پجاری کا ڈی این اے
- تحریر محمد شمشاد
- سوموار 17 / اکتوبر / 2016
- 16783
آج انصاف کی عدالت لوگوں کی بھیڑ سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ شہر کے معزز ین اسٹیج پر آچکے تھے اور چند ہی لمحہ میں مٹھ کے بڑے پجاری بھی اسٹیج پر نمودار ہونے والے تھے تاکہ وہ عوام کے سامنے غورو فکر کر سکیں۔ اور اس بچہ کی قسمت کے بارے میں فیصلہ لے سکیں کہ اس کا باپ یا وارث کون ہے۔ اور اس لڑکی کے ساتھ دوش کرم کرنے والا شخص کون تھا۔ آج انصاف کی عدالت میں بھیڑ بہت تھی۔ اس کی وجہ یہ بھی بتا ئی جاتی ہے کہ دو ہفتہ سے ایک پاگل لڑکی ایک ماہ کے بچہ کو اپنی گود میں لےکر مٹھ کے صدر دروازے پر بیٹھ گئی تھی۔ اوراس بچہ کےلئے انصاف مانگ رہی تھی۔ آخر کار مٹھ کی کمیٹی نے اس کے لئے دن طے کر کے اعلان کر دیا کہ اس لڑکی اور اس کی گود میں پلنے والے بچہ کو انصاف ضرور دیا جائے۔ ساتھ ہی اس پاگل اور مجبور لڑکی کے ساتھ نا انصافی کرنے والے کو بھی سزا دی جائے اور پورا شہر جان جائے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی پجاری مہاراج اسٹیج پر نمودار ہوئے وہ لڑکی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے گود کے بچہ کو پجاری کے پیروں میں لٹاتے ہوئے بولی ’’ اب میں اس بچہ کو ان کے حوالے کرتی ہوں وہ جیسا فیصلہ کریں میں اس پر عمل کرنے کو تیار ہوں۔ اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی ‘‘ یہ کہتے وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اس کے ہنسنے پرلوگوں کو تعجب بھی ہوا لیکن وہ لڑکی کو پاگل سمجھ کر خاموش رہے۔
پجاری مہاراج کو ایسی کوئی امید نہیں تھی کہ ستیہ اس طرح کی کوئی حرکت کرےگی۔ پجاری کوآج بھی یہی امید تھی کہ ہمیشہ کی طرح وہ اپنا منہ نہیں کھو لے گی۔ اس کی اس حرکت سے پجاری کا چہرہ اتر گیا اور اس کی پیشانی کی لکیریں تن گئیں اس ردعمل کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں کو حیرت ہوئی کہ آج بڑے پجاری مہاراج اتنا پریشان کیوں ہیں۔ ان کے چہرہ پر اتنی تیزی سے پسینہ کیوں آرہا ہے۔ اسی اثنا میں لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ ادھر ادھر تکتے ہوئے فرار کےلئے کوئی راستہ تلاش کررہے ہوں۔ وہ کرسی چھوڑ کر اٹھنے والے ہوں۔ یکایک ستیہ تیزی سے ان کے پاس آئی اور ان کا پیر پکڑ کر بولی’’ آج فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کیا؟ آج آپ کو فیصلہ لینے میں اتنی دیر کیوں ہورہی ہے ؟ پجاری بابوآج آپ بہت بے بس لگ رہے ہیں ‘‘ اتنا کہہ کر وہ بہت زور سے ہنسی اتنے زور سے ہنسی کہ وہاں موجود سبھی لوگوں کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوگئی۔ شاید اب انہیں جواب مل چکا تھا۔ چاروں طرف چہ میگوئیاں بھی شروع ہو گئی تھیں کہ اس لڑکی نے ایسا کیوں کہا۔ کہیں یہ بچہ اسی پجاری مہاراج کی تو نہیں ہے۔
