بیمار حکومت کے لئے مصائب کے تین مینار

آپ دل میں مجھے لاکھ برا بھلا کہیں لیکن میرے سخت مخالف ہونے کے باوجود آپ یہ  بات تسلیم کریں گے کہ ملک میں70سالوں میں مفاد پرست، لالچی ، اقربا پروری  دھونس و دھاندلی کرنے والوں کی حکومت رہی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ 

رحیم یار خان کی تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف کے اشکوں نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ یہ حکومت مفاد کی دلدل میں  اتنی پھنس چکی ہے کہ اب نکلنے کی کوئی  راہ نظر نہیں آرہی۔ تیسری بار اقتدار حاصل کرنے والی ن لیگ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے لئے مصائب کے تین مینار تعمیر کرلئے ہیں۔  جو تا قیامت مسمار نہیں ہوسکتے۔  پہلا مینار سانحہ ماڈل کے شہدا کا ہے جس کی بنیادوں میں  عوامی تحریک کے شہید کارکنوں کا خون ہے۔  سانحہ کو دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ، کیمرے کی آنکھ نے سب دیکھا اور دکھایا لیکن ابھی تک اس کیس کے مجرموں کی نشاندہی نہیں ہوسکی۔ سزا تو دہلی کی طرح دور است ہے، کیس سے جڑی جسٹس باقر نقوی کی رپورٹ بھی حکومت نے  دبائی ہوئی ہے۔ یہ خاکسار اپنی تحریروں میں کئی بار لکھ چکا ہے کہ اس کیس کا جب بھی شفاف انداز میں ٹرائل ہوگا تو بڑے بڑے سورماؤں کے نام سامنے آئیں گے۔  یہاں کی عدالت نے انصاف نہ بھی کیا تو اللہ کی عدالت نے اس  کا فیصلہ  لکھ دیا ہے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ انسان پر جب زوال آتا ہے تو اللہ سب سے پہلے اس سے عقل چھین لیتا ہے۔ حکومت ایک کے بعد ایک بڑی غلطی کرتی جارہی ہے۔ اس کے وزیر اور مشیر کوئی صائب مشورہ دینے کی بجائے ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا خود ساختہ ایوارڈ اس کا کھلا ثبوت ہے۔

حکومت کے خلاف دوسرے مصائب کا مینار پانامہ لیکس ہے۔ جس کی بنیاد آف شورز کمپینوں کے ذریعے غیر قانونی پیسے سے تعمیر کی گئی ہے۔ پانامہ میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام ہیں تاہم نواز شریف کہتے ہیں کہ پانامہ سے ان کا ذاتی کوئی تعلق نہیں۔ اس کے باوجود  آٹھ ماہ سے زیادہ کا  عرصہ گزر چکا لیکن حکومت اپوزیشن جماعتوں اور عوام کو تسلی بخش جواب دینے اور احتساب کےلئے  خود کو پیش کرنے سے قاصر ہے۔  پانامہ ایشو منظر عام پر آنے کے بعد مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہی کی کابینہ کے وزیر، مشیر انہیں مفت مشورے دیتے رہے ہیں کہ میاں صاحب۔۔۔  آپ فکر نہ کریں یہ معاملہ چند دنوں کا مہمان ہے۔ جلد ختم ہوجائے گا۔ اس حماقت نے وزیر اعظم کو دریا کے ایسے بھنور میں پھنسا دیا ہے، جس سے نکلنا ناممکن ہے۔ فرض کریں، عدالتیں  اس معاملہ کے مطابق میرٹ پر فیصلہ نہ بھی کریں، ماضی کی طرح ان ججوں پر دباؤ بڑھا بھی دیا جائے، تب بھی یہ مینار تاریخی بن چکا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی کرپشن کہانیاں بیان کی جائیں گی وہاں اس کا ذکر خیر ضرور آئے گا ۔

حکومت کےلئے تیسرا مصائب کا مینار عسکری ادارے کے خلاف انگریزی اخبار میں متنازعہ خبر چھپوا کر تعمیر کیا گیا، جو قومی سلامتی کے عین منافی تھی۔ ان میں بھی ان کے اپنے وزیر اور مشیر شامل ہیں۔ پندرہ دن سے زائد گزر چکے ہیں ، حکومت سوائے وضاحتوں ، تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے سوا ابھی تک  وردی والوں کو مطمئن نہیں کر سکی۔ حکومت اس معاملہ سے پوری طرح آگاہ ہے۔  دیکھتے ہیں اب اس طوفان سے نکلنے کےلئے عارضی بنیادوں پر کس وزیر یا مشیر کی بلی  چڑھائی جاتی ہے۔ یہ مینار بھی تاریخ بن چکا ہے۔ اس نے خاکی فرشتوں اور حکومت کے درمیان خلیج بڑھا دی ہے۔ حکومت اور اس کے حواری جتنا چاہیں عوام کو طفل تسلیاں دیتے رہیں کہ عسکری اور حکومتی قیادت ایک پیج پر ہے، یہ  جھوٹ سب پر عیاں ہے۔ 

اب فیصلہ وقت کرے گا کہ تینوں مصائب میں کس مینار کا ملبہ حکومت پر گرتا ہے اور اسے زمین بوس کرتا ہے۔ حکومت اپنی میعاد پوری کر بھی لی تو بھی تمام تر بدعنوانی کے باوجود   2018 کا الیکشن نہیں جیت سکتی۔

کیونکہ مصائب کے تین مینار ہیں اور حکومت بیمار ہے۔