’’دو بھائیوں کی حکومت‘‘
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 22 / اکتوبر / 2016
- 5726
نواز شریف حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر جارہی ہے اور عمران خان اس ترقی کے سفر میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کو ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے کرپشن سے پاک پاکستان چاہیے۔ اور موجودہ حکومت اور نوازشریف کرپشن کی بنیاد پر حکومت کررہے ہیں۔ ملکی سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے میں ملوث ہیں اور اُن کے حکومتی منصوبوں میں کرپشن رچی بسی ہے۔ اور یہ کہ جب تک یہ حکومت ہے، پاکستان ترقی توکیا کرے گا، مزید برباد ہوگا۔ اس کے لیے لازم ہے کہ کرپٹ وزیراعظم فوری طورپر مستعفی ہو، ورنہ ہم اس کو اقتدارسے باہر نکال پھینکیں گے۔ اس کے لیے عمران خان نے احتجاج کا نیا راؤنڈ شروع کردیا ہے۔
کیا نواز حکومت پاکستان کو تیزرفتار ترقی کی طرف لے جارہی ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ شہروں میں چند جدید شاہراہوں، جدید بسوں اور ٹراموں، فلائی اوورز سمیت دیگر تعمیراتی منصوبوں کو ترقی قراردیا جاسکتا ہے؟ کیا شہباز شریف پنجاب کو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ اُن کو اقتدار میں آئے آٹھ سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے( ااس مدت میں ان کے اس سے پہلے وزارتِ اعلی کے ادوار کو شامل نہیں کیا گیا)۔ کبھی کبھی تو حیرانی ہوتی ہے۔ جب میں شہباز شریف کے پنجاب میں ترقی کے حوالے سے بیانات پڑھتا ہوں اور اس حوالے سے اُن کا فخر دیکھتا ہوں جو ہر وقت اُن کے وجود سے چھلکتا ہے، تو بات حیرانی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ کیا کوئی قوم آج کے دور میں تعلیمی اور صنعتی ترقی کے بغیر ترقی کرسکتی ہے۔ میاں نوازشریف کی وفاتی حکومت اور میاں شہباز شریف کی صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں یہ دونوں شعبے بہت ہی ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
نوازحکومت کی پولیٹیکل سائنس میں ایک لفظ میں تعریف کی جائے تو وہ مالی سرمایہ داری Financial Capitalism کی تعریف میں آتی ہے۔ اُن کی حکومت، پاکستان سے باہر جس سرمایہ کاری کو لارہی ہے، وہ اپنا سرمایہ صنعتی منصوبوں میں نہیں بلکہ ایسے تجارتی منصوبوں میں صرف کررہے ہیں جس سے نہ صنعت سازی اور نہ ہی صنعتی ٹیکنالوجی پاکستان میں منتقل ہوگی۔ عالمی سرمایہ دار اپنا سرمایہ لایا، مال بنایا، کمایا اور کمائی کے ساتھ واپس چلا گیا۔ پاکستان کے حصے میں کیا آیا؟ صرف ایک کاروباری مصروفیت Activity ۔
فنانشل کیپیٹل ازم، سرمایہ داری کی انتہائی گھناؤنی شکل ہوتی ہے۔ درحقیقت لوٹ مار کا گورکھ دھندہ۔ میاں نوازشریف اور اُن کا خاندان اب خود عالمی فنانشل کیپٹل ازم کا حصہ دار ہے اور اسی حوالے سے ان کے بیٹے اور دیگر اہل خانہ، پاکستان اور بیرونِ ملک کاروباری منصوبوں میں شریک کار ہیں۔ اُن کا صنعتی سرمایہ داری سے رتی بھر بھی تعلق نہیں۔ بہ حیثیت حکمران بھی وہ درحقیقت اسی ’’ذمہ داری‘‘ کو نبھا رہے ہیں۔ عالمی سرمایہ داری نظام کے شریک کار کے طورپر اُن کی قیادت بھلا کیسے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں بدل سکتی ہے۔ اور اسی طرح پنجاب حکومت، گلیوں کی صفائی اور بیرون ملک سے ٹیکسی کمپنیوں کو اپنے ہاں بلا کرسادہ لوح لوگوں کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ ہم نے لاہور کو استنبول بنا دیا۔ استنبول اور ترکی کے دوسرے شہروں کی ترقی کا راز نوے سالوں کی جہدِ مسلسل میں ہے جس میں سیکولرنظامِ حکومت، صنعتوں کا قیام Indusrialization اور تعلیم سرفہرست تھے۔
پاکستان چین منصوبے جس قدر پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے، اس سے زیادہ چین کے لیے۔ اور چین عالمی تجارتی راہ داریوں کے حوالے سے صرف پاکستان ہی نہیں، اپنے چاروں طرف ایسے ہی منصوبوں میں مصروف ہے۔ ان اقدامات Intiatives میں ہماری حکومت سے زیادہ چینی حکومت متحرک ہے اور یوں ان منصوبوں کا کریڈٹ چینی حکومت کو ہی جاتا ہے۔ اسی لیے پاک چین راہ داری کی سیکورٹی سمیت متعدد معاملات چینی حکومت اپنے ہاتھوں میں لیے نظر آرہی ہے۔ نواز شریف حکومت اور شہباز شریف حکومت صنعت سازی کے بغیر اور تعلیم کے بغیر نہ جانے کس پاکستان کا تصور اپنے ذہنوں میں لیے بیٹھے ہیں۔
