کل جماعتی کشمیر کانفرنس
- تحریر
- منگل 18 / اکتوبر / 2016
- 4827
کل جماعتی رابطہ کونسل آزاد جموں و کشمیر کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس آزاد کشمیر حکومت کے تعاون سے 13اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقدہوئی۔ کانفرنس کی صدارت وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کی جبکہ کل جماعتی رابطہ کونسل کے چیئر مین عبدالرشید ترابی (ممبر آزاد کشمیر اسمبلی) نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔
کانفرنس کا آغازچیئرمین رابطہ کونسل اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ابتدائی کلمات سے ہوا۔ کانفرنس کے موضوع کے حوالے سے شرکاء سے تجاویز طلب کی گئیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو تقویت پہنچانے اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے آزاد جموں و کشمیر، پاکستان، سفارتی محاذ اور میڈیا کے ذریعے کیا اقدامات کئے جائیں۔ کنوینئر حریت کانفرنس(گیلانی) غلام محمد صفی نے بالخصوص نوجوانوں میں آگاہی مہم شروع کرنے اورکنوینر حریت کانفرنس ( میر واعظ) نے پاکستان میں عوامی مہم اور بڑا مظاہرے کرنے کی تجویز دی۔ لبریشن فرنٹ کے نمائندے رفیق ڈار نے سفارت خانوں سے رابطے اور حکومت کے زیر انتظام ''ملین مارچ'' کی اورسینئر حریت رہنمامحمد فاروق رحمانی نے انٹر نیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کرانے کی تجویز دی۔
آزاد کشمیر کے سابق صدرسردار محمد انور خان، صحافی حامد میر، مشتاق ایڈووکیٹ گلگت، سردار عتیق احمد خان، مولانا محمد یوسف، چودھری یاسین، چودھری عبدالمجید، محترمہ شمیمہ شال، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی نسیمہ وانی، محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، پاکستانی صحافی افضل بٹ و دیگر مقررین نے بھی اظہارخیال کیا۔ ممبر آزاد کشمیر اسمبلی سید شوکت شاہ نے کہا کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر اپنے خاندان کی ایک بزرگ خاتون کی تشویش پر کہا کہ ''دیر ہے اندھیر نہیں''، اس پر بزرگ خاتون نے جواب دیا کہ'' جتنی دیر ہوتی جائے گی ،اندھیر اتنا ہی بڑھتا جائے گا''۔ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے رہنما خواجہ فاروق نے سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول) عبور کرنے کی اپیل کی حمایت کی اور کہا کہ اس سلسلے میں اجمتاعی کوشش ہونی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے روس، چین وغیرہ کے دورے بھی کئے جانے چاہئیں۔ جسٹس(ر) عبدالمجید ملک نے کہا کہ '' سٹیٹس کو'' کوقائم رکھا جا رہا ہے، فی الفور ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں کہ کشمیریوں کی قربانیاں اور جدوجہد کارگر ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ تجاویز کس کو پیش کرتے ہیں اور ایسا کون کرے گا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے اور یہ اچھی ابتداء ہے۔ ہم نے اقوام متحدہ میں وزیر اعظم نوازشریف کے بیان کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھایا جانا چاہئے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے وکیل نہیں۔ کشمیری عوام آزادی کے نام پر مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اٹھائیں۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو الگ الگ نہ سمجھا جائے۔
چیئر مین رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی نے قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بہادری پر سلام پیش کیا گیا، کشمیری عوام کی تحریک کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹرکے مطابق تسلیم شدہ حق خودارادیت کی تحریک قرار دیا گیا۔ بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کو خلاف حقائق و قانون قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔ اور کہا گیا کہ تمام بین الااقوامی قوانین اورمعاہدوں کے مطابق کشمیر کسی طور بھی ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے۔ قرار داد میں بھارت کے خلاف اظہار مذمت کے پانچ نکات، پاکستان کی ستائش کے آٹھ نکات، ہندوستانی حکومت سے مطالبے کے چار نکات اور بین الاقوامی برادری سے مطالبات کے چھ نکات شامل کئے گئے۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا کہ کشمیر کاز کے لئے کس کس شعبے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ اور اس ورکنگ گروپ کو تمام سہولیات آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے مہیا کی جائیں گی۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اعلان کیا کہ اسمبلی ایکٹ کے ذریعے کشمیر کاز کے شہداء اور متاثرین کے لئے ایک فنڈ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے مراکز ملکوں میں تیاری کے ساتھ اہل افراد کو بھیجا جائے۔ کشمیر کے منقسم خاندانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ''میں خود بھی منقسم خاندان سے تعلق رکھتا ہوں''۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہم نے کب کہا تھا کہ' معاہدہ کراچی ' کیا جائے۔ چودھری غلام عباس نے اپنے نوٹ میں تحریر کیا تھا کہ انہیں صرف ان امور سے اتفاق ہے جو مسلم کانفرنس سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ قصور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اس سال 24اکتوبر کو پولیس پریڈ کی تقریب مظفر آباد کے یونیورسٹی گراؤنڈ میں منعقد کی جائے گی۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد اورقربانیوں کا سلسلہ اشفاق مجید وانی سے برہان وانی تک جاری و ساری ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں وقت لگے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ جد و جہد کیسے جاری رکھنی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی جارحیت سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے آزاد کشمیر کے متاثرین کے لئے انتظام کیا جا رہا ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے آزاد کشمیر حکومت کا کردار واضح کیا جائے تاکہ سرحد پار مثبت پیغام جائے، جو اس وقت منفی ہے۔ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے تو اس کے لئے اس کا واضح کردار ہونا چاہئے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو انشاء اللہ آزاد کشمیر حکومت کے کردار کا تعین ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے آزاد کشمیر حکومت حاضر ہے، جو وسائل ہیں وہ حاضر ہیں۔ ورکنگ گروپ کے ذریعے قابل عمل امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ سیز فائر لائن (لائن آف کنٹرول)تک جاکر مقبوضہ کشمیر کو پیغام دینا چاہئے۔ لائن کو عبور کرنا الگ بات ہے۔ ایسا کام نہ کیا جائے جس سے پاکستان کو نقصان ہو۔ ایسی بات نہ کریں جس سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹ کر ساری توجہ پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کی طرف مبذول ہو جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میں اس عمل سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کرانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ سردار عتیق احمد خان کی نیت پر شک نہیں ہے، ہم وہ بات کریں جو ہم کر سکیں۔ ہمیں پاکستان اور اس کے عوام کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ نئی نسل کو کشمیر اشو سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
کانفرنس تقریبا پانچ گھنٹے مسلسل جاری رہی۔ گول میز کے اطراف میں پچاس سے زائد شرکاء موجود تھے جبکہ بیس سے زائد شخصیات نے بات کی۔ اس کے علاوہ ایک تقریبا ایک سو افراد بھی ہال میں موجود تھے۔