حمید اختر: قبضے میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے

نظریے اور عقیدے اس بات پر مضر ہیں کہ انہیں صرف مانا جائے جبکہ ادب اور صحافت کا مطالعہ کرنے کیلئے اسے جاننا، سمجھنا اور محسوس کرنا بنیادی تقاضے ہیں۔ صحافت کا راستہ ایک دشوار گزار اور منزل اس سے بھی دشوار ترین منزل ہے۔ ہم نے جو دیکھا، سمجھا، بھوگا اور محسوس کیا اسے کتنی کامیابی کے ساتھ دنیا تک پہنچایا ہے، حمید اختر نے یہ فعل کر دکھایا ہے۔ زندگی کی طوالت اہم نہیں زندگی کا معیار بھی ضروری ہے۔ حمید اختر زندہ تھے تو بھی زندہ تھے، کومے میں تھے جب بھی زندہ تھے اور اب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں تو بھی زندہ ہیں۔

میں حمید اختر صاحب سے بہت قریب بھی رہا ہوں اور ’’دور‘‘ بھی رہ گیا۔ یہ ان قربتوں کے چند لمحات، دن اور ماہ و سال کا بیان یا بیانیہ ہے، جب ہماری آنکھوں کو ابھی اجالوں کی تھوڑی بہت پہچان تھی۔ دراصل دانشور کےلئے دو باتیں ضروری ہوتی ہیں ایک علم اور دوسرے بھی علم۔ وہ علم جو یوں سامنے رہے جیسے کتاب کھلی ہو اور یہ بظاہر سادہ بات اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہو جاتی۔ حمید اختر زندگی بھر اپنی کمٹمنٹ کے ساتھ جئے اور کرسی کے باوجود کالم نگاری، سیکولرازم اور ترقی پسندی کے فروغ کےلئے نہ صرف پاکستان بلکہ دور دراز کا سفر بھی کرتے رہے۔ حمید صاحب کا انتقال محض صحافت کا نقصان نہیں سیکولرازم کا نقصان ہے۔ انسان دوستی کا نقصان ہے۔ وہ ایسا شخص نہیں تھا جو بغیر ’’زندہ‘‘ رہے موت کی آغوش میں چلا گیا ہو۔ وہ ایک اعلیٰ مقاصد کےلئے زندہ رہے اور ان کا ہدف ایسا تھا کہ اس نے دنیا و مافیہا کو حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی درمیان سے نکال دیا تھا۔ ذات کی نفی اور کمٹمنٹ انہیں سیاسی تجزیوں اور تبصروں کی جرات بھی عطا کرتی تھی، جو آج کے خوشامدانہ دور میں مشکل سے ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

حمید اختر کے انتقال کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ واقعہ ایک عہد کے خاتمے کے مترادف ہے تو یہ جملہ رسمی سا لگے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترقی پسندوں کے اولین قافلے کے سپہ سالاروں نے جس عہد کا آغاز کیا تھا ان کے انتقال سے اختتام کو پہنچ گیا۔ ایک ہمدرد کی آواز خاموش ہو گئی ایک زندگی سے معمور کالم مر گیا۔ ہمہ خوبیوں اور اوصاف سے متصف حمید اختر ہمہ مقاصد اور جدوجہد کے اہم ترین شارح و شاہد تھے۔ وہ سرخ سویرے کے راہرو ہی نہیں بلکہ راہ بھی تھے جو اپنے لئے نہیں اوروں کےلئے جینے کو ترجیح دیتے تھے اور احساس جگاتے تھے کہ زندگی کا عزم اور حوصلہ تختہ دار پر بھی رقص کرتا ہے۔ جیل کی کال کوٹھری میں بھی اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔

حمید اختر ایک فلمساز بھی تھے، وہ ان فلمسازوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے زمانے کے تغیرات کو محسوس کیا اور اسے سمجھا اور اپنی فلموں (سکھ کا سپنا اور پرائی آگ) میں اسے برتا بھی۔ میں ان کی فلم پرائی آگ میں معاون اعلیٰ ہدایتکار تھا میں نے بارہا یہ دیکھا کہ انہوں نے اصولوں کو کبھی صلیب پر چڑھنے نہیں دیا۔

حمید اختر نے اس وقت آنکھیں کھولیں جب ہندوستان میں جدوجہد آزادی کا جذبہ نقطہ عروج پر تھا اور اس جگہ آنکھیں کھولیں جسے بھگت سنگھ کا پنجاب کہتے ہیں، جسے آج بھی حریت کے متوالوں کا مرکز کہا جاتا ہے۔ وہ تقسیم ہند کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیتے تھے۔ ان کے خیال میں 1937سے 1947 کے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ مذہبی جنگ نہیں تھی بلکہ اقتدار کے حصول کی جنگ تھی جس کے لئے سبھی اپنے اپنے مفاد کیلئے لڑ رہے تھے۔ ان کے لئے دیس، وطن اور مذہب صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ تھا۔ اب یہ بات مان لی گئی ہے کہ اقتدار کی اس جنگ میں ہماری اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کی سوچ بے بنیاد ہے۔ اور ایسا ملک متحد نہیں رہ سکتا۔ ملک کی تمام طاقت اس کے سیکولر کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ سیکولرازم کے وسیلے سے ہی جمہوری طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی و کامرانی اور مضبوطی کی سمت میں مشعل راہ ہوتی ہیں۔

حمید اختر جانتے تھے کہ صحافت عوام کے دم خم سے ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ اگر اسے عوام اور عوامی مسائل سے دور کر دیا گیا تو اس دشت کی سیاحی میں چاہے جتنے سنگ میل سر کر لئے جائیں نتیجہ صفر ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کالموں میں سماجی اور عصری مسائل جس طرح پیش کرتے تھے کسی اور صحافی کے پاس نظر نہیں آتا۔ انہوں نے صحافت میں بھی ترقی پسندی کو رمز و ایمائے کی دولت سے مالامال کیا۔ حمید اختر نے کبھی دنیاوی مناصب اور شہرت کی عام مقبولیت کا تعاقب نہیں کیا ۔ ان کی علمی و صحافتی زندگی اور شخصی زندگی دونوں میں ایک رکھ رکھاؤ ملتا ہے۔ ان کا اٹھ جانا ترقی پسندی، صحافت اور معاشرہ کا بہت بڑا نقصان ہے۔

ہمارے ہاں عام طور پر فنکار کے فن کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور شخصیت کی طرف کم۔ حالانکہ فنکار کی اپنی شخصیت ہی اس کے فن کو سمجھنے کیلئے بہترین کسوٹی ہوتی ہے۔ صحافت (بالخصوص اردو صحافت) موجودہ زمانے میں ضمیر اور ضرورت کے درمیان کشاکشی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ خوشامد، چاپلوسی اور غیبت کے ذریعے روزی کمانے والوں کا صحافت میں میلہ سا لگا ہوا ہے جبکہ صحافت کا سب سے بڑا مقصد سچ کی تشہیر و تبلیغ ہے۔ لیکن دنیا کے ایک ’’عالمی بازار‘‘ میں تبدیل ہونے کی ضرب صحافت پر بھی پڑی ہے لیکن حمید اختر کی زندگی اور شخصیت کا سب سے حسین اور خوبصورت پہلو یہ تھا کہ انہوں نے صحافت کو مقدس اور باوقار بنا دیا۔ اور اسے بازار کی بداخلاقی اور بلیک میلنگ سے بچایا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی 88 سالہ زندگی کو وہ ہمہ گیریت عطا کی ہے کہ پاکستان نے اسے تاریخ میں رقم کر لیا ہے۔

وہ ایک انسان تھے ان کو فرشتہ ثابت کرنا مقصود نہیں ہے (اور ایسا وہ خود بھی نہیں چاہتے تھے)۔ لیکن یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ ان میں جتنی خوبیاں تھیں وہ کسی انسان میں کم ہی جمع ہوتی ہیں۔ میرے اور ان کے بہت سے دوست احباب مشترکہ تھے۔ اس لئے میں جانتا ہوں کہ وہ اپنے دوستوں سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ اس سلسلے میں کئی واقعات بھلائے نہیں بھولتے جنہیں میں آئندہ کےلئے اٹھا رکھتا ہوں۔ لیکن سچائی یہی ہے کہ وہ نجابت، شرافت، نیک نفسی اور احترام آدمیت کی وراثت رکھتے تھے۔ شرعی احکام کے پابند نہیں تھے لیکن خمیر میں نیکی بھری ہوئی تھی۔ میں نے حمید اختر کی فعال زندگی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ آدمی نظر بدل سکتا ہے نظریہ نہیں بدل سکتا:

زیست کا مجھ پہ یہ حق ہے کہ میں جینا سیکھوں
موت کا کیا ہے جب آئے گی تو مر جاؤں گا

آج جب میں یادوں کو سمیٹنے اور کاغذ پر منتقل کرنے بیٹھا ہوں تو دل سے ایک ہی آواز آ رہی ہے کہ وہ ایک مثالی شخص تھے وہ نہ صرف یاد آتے رہیں گے بلکہ فیض صاحب کے ساتھ رہ رہ کر یہ کہنے پر مجبور کرتے رہیں گے:

’’جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے‘‘