یہ ہے ہماری سیاست
- تحریر منور علی شاہد
- اتوار 23 / اکتوبر / 2016
- 5345
سترہ اگست1988کو ضیاء الحق کی ایک فضائی حادثے میں ہلاکت سے پاکستانی سیاست دانوں نے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ نہ ضیاء کے سیاہ دور سے کوئی سبق سیکھا۔ الٹا اس کے بعد جو بھی مواقع ملے وہ سب ضائع کر دیئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر جمہوری طاقتوں کو پھر مواقع ملتے رہے۔ وہ جمہوریت پر شب خون مارتے رہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے۔
آج جب 1988کے بعد سے اب تک کے سیاسی منظر اور حالات پر نظر ڈالیں تو کہیں بھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ جس پر اظہار اطمینان کیا جا سکے ۔ ضیاء الحق کی وفات کے بعد مرزا اسلم بیگ نئے آرمی چیف بنے اور سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق خان صدر پاکستان بن گئے۔ انہوں نے جلد سے جلد نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد ہ ہوئے تو1988 میں پی پی پی نے 92سیٹیں لے کروفاق میں حکومت بنائی۔ محترمہ بینظیر بھٹو پہلی بار خاتون وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ اس وقت اپوزیشن پارٹی کے طور پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا اتحاد آئی جے آئی موجود تھا جس کے سربراہ نواز شریف تھے۔ اس اتحادنے 54 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ ضیائی دور کے بعد یہ پہلی جمہوری حکومت اندرونی سازش کا شکار ہوئی اور آٹھویں ترمیم کے تحت صدر غلام اسحاق خان نے حکومت ختم کردی۔ لیکن اس دور میں پی پی پی کو نہ صرف وفاق بلکہ چاروں صوبوں میں جس طرح کی حکومتیں ملیں وہ بھی ایک کڑا سیاسی امتحان ہی تھا۔
پنجاب میں بی بی کے سب سے خطرناک سیاسی حریف نواز شریف وزیراعلیٰ تھے جن کو تمام مذہبی جماعتوں کی مکمل سیاسی او مذہبی حمایت حاصل تھی۔ بلوچستان میں ظفراللہ خان جمالی وزیراعلیٰ بنے اور ان کے ساتھ پی پی کا سیاسی اتحاد تھا۔ سندھ میں پی پی پی کی اپنی حکومت تھی اور قائم علی شاہ وزیراعلیٰ بنے۔ اس وقت کے صوبہ سرحد میں آفتاب احمد خاں۔ پنجاب میں ریٹائرڈ جنرل ٹکا خاں کو گورنر پنجاب بنایا گیا تھا۔ اس نومولود سیاسی اور جمہوری حکومت میں سیاسی غلطیوں اور کچھ پنجاب میں مذہبی جماعتوں کی ریشہ دوانیوں نے ایسی صورتحال پیدا کردی کہ بلا آخر جلد ہی حکومت کا بستر گول ہو گیا۔
1990 میں پھر جنرل الیکشن منعقد ہوئے اور اس بار نواز شریف کو موقع دیا گیا اور وہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ لیکن ان کی حکومت کا انجام بھی پہلی حکومت سے مختلف نہ تھا بلکہ کچھ زیادہ ہی برا ہوا۔ لیکن یہ حکومت گزشتہ پی پی پی کی حکومت کی نسبت زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ اسمبلی میں آئی تھی۔ قومی اسمبلی میں اس کی105 سیٹیں تھیں اور مذہبی جماتیں بھی نواز شریف کے ساتھ تھیں۔ لیکن یہ طاقتور دوسری جمہوری حکومت بھی غلام اسحاق خان کی سازشوں کی نذر ہوئی اور کچھ اپنی سیاسی غلطیاں بھی کی گئیں، تاہم عوامی مینڈیٹ کا پھر خون کردیا گیا۔ اس کے بعد 1993میں پی پی پی کی حکومت 88 سیٹوں کے ساتھ پھربرسراقتدار آئی اور اس بار بھی ان کے مقابلے میں نواز شریف ہی تھے، جو پہلی بار مسلم لیگ (ن) کے سیاسی لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے۔
