پاکستانی چائے والا

  • تحریر
  • اتوار 23 / اکتوبر / 2016
  • 6249
ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ جب بھی کوئی پاکستانی کوئی اعزاز حاصل کرتا ہے، ہم لٹھ لے کے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اور اس کی شخصیت میں دُنیا جہاں کی خامیاں نکالتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں کبھی مذہب کی بندوق ہوتی ہے تو کبھی سیاست کی تلوار۔ مقصداُس شخصیت کے عالمی یامقامی امیج کا قتل ہوتا ھے۔ افسوس کہ یہ سب کچھ کبھی اللہ کے نام پہ اور کبھی حب الوطنی کے جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک ایسے نادان دوست کا رول کر رہے ہوتے ہیں جو فائدے کے نام پہ اُلٹا نقصان کر دیتا ہے۔ خُدا جانے ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم خوش ہونا اور فخر کرنا بھول گئے ہوں۔ اس سلسلے میں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ مثلاّ ڈاکٹر عبد السلام نے شب وروز کی محنت کے بعد فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا۔ یہ بات پاکستانی قوم کے لئے انتہائی فخر کا باعث تھی۔ لیکن ہم اس شخص کو اس کے شایان شان مقام نہ دے سکے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کا تعلق قادیانی عقیدے سے تھا۔ حالانکہ ہم نہیں سوچتے کہ جہاں بھی اس نام لکھا ہو گا وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہو گا۔ کسی بھی جگہ پہ نہیں لکھا ہوگا کہ ایک قادیانی نے نوبل پرائز لیا تھا۔ اسی طرح ملالہ یوسفزئی جان پر کھیل گئی۔ بجائے اس کے کہ ہم اس معصوم کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ۔ ہمارا کمال دیکھئے کہ پندرہ سال کی بچی میں سازشیں تلاش کرتے رہے۔
 
جب وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا تھی، ہم اسے ڈرامہ قرار دیتے رہے۔ ہم پتھر دل یہ بھول گئے کہ اس کے لواحقین پر کیا گزرتی ہوگی۔ پھر جب اسے نوبل امن انعام ملا تو جس پہ دُنیا فخر کر رہی تھی، پاکستان میں اس کے خلاف ایک طوفان آیا ہوا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا اسلام کو بدنام کر دیا گیا۔ کوئی اسے پا کستان کے خلاف سازش قرار دے رہا تھا۔ حالانکہ یہاں ہم یہ بھی بھول گئے کہ دُنیا میں جب کم عمر ترین نوبل لاریئٹ کی بات ہوگی تو  کہا جائے گا کہ اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔ کیا یہ فخر کیا بات نہیں؟ خصوصاً اس وقت جب دُنیا میں پا کستان کا امیج دہشت گردی کے حوالے سےاتنا اچھا بھی نہیں ہے۔
 
اسی طرح شرمین عبید چنائے نےدو دفعہ آسکر ایوارڈ جیتا۔ ہم نے اس میں بھی کیڑے نکالے۔ یہ دُنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے کہ لوگ معاشرے میں پائی جانے والی خامیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔ ڈرامے اور فلمیں بناتے ہیں۔ اس کا مقصدان معاشرتی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان میں بہتری لانا ہوتا ہے۔ یوں ان کی نشنادہی کرنےوالا اس معاشرے کی ہی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے ممالک میں ایسے لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ خود امریکہ میں میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں فلمیں بنیں۔ کیا کسی نے انہیں غدار یا ملک کو بدنام کرنے والےقرار دیا۔ یقیناً نہیں۔ یہ اعزاز بھی ہمیں ہی حاصل ہے۔کہ شرمین عبید کو مختلف القابات سے نوازتے ہیں۔ حالانکہ جن معاشرتی برائیوں کا ذکر اس نے اپنی فلموں میں کیا ہے وہ بدقسمتی سے ہم میں موجود ہیں۔ کیا معاشرے میں ان بُرائیوں کے خلاف کو ئی مؤثر آوازموجود ہے۔ ؟ اور اگر کوئی جرات کر کے یہ آواز اُٹھاتا ہےتو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔
 
مجھے یہ سب باتیں اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک چائے والے نوجوان کاذکر بہت چل رہا ہے۔ ابھی اس بے چارے کو ملا بھی کچھ نہیں۔ لیکن ہمارا دائروں کا سفر شروع ہو گیا ہے۔ کوئی اسے مشورے دے رہا ہے کہ بے حیائی کےکام کی طرف مت جاؤ۔ جیسے وہ خود شرم و حیا کا پیکر ہوں۔ کوئی دوسرے بچوں کی تصویریں لگا کے کہہ رہا ہے کہ یہ خوبصورت نہیں کیا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔ ارے بھائی اگر اس کی خوبصرتی سے متاثر ہو کر اسے کچھ ملنے والا  ہے تو آپ کا اس میں کیا نقصان ہے؟
آپ ایک غریب آدمی کی حوصلہ افزائی کریں۔ خدارا خوش ہونا اور فخر کرنا سیکھئے۔ پاکستانی بن کے سوچئے۔ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں جواس طرح کے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ اس سے پاکستان ہی کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ تا کہ پاکستان کاسافٹ امیج بہترہو۔