چیف جسٹس صاحب: سچ تو یہ ہے
- تحریر منور علی شاہد
- سوموار 24 / اکتوبر / 2016
- 5187
لاہور ہائی کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے کسی ایک تقریب میں خطاب کے دوران فاضل ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ججز بے خوف و خطر انصاف کریں ، باقی میں دیکھ لوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے اندر موجود خامیوں کی نشاندہی کرنی ہے اور انہیں دور کرنا ہے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے خطاب میں اور بھی باتیں کہی تھیں جو انہی باتوں کی طرح اچھی اور مفید نصائح پر مشتمل تھیں۔ لیکن مجھے انہی انہی چند باتوں پر ردعمل ظاہر کرنا ہے۔
فاضل چیف جسٹس کی توجہ کچھ ایسے ہی مسائل کی طرف مبذول کرانا ہے، جن سے نظریں چرائی جاتی ہیں۔ یہ بھی اسی خوف اور دباؤ کا شاخسانہ ہے جس کی طرف فاضل چیف جسٹس نے اشارہ کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت انصاف کا حصول کس قدر مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے، اس کا ذکر اب الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں رہا۔ آئے دن اخبارات میں ایسی ایسی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلاں سائل نے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خود سوزی کرلی یا خود کو جلانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا حصول ایک دیوانے کے خواب کی مانند ہو چکا ہے۔ عدالتوں میں رونما ہونے والے واقعات اور انصاف میں تاخیر کے سبب ہونے والی خودکشیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ معمولی معمولی جرائم میں ملوث افراد کو مہینے اور سال بیت جاتے ہیں کہ انصاف نہیں ملتا۔
کچھ عرصہ سے یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ فاضل چیف جسٹس صاحبان کی طرف سے وعظ اور درس و تدریس کی مانند کے بیانات باقاعدگی سے دیئے جا رہے ہیں جو الفاظ کی حد تک تو ٹھیک ہیں، عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔ اس کا آپ سب کو بھی علم ہے۔ ہمیں پاکستان کے ارد گرد کے ممالک کے جج صاحبان کے بیانات شاذ و نادر ہی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ان کے فیصلے اتنا بولتے ہیں کہ ان کی بازگشت سرحدیں پار کر جاتی ہے۔ جناب پاکستان میں فیصلوں کے بولنے کارواج عام کریں، اس کی اشد ضرورت ہے۔ جب فیصلے بولنے لگیں گے تو ججوں کو بولنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ فیصلوں کو طاقتور بنائیں۔ وہ فیصلے کریں کہ خود ہی پتہ چلے کہ جج کتنا آزاد اور خود مختار ہے۔ پھر انہیں کسی چیف جسٹس کی ایسی یقین دہانی کی ضرورت محسوس نہ ہو کہ ججز بے خوف ہو کر فیصلے کریں باقی میں دیکھ لوں گا۔
اس بیان سے بہت کچھ واضع بھی ہو گیا اور بہت سی باتوں کی تصدیق بھی ہو گئی۔ سیاسی، ریاستی اور مذہبی طبقوں کی طرف سے دباؤ رہتا ہے اور نہ ماننے کی شکل میں اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی ایک مثال سندھ ہائی کارٹ کے چیف جسٹس کی دی جا سکتی ہے کہ کس طرح ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا تھا اور ایک ماہ بعد اس کو بازیاب کرایا گیا۔ اب اس کے پس منظر سے لاکھ انکار کیا جائے یا چھپایا جائے لیکن سچ یہی ہے کہ کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی غرض سے ہی ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا۔ جہاں چیف جسٹس کا بیٹا محفوظ نہیں وہاں عام آدمی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پاکستان میں جج نہ آزاد ہیں اور نہ ہی ان کو تحفظ میسر ہے۔عدالتی نظام اس قدر کرپٹ اور بدبودار ہو چکا ہے کہ خدا کی پناہ۔ مظہر حسین کا واقعہ پورے عدالتی نظام پر ایک مکمل اور بھرپورتھپڑہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے انیس سال سے بےگناہ جیل میں بند مظہر حسین کی رہائی کے آڈر جاری کئے گئے تو گھر والوں نے بتایا کہ مظہر حسین انیس سال انصاف کے لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکتاتا ہوا مایوس ہو کر جیل سے قبرستان چلا گیا تھا۔ وہ جب جیل گیا تھا تو اس کے بچے چھ ماہ اور آٹھ سال کے تھے اور انصاف نہ ملنے کے بعد وہی بچے باپ کی نعش اٹھا کر لائے تھے۔ یہ ہے انصاف پاکستان میں۔
