جماعت اسلامی اس لیے نہیں...

تین روز قبل پاکستان کے ایک قومی اخبار کے کالم نگار سلیم صافی نے اپنے کالم ’’جماعت اسلامی کیوں نہیں ‘‘ میں جن خیالات کا اظہار کیا، وہ بڑے دلچسپ ہیں۔ اپنے اس کالم میں سلیم صافی، جماعت اسلامی کے تیسری آپشن نہ بننے پر کافی دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ اس جماعت کے امیر منورحسن ہوں یا  سراج الحق، وہ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے ہی دیگر قائدین۔ یہ درست بات ہے۔ اور یہ کہ جماعت اسلامی کی قیادت ایمان دار ہے اور جماعت کے اندر جمہوریت بھی ہے۔ یہ بھی درست بات ہے۔

اپنی دلیلوں کو پیش کرتے ہوئے وہ شاید اپنے آپ سے ہی سوال کررہے ہیں کہ ڈھیروں خوبیوں کے باوجود جماعت اسلامی، نواز شریف، آصف علی زرداری اورعمران خان کی جماعتوں کا متبادل کیوں نہیں بن پارہی ۔ راقم نے سمجھنے کی بڑی کوشش کی، اس لیے کالم کو بار بار پڑھا کہ یہ تجزیہ ہے کہ خواہش؟ میرے خیال میں کالم نگار کی تحریر تجزیے سے زیادہ خواہشات میں رچی بسی ہے۔ ایک جگہ وہ ترکی کے اردو آن کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ طیب اردوآن، سراج الحق جیسے ہی توہیں۔ اس حوالے سے وہ اُن کا جماعت اسلامی سے تعلق اور اردوآن کے افغان جہاد میں شریک ہونے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر غلط ہے کہ  طیب اردوآن نے افغانستان میں کسی مسلح کارروائی میں حصہ لیا ہے۔ ایسے ’’تجزیے‘‘ کبھی کبھی خواہشات کو مستقبل کی بجائے ماضی میں بھی ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بس ذرا طیب اردوآن اور اُن کی شریک حیات اور سراج الحق کو آمنے سامنے بٹھا دیں، پتہ چل جائے گا جماعت اسلامی اور AKP میں کیا فرق ہے ۔ اپنے اس کالم میں سلیم صافی یہ بھی کہتے ہیں: ’’ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ اگر جماعتِ اسلامی اورجے یو آئی جیسی جماعتیں دھرنوں پر اتر آئیں تو ہم کلین شیوڈ، سکرپٹڈ اور مخلوط دھرنوں کو بھول جائیں گے اور اگر انہوں نے قانون ہاتھ میں لے کر شہروں کو بند کرنے کی ٹھان لی تو پھر لوگ دیکھ لیں گے کہ شہر کیسے بند کیے جاتے ہیں۔‘‘  سلیم صافی کے یہ الفاظ اُن کے مضمون کا نچوڑConclusion ہیں۔ سمجھ نہیں آئی کہ وہ جماعت اسلامی کے خیر خواہ ہیں یا لوگوں کو دھمکی دے کر جماعت اسلامی اور جے یوآئی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یا پھر وہ دونوں جماعتوں کو سیاسی اصطلاح میں لائن کرارہے ہیں۔ اٹھو اور شہر، قصبات، گاؤں، سارا ملک قبضے میں لے لو اور وہ کروجو کوئی نہیں کرسکتا۔ میرے لیے یہ کالم ابھی بھی یہ طے نہیں کرپایا کہ سلیم صافی کیا چاہتے ہیں۔ اپنے خوابوں کی تعبیر یا کسی خاص ترنگ میں انہوں نے یہ کالم ضبط تحریر کردیا۔