آج کی جدید جمہوری ریاست صنعتی معاشرے کے بغیر کسی طرح بھی جدید جمہوری ریاست بن ہی نہیں سکتی۔ تعلیم کے بغیر، اَن پڑھ سماج میں ترقی کی نام نہاد پیوندکاری، آبادی کے اژدہام میں چند جدید پُل اور ٹرام وے تعمیر کردینے سے کیا سماج، معاشرہ اور ریاست ترقی کرجاتے ہیں؟ یہ بھی ایسا ہی سراب ہے کہ جب 2002ء میں جنرل پرویز مشرف نے الیکٹرانک میڈیا کے پرائیویٹ در کھول دئیے تو عام لوگ تو کیا، بڑے بڑے سکالرز کہنے لگے، ’’میڈیا آزادہو گیا ہے، اب ملک ترقی کرے گا۔‘‘ کتنا سطحی تجزیہ تھا۔ اس نام نہاد آزاد الیکٹرانک میڈیا کو ایک ہی کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ایک جج کو نوکری پر بحال کروانے کے سوا کچھ نہیں کیا اور قوم کو مزید ذہنی الجھنوں میں ڈال دیا۔ پچھلے چودہ سالوں میں الیکٹرانک میڈیا کے سیلاب نے قوم کو ترقی کی جانب گامزن کیا؟ سراب، بس ایک اور سراب۔
موبائل فون لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دینے سے کیا ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے؟ یہ سارے تجارتی منصوبے درحقیقت فنانشل کیپٹل ازم ہی کا شاخسانہ ہیں۔ اور پسماندہ اَن پڑھ قوموں کے ساتھ سرمایہ دار ایسے ہی مذاق کرتے ہیں۔ ایک کروڑ آبادی کے سیلاب میں ڈوبے شہر میں، اگر ایک میٹروبس کا روٹ اور ایک اورنج لائن ٹرین، ترقی کے در کھول سکتی تو کتنا آسان رستہ ہے ترقی کا!
میں اُن لوگوں میں شمارہوتا ہوں جو سائنس اور جدیدیت پر یقین رکھتے ہیں۔ مجھے غیبی معجزے سے زیادہ مشین پر یقین ہے جو سائنس کی مرہون منت ہے۔ جدید بس، میٹروٹرین اور ایسے دیگر منصوبے میرے سیاسی فلسفے میں شان دار حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن کیا غربت اور جہالت کے انبوہ میں ایک کروڑ لوگوں کی قسمت اس پر سفر کرنے سے بدل جائے گی۔ قارئین، میں آپ تک اپنے قلم کے ذریعے ایک طویل مرحلے کے بعد پہنچ رہا ہوں، یعنی یہ کالم میرے تحریر کیے جانے کے بعد پرنٹنگ پریس تک اور اس کے بعد جس سبب آپ تک پہنچا، اس میں سائنس کا ہی کردار ہے، کسی معجزے کا نہیں۔ لیکن میرے کالم تک میرے خیالات، تعلیم و مطالعے کے سبب ضبط تحریر ہوئے۔ اگر تعلیم نہ ہوتی تو میں بھی کسی گلی کے نکڑ پر کباب بیچ رہا ہوتا۔ تعلیم نے ہی مجھے سوچنے اور تخلیق کر نے کے قابل بنایا اور دنیا کو تسخیر کرنے کی صلاحیت دی۔
میاں شہباز شریف کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے تعلیم کے بغیرپنجاب بدل دیا ہے۔ افسوس، اُن کو اپنے اوپر کامل یقین ہے کہ وہ پنجاب تو کیا تیسری دنیا میں ایک رول ماڈل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کاش وہ اسی پنجاب کے دو ہی رہنماؤں کی حکمرانی کے بارے پڑھ لیں تو انہیں علم ہو کہ اُن سے پہلے یہاں بہت کامیاب اور بے مثال حکمران ہوئے ہیں۔ سر فضل حسین اور سر چھوٹو رام، جنہوں نے پنجاب کو تعلیم اور کسانوں کو حقوق دلوانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ نواز حکومت سے مستفید ہونے والے کالم نگار جو معجزوں پر یقین رکھتے ہیں، ہم جیسے لوگوں کو جو سائنس پر یقین رکھتے ہیں، اُن کی شہری ٹرانسپورٹ پر قلم آزمائی کرنے پر کچھ کہتا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ترقی کے مخالف ہیں۔ یہ ایک سراسر غیر منطقی بات ہے۔
عمران خان کی تنقید اور احتجاج اپنی جگہ درست ہے یا غلط، لیکن یہ طے ہے کہ ’’دو بھائیوں کی حکومت‘‘ پاکستان کی ترقی کے روٹ Route پر ہی نہیں چڑھ پائی۔ اُن کو ادراک ہی نہیں کہ ترقی کی شاہراہ کہاں ہے۔ ممکن ہے۔ اُن کی نیتیں ٹھیک ہوں گی، لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ وہ ترقی کی شاہراہ کا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ اس طرح ’’دو بھائیوں کی‘‘ دکانیں تو چلائی جا سکتی ہیں، ریاستیں نہیں۔ ’’دو بھائیوں کی حکومت‘‘ پاکستان کے عوام کو سراب در سراب اور وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی دینے کے قابل نہیں۔