اتا ترک کا انقرہ
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 22 / اکتوبر / 2016
- 6372
چھ روزہ ترکی کا دورہ بہت سے معنوں میں کامیاب رہا۔ مختلف مقامات دیکھ کر آنکھوں کو جلا اور ذہن کو بالیدگی ملی۔ برلن سے استنبول اور وہاں سے انقرہ۔ انقرہ جدید ترکی کا جدید ترین شہری سہولتوں سے آراستہ بہت خوبصورت اور کشادہ سا شہر ہے۔
انقرہ کا ائرپورٹ نہایت وسیع اور کشادہ، دیدہ زیب اور جدید سہولتوں سے مرصع ہے۔ ائرپورٹ سے بس پکڑ کر اولوس اتر نا تھا۔ دیکھا کہ ٹکٹ با ٹنے والا بس کے روانہ ہونے سے پہلے ہی بس سے اتر گیا۔ اب صرف ڈرائیور ہی رہ گیا تھا جو مسافروں کو اتار کر سامان دےکر دوبارہ بس چلانے لگتا۔ اگرچہ وہ باقاعدگی سے پکار پکار کر آنے والے اسٹاپ کا پتہ دے رہا تھا مگر میں پھر بھی تھوڑا مضطرب تھا کہ بس آگے نہ نکل جائے۔ برابر میں بیٹھے مسافر سے پوچھا تو " زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم " کی طرح کچھ اس کے پلے پڑا نہ میرے۔ پھر دوسری نشست پر سے ایک آدمی انگریزی میں بولا کہاں اترنا چاہتےہو۔ جب میں نے اولوس کا کہا تو کہنے لگا میں بھی اجنبی ہوں۔ مجھے ڈھارس ہوئی کہ چلو میں اکیلا تو نہیں بھٹک رہا اور بھی لوگ ساتھ ہیں۔ یہ ایک گروپ تھا شام سے نکلے قسمت کے مارے انسانوں کا، مگر اس ہجرت میں بھی مدد کرنے کا جذبہ کم نہ ہوا تھا۔ وہ آپس میں عربی زبان میں گٹ پٹ کرتے رہے اور پھر انگریزی جاننے والے نے اس گفتگو، جو کہ اس دوران پوری بس میں پھیل چکی تھی، کا ترجمہ یہ سنایا کہ ابھی دو اسٹاپ مزید بس آگے جائےگی اس کے بعد والے اسٹاپ پر مجھے اترنا ہے۔
بس سے اتر کر رضوان کا انتظار کر نے لگا۔ ان کا ایک سے زائد مرتبہ واٹس ایپ پیغام آچکا تھا کہ مجھے کہاں اترنا ہے اور ان کا انتظار کرنا ہے۔ سو میں ان کا انتظار کر نے لگا۔ چاروں طرف نگاہ دوڑائی تو انقرہ کا ریلوے اسٹیشن سامنے نظر آیا۔ جسے انقرہ گاری کہتے ہیں۔ مجھے اس میں گاڑی کی مماثلت نظر آئی اور میں سمجھ گیا کہ یہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ ترکی میں ریلوے کا نظام بھی بہت اعلی ہے۔ تیز رفتار ٹرینیں ہیں۔ اناطولیہ ریلوے انقرہ کو استنبول براہ راستہ ازمیر سے ملاتی ہے۔ جبکہ استنبول انقرہ ایک برق رفتار ٹرین چلتی ہے۔ کسیری اور قونیا کوبھی تیز رفتار ٹرینیں جاتی ہیں۔
انقرہ شہر کے نام کی مختلف کہانیاں ہیں۔ اسے پہلے انگورہ بھی کہا جاتا تھا جو شاید انگور سے نکلا تھا اور یہاں بکثرت پیدا ہونے والے انگور کی طرف موسوم ہے۔ لیکن اس کا قدیم نام یونانی زبان اینکر سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب جہاز کا لنگر ہوتا ہے۔ انقرہ رومی اور پھر بزیطانی دور میں اہمیت کا حامل رہا اور اس کے ساسینائی دور میں خلیفہ ہارون الرشید نے اسے ان چھین کر اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ لیکن یہ جلد ہی ساسنیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ خلیفہ معتصم با اللہ نے ایک بار پھر فتح کیا۔ بزیطانی دور کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔ بعد میں یہاں سلجوقی، منگولی اور عثمانی سلطنتیں قائم ہوئیں۔