پاکستان میں صرف ججز ہی بولتے ہیں انصاف تو دھاڑیں مار مار کر روتا ہے۔ اور سنیئے اسی فیصلہ کے ساتھ ہی ایک اور انصاف کے منتظر کو پندرہ سال کے بعد رہائی ملی کہ وہ بےگناہ تھا ۔ یہ سب کیا ہے جناب ۔عمر قید سے بھی زیادہ سزائیں جیلوں میں گزاری جا رہی ہیں اور قصور بھی کوئی نہیں۔ کہاں ہے ریاست ، کہاں ہے حکومت اور کہاں ہے آپ کا اسلامی آئین۔ کہاں ہے شریعت کورٹ۔ ایک اور واقعہ سنیئے تازہ ترین جو پاکستانی عدالتی نظام کے منہ پر ایک اور طمانچہ ہے۔ گزشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ نے دو سگے بھائیوں کو قتل کے ایک مقدمہ میں بیگناہ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا اور جب رہائی کا پروانہ بہاولپور جیل میں پہنچا تو میڈیا والوں پر یہ انکشاف ہوا کہ ان دونوں سکے بھائیوں کو تو گزشتہ سال ہی پھانسی دی جا چکی ہے۔ ملزموں کا وکیل حیران و پریشان ہے کہ یہ کیسے ہو گیا۔ پھانسی دینے کا ایک مکمل طریق کار موجود ہے اور سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔
اوپر بیان کئے گئے دونوں واقعات سے یہ واضع ہوتا ہے کہ فاضل عدالتیں بھی اندرونی زوال پذیری سے آگاہ نہیں ہیں۔ ان کو نہیں پتہ کہ حالات کتنے دگرگوں ہیں۔ اصل میں یہی وہ کام ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کے اندرونی نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کو سیاسی اور مذہبی دباؤ سے نکالے بغیر انصاف کے تقاضے نہ تو پورے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ججوں کو تحفظ میسر آئے گا۔
توہین رسالت کیس میں عالمی شہرت یافتہ آسیہ بی بی جو 2009 سے جیل میں ہے اور سزائے موت کے خلاف اس کی آخری اپیل کی سپریم کورٹ میں13اکتوبر کو ہونا تھی، لیکن ایک دن قبل اسلام آباد کی لال مسجد سے ایک دھمکی آمیز بیان جاری ہوا کہ حکومت آسیہ بی بی کو رہا کرنے سے باز رہے۔ اور اگلے دن عدالت میں ایک جج نے کیس کی پیروی سے انکار کردیا۔ اور یوں سماعت ملتوی ہو گئی۔ کون مضبوط ہے ریاست ، عدلیہ یا وہ ۔ کیا یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ اس وقت پاکستان کے اندر عدالتوں اور ججوں کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر مذہبی جماعتوں کے سینکڑوں کی تعداد میں کارکن عدالت کے باہر جمع ہو کر شدید نعرے بازی کرتے ہیں۔ جج اور عدالت پر دباو ڈالتے ہیں کہ وہ جج مجبور ہو کر غلط فیصلے کر دیتے ہیں۔ مولویوں کی دھمکیوں اور دباؤ میں آجاتے ہیں۔ یہ سب کچھ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن سیاست میں چھائی ان مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا کہ جماعتی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس قسم کے واقعات چھوٹی عدالتوں کے باہر رونما ہو چکے ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ خطرناک صورتحال احمدیہ کمیونٹی کو درپیش ہے۔ ان کے تو کیس ہی نہیں شروع ہونے دئے جا رہے اور جو شروع ہو بھی جائیں تو اتنی پیشیاں دی جاتی ہیں کہ انصاف ملنے سے پہلے ہی لمبی لمبی سزائیں وہ بھگت لیتے ہیں۔ اس وقت بھی ان کے درجنوں ایسے کیس عدالتوں میں موجود ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں لیکن مذہبی جماعتوں کی دھمکیوں اورعدالتوں کے باہر مظاہروں کی وجہ سے ان کیسوں کو سنا ہی نہیں جا رہا۔ ایسے دو کیس تو پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بھی رہے۔ ان میں ایک 80 سالہ بزرگ عبدالشکوربھائی جو سینئرسٹیزن میں آتا ہے۔ وہ لگ بھگ ایک سال سے جیل میں ہے۔ اسی طرح اسی جماعت کے روزنامہ الفضل کے پرنٹر و پبلشر طاہر مہدی کئی سال سے پابند سلاسل ہیں۔ ان کا کیس مذہبی دباؤ کی بدترین مثال ہے۔ کیس کو لگنے ہی نہیں دیا جا رہا۔ ان کی عمر بھی پچاس سال سے زائد ہے۔
یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور شرمناک ہے۔ انصاف کی فراہمی ہر ریاست کی بنیادی اولین ذمہ داری ہے اور اس میں کسی مذہب و عقیدہ کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ منصف سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے، خاص طور پر نچلی عدالتوں میں۔ تو جناب نچلی سطح پر انصاف کے معیار کو شفاف اور یقینی بنانے کا کچھ سوچیئے پلیز۔۔۔