سرسید ثانی کی ضرورت

زندہ قوموں کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے حالات سے باخبر ہوتی ہیں۔ اور اپنے مسائل کے حل کے لیے خود ہی اپنی زندگی کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ جب کبھی کسی قوم میں ظلمت و جہالت کے اندھیرے چھاجاتے ہیں تب اس قوم میں کچھ اعلیٰ صفات والے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنے کارناموں سے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ آنے والے زمانے کے لیے بھی مثال بن جاتے ہیں۔

انیسویں صدی کے ہندوستان کی سماجی و تہذیبی تاریکی کے دور میں اپنی شخصیت اور علمی و ادبی کارناموں سے اپنے عہد اور آنے والے زمانے کو متاثر کرنے والی ایک اہم شخصیت سرسید احمد خان کی تھی۔ جن کا یوم پیدائش 17اکتوبر کو علی گڑھ اور ہندوستان میں منایا جاتا ہے۔ ان کے کارناموں کا اعادہ کرتے ہوئے ان سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مختصر لفظوں میں کہا جائے تو سرسید ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے جن کی حیات علمی و ادبی کارناموں اور فلاحی خدمات سے رقم ہے۔ وہ اپنی ذات میں انجمن اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں مسلمانوں اور ہندوستانیوں میں زندگی کی روح پھونکی تھی جب انگریزوں کی غلامی سے پریشان حال ہندوستانی اور مسلمان زندگی کے تمام مورچوں پر شکست کھاچکے تھے۔ انہیں آگے بڑھنے کی کوئی راہ نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ سرسید نے لوگوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے بعد لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کا ہنر سکھایا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی۔ تہذیب الاخلاق کے مضامین، سائنٹفک سوسائٹی کا قیام ، علی گڑھ تحریک اور اپنے رفقاء کے ذریعے ادب کے مختلف مورچوں پر اصلاح کا  کام کیا ۔ یہ ایک تاریخی اور عہد ساز کام تھا۔

سرسید کے دور میں موجود تاریکی کا جائزہ لیں اور موجودہ حالات سے اس کا تقابل کریں  تو ہمیں بہت سی باتیس یکساں معلوم ہوں گی۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ کی اہم شخصیت سرسید احمد خان کے یوم پیدائش پر ہم انہیں یاد تو کرتے ہیں لیکن کیا ہمیں یہ احساس ہے کہ موجودہ زمانے میں  ہمیں کسی سرسید ثانی کی ضرورت ہے جو مسلم قوم اور ہندوستانیوں کو تعلیم کی اہمیت سے واقف کرائے۔ قلم کی طاقت سے آگاہی دے۔ اور زندگی میں کام آنے والے ہنر سیکھنے کی طرف راغب کرے۔ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے ہم آہنگ کرے ۔ تو جواب ملتا ہے کہ ہاں ہمیں سرسید ثانی کی تلاش ہے۔ ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ اپنے عہد اور اپنی زندگی میں ہم سرسید کی طرح  بے لوث مصلح قوم تلاش کریں اور اس کی رہنمائی میں اپنی زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی پھیالئیں۔  کوشش کریں کہ خود سرسید کی حیات  کسی سرسید ثانی کی طرح ہماری رہبری کرتی رہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ سرسید کے وہ کیا کام ہیں جن کی آج کے دور میں ہمیں احیاء کرنے کی ضرورت ہے۔ اور کسی سرسید ثانی کو ہم کیسے کھوج سکتے ہیں۔ اگر شخصی طور پر بھی ہمیں کوئی سرسید ثانی نہ ملے تو ہم سرسید کی حیات سے اپنے لیے روشنی حاصل کرسکتے ہیں۔ سرسید کی والدہ نے ان کی اچھی تربیت کی تھی۔ اور ایک مرتبہ جب انہوں نے نوکر کو برا بھلا کہا تھا تو ان کی والدہ نے انہیں گھر سے باہر نکال دیا اور جب تک انہوں نے معافی نہیں مانگی انہیں گھر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تربیت اولاد کے معاملے میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ آج ہمارے بچے انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، ٹیلی ویژن کے ذریعے مخرب اخلاق پروگراموں کے سایے میں اپنا بچپن گذار رہے ہیں۔ اس زہر آلود ماحول سے انہیں بچانا ہے اور بے جا لاڈ و پیار کے بجائے تربیت کے دوران ان پر سختی کرنا ہے۔ اسلامی انداز میں ان کی تربیت کرنا ہے اور انہیں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ سرسید نے ایک ایسے دور میں اپنے آپ کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا تھا جب کہ  تعلیم کے وسائل محدود تھے۔  انہوں نے اپنے والد اور  نانا کے علاوہ دیگر اساتذہ اور ذاتی استعداد سے ریاضی، تاریخ اور طب کے علوم حاصل کیے ۔ سرکاری ملازمت اختیار کی اور صدر امین بنائے گئے۔ انگریزوں نے انہیں سر کا خطاب دیا ۔  انہوں نے انگلستان سے ایل ایل ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

مسلمانوں کے موجودہ حالات دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا بڑا طبقہ آج بھی تعلیم سے دور ہے۔ متوسط طبقے کے کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں لیکن دولت مند اور غریب اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہورہے ہیں۔ جب کہ سرسید کی حیات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنے عہد کا جائزہ لیں اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ موجودہ حالات میں گزشتہ دو دہائیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی اچھی معاشی حالت میں ان کی بیرون ملک اور خاص طور سے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے سبب خوش حالی آئی تھی۔ لیکن موجودہ حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ اب خلیجی ممالک کے پٹرو ڈالر کا دور ختم ہوگیا اب ایک مرتبہ پھر اچھی تعلیم کے ذریعے اپنے ہی وطن میں فکر معاش کرنا ہے ۔

