گارڈ کی تبدیلی

  • تحریر
  • جمعہ 21 / اکتوبر / 2016
  • 5139

جنگ ہمیشہ سے ہولناک رہی ہے، اس کا ذکر اور اس کی تفصیلات عرصے بعد بھی پڑھنے اور سننے سے جھر جھری سی آجاتی ہے۔ ایسے ایسے مظالم کہ عقل دنگ اور انسانیت شرما جائے۔ جنگ کی ان تبا ہ کاریوں کے جواز میں ایک محاورہ مشہور ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔ 9/11 کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر اپنے اتحادیوں سمیت حملہ کیا تو اپنی ہیبت کو گھر گھر پہنچانے کے لیے پہلی بار جنگ کو لائیو نشر کرنے کا اہتمام کیا۔

بغداد میں جگہ جگہ ٹی وی کیمرے بمبار طیاروں کے انتظار میں تھے۔ دنیا دم سادھے طبل جنگ کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ ایک بڑی ہی خاموش اور قیامت کی رات تھی لیکن پھر اچانک فضا جنگی طیاروں کی برق آواز سے لرز اٹھی۔ چشم زدن میں گزر جانے والے طیاروں کی لرزہ خیز آواز کے ساتھ ہی فضا میں گولوں کی قطاریں زمین کی جانب گرتی دکھائی دینے لگیں۔۔۔ اور پھر یہ گولے ایک کے بعد ایک زمین پر گر کر تباہی مچانے لگے۔ آگ، دھواں، چیخیں۔۔۔ اس مہم کو اتحادی فوجوں نے Shock & awe کا نام دیا۔ ہر گزرتے دن آگ اور بارود کا کھیل خونیں سے خونیں تر ہوتا گیا۔ ٹی وی اسکرینوں سے جڑے ناظرین کے لیے ٹی وی کیمروں کو فوجی دستوں کے ساتھ بھی نتھی کر دیا گیا۔ جنگ کا پروپیگنڈا اب صرف محاذ جنگ سے آنے والوں، اخبارات کی خبروں اور ریڈیو کوریج کے عہد سے نکل کر ٹی وی فوٹیج میں مجسم ہونے لگا۔

عراق جنگ کے بعد جنگیں رکیں اور نہ اس رجحان میں کمی آئی۔ افغانستان کی جنگ میں بھی یہی گر آزمایا گیا۔ اور پھر چل سو چل۔ یوکرین میں روس اور یوکرین کے اتحادی برابر کی ٹکر کے تھے۔ لہٰذا فوٹیج کی یہ جنگ بھی دونوں طرف سے برابر جاری رہی ۔ عراق جنگ کے شعلے سرد ہونے کی بجائے کئی مختلف شکلوں میں  مشرق وسطیٰ میں پھیل گئے۔ شام، عراق، لیبیا، یمن۔۔۔ جنگ روایتی فوجوں سے زیادہ پراکسی گروپس کے ساتھ لڑی جانے لگی۔ داعش کی پیش قدمی نے جنگی منظر نامہ تیزی سے تبدیل کیا ۔۔۔۔  جس اہتمام سے بغداد پر بمباری لائیو دکھانے کا اہتمام کیا گیا تھا، پندرہ سال بعد اب موصل کا داعش سے قبضہ چھڑانے کی مہم کو بھی لائیو دکھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ فرق ان پندرہ سالوں میں یہ پڑا ہے کہ جس تیزی سے صدر بش نے بحری بیڑے پر چند ہی ماہ بعد مشن کی تکمیل اور کامیابی کا اعلان کیا ، اب تمام تر فائر پاور کے باوجود صدر اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ اس مہم کی تکمیل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ تمام تبصروں میں ممکنہ مزاحمت اور بوبی ٹریپس کا زیادہ ذکر ہے۔ دو طرفہ حملے میں ایک طرف عراقی فوج پیش قدمی کر رہی ہے اور دوسری طرف کرد فوجی ملیشیا۔ دونوں کو امریکہ کی فضائی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ ٹی وی چینلز پر اگلے مورچوں پر صحافیوں کی آواز میں احتیاط کا ذکر زیادہ ہے اور توقعات کم رکھنے کے لیے ڈھیر سارے تجزیے اور رپورٹیں۔

