امریکی الیکشن میں شیر اور بھیڑیے کی جنگ
یوں تو دنیا کے زیادہ تر ممالک میں الیکشن ہوتا ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے وہاں کاا لیکشن توجہ کا مرکز بھی بنتا ہے۔ لیکن امریکہ ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں الیکشن سے مہینوں قبل سے ہی اس کے امیدوار ، نتائج اور اس کے اثرات کا چرچا شروع ہوجا تا ہے۔ اس کا اثر دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں پر براہ راست یا باالواسطہ طور پر ہوتا ہے۔ عام لوگوں میں اس کی دلچسپی خوب پائی جاتی ہے۔ اور دلچسپی کیوں نہ ہو اگر دیکھا جائے تو دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں میں امریکہ اپنی ٹانگ ضرور اڑاتا ہے، چاہے وہ سیاسی جھگڑا ہو یا انسانی حقوق کی بات، امریکہ بطور سردار شامل ضرور ہوتا ہے۔ اور امریکہ ٹانگ کیوں نہ اڑائے جب دیگر ممالک کے حکمران یا سیاستدان احمق اور نا ہل ہوں تو ظاہر سی بات ہے امریکہ جسے دنیا ایک تعلیم یافتہ، معاشی فعال اور طاقتور ملک مانتی ہے تو اسے دوسروں کے معاملات میں تو دخل اندازی کرنے کا موقع ملتا ہے۔
آج امریکی الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ امریکی الیکشن میں کیا اتار چڑھاؤ ہورہا ہے اور کون کس پر بھاری ہے۔ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ 8 نومبر کو امریکہ میں الیکشن ہونے والا ہے اور اس میں دو امیدواروں کے درمیان زبردست مقابلہ ہو گا۔ ایک طرف ریپبلیکن کے مالدار بزنس مین اور عقل سے خالی ڈونالڈ ٹرمپ ہیں تو دوسری طرف سابق صدر بل کلنٹن کی بیوی اور اوباما ک کابینہ میں وزیر خارجہ رہنے والی امریکی تاریخ میں پہلی خاتون امیدوار ہیلیری کلنٹن ہیں ۔ تاہم معذرت کے ساتھ اگر میں دونوں امیدواروں کا تعارف کرانے لگا تو شاید یہ مضمون کم پڑ جائے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے امیدواری کے انتخاب کے دوران پہلا اعلان یہ کر ڈالا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو وہ اسلام کے ماننے والوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگا دیں گے۔ اس کے بعد وہ میکسیکو کے لوگوں پر بھی برس پڑے اور اعلان کیا کہ اگر وہ صدر بنے تو امریکی سرحدوں پر دیوار کھڑا کردیں گے۔ یہ تو ٹرمپ کے صرف دو احمقانہ نقطہ نظر ہیں۔ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کی تقاریر اور بیان کو دیکھیں تو بے شمار لغویات دکاھئی دیں گی۔
ایک سال سے روزانہ ایک خبر دنیا کے تمام اخباروں ، ٹیلی ویژن چینلز ، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر نشر ہورہی ہے یا پڑھی جا رہی ہے کہ آخر کون امریکہ کا آئندہ صدر بنے گا۔ کئی نام سامنے آئے اور دھیرے دھیرے وہ نام غائب بھی ہوگئے۔ کیونکہ امریکہ پوری دنیا کو اپنے طریقہ کار سے یہ بتا نا چاہتا ہے کہ وہ جمہوریت کا بہت بڑا پیروکار ہے۔ اس لئے پہلے دن سے ہی امریکی صدر کے امیدوار کے لئے ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو منتخب کرنے کے لئے ٹیلی ویژن بحث پر آنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ پھر ان امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لئے پارٹی کے ممبروں کو موقع دیا جاتا ہے جو انہیں ووٹ دے کر اپنی پسند کے امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس طرح یہ امیدوار دوسری پارٹی کے امیدوار سے براہ راست ٹیلی ویژن پر مباحث کرتا ہے اور اپنی پارٹی کی پالیسی اور بات کو پیش کرتا ہے جس کو جان کر لوگ اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔
فی الحال امریکی عوام کی رائے کے مطابق وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلیری کلنٹن کی زیادہ حمایت کر رہے ہیں۔ جب کہ اس خبر سے بوکھلائے دولت کے نشے میں چور ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو اتنے لوگوں کی حمایت حاصل نہیں ہے کہ وہ امریکہ کے صدر بن جائیں۔ حال ہی میں ڈونالڈ ٹرمپ بوکھلاہٹ میں امریکی میڈیا پر برس پڑے اور الزام لگا دیا کہ امریکی الیکشن میں میڈیا دھاندلی کر رہا ہے۔ اس سے قبل کچھ ہفتوں سے ڈونالڈ ٹرمپ پر کئی خواتین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ان عورتوں کے ساتھ دست درازی کی تھی۔ لیکن بات اس وقت کافی گمبھیر ہوگئی جب ڈونالڈ ٹرمپ کو عورتوں کے خلاف جنسی طور پر جارحانہ باتیں کہتے ہوئے پکڑا گیا۔ جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کے کئی لوگوں نے ان سے دوری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ان عورتوں کے ساتھ دست درازی کی تھی تو یہ عورتیں اتنے دنوں تک کہاں تھیں۔ لیکن ان میں چند عورتوں کا کہنا ہے کہ ایسی باتوں کو لوگوں میں بیان کرنا عورت کے لئے بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے عورت اپنے آپ کو ذلت آمیز محسوس کرتی ہیں اور انہیں اپنی اس حرکت سے کافی پچھتاوا بھی ہوتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ہیلیری کلنٹن پر الزام لگایا کہ ان کے شوہر نے اپنے صدارتی دور میں مونیکا لوونسکی نامی ایک خاتون جو کہ وائٹ ہاؤس کی اسٹاف تھی،کے ساتھ جنسی رشتہ قائم کیا تھا، جس سے امریکی صدر کے رتبہ پر دھبہّ لگا تھا۔ اس کے علاوہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی کئی پالیسیوں کا بھی ڈونالڈ ٹرمپ نے ذکر کیا ہے جس سے امریکہ کی تر قی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ ہیلیری کلنٹن پر یہ بھی الزام ہے کہ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے کے دوران انہوں نے ای میلز کے لئے پرائیویٹ سرور استعمال کیا تھا۔