اس بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ ستیہ کس کی بیٹی ہے۔ بچپن اس نے کس طرح گزارا۔ یہ کہنا مشکل تھا کہ اس نے بچپن کس کی گود میں گزارا۔ لیکن لوگ اتنا ضرور بتا تے تھے کہ وہ بچپن سے ہی کوڑا کرکٹ چن کر جمع کرتی تھی۔ لیکن وہ کہاں رہتی تھی، اس کے بارے میں صحیح جانکاری کسی کو نہیں تھی۔ ستیہ بچپن سے ہی معصوم اورخوبصورت تھی۔ بلکہ بالکل اجلی اورگوری چٹی لڑکی تھی جسے دیکھ کر ہر کوئی رشک کرتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ وہ کوڑا چنتے ہوئے مٹھ کے اندر چلی گئی اور وہاں پڑے ہوئے کوڑے سے اپنے کام کی چیزیں چننے لگی۔ اسی درمیان کسی نے اسے آواز دی۔ وہ آواز سنتے ہی گھبرا گئی اور مٹھ کی دیوار کو کود کر بھاگنے لگی۔ لیکن کسی نے اسے پیچھے سے آدبوچا۔ وہ سہم کر اس کے پیروں پر گر پڑی اور معافی مانگنے لگی ’’اب میں کبھی بھی ادھر نہیں آؤں گی۔ مجھے معاف کردو ‘‘
’’ میں ایک ہی شرط پر معاف کروںگا کہ اب تو ہر روز یہاں سے کوڑا اٹھا کر لے جائے گی ‘‘ پجاری مہاراج بولے
’’ ٹھیک ہے میں ہر روز یہاں سے سارا کوڑا اٹھا کر لے جاؤں گی ‘‘وہ پجاری مہاراج کے شرط کو قبول کرتے ہوئے کہا
’’ہاں اگر تو نے یہ وعدہ توڑا تو میں پورے شہر سے ڈھونڈو تمہیں یہاں لاؤں گا اور اسی پیڑ سے باندھ کر تمہیں پیٹوں گا ‘‘ پجاری نے دھمکی دی ا
’’ ہاں ٹھیک ہے ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ کوڑا اٹھانے لگی اور پجاری اسے گھور گھور کر مسکرانے لگا
اب وہ ہر روز کسی نہ کسی وقت آتی اور مٹھ کا سارا کوڑا اٹھا کر لے جاتی تھی
ایک دن مٹھ کے پجاری نے موقع مناسب سمجھ کر کچھ دیر کےلئے روک کراس سے پوچھا: ’’تو کہاں رہتی ہے چھوری اور تیرا نام کیا ہے اور تیرے ماتا پتا کیا کرتے ہیں ‘‘
وہ شرماتے ہوئے بولی: ’’ستیہ، کوئی اپنا گھر نہیں۔ جہاں چاہتی ہوں کسی کے ساتھ رہ لیتی ہوں۔ ماتاپتا کا کچھ اتا پتہ نہیں ‘‘
’’کیا تو اسی مٹھ میں رہے گی۔ بس تھوڑا سا کام کرنا پڑےگا۔ بدلے میں تجھے کھانا اور کپڑا بھی مل جائے گا۔ اگر تجھے قبول ہو تو آج ہی اپنا سامان اور کپڑا لے کر آجا اور کام کرنا شروع کر دے ‘‘
یہ سن کروہ اچھل پڑی اور کوڑے کی بوری کو اچھال کر پھنیکتے ہوئے بولی: ’’اس سے بہتر میرے لئے اور کیا ہوسکتا ہے۔ کام کے بدلے کھانا ، کپڑا اور رہنے کی جگہ اور ساتھ ہی ساتھ مٹھ مندر کی آستھا ‘‘ اس نے سنا تھا کہ مندر کے پجاری یا اس میں رہنے والے سبھی لوگ سیدھے سورگ میں جاتے ہیں۔ اس لئے اب وہ بھی مندر کی پجارن بننے کی کوشش کرےگی۔ اس وقت اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی تھی۔
