ پہلی طلاق کا ہی انداز تھا، جس پر طلاق واقع قرار نہیں دی گئی۔ ایک معاملے میں تین طلاق پر آپﷺ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا جس سے علما نے یہ بات اخذ کی کہ جب طلاق واقع ہوئی تب ہی آپ ﷺ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان حالات میں الیکٹرانک ذرائع یا پوسٹ کے ذریعے دی گئی طلاق کے واقع ہونے کے سلسلے میں عورت کے تحفظ کے لیے کیا پہلو ہیں، ان کی وضاحت مظلوم عورتوں کے علاوہ حقوق نسواں کی علمبردار خواتین اور تنظیموں کو کرنی ضروری ہے ۔
اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دین سے دوری کے سبب یہ تمام باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے دعوت دین اور لوگوں میں شریعت کی پابندی کے لیے ایمانی محنت کو عام کرنا بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ موجودہ حالات مسلمانان ہند کے لیے ایک طرف امتحان ہیں تو دوسری طرف ایک موقع ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرلیں۔ دین کی دعوت کو عام کریں۔ مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوکر متحد ہو جائیں۔