انطالیہ میں اردو کانفرنس کی جھلکیاں
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 19 / اکتوبر / 2016
- 8995
ترکی کے صوبہ انطالیہ کا چھوٹا سا شہر مانا وگت ترکی کے مشہور سیاحی مقام ہے اور بحیرہ روم کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ترکی کی انقرہ یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کی جانب سے ایک چہار روزہ اردو کانفرنس منعقد کی گئی۔ 12 اکتوبر کو شروع ہونے والی یہ کانفرنس 16 اکتوبر 2016 تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کو منعقد کرانے میں ٹیکا، ریسرچ سنٹر ترکی پیش پیش تھا۔
اس تحقیقی مرکز برائے تہذیب و ثقافت کے شعبہ اردو کی کاوشوں سے ساری دنیا سے اردو کے اسکالر جمع کئے گئے۔ شعبہ اردو کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر آسومان بیلان ازجان ہیں۔ انہوں اردو زبان میں لاہور اور انقرہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لی ہیں اور اردو زبان پر مکمل دسترس رکھتی ہیں۔ یہ کانفرنس بعنوان ’’ پہلی اردو ادبی کانگریس، بیاد صد سالہ پیدائش احمد ندیم قاسمی‘‘ انقرہ یونیورسٹی کے زیر ہتمام اور حکومت ترکی کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس میں شرکت کے لیے پاکستان سے اصغر ندیم سید، ناہید قاسمی، ڈاکٹر انوار احمد، روبینہ ترین، راشدہ قاضی، طلعت الطاف، فرحت جبیں ورک، فرخ سہیل گوئندی، عقیلہ بشیر ، مرغوب حسین طاہر، پروفیسر شاہد اقبال کامران، نیر حیات قاسمی، پروفیسر قاضی عبدالرحمن عابد، ہندوستان سے انیل کمار رائے، سیناتھ چیپل، خندار چندو، پروفیسر ابولکلام ، اسلم جمشید پوری، پروفیسر یعقوب یاور، پروفیسر سید علی کریم، عابد حسین، مشتاق عالم قادری، انوپاما الوائی کر، جرمنی سے سرور غزالی، جاپان سے پروفیسر سو یامانے، ترکی سے ہاکان کیوموسو، جانان ایردے میر، ایمل سیلم ، داود شہباز، رجب درگن، اور ایکت کشمیر شامل تھے۔
پہلے روز کے سیمنار کی افتتاحی تقریر کے دوران آسومان بیلن نے احمد ندیم قاسمی سے ملاقات اور اردو زبان میں پی ایچ ڈی کر نے کے سلسلے میں ان کی مدد کا ذکر کیا۔ اس کے بعد امجد اسلام امجد کی ڈاکومنٹری فلم ندیم کہانی سامعین کی توجہ کی مرکز بنی رہی۔ احمد ندیم قاسمی کی صاحبزادی، ناہید قاسمی نے اپنے والد کی نجی اور ادبی زندگی کے واقعات سنا کر مندوبین کو اشکبار کیا۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا ’’احمد ندیم قاسمی: انسان دوست شاعر اور ادیب‘‘ اسی طرح سے ملتان سے بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی کی شعبہ اردو کی صدر روبینہ ترین نے ’’ اردو کی رومانوی تحریک کے لیے ترک سرچشمہء فیض‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔
ہندوستان سے تشریف لانے والے ڈاکٹر اینل رائے نے اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر پر ایک پر مغز مقالہ بعنوان ’’میر اور ان شاعری‘‘ پیش کیا جسے بہت سراہا گیا۔ کانفرنس میں کل 28 مقالے پیش کیے گئے۔ جن میں اردو کے ترک شیدائی جو اردو زبان پر اپنی مادری زبان کی طرح عبور رکھتے ہیں اور شستہ اردو بولنے پر قادر ہیں، صفِ اول کے مقالہ نگارتھے۔ اس کے علاوہ جاپان اوسا کا سے اردو کے پروفیسر سویا مانے جو ایک جاپانی ہونے کے باوجود اردو تلفظ کے بھی ماہر ہیں ، خاصی توجہ کے حامل رہے۔ سرور غزالی نے ’’ اردو ادب میں تانیثیت کا مقام ‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا ۔
تمام شرکاء کو اسی مرکز کے رہائشی حصے میں قیام و طعام کی سہولت بہم پہنچائی گئی تھی۔ قیام اور طعام کا نہایت عمدہ انتظام کیا گیا تھا۔ اس چہار روز کانگریس کے دوران جوق درجوق اردو کے شیدائی ترکی کے اس مشہور تاریخی علاقے میں اردو کے علم اٹھائے پھرتے رہے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک نہایت خوبصورت تقریب رکھی گئی تھی۔ جس میں شام کے کھانے کے بعد احمد ندیم قاسمی کی سو سالہ ولادت کی مناسبت سے ، ناہید قاسمی سے ایک بڑا سا سالگرہ کا کیک کٹوایا گیا ۔
آخر میں ایک مشاعرہ رکھا گیا تھا۔ ڈھلتی شب میں اس مشاعرے میں ناہید قاسمی کوامیر مشاعرہ ، آسومان بیلن کو صدرِ مشاعرہ اور انوار احمد مہمانِ خصوصی تھے۔ مشاعرے کی نظامت پاکستان سے تشریف لانے والی راشدہ قاضی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ شعرائے کرام میں ، ناہید قاسمی، اصغرندیم سید، سرور غزالی، یعقوب یاور، ایکت کشمیر اور قاضی عابد شامل تھے۔