اس طرح وہ بنا وقت گنوائے اپنی گٹھری لے کر مٹھ کے اندر پجاری کے پاس آگئی۔ اس کے آتے ہی پجاری نے اسے ایک جوڑا کپڑا دیا تاکہ وہ نہا دھو کر اسے پہن لے اور مندر کے کام میں لگ جائے۔ جب وہ نہا دھو کر باہر آئی تو اس کی رنگت ہی بدل چکی تھ۔ی اسے دیکھتے ہی پجاری کی آنکھیں چندھیا گئیں اور وہ اسے نہارنے لگا۔ اسے ایسا لگا کہ شاید اس کے سامنے سورگ سے کوئی کنواری سی پری آگئی ہو اور وہ اسے لےکر مندر اور اس کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے کام کے بارے میں بتانے لگا۔ کہ اسے ان سبھی جگہوں کی صفائی کرنا ہے اور پجاری کے لئے کھانا بنانا ہے۔ کوٹھری میں جیسے ہی وہ شیشے کے سامنے آئی تو کچھ دیر کے لئے رک سی گئی۔ اس کے پیچھے پجاری بھی کھڑا تھا۔ وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ پجاری نے اس کے سونے کی جگہ بھی دکھائی۔
اس طرح ستیہ اب مٹھ میں رہنے لگی۔ ایک دن پجاری نے اسے فرصت میں دیکھ کر اپنے کمرے میں بلا کرکہا کہ سر میں کافی تیز درد ہے۔ اگر تجھے اعتراض نہ ہو تو میرے سر میں تیل ڈال کر مالش کر دے۔ شاید اس طرح مجھے آرام مل جائے۔ وہ انکار نہ کر سکی اور پجاری کے سر کی مالش کرنے لگی۔ جب وہ پجاری کے سر کی مالش کررہی تھی اسے لگا اس نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی پر قبضہ کرلیا ہے۔ وہ بے سدھ ہوکر پجاری کی خدمت کے ذریعہ بھگوان کا سکھ پانے کو بے تاب تھی۔ وہ تھی تو بہت خوبصورت لیکن اس سے زیادہ وہ بدھو بھی تھی۔ سر کی مالش سے پجاری کو آرام ملا تھا اوراس کی آنکھیں دھیرے دھیرے بند بھی ہونے لگیں تھیں لیکن ستیہ کے کپڑے کا بٹن کھل جانے سے ابھرا ہواسینہ پجاری کو صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کن انکھیوں سے بار بار اس ابھار کو دیکھ رہا تھا۔ مگر ستیہ کو ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ پجاری نے اسے کیوں روکا ہؤا تھا۔
اب وہ اکثر مندر اور گھر کے کام سے فرصت کے وقت پجاری کے ساتھ ہی بیٹھا کرتی تھی۔ پجاری بھی کبھی اعتراض نہیں کرتا تھا۔ بلکہ مندر میں سنناٹا دیکھ کر وہ اسے اپنے کمرے میں لے جاتا اور بھگوان کو خوش کرنے کا دلاسہ دےکر اپنی خدمت کےلئے راستہ ہموار کرتا تھا۔ وہ بھی ایک پجارن کی طرح خدمت کےلئے تیار رہتی تھی۔ اس طرح پجاری ہر روز کبھی اپنے پیر تو کبھی اپنا بدن اورکبھی اپنے سر کی مالش کے ذریعہ امنگوں کو جوان کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ اس دوران پجاری کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کے گالوں ، بالوں اور سینے سے کھیلنے کی کوشش بھی کرتا رہتا تھا۔ لیکن ستیہ بھگوان کی پوجا سمجھ کر سب کچھ سہہ جاتی تھی۔ بلکہ وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ گنوانے پر تیار ہوچکی تھی۔
ایک دن جب وہ پجاری کی خدمت کے لئے کمرے میں گئی تو پجاری گانجے کا نشہ لے رہا تھا۔ گانجہ کے دھوئیں سے اس کا سر چکرانے لگا۔ وہ اپنا سر تھام کر پجاری کے بستر پر بیٹھ گئی۔ ستیہ نشے کی حالت میں پوری طرح ڈوب چکی تھی۔ پجاری نے ستیہ کو اپنے جانگھوں کے سہارے لٹا لیا اور اس کے سر پر مالش کرنے لگا۔ گانجہ کے اثر سے دونوں مدہوش تھے۔ پجاری ستیہ کو آغوش میں لئے بستر پر لیٹ گیا۔ وہ بھی پجاری کے کندھے سے آ لگی۔ اس کے بال پجاری کے چہرے پر اٹکھیلیاں کر نے لگے۔ پجاری بالوں اور گالوں سے بچوں کی طرح کھیلنے لگا۔ اس کی یہ حرکت نہ جانے کیوں ستیہ کو اچھی لگی۔ موقع پاتے پجاری نے کپڑے کا بٹن کھولا اور سینے کو زور زور سے بھیچنا شروع کردیا۔ ستیہ کو شاید احساس ہی نہ ہوا ہو یا اسے پجاری کی نیت کا اندازہ نہیں تھا کہ پجاری اس کے ساتھ کیا سلوک کر نے والا ہے۔ بہرحال وہ اسی حال میں بستر پر لیٹی پڑی رہی اور پجاری اس کے بدن میں سمٹتا چلا گیا۔
پجاری تقریبا پچاس سال عمر کا تھا لیکن اسے اپنے جسم میں نئی توانائی محسوس ہوئی۔ ستیہ بمشکل پندرہ برس کی ہوگی۔ وہ جوانی کا راز نہیں جانتی تھی۔ پجاری نے اسے چومنا شروع کیا تو اسے صرف یہ یاد آیا کہ بچپن میں اس کی ماں بھی اسے چومتی تھی۔ اس وقت پجاری کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ ستیہ بہت ہی زیادہ خوبصورت تھی اور اس پر اس کا سارا بدن صاف دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ بالکل گوری چٹی تھی، ایک بگلہ کی طرح۔ پجاری کچھ دیراس کا انگ انگ دیکھ کر نہارتا۔ اس کے انگ انگ کی بھینی خوشبو سے تر بتر ہوجانے کی خواہش شدت پکڑ رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ جلدی سے اس جوانی سے اپنی ہوس پوری کر لے لیکن پھر سوچتا کہ اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ یہ تو ہماری ہی ہے، کوئی اسے کہاں لے جائے گا۔ ان ہی خیالات میں جکڑا پجاری ستیہ کے قریب آتا گیا۔ وہ اس لمس کی خواہش اپنے دل میں سجائے برسوں سےکسی ناری ں کے انتظار میں تھا۔
اسی لمحہ وہ ساری حدود پار کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ یکایک وہ ستیہ کے ہونٹوں کو منہہ سے چوسنے لگا اور اس وقت تک اس کے بدن سے چپکا رہا جب تک دل نہ بھر گیا۔ اس کی پیاس پوری طرح بجھ گئی اور وہ نڈھال بستر پر گر گیا۔ اب وہ سکون کی سانس لے رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی برسوں کی تپسیا کارگر ہوگئی ہو۔ اس وقت وہاں پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس خاموشی میں صرف ستیہ کی سانس تیزی سے چل رہی تھی۔ جس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ کچھ دیر کےلئے تو پجاری کو ایسا لگا کہ شاید وہ بے ہوش ہوگئی ہو۔ وہ اس کے آغوش میں دبک گئی۔ اسے کب نیند آئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ لیکن جب ستیہ کو ہوش آیا تووہ اپنے کو اس طرح ننگی حالت میں دیکھ کر چونک گئی۔ وہ بستر پر بیٹھ گئی۔ وہ ننگی تھی اورپجاری اس کے آغوش میں دبکا ہوا تھا۔ وہ سوچنے لگی وہ کب اور کس وقت پجاری کے پاس آئی، اسےکچھ یاد ہی نہیں آیا۔