اس دور کی خاص بات یہ تھی کہ صدر غلام اسحاق خان ریٹائر ہو چکے تھے جنہوں نے دو منتخب حکومتوں کو برخواست کیا تھا۔ اس بار وفاق میں پی پی کی مخلوط حکومت تھی، جس نے جونیجو گروپ کے ساتھ اتحاد بنایا ہواتھا۔ لیکن سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ اور پنجاب میں نوازشریف کے ساتھ سیاسی اختلافات نے ایسی شکل اختیار کی کہ پی پی پی کے اپنے ہی منتخب صدر فاروق احمد خاں لغاری نے 1996میں اپنی ہی حکومت کو برخواست کردیا۔ یہ ایک بدنما واقعہ ہے جو ہماری سیاسی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ 1997میں نئے الیکشن میں ایک بار پھرمسلم لیگ (ن) کو کامیابی ملی اور اس نے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی جماعت نے دو تہائی اکثریت حاصل کی اور اس سیاسی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئین میں دو اہم ترامیم کی گئیں۔ جو تیرھویں اور چودھویں ترامیم کے نام سے لکھی اور پکاری جاتی ہیں۔
تیرھویں ترمیم کے تحت صدر کے اختیارات کم کر دئے گئے اور اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ چودھویں ترمیم کے تحت پارٹی تبدیل کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا۔ یہ ایک اہم قدم تھا جس سے ممبران کی خریدو فروخت پر قابو پانے میں مدد ملی۔ صدارتی اختیارات میں کمی کے باوجود سیاسی لیڈر بہت خوف زدہ تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے پاکستان مخالف جماعت مجلس احرار کے لیڈر کو صدر پاکستان نامزد کردیا اور بعد میں اسے منتخب بھی کرایا۔ اس طرح یہ حکومت ہر لحاظ سے محفوظ تھی اور اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہ تھا۔ آئینی طور پر ایک انتہائی مضبوط حکومت جس کو تمام مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن چونکہ مزاج بادشاہوں والا اور شاہانہ تھا۔ سری پائے کھانے والے کہاں زیادہ گہرا سوچنے کی زحمت کرتے ہیں لہذا وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ دربار میں موجود لومڑی صفت مشیروں نے کام دکھایا اورکھلائے جانے والے سیاسی کشتے ضائع ہوگئے۔
شاہانہ مزاج سے مجبور ہوکر اس بار آرمی چیف پرویز مشرف کے ساتھ پنگا لیا گیا۔ یا جو بھی ہؤا، اللہ ہی جانے۔ لیکن اس پنگے نے حکمرانوں کو سعودی عرب پہنچا دیا۔ یہ اکتوبر1999 کا سانحہ تھا۔ ایک بار پھر مارشل لاء نافذ ہوا اور پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور وہ اپنی بغل میں دو کتے لے کر، ترکی کے بانی اتارک کو ماڈل بنا کر قوم کے سامنے آئے۔ لیکن مولویوں کی ایک ہی دھمکی نے نہ صرف ان کی بغل میں دبے کتوں کو بھگا دیا بلکہ ان کا سیاسی سوچ بھی تبدیل کروا دی۔ سیاسی جدوجہد کے بعد الیکشن ہوئے اور پی پی پی کو پھر حکومت بنانے کا مقوع ملا۔ آصف علی زرداری صدر پاکستان منتخب ہوگئے۔ اپوزیشن میں مسلم لیگ (ن) تھی۔ یہ واحد حکومت ہے جس نے پہلی باراپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی۔ گو کہ اس دوران بھی بہت کوشش کی گئی کہ حکومت مدت پوری نہ کرسکے لیکن آصف علی زرداری ہر بار پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر سب کو بھگا دیتے رہے ۔
2013 کے جنرل الیکشن کے بعدایک بار پھر مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی یہ نواز شریف کی تیسری ٹرم ہے جو ان کے سیاسی تجربات کا کڑا امتحان ہے۔ لیکن اب تک عمران خان ایک بھوت کی مانند ان کے پیچھے لگا ہؤا ہے اور ان کی سیاسی عاقبت کو خراب کرنے پر تلا ہوا ہے۔ عجب مکافات عمل ہے کہ بےنظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں نواز شریف محترمہ کے لئے درد سر بنے رہے۔ اب عمران خان ان کے پیچھے ہیں۔ دونوں ہی کے بارے میں یہی شبہ کیا جاتاہے کہ انہیں سیاست میں لایا گیا تھا۔ یہی ہماری جمہوریت اور سیاست کا المیہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید آج ہماری سیاسی اور ملکی تاریخ کچھ اور ہی ہوتی۔۔۔۔۔