جنرل راحیل شریف نہیں تو کون
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- سوموار 17 / اکتوبر / 2016
- 6380
جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ایک سوالیہ نشان بن کر گردش میں ہے۔ جیسا کہ نظر آ رہا ہے، ملکی حالات تندہی سے کروٹیں لے رہے ہیں۔ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ قوم جنرل راحیل شریف کی توسیع ملازمت پر متفق ہے۔ لیکن پھر بھی پوشیدہ اور خفیہ سوالات یہاں وہاں کروٹیں لے رہے ہیں۔
پاکستانی قوم تو چاہتی ہے کہ جنرل راحیل کو توسیع دی جائے لیکن ہمیں پس آئینہ معاملہ دوسرا لگتا ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ جنرل راحیل شریف مخلص جرنیل ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اپنی حیثیت سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ افواج پاکستان اور پاکستان سے کیا اور کیسا تعلق رہا ہے۔ اور ان تعلق سے کیا نتائج منظر عام پر آئے ہیں۔ پہلا جرنیلی انقلاب ہم نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں دیکھا۔ یہ انقلاب نیا تھا اور اس انقلاب میں ہم نے چند مثبت نتائج بھی دیکھے۔ ہم شعودی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ دارالحکومت کی تبدیلی ایک مثبت قدم تھا۔ دوسرے جرنیلی انقلاب لانے والے جرنیل کا نام کبھی اچھے الفاظ میں بیان نہ کیا جائے گا۔ وہ تھا جنرل ضیا الحق۔ اس نے دہشت پھیلا کر عوام کو سراسیمہ کیا۔ سرعام کوڑوں کی سزائیں روزمرہ کا مشغلہ تھا۔ تیسرا نام جنرل پرویز مشرف کا ہے جسے لوگوں نے بطور مظلوم قبول کر لیا۔ اس کے کارگل کے معرکے کو بہتوں نے سراہا۔ بعض نے اسے ناکامی کا نام دیا۔ اور اسے بین الاقوامی تعلقات کو گزند پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
مندرجہ بالا سطور سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ ہمارے جرنیلوں کا ملکی سیاست سے قریبی تعلق رہا۔ اچھا یا برا، یہ الگ موضوع ہے۔ جنرل راحیل شریف نے ایک مختصر عرصہ میں وہ کارنامے انجام دیئے جن کا مدت سے انتظار تھا اور کوئی بھی اس پر ہاتھ ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ لیکن جنرل راحیل شریف ایک قلندرانہ جذبے سے اس میں کود پڑے اور سرخرو ہوئے۔ آج وہ ملک کے محبوب جرنیل ہیں اور محبوب تر پاکستانی ہیں۔ اسی وقت ملازمت کی التجا ان کے قدموں میں آ گری جس سے انہوں نے بے اعتنائی برتی۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ’’حرف آخر‘‘ کوئی نہیں۔ چہ جائیکہ کہ اس وقت پاکستان کی افواج میں خوب سے خوب تر شخصیات موجود ہیں۔ لیکن ایسے گوہر نایاب پر انگلی رکھنا معجزہ سے کم نہ ہو گا۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم نے ماضی میں کتنے جرنیل دیکھے ہیں، ان میں راحیل شریف کتنے تھے؟ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے جنرل اشفاق کیانی جیسے جرنیل بھی دیکھے ہیں۔ ’’میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے‘‘۔
اس وقت ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ ہمارے دونوں ہمسائے انڈیا اور افغانستان کے دل میں پاکستان کےلئے کوئی جذبہ ہمسایہ گیری نہیں ہے بلکہ ان کے سروں پر ہوس سوار ہے۔ انڈیا کا معاملہ تو بڑی حد تک سمجھ میں آ سکتا ہے لیکن یہ شعور سے بعید ہے کہ افغانستان کی طبلے کی تھاپ پر جھانجر ڈالے ٹھمک ٹھمک کیوں؟ مجرا کا یہ انداز ہے؟ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا باوجود منفی پالیسیوں کے جنگ جیسا ہولناک قدم نہیں اٹھائے گا۔ لیکن اپنے مجرے سجا کر سرحدوں پر انتشار پھیلاتا رہے گا۔ ان حالات کے پیش نظر ایک مخلص ، بااصول ، پیشہ ور کمانڈر انچیف کی اشد ضرورت ہے۔
قانونی لحاظ سے یہ وزیراعظم کا فیصلہ ہو گا۔ وزیراعظم کو اختیار ہے وہ نیا آرمی چیف لائیں۔ اس ضمن میں وہ کسی ادارے یا پارلیمنٹ سے صلاح مشورہ کرنے میں آزاد ہیں۔ لیکن یہ وقت ایک نہایت نازک مرحلہ ہے۔ ہمارے عوام اور ہمارا دیانت دار میڈیا ایک شاخ نازک پر کھڑے ہیں۔ وزیراعظم کی حالت اس وقت بے حد مخدوش ہے۔ اس وقت اگر وہ دانش مندی کا دامن چھوڑ کر خوف یا گبھراہٹ کے تحت کوئی فیصلہ کریں گے تو وہ سودمند نہ ہو گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ہے کہ ’’مشکل میں گھبراہٹ ایک اور گھبراہٹ پیدا کر دیتی ہے‘‘۔ ان حالات میں کابینہ سے کسی مثبت اقدام کی توقع نہ رکھیں۔
وزیراعظم کے سامنے اس وقت دوسرے بڑے مسائل کے ساتھ نئے آرمی چیف کی تعیناتی اہم ترین مسئلہ ہے۔ ہمارے ہمسائے (ہماری روایت ہے کہ ہم ہمسائے کا نام احترام سے لیتے ہیں) لیکن ہمارے ناقابل احترام ہمسائے اس وقت انتقام کی آگ میں بھڑک رہے ہیں۔ انڈیا کی مسلمان کش پالیسی سے اقوام عالم آگاہ ہے۔ کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ سارک کانفرنس کی ناکامی میں انڈیا کی جارحیت عیاں ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ جلد بازی سے گریز کیا جائے۔ ملکی سرحدوں کی طرف فوری توجہ دی جائے۔ پاکستان کی سربلندی کےلئے انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔ پاکستان افواج کے وقار کو گھن گرج سے مشتہر کیا جائے۔
آرمی چیف کی تعیناتی کےلئے پاک افواج سے مشورہ ازبس ضروری ہے۔ اگرچہ قانونی طور پر یہ واجب ہے کہ فوج کے سربراہ کی تعیناتی وزیراعظم کا فیصلہ ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں بطور قوم اس اقدام کی طرف نظر غایت سے دیکھنا ہے۔
ساز ہستی کی صدا غور سے سن
کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن