برکس سربراہی کانفرنس اور پاکستان

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر اپنے منصب کے خلاف غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور بھارتی ریاست گوا میں منعقدہ پانچ ترقی پذیر ممالک برکس کی آٹھویں سربراہی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پاکستان کا نام لئے بغیر اس کے متعلق غیر سفارتی جملے اور الفاظ استعمال کئے۔ انہوں نے الزامات عائد کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کی ماں قرار دیا اور الزام لگایا کہ ہمارا ہمسایہ ملک دہشت گردی کا محور ہے۔ اسے روکنا ہو گا۔

خبروں کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے براہ راست پاکستان پر متعدد سنگین الزامات لگائے اور کہا کہ دہشت گردی ہمارے خطے میں امن و سلامتی اور ترقی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم کی طرف سے اس قسم کے الزامات  پہلی بار نہیں لگائے گئے۔ اس سے قبل چین میں منعقد ہونے والی جی ٹونٹی کانفرنس میں بھی اسی قسم کے شرانگیز باتیں کہیں گئی تھیں، جس پر بعد میں انہیں شرمندگی اٹھانا پڑی تھی۔ بھارت کی جنوبی ریاست گوا میں منعقدہ پانچ ملکوں کی سربراہی ممالک میں بھارت کے علاوہ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما ، روس کے ویلا وی میر پیوٹن ۔ چین کے شی جن پنگ اور برازیل کے صدر مشل ٹیمر نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس میں  بھارت اور روس کے درمیان پانچ ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی بھارت میں نظریاتی بنیاد یعنی ہندو ازم کے نام پر ووٹ لے کر بر سراقتدار آئے تھے۔ ہندوؤں کی  بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے۔ بھارتی عوام کی اکثریت دیگر امن پسند طاقتیں یہی توقع اور خیال کرتی ہیں کہ بھارت اب خطے میں قیام امن اور معاشی ترقی کے لئے تمام پرانے مسائل نہ صرف حل کرے گا بلکہ نئی راہیں بھی کھلی جائیں گی۔ لیکن بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خدشہ حقیقت بنتا گیا کہ نریندر مودی بھارت کے نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کے ہی نمایندہ ہیں۔ اب عالمی فورمز میں پاکستان کے خلاف ان کی تلخ کلامی بڑھتی جا رہی ہے، جو ان کے منصف کے خلاف ہے۔ اس قسم کی گفتگو ایک مڈل کلاس کے سیاست دان کو ہی زیب دیتی ہے۔  کسی ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہیں ہو سکتی۔ خاص طور سے اگر وہ شخص  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی کرنے والے ملک کا وزیر اعظم  ہو۔

جب سے نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں اس وقت سے ہی بھارت کوعالمی سطح پر متعدد بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب ان کو اپنے ہی ملک میں ہی ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھارت گوا  میں منعقدہ برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس کے اختتامی اعلامیہ میں وہ سب کچھ شامل کرانے میں ناکام رہا جو بھارت چاہتا تھا۔  جو کچھ بھارتی وزیراعظم نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا ،  وہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ بلکہ دیگر تمام سربراہوں نے اس کی باتوں کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دی۔ ان بنیادی باتوں کو ہی اعلامیہ میں شامل کیا گیا ہے جو خود پاکستان بھی کہتا رہا ہے۔ کہ خطے میں دہشت گردی سے امن اور معاشی ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ چین نے بھارتی وزیراعظم کے الزامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھارت کا رنگا رنگ کلچر بہت پسند ہے۔ اسی طرح روس کے صدر نے بھی آپس میں صنعتی تعاون کے مزید فروغ کی اہمیت پر زور دیا ۔ چین نے بھارت کے اندر جا کر جس طرح کی متوازن پالیسی اختیار کی، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ چین نے نہ صرف بھارتی وزیراعظم کی پاکستان مخالف باتوں کو نظرانداز کرکے بھارت کی حکمت عملی ناکام بنائی بلکہ برکس اجلاس کے ٹریڈ سیشن میں شرکت کرنے سے انکار کرکے اجلاس ہی ختم کروا دیا۔ یوں خطے میں اپنی اہمیت اور مقام کا احساس دلایا۔ بھارت کی سیاسی عزائم مٹی میں ملا دیئے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق  برکس ممالک کی تجارتی وزارتوں کا اہم اجلاس اتوار کو منعقد ہونا تھا ۔