یہ سلسلہ روازانہ چلنے لگا۔ وہ ہر روز پجاری کا بستر گرم کرتی رہی۔ اور وہ بھگوان سے سورگ کی دہائی دیتا رہتا۔ ایک دن جب ستیہ نے پجاری سے پوچھا: ’’ کہ جب ہم دونوں اس طرح سے روز روزایک دوسرے ملتے ہیں اور میں تمہاری خواہش پوری کرتی ہوں تو کیا اس سے صرف مزہ ہی آتا ہے۔ یا ایک لڑکی کو سورگ کے علاوہ بھی کچھ ملتا ہے۔‘‘ یہ سنتے پجاری کھٹکا اور کان پکڑتے ہوئے بولا: ’’ کیا کہہ رہی ہے تو‘‘ ۔ ستیہ معصومیت سے بولی: ’’میں نے سنا ہے کہ جب آدمی کسی لڑکی یا عورت سے ننگی حالت میں ملتاہے تودھیرے دھیرے اس لڑکی کا پیٹ پھولنے لگتا ہے اور پھر بچہ بھی ہوجاتا ہے۔ کیا ہمارا بھی کوئی بچہ ہوگا۔ مجھے بھی اب بچہ کی تمنا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے پیٹ کے پھولے ہوئے حصہ دکھایا اور پجاری کے گلے سے لگ کر بولی: ’’ اب تو تم میرے بچے کے باپ بننے والے ہو اور میں اس کی ماں‘‘۔
پجاری نے کبھی خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی بچہ کا باپ بن جائے گا۔ اور یہ لڑکی اس کی بدنامی کا سبب بن جائے گی۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ’’ اگرتجھے سورگ میں جانا ہے تو بچہ کا خیال دل سے بالکل نکال دے۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے صرف تمہاری ہی نہیں بلکہ اس مٹھ کی بھی بڑی بدنامی اور رسوائی ہوگی۔ اس کے سوا تمہیں کچھ حاصل ہو نے والا نہیں ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں ڈاکٹر کے پاس جاکر تو اسے ختم کرادے‘‘۔ لیکن اس نے پجاری کی بات سننے سے انکار کردیا۔ اور بہت صاف لفظوں میں بولی: ’’ ہو سکتا ہو تمہیں پسند نہ ہو لیکن مجھے بچہ بہت پسند ہے۔ میں اسے جنم دینا چاہتی ہوں ۔ اور اسے جنم دے کرہی رہوں گی۔ اگر تمہیں یہ سب پسند نہ ہو تو میں اس کی پوری ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوں۔ اس میں تمہارا کیا جاتا ہے سوائے ایک نام کے‘‘۔
بات بگڑتی دیکھ کر پجاری تیزی سے جھپٹا۔ اس کی کوشش تھی کہ وہ ستیہ کو پکڑ کر وہ دوتین مکے پیٹ پر دے مارے تاکہ اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ ضائع ہوجائے۔ لیکن ستیہ اس کی نیت بھانپ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
ستیہ کو باہر بھاگتے دیکھ کر پجاری چلاتے ہوئے بولا: ’’پکڑو پکڑو یہ پاگل ہوگئی ہے یہ کسی پر بھی حملہ کرکے نقصان پہنچا سکتی ہے‘‘۔
’’بچاؤمجھے بچاؤ یہ پجاری نہیں پاکھنڈی ہے۔ پاپی ہے اور میرے بچہ کو مارنا چاہتا ہے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے ستیہ مٹھ سے باہر آگئی۔ اور مٹھ میں موجود لوگ حیرت سے دیکھتے رہ گئے۔ اس کے بعد وہ کہاں گئی اور کس حال میں رہی کسی کو کچھ معلوم نہیں ہؤا۔
لیکن آج ۔۔۔۔ آج جب وہ انصاف کی عدالت میں اپنے بچے کی دہائی دے کر انصاف کی طلب گار ہوئی تو سب کی نگاہیں شرم سے جھکی نظر آئیں۔ ’’پجاری بابو کیا اس بچے کو انصاف ملے گا یا اس کا ڈی این اے کرانا ہوگا۔ تاکہ یا اس کا باپ اور میراپتی ہمیں قبول کرلے‘‘۔
یکا یک پجاری بچے کو گود میں اٹھاتے ہوئے بولا: ’’ آج سے اس کی پرورش کی ساری ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں‘‘۔
ستیہ پجاری کے چرن چھوتے ہوئے بولی: ’’میں ان کی پجارن ہوں‘‘۔