ڈیبٹ کارڈ دھوکہ دہی کا سنگین معاملہ

ملک کے کروڑوں عوام ا س وقت ڈر اور خوف کا شکار ہوگئے جب ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے یہ خبر عام ہوئی کہ ہندوستان میں  32 لاکھ  سے زائد لوگوں کے ڈیبٹ کارڈ (اے ٹی ایم کارڈز) کا ڈاٹا چرالیا گیا ہے۔ اور ان کے نقلی کارڈ بنا کر اور پاس ورڈ کو ہیک کرکے کثیر رقم ہندوستانی صارفین کے کھاتوں سے ناجائز طریقے سے نکال لی گئی ہے۔

یہ رقم چین اور امریکہ کے اے ٹی ایم مراکزسے نکالی گئی۔ معاملہ یوں سامنے آیا کہ دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں کام کرنے والے جھارکھنڈ کے مدن موہن نے جب اپنا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کیا تو ان کا کارڈ ناکارہ دکھایا گیا۔ جب کہ ان کے کھاتے میں وافر رقم تھی۔ جب انہوں نے اپنے بنک ایس بی آئی سے رابطہ کیا تو بنک والوں نے کہا کہ ان کے سمیت چھ لاکھ کھاتہ داروں کے اے ٹی ایم یا ڈیبٹ کارڈ احتیاطی اقدامات کے تحت بلاک کردئیے گئے ہیں۔ اور انہیں دوسرا کارڈ مفت دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پریس میں یہ خبر عام ہونے لگی کہ ہندوستان میں اپنے وقت کی سب سے بڑی بنک دھوکہ دہی ہوئی ہے، جس میں بیرونی ملک کے ہیکرز نے آئی سی آئی سی آئی، ایکسس بنک، ایچ ڈی ایف سی بنک، ایس بنک ، ویزا کارڈ والوں کا بڑی تعداد میں ڈاٹا چرالیا ہے۔ اور نقلی اے ٹی ایم کارڈز بنائے گئے ہیں۔ ان کارڈز کے پاس ورڈ چرائے گئے اور ان سے رقم نکال لی گئی۔

ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا کہ اے ٹی ایم مرکز سے رقم منتقلی کے ادارے نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کا ایک درمیانی مرکز گیٹ وے ہوتا ہے ۔ جس میں  وائرس داخل کیا گیا۔ کسی ایک خانگی اے ٹی ایم مرکز میں دھوکے سے ایسا آلہ لگا دیا گیا جس سے صارفین کے کارڈ نمبر اور پن نمبر حاصل کرلیے گئے۔  ہیکرز نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے سائبر جرم کرتے ہوئے مال ویر نامی وائرس کی مدد سے چھ لاکھ صارفین کے ڈیبٹ کارڈ کا ڈاٹا چرالیا۔  ان سے نقلی کارڈز بنائے گئے جنہیں کارڈز کی کلوننگ کہا جارہا ہے۔ ان کے پاس ورڈ حاصل کرتے ہوئے  چین اور امریکہ سے رقوم نکالی گئیں۔  جن لوگوں کا نقصان ہوا وہ ایک ایک کرکے اپنے اپنے بنکوں سے رجوع کرنے لگے۔ ایس بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے چھ لاکھ صارفین کے کارڈز کا ڈاٹا چوری ہوا ہے لیکن رقم محفوظ ہے ۔ صرف641 صارفین کی 1.6 کروڑ رقم چرائی گئی ہے۔ جو عام آدمی کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر اس نے متاثرہ کارڈ بلاک کردئے ہیں۔ اب اطلاع مل رہی ہے کہ مجموعی طور پر 32لاکھ ڈیبٹ کارڈ متاثر ہوئے ہیں۔ ریزرو بنک آف انڈیا نے اس معاملے میں جانچ شروع کردی ہے۔  اندازہ لگایا جارہا ہے کہ خانگی بنکوں کے اے ٹی ایم مراکز میں کسی نے سیکوریٹی سے سمجھوتہ کیا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دولت کے لالچ میں آکر کسی اے ٹی ایم کے آؤٹ سورسنگ ملازم نے سائبر چوروں کو موقع فراہم کیا تاکہ وہ اپنا آلہ اس میں لگا سکیں اور اپنا کام کرسکیں۔