ہیلیری کلنٹن کی صحت پر بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ ایک تقریب میں ہیلیری کلنٹن شامل ہوئیں اور جلد ہی وہاں سے چلی گئیں۔ اس پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے ہیلیری کلنٹن کی صحت ٹھیک نہیں رہتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لئے امریکہ جیسے طاقتور ملک کو چلانا ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔ لیکن ماہر سیاستدان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہیلیری کلنٹن ممکن ہے بیمار ہوں لیکن وہ ایسی بھی بیمارنہیں ہیں کہ وہ امریکہ کی صدر نہ بن سکیں۔ تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہیلیری کلنٹن اپنی صحت کے متعلق کچھ باتوں کو چھپا رہی ہیں۔
ٹیلی ویژن مباحث کے دوران دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی باتوں کو عوام کے سامنے رکھا جن میں ہیلیری کلنٹن پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ جب امریکہ کی وزیر خارجہ تھیں تھیں تو انہوں نے اپنی نجی ای میل کو استعمال کیاتھا جس پر ہیلیری کلنٹن کو کافی پچھتاوا ہے۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر یہی کام نجی دفتر میں کوئی کرتا تو اسے جیل جانا پڑتا۔ اس کے علاوہ ہیلیری کلنٹن کی وہ تقاریر یا پیغام جسے لیکی وک نے دنیا کے سامنے ظاہر کیا تھا، ان پر بھی ڈونالڈ ٹرمپ نے ہیلیری کلنٹن کو ایک لاپرواہ اور نا اہل جیسے لفظوں سے مخاطب کیا ہے۔
ہیلری کلنٹن نے امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنا چاہئے اور یہ ہماری ذمہّ داری ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دیں گے۔ ہیلیری کلنٹن نے اس کے جواب میں ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟ جب کہ ہمارا ملک مذہب کی آزادی اور لوگوں کی نجی آزادی کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔
تکنیکی طور پر امریکہ کا صدر بننے کے لئے امریکہ میں پیدا ہونا لازمی ہے اس کے علاوہ امیدوارکی عمر 35سال ہونی چاہئے۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے1933کے بعد جتے بھی صدر چنے گئے ہیں وہ یا تو گورنر، سینیٹر، یا ملٹری جنرل رہے تھے۔ 2016کے صدارتی انتخاب کے امیدواروں میں 10گورنرز اور 10سینیٹروں نے نامزدگی کی کوشش کی تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ سارے امیدوار پارٹی ممبروں کے کم ووٹ کی وجہ سے باہر ہوتے چلے گئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ کا صدراتی ا میدوار بننا اور ان کی اوٹ پٹانگ باتوں سے صرف امریکہ کے لوگ ہی پریشان نہیں ہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگ پریشانِ ہیں۔ آئے دن وہ ایسی احمقانہ اور جارحانہ بات کہہ جاتے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ ایسی حرکت محض صدر بننے کے لئے کر رہے ہیں یا وہ واقعی دنیا کو اپنی جارحانہ پالیسی سے آگ میں جھونک دیں گے۔
امریکہ میں الیکشن کو اب دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں لیکن جوں جوں وقت قریب آتا جارہا ہے توں توں الزامات میں بھی تیزی آتی جارہی ہے۔ ایسا پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ امریکی امیدوار تہذیب اور اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حربے کو استعمال کرنے پر تیار ہیں۔ زیادہ تر لوگ ڈونالڈ ٹرمپ سے خوف زدہ ہیں کیونکہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ صدر بنے تو غیر یقینی میں اضافہ ہوگا۔ اس صورت میں ہر آنے والا ہر دن دنیا کےلئے غضب ناک ہو سکتا ہے۔ لیکن ہیلیری کلنٹن سے بھی لوگ کافی مایوس ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی بطور وزیر خارجہ مایوس کن رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 9 نومبر کو امریکی عوام کس کو اپنا صدر منتخب کریں گے۔
میں تو امریکی الیکشن کو زیادہ تر لوگوں کی طرح ایک تماشائی کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ اور ایسا محسوس کر رہا ہوں کہ دنیا کے جنگل کے دو خطرناک اور بد نام جانور ایک شیر اور ایک بھیڑیا اپنے شکار کی تاک میں بیٹھے اپنی باری کا انتطار کر رہے ہیں۔ آخر کار شکار تو معصوم انسان ہی ہو گا۔