اس سارے خونیں کھیل میں اگر کیمرہ فوکس نہیں ہے تو ان دس لاکھ کے لگ بھگ سویلین شہریوں پر نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے، کیا بیتے گی؟ اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کی ایک رپورٹ ہم نے سنی تو اندازہ ہوا کہ اب تک صرف چون ہزار پناہ گزینوں کے لئے خیمہ جات اور انہیں سنبھلانے کا بندوبست ہو سکا ہے۔ توقع اور ڈر ہے کہ آگ اور خون کا طوفان تھما تو امداد کے متلاشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی، سنبھالے نہ سنبھالی جائے گی۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین انہیں ممکنہ حد تک سنبھالنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ چند سو کلو میٹر دور شام کے شہر حلب میں بھی یہی خونیں کھیل کئی سالوں سے جاری ہے۔ پراکسی وار میں متحارب ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں فضائی بمباری کی کمک مہیا کرنے کے لئے امریکہ اور روس اپنے اپنے اتحادیوں کے لئے بارود برساتے ہیں۔ سویلین آبادی اس جنگ کا ایندھن بنی ہوئی ہے۔ مگرمچھ کے آنسو اور عالمی پردھان ہونے کے ناطے امریکہ اور روس گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات پر مذاکرات کئے جارہے ہیں لیکن بارود کی بارش ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز جس نے بعد میں اقوام متحدہ کا نام پایا ، کے قیام کا ایک مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اب جنگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انسان نے بہت عذاب بھگت لیا۔ جنرل اسمبلی کے تحت سلامتی کونسل کا دارہ بنایا گیا۔ دنیا کو بہتر جگہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت اداروں کا ایک سلسلہ تشکیل دیا گیا۔ لیکن ہوا کچھ یوں کہ سرد جنگ میں یہ فورم ہاتھیوں کی لڑائی کا میدان بنا رہا۔ ایک دوسرے پر الزامات کے لئے ایک مرکزی فورم بنا رہا۔ نوے کی دہائی اور دو ہزار کے بعد سلامتی کونسل سے چالاکی اور عیاری سے غلط سلط اطلاعات اور دعوؤں کی بنیاد پر ملکوں پر جنگ مسلط کرنے کے پروانے حاصل کر لیے گئے۔ عراق اور افغانستان سے عروج پانے والا بارود اور خون کا سلسلہ ہنوز رکا نہیں۔ مشرق وسطیٰ عرب بہار کے خواب دیکھتے دیکھتے بارود کا ڈھیر ہو گیا۔ عالمی طاقتیں ہیں کہ لاشوں اور متحارب گروپس کی قسمت کے فیصلے کے لیے مذاکرات پر مذاکرات کر رہی ہیں۔ جو سنتے تھے یا پڑھتے تھے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد کس طرح عالمی جارح قوتوں نے مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیہ ترتیب دیا ، وہی مناظر اب لائیو دیکھ رہے ہیں۔ برطانیہ ، فرانس اور امریکہ کی سازشوں، مفادات نے تعصب کی جو سدا بہار خونیں فصل بوئی، آج پک کر جوان ہو گئی ہے۔ آج سوٹزرلینڈ کے تفریحی مقام پر بند کواڑوں کے پیچھے سے عیار مسکراہٹ کے ساتھ درجنوں منتظر ٹی وی کیمروں کے سامنے عالمی طاقتوں کے نمائیندے ہمیں بتاتے ہیں کہ مذاکرات جاری ہیں، مشکلات حائل ہیں لیکن ہم پوری کوشش کر رہے ہیں !

پوری کوشش ضرور جاری ہوگی لیکن جب تک یہ کوششیں کسی انجام تک پہنچیں گی لاکھوں بے قصور اپنے اپنے ان چاہے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ بعد مرنے کے کسی نے جفا سے توبہ کی تو کیا؟ اقوام متحدہ کا وجود تو اس دعوے کے ساتھ سامنے آیا تھا کہ اب جنگ نہیں امن کی تگ و دو کی جائے گی لیکن عملی طور پر اقوام متحدہ حالیہ چند سالوں میں جنگ روکنے کی بجائے جنگ کا لائسنس دینے کے لیے استعمال ہونے لگی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک ادارے یعنی ادارہ برائے مہاجرین کا کام بڑی اور متحارب طاقتوں میں پھنسے یا شکار سویلین آبادی کے لیے خبر گیری کا ہے۔ یورپی یونین مہاجرین کی آمد سے لرزاں ہے۔ چند سال قبل اس کے ادارہ برائے پناہ گزین و آباد کاری کو یہ طاقتیں فنڈز دینے سے گریزاں تھیں لیکن مہاجرین کا سیلاب اور دہشت گردی اپنی دیلیز پر دیکھ کر اب کھلے دل سے اس ادارے کو اربوں ڈالر دے رہے ہیں کہ انہیں یہیں روکو۔ جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے تو ترکی کو اچھے خاصے پیکج پر راضی کیا کہ مہاجرین کا یہ سیلاب یورپ کی طرف جانے سے روکنے میں مدد کرے۔

موصل ( عراق ) پر چڑھائی اور حلب ( شام ) میں عارضی جنگ بندی کے انہی دنوں میں اقوام متحدہ میں ایک انگریزی محاورے کے مطابق Change of guard ہوا ہے۔ نئے سیکریٹری جنرل کا انتخاب ہوا ہے۔ بان کی مون دس سالہ مدت گزار کر اس سال ریٹائر ہو جائیں گے۔ نئے جنرل سیکریٹری ا ینتونیو گوٹیر پرتگال کے سابق وزیر اعظم ہیں اور گزشتہ دس سالوں سے اقوام متحدہ کے پناہ گزین و آباد کاری ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان سے منسوب ہے کہ انہوں نے ادارے میں کرپشن اور نوکر شاہی کی گرفت کم کرنے میں دلیرانہ کام کیا اور کچھ نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی سفارتی مہارت اقوام متحدہ کے اصل مقصد یعنی ایک پر امن دنیا کی کوشش کی طرف بھی کچھ پیش قدمی کر پاتی ہے یا صرف بڑی طاقتوں کی پھیلائی ہوئی جنگوں میں پھنسی سویلین آبادی کے لیے خیمے اور خوراک ہی اس کا اصل کام رہ جائے گا۔

خدشہ یہ ہے کہ جنگوں کو لائیو لڑنے اور دکھانے کا یہ انداز دنیا کو مزید غیر مستحکم اور مجبور شہری عوام کو مزید مجبور کرے گا۔ ایسے میں یہ چینج آف گارڈ کوئی فرق پیدا کر سکے گا یا آگ اور خون کا پرنالہ وہیں بہتا رہے گا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