اگر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ’’جماعت اسلامی کیوں نہیں؟‘‘ تو اس سوال کو پاکستان کے معروضی حالات اور سیاسی پس منظر اور جماعت اسلامی کی اپنی تاریخ کے پس منظر میں اٹھانا چاہیے تھا۔ سماج ملے جلے طبقات پر کھڑے ہوتے ہیں، مختلف نسلوں، رنگوں اور مختلف سماجی بنیادوں پر۔ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جس کی رکنیت کڑے امتحان کے بعد حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے لیے صالح مسلمان ہونا ضروری شرط ہے اور خود کو صالح مسلمان ثابت کرنے کے لیے طویل وقت درکارہوتا ہے۔ اورجماعت کے اندر قائم ڈھانچہ ان صالح مسلمان اراکینِ جماعت اسلامی کے سروں پر کھڑا ہے۔ رفیق اور رکن جماعت اسلامی کے درمیان بھی ایک بڑا فاصلہ ہے۔ کوئی بھی رکنِ جماعت اسلامی کا اعزاز  تب ہی پاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو جماعت اور اسلامی شعار میں ایک شان دار مسلمان ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ ا س کے لیے باقاعدہ ایک لائیحہ عمل Process ہے۔ اس ڈھانچے کو ان صالح مسلمان اراکینِ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی متاثرنہیں کرسکتا۔ یہ بھی اس جماعت کی اندرونی جمہوریت کی تاریخ ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے مطابق ایسی جماعتیں کیڈر پارٹیاں کہلاتی ہیں۔ روایتی کمیونسٹ پارٹیوں کا ڈھانچہ بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ ایک مکمل مارکسٹ ہوئے بغیرکوئی ایسی روایتی کمیونسٹ پارٹی کا رکن نہیں بن سکتا۔ یعنی حتمی کمیونسٹ ، کھرا اور مکمل کمیونسٹ۔ جماعت اسلامی اور ایسی کمیونسٹ پارٹیاں اس طرح ایک ہی ڈھانچے پر استوار کی گئیں۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جماعت اسلامی، پاکستان جیسے ملک میں آصف علی زرداری ، نواز شریف اور عمران خان کا متبادل کیوں نہیں بن پارہی۔ سلیم صافی اپنے آپ کو ہی دلیلیں پیش کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے عوامی خدمت کے منصوبوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ تو عرض ہے کہ ایک ایسی جماعت جو صالح مسلمانوں کے کیڈر پر کھڑی ہے، وہ سماج کے مِلے جلے لوگوں کی بھلا کس طرح قیادت کرسکتی ہے۔ سادہ لفظوں میں، گناہ گاروں کی قیادت۔ پہلے تو سارے سماج کو جماعتِ اسلامی صالح مسلمانوں میں بدلے، اسی لیے ڈاکٹر اسراراحمد اور دیگر اوّلین قائدین جماعت اسلامی ، جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوئے کہ انہوں نے سماج کے گناہ گاروں کو صالح مسلمان بنانے کافریضہ ادا کرنا شروع کردیا۔ اور اس کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ جماعت اسلامی پہلے بیس کروڑ انسانوں کو اپنے معیار پر لائے گی تو پھر جماعت اسلامی، پاکستان کے لوگوں کی قیادت کرنے کی اہل ہوگی۔ یا یہ کہہ لیں کہ سارا ملک جناب سراج الحق جیسا ہوجائے تب لوگ جماعت اسلامی کو قیادت کرنے کا موقع دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں جماعت اسلامی تو قیادت کے لیے کوالی فائی Qualify کرتی ہے، پاکستان کے عوام نہیں۔

 یہی وہ تضاد ہے جو جماعت اسلامی کے ایک مقبول یا عوامی جماعت بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اور یہی وہ اختلاف تھا جو جماعت اسلامی کی ابتدا میں پیدا ہوا کہ سماج کو اسلامی تعلیم وتربیت کے ذریعے اس نہج پرپہنچا دیا جائے کہ لوگ ازخود جماعت اسلامی کی قیادت کے تحت آجائیں۔ جو اس بات پر زیادہ یقین رکھتے تھے، وہ جماعت سے علیحدہ ہوکر اسلامی تعلیمات کے مشن پر چل پڑے۔ ممکن ہے جماعت اسلامی کسی معجزے کے انتظار میں تھی کہ سیاسی جدوجہد بھی جاری رکھی جائے اور سماج کو بھی بدلاجائے اور یوں دونوں عمل سے جماعت اسلامی، پاکستان کے عوام کا پہلا اور حتمی آپشن بن جائے گی۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا ۔