انقرہ میں تیمور لنگ کی فوج کشی اور توڑ پھوڑ تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ جس نے رومیوں کی نشانیاں تباہ کرکے اس حال میں رکھ چھوڑا کہ یہ باقیات اس کی لشکر کشی کی کہانی سنا سکیں۔ سن 1402 کی 20 جولائی کو تیمور لنگ نے انقرہ پر چڑھائی کی اور عثمانی فوجوں کو جوکہ سلطان بایزید اول کی سربراہی میں لڑرہی تھیں انقرہ یا انگورہ کے قریب شکستِ فاش دی۔ تیمور فاتح رہا مگر نجانے کیوں جلد ہی انطالیہ سے، بغیر استنبول فتح کئے لوٹ گیا۔ شاید جری ترک اس کی قوت بازو کو شل کر نے کا باعث بن گئے تھے۔ جنگ عظیم اول میں عثمانی سلطنت کی شکست کے بعد اتحادی فوجیں 1919 میں انقرہ پر قابض ہو گئیں۔ اسی سال مصطفٰی کمال پاشا یہاں آئے اور سن 1920 میں انہوں نے عظیم ترک قومی اسمبلی کی بنیاد رکھی۔ قومی اسمبلی کی یہ عمارت آج پرانے شہر میں سیاحوں کی زیارت کا مرکز ہے۔
رضوان آچکے تھے اب انقرہ کو پیدل چل کر دیکھنے کا پروگرام بنا ۔ رضوان ترکی میں اردو ہندی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ پڑھا تے بھی ہیں۔ وہ فر فر ترکی بول رہے تھے۔ وہ حاجی بیرم ولی مسجد اور ان کے مزار کے قریب واقع ایک ہاسٹل میں رہتے ہیں۔ انقرہ شہر پہاڑ پر بسا ہے اور یہاں اولوس میں تنگ اور پتلی گلیاں پیچ در پیچ اوپر نیچے اترتی چڑھتی ہیں۔ جبکہ شہر کے نئے حصے کیزیلائے میں جدید عمارتیں اور مرکزی حکومت کے دفاتر اور سفارت خانے وغیرہ ہیں۔
اولوس میں ہی کاراکالا حمام ، جو کہ رومیوں نے بنایا تھا، واقع ہے۔ حمام کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا ہے اور اب صرف بنیاد ہی باقی بچی ہے۔ حمام کو گرم پانی پہچانے کے لیے رومی قدیمی طرز کا ایک زیر زمین، گرم ہوا کے ذریعہ پانی گرم کرنے کا ایک ناد ہے۔ اس کے پاس ہی رومی مندر اگسٹس کی باقیات ہیں۔ جس کی دیواروں پر یونانی اورلاطینی زبانوں میں قیصر اگسٹس کے حالات زندگی تحریر ہیں۔ پاس ہی یولییان ستون ہے۔
انقرہ جا کر اتاترک کا مزار نہ دیکھنا ایسے ہی ہے جیسے کراچی جا کر قائداعظم کے مزار پر حاضری نہ دینا۔ اس کے علاوہ انقرہ کا قلعہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جسے خلافت عثمانیہ تک استعمال میں لایا جاتا رہا تھا۔ انقرہ میں کئی مساجد اپنی تعمیری لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔ جن میں انقرہ شہر کی جامع مسجد، علی سامی پاشا مسجد شامل ہیں۔