برکس ممالک کی طرف سے جاری کئے گئے اعلامیہ کو پاکستان کی طرف سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لینے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان کی وزارت خارجہ اس بات پرخوش ہوتی رہی گی کہ بھارت اعلامیہ میں پاکستان کا نام شامل کروانے میں ناکام رہا ہے تو یہ انتہائی بچگانہ سوچ  ہو گی۔ پاکستان کے اندرونی سیاسی صورتحال اور ملکی سیاست دانوں اور سیاسی جماعتیں   ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں، دوسری طرف  بھارت دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی، فوجی اور معاشی  معاملات و روابط کو مضبوط  کر رہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی کے عزائم اور مقاصد پوری طرح کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ یہ بات باعث افسوس ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی ایسی نہیں ہے کہ اس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ بلکہ محب وطن طبقوں کو شدید تشویش لاحق ہے۔

 پاکستان نہ صرف دنیا ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ نومبر میں پاکستان میں سارک سربراہی کانفرنس کا ملتوی ہونا پاکستان کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ اگر بھارت کے اندر برکس سربراہی کانفرنس منعقد ہو سکتی ہے تو پاکستان کے اندر سارک سربراہی کانفرنس کیوں نہیں ہو سکتی ۔ کیا نیپال ، بھوٹان اور مالدیپ اور سری لنکا ایسے ممالک پاکستان کے ساتھ شابہ بشانہ کھڑے نہیں ہو سکتے تاکہ وہ سب بھارت کو اس سربراہی کانفرنس میں شرکت پر مجبور کریں۔ سارک سربراہی کانفرنس میں صرف بھارت کے ہی نہیں بلکہ تمام رکن ممالک کے مفادات کی بات ہوتی ہے۔ اس لئے کسی ایک ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مفاد کے لئے باقی ملکوں کے مفادات اور ضروریات کو نظر انداز کرے۔ پاکستان کی پوزیشن اس وقت عالمی سطح پر بہت کمزور ہو چکی ہے اور بہت سے معاملات میں اس کی کارکردگی کا گراف نیچے آیا ہے اس کی تازہ ترین مثال عالمی اکنامک فورم برائے ٹورازم اور ٹریول کی وہ رپورٹ ہے جو چند دن قبل جاری کی گئی ہے۔ اور جس میں بتایا گیا کہ پاکستان دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں چوتھے نمبر پرہے۔ جب امن و آمان کی یہ حالت ہو گی تو وہاں کون آئے گا اور کون سرمایہ کاری کرے گا۔

اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی طرف سے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے ٹارگٹ، ایس جی ڈی ایس میں پاکستان کا دنیا کے188 ممالک میں149 ویں نمبر پر ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک اور قابل فکر بات ہے۔ پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں ایک دوسرے کے معاملات میں بیجا مداخلت ، سیاسی اقربا پروری ، مذہب اور سیاست کا نچلی سطح تک گہرا تعلق اور جمہوری اور سیاسی حکومتوں کو مکمل آزادی کے ساتھ کام نہ کرنے دینا شامل ہے۔ یہ ایسی بنیادی وجوہ ہیں جو مسلسل پاکستان کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔ پاکستان کو اگر دنیا میں باوقار مقام حاصل کرنا ہے تو پھردنیا کی بہت سی باتوں کو سنجیدگی کے سنتے ہوئے انہیں  عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ جو عوامل اور عناصرپاکستان کی دنیا میں تنہائی کا باعث بن رہے ہیں، ان کا قلع قمع کرنا ہو گا۔