اس دوران پی پی پی کا ظہورہوا۔ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو چنا۔ بعد میں بے نظیر اور آصف علی زرداری، نواز شریف اور اب عمران خان۔ لیکن پاکستان کے عوام نے سراج الحق تک کسی ایک بھی امیرجماعت اسلامی کو اپناراہبر قرارنہیں دیا۔ اور یہ کہنا کہ اگر جماعت اسلامی اور جے یوآئی سڑکوں پر آگئیں تو وہ کچھ ہوسکتا جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا ، نہ جانے اس کا کیا مطلب ہے۔ لیکن ایک بات یادرکھی جائے، ایسے سڑکوں پر آنے کامطلب ہے سماج میں خانہ جنگی۔ چوں کہ دونوں جماعتیں پاکستان کے صرف چند فیصد لوگوں کی آواز ہیں۔ اگر وہ کسی مسلح طاقت کے ذریعے اکثریت کو خوف زدہ کرنے کی طاقت پر مائل کی جائیں تو کیا اکثریت آبادی اُن کی طاقت تلے دب جائے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ دونوں جماعتیں ایسا کبھی بھی نہیں کریں گی اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچتی ہیں۔ یہ موصوف کالم نگارکی سوچ ہوسکتی ہے لیکن جماعت اسلامی اور جے یوآئی کی نہیں ہے۔

جماعت اسلامی، سماج اور ریاست کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کی سوچ پر کاربند ہے۔ لیکن دہائیوں سے وہ اپنے منشور کے مطابق نہ سماج کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے میں کامیاب ہوئی نہ ہی ریاست کو۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے ہی ایک اہم ذمہ دار اور شان دار راہبر کے ساتھ بیٹھے انہی کی زبان سے ایک جملہ سیکھنے کا موقع ملا۔ اُن کے بقول، وہ یہ بات اپنی جماعت کے اندر نہیں کرسکتے کہ ’’ہم (جماعت اسلامی) وقت کا ضیاع کررہے ہیں سماج کو صالح مسلمان بنانے کی جدوجہد میں۔ لوگ تو مسلمان ہیں ہی، نیک اور گناہ گار مسلمان کا فیصلہ تو روزِقیامت ہونا ہے۔ پاکستان کو دو چیزیں درکار ہیں، تعلیم اور روزگار۔  اگر مسلمان تعلیم یافتہ ہوجائیں اور خوش حالی اُن کے در پر آجائے تو ایک تعلیم یافتہ اور خوش حال مسلمان سماج ابھر کر خود بخود سامنے آجائے گا۔ ناخواندگی اور غربت کے خاتمے کے بغیر بھلاکیسے ایک جدید سماج ابھر سکتا ہے۔‘‘

ان الفاظ کی روشنی میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کو مسلمانوں کے اسلامی شعار کی فکر کی بجائے، اُن کی تعلیم اور غربت کے خاتمے کے لیے ایک سماجی معاشی Socio-Economic سیاسی ایجنڈے پر زوردینا چاہیے۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی ایک ایسی کیڈرپارٹی بن چکی ہے، جس کی تنظیم نو Re-structuring نہیں بلکہ تعمیر نوRe-building کی ضرورت ہے۔ اور ایسی جماعتیں کبھی بدلتی نہیں کیوںکہ اُن کے اندر ایسا کیڈر جنم لے چکا ہوتا ہے جو اپنی روایات سے جڑے رہنے کو نظریاتی قرار دیتا ہے۔