ریٹنگ ہی سب کچھ نہیں ہوتی

تھپڑ کھانے والی خاتون صحافی سے تمام تر ہمدردیوں کے باوجود سچ یہ ہے کہ اس رپورٹنگ میں وہ بطور صحافی کہیں نظر نہیں آئیں ۔ برا نہ مانیں تو کہوں کہ ہمارے کئی صحافیوں کو بھی تربیت کی ضرورت ہے۔ لیکن جہاں تنخواہیں ہی تاخیر سے ملتی ہوں وہاں تربیت پر کون دھیان دے گا ؟

"تمہیں شرم نہیں آتی ؟ " جیسے عامیانہ جملے اور گفتگو سے گریز کرنے والے کا بار بار راستہ روک کر اس کے سامنے بدمعاشوں کی طرح کھڑے ہو کر ذاتی حملے، صحافیوں کے شایان شان نہیں ہیں ۔ کسی کا بازو کھینچ کر اس کو موقف دینے پر مجبور کرنا صحافتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے ۔ خاتون یہ حق رکھتی تھیں کہ گفتگو نہ کرنے پر رپورٹ کرتیں کہ فلاں گارڈ نے ہم سے گفتگو کرنے یا اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا ۔ لیکن زور زبردستی ان کی پیشہ وارانہ حدود کی خلاف ورزی تھی۔  جس طرح جدید کیمرہ اٹھا لینے سے ہر شخص کیمرہ مین نہیں بن جاتا، اسی طرح مائیک تھام لینے سے انسان رپورٹر نہیں بن جاتا۔

خاتون لبرل ہوں گی کہ ان کے نزدیک کسی مرد کا بازو تھامنا معیوب نہیں لیکن ممکن ہے وہ گارڈ اتنا لبرل نہ ہو کہ کسی بھی خاتون کو اپنے جسم پر ہاتھ لگانے کی اجازت دے دیتا۔ ہمارے گھر کی خواتین کا کوئی بازو تھامے تو شاید ہم اسے جان سے مارنے کی کوشش کریں تو کیا یہی کلیہ ان خاتون اور گارڈ پر لاگو نہیں ہوتا۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں کا کلچر اور تہذیب ہماری رپورٹنگ کا حصہ ہوتی ہے۔ اور صحافتی اقدار ہمارا سرمایہ ہیں ۔ ہم ان اقدار کے پابند ہوتے ہیں کیونکہ ہم صحافی ہیں بدمعاش نہیں۔

یاد آتا ہے پشاور میں ایک بم دھماکے کے بعد ایک خاتون رپورٹر نے ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر ایک سٹریچر کو زبردستی روک کر زخمی کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی، تو ہمارے ایک سینئر صحافی نے خاتون کو تھپڑ رسید کرکے سٹریچر کو ایمرجنسی کی جانب دھکیل دیا تھا ۔ اور غصہ سے سرخ چہرے کے ساتھ کہا تھا تمہارے ایک پیکج کے چکر میں یہ شخص مر جاتا تو ذمہ دار کون ہوتا ؟ اسی طرح بم دھماکے میں شہید ہونے والے ایک نوجوان کی ماں نے صحافیوں کو جو تھپڑ رسید کیا تھا اس کا نشان آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ ایک رپورٹر نے بیٹے کی میت کے سامنے بین کرتی ماں کے سامنے مائیک کرتے ہوئے کہا : ‘ظالموں نے آپ کا بیٹا چھین لیا آپ کے کیا جذبات ہیں ، کیسا محسوس کر رہی ہیں‘۔ اس ماں نے غصہ سے کہا: ‘کاش تمہارا بیٹا اسی طرح مرا ہوتا تو سوال کرتی، اب کیسا محسوس کر رہے ہو‘ ۔

سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے ایک بچے کی ماں نے بھی یونہی تھپڑ رسید کیا تھا ۔ ان سے رپورٹر نے کہا: ‘آپ کو اپنے بچے کی شہادت پر فخر ہو گا؟‘ ماں کہنے لگی: ‘میں نے بچہ میدان جنگ میں نہیں بھیجا تھا ۔ اسے سکول پڑھنے بھیجا تھا۔ ہمارے غم کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے۔‘

جذبات ، کلچر اور احساست سے عاری اس صحافت نے ہی ہمیں بدنام کیا ہے ۔ ریٹنگ ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔ تہذیب اور اقدار کے ساتھ کی گئی رپورٹنگ افضل ہے اور سچ کہوں تو ہم سب کو تربیت کی ضرورت ہے ۔ یہاں باوقار رپورٹنگ کی اکیڈمیز اور شارٹ کورسسز کا رحجان پیدا کرنا ضروری ہے ۔
 (تحریر پروفیسر طاہر ملک )