اسی طرح سرسید کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اب بھی ہم اپنی کوشش سے اعلی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ ہندوستان میں مختلف آئی ٹی کمپنیوں میں بھاری یافت کے ساتھ ملازمتیں ہیں جن کی جانب مسلمانوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرسید نے قلم کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا اور کتابیں  تصنیف کیں اور مضامین لکھے۔ ان  کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچائی۔ ابتدا میں آثا الصنادید اور تاریخ بجنور جیسی کتابیں لکھیں ۔ بعد میں تہذیب الاخلاق کا اجرا کیا اور اصلاحی و فکر انگیز مضامین لکھے۔ خواب غفلت میں ڈوبی قوم کو جگایا۔ موجودہ دور میں مسلم قوم کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے ایک مرتبہ پھر انہیں اخبارات اور میڈیا کے وسیلے سے اچھی بات پہنچانے کی ضرورت ہے۔ آج مسلم قوم میں بے کاری، بے عملی، اصراف ، دکھاوا،  جہالت اور بہت سی سماجی اور تہذیبی بیماریاں عام ہیں۔ ایسے میں سرسید جیسے کسی مصلح قوم کی ضرورت ہے جو انہیں سرسید کی طرح کتابوں یا مضامین کی شکل میں زندگی کا پیغام دے۔

آج  اردو اخبارات مسلم قوم کو ان کی سماجی بیماریوں سے آگاہ کرتے ہیں کہ شادی بیاہ اور دیگر کاموں میں فضول خرچی سے بچا جائے، سادگی اختیار کی جائے۔ لیکن ابھی اس معاملے میں مزید ترقی کی ضرورت ہے۔ سرسید نے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے اخبار کی اہمیت محسوس کی تھی۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے اپنے اخبار ہیں جس میں اردو میں بات ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کو ہندوستان میں اکثریتی طبقے تک اپنی بات پہنچانے کے لیے ایک معیاری قومی انگریزی اخبار اور ایک طاقت ور میڈیا چینل کی ضرورت ہے، جہاں سرسید کی طرح مسلمان اپنی بات اکثریتی طبقے تک پہنچا سکیں۔ ہمیں اچھے قلم کار کی ضرورت ہے جو انگریزی میں مسلمانوں کی پوزیشن کو بیان کرسکے اور ان کے خیالات کی ترجمانی کر سکے۔ سرسید نے ایک نباض کی طرح اپنے عہد کا جائزہ لیا تھا اور اس کے مسائل کو جانا تھا۔ انہوں نے اپنے رفقاء کے ساتھ علی گڑھ تحریک شروع کی تھی۔ اور ادب میں اصلاح کی شعوری کوشش کی۔

ان کے رفیق حالی نے سوانح نگاری اور تنقید نگاری کو فروغ دیا۔ مسدس مدوجزر اسلام جیسی شاہکار نظم لکھی۔ نذیر احمد، شبلی، محسن الملک، وقار الملک وغیرہ نے جو کچھ لکھا، اس سے اردو زبان کو سادگی ملی۔ اردو میں ناول نگاری، مضمون نگاری، سوانح نگاری، تاریخ گوئی کو فروغ ملا۔ سرسید کی علی گڑھ تحریک کی طرح آج بھی ہمارے عہد میں ادبی اور تہذیبی و سماجی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ ادب میں جمود پیدا ہوگیا ہے۔ شاعری صرف واہ واہ تک رہ گئی ہے۔ غالب اور اقبال جیسے شاعر اب ناپید ہوگئے ہیں۔ اس لیے خیالات میں بھی جمود پیدا ہوگیا ہے۔ سرسید کی حیات کے اس پہلو سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم ادب میں بھی اصلاح اور تبدیلی کی کوشش کرسکتے ہیں۔ سرسید کا بڑا کارنامہ تعلیم کو عام کرنا تھا اور سرسید نے اپنے عہد کے حالات کو بھانپ لیا تھا کہ آنے والے عہد میں انگریزی تعلیم کا ہی بول بالا ہوگا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام سرسید کا ہندوستانی مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ جس کی بدولت ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے ایک حد تک تعلیم میں ترقی کی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پنے طور پر اور حکومت سے کہہ کر زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے قائم کریں۔ کرناٹک ک علاقہ بیدر میں شاہین ادارہ جات کے تحت مسلمانوں نے کے جی تا پی جی اور میڈیکل کے تعلیم ادارے قائم ہیں۔ دیگر ریاستوں میں بھی اقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کر رہی ہیں۔ اس جانب مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔

انگریزی میں اعلی تعلیم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ابتدائی تعلیم تو مادری زبان میں ہو اس کے بعد ہم اپنے بچوں کو بین الاقوامی طور پر چلنے والی انگریزی زبان کا ماہر بنائیں تاکہ وہ دنیا کہ کسی بھی ملک میں جاکر کام کرنے کے لائق بنیں۔ سرسید نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی تھی۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کو آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور اس قسم کے ادارے قائم کرنے اور ان میں اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرانے کی ضرورت ہے۔ سرسید نے انگریزوں سے رابطہ رکھا اور اپنے عہد کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ آج ہندوستان میں بیس کروڑ مسلمان ہیں ان کی سیاسی شناخت صفر کے برابر ہے۔ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کے علاوہ کسی اور کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی شناخت بنائیں۔ ایک  سیاسی مرکز کے تحت متحد ہوں اپنے قائد کا انتخاب کریں۔ سیاسی عمل میں عقل مندی کا ثبوت دیں۔

اس طرح سرسید کی حیات ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ ان کے کارنامے سرسید ثانی کے طور ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ اپنے عہد سے بھی کسی سرسید ثانی کو تلاش کریں اور اس کی رہبری میں اپنی زندگی کا سفر جاری رکھیں۔