اس دوران ایس بی آئی نے اے ٹی ایم استعمال کرنے والوں کو چوکنا کیا ہے کہ وہ صرف ایس بی آئی کے معروف اے ٹی ایم مراکز سے ہی رقم نکالیں۔ اے ٹی ایم کارڈز کا استعمال  کچھ دن تک کم  کردیں۔ اور مقناطیسی پٹی والے کارڈز کو نئے چپ لگے کارڈز سے بدل لیں ۔ کہا جارہا ہے کہ مقناطیسی پٹی والے کارڈ کے ڈاٹا کو آسانی سے چرایا جاسکتا ہے۔ عوام خریداری کے لیے بڑے بڑے شاپنگ مالس ، پٹرول پمپ اور دکانوں میں لگی کارڈ سوائپنگ مشین بھی استعمال کرتے ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان مقامات پر چوکنا رہیں اور اپنے سامنے کارڈ سوائپ کریں۔ دھوکہ سے رقم نکالنے کے ایسے معاملے بھی پیش آئے جب فون پر نامعلوم افراد اپنے آپ کو بنک کے ملازم کہتے ہوئے آپ سے آپ کے کارڈ کی تفصیلات پوچھتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آپ قطعی کسی کو فون پر اپنے کارڈ کی تفصیلات نہ دیں۔ اگر اس طرح کے فون آئیں تو پولیس یا بنک سے رابط کریں۔ عوام کو یہ بھی رائے دی گئی ہے کہ اپنے اے ٹی ایم کارڈ کے پاس ورڈ کو ہر تین مہینے میں ایک مرتبہ بدلتے رہیں۔ اور یہ نمبر کسی سے شئیر نہ کریں۔

ہندوستان میں نوجوان طبقہ اور تعلیم یافتہ طبقہ اب بنکوں کے چکر لگانے کے بجائے ڈیبٹ کارڈ ، کریڈٹ کارڈ اور آن لائن انٹرنیٹ بنکنگ اور ٹیلی فون بنکنگ کا عادی ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ بنکنگ میں اوٹی پی نمبر کی سہولت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دہری حفاظت ہے جو بیرون ملک نہیں ہے۔ اس کے باوجود انٹرنیٹ بنکنگ بھی خطرے سے خالی نہیں ہے اور آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہوسکتا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک اور معیشت کے لیے اس طرح کے دھوکہ دہی کہ واقعات افسوس ناک ہیں۔ اور اس سے ذیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آر بی آئی، حکومت اور متعلقہ بنک ملزموں کو تلاش کرنے اور انہیں  سزائیں دینے میں پیشقدمی نہیں کررہے ہیں ۔ بنک کی نا اہلی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ دھوکہ دہی کا معاملہ مئی جون سے شروع ہوا اور چار مہینے گزرنے کے بعد جب تک عوام نے شور نہیں مچایا، حکام نے کچھ نہیں کیا۔ میڈیا کے ذریعے کہا جارہا ہے کہ ایسے قوانین ہیں جن کی بدولت جن کا نقصان ہوا ہے ان کا نقصان پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا سے بات کرتے ہوئے  دھوکہ دہی کاشکار ایک نوجوان نے کہا کہ اس کے کھاتے سے سائبر کرائم کے ذریعے آٹھ لاکھ روپے نکال لیے گئے۔ وہ بنک سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ چھ مہینے ہوگئے۔ پچاس ہزار روپے خرچ ہوگئے لیکن اب تک اس  مسئلے کو حل نہیں کیا گیا۔

ایک طرف ہندوستان میں ڈیجیٹل انڈیا کی مہم زوروں پر ہے، دوسری طرف اس طرح کی دھوکہ دہی سے عوام کا اعتبار ڈیجیٹل  لین دین سے اٹھنے لگا تو وزیر اعظم مودی کا کرنسی فری معیشت کا خواب ادھورا رہ جائے ۔ حکومت کی خواہش ہے کہ وہ ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دے۔ اس سے کالے دھن کو قابو میں رکھا جا سکے گا۔  لوگ جو  لین دین کریں گے اس کا ریکارڈ بنک میں محفوظ ہوگا ۔ کاغذی کرنسی کا استعمال کم ہوگا۔  نقلی نوٹ کا کاروبار بھی کم ہوتا جائے گا۔ ان تمام معاملات میں یہ دھوکہ سامنے آیا ہے۔ اب تک میڈیا اور بنکوں کے ذریعے جو کچھ بیانات آئے ہیں وہ مبہم ہیں اور عوام کو ان کے روپے کی حفاظت کی فکر ہے۔ ابھی بھی ہندوستان کے کروڑوں عوام کے پاس قدیم طرز کے مقناطیسی پٹی والے کارڈ ہیں۔ ان کی جگہ چپ لگے کارڈ کب تبدیل ہوں گے کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ خانگی بنکوں کے اے ٹی ایم سے کہاں سمجھوتہ ہوا ہے اور کس نے چوروں کو یہ دھوکہ دہی کا راستہ دکھایا ہے، کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔

وزیر قانون ارون جیٹلی نے تحقیقات کی بات کی ہے دوسری طرف اپوزیش کانگریس نے ایس بی آئی کے چیف ارون بھٹا چاری کے استعفے کی مانگ کی ہے۔ لیکن عوام جب تک احتجاج نہیں کریں گے، ان کی رقم کی حفاظت کے لیے یہ بنک کچھ نہیں کریں گے۔ ہندوستان کو واقعی ترقی کرنا ہے اور سنجیدہ ہونا ہے تو اسے اپنے بنکنگ نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ بھلے ہی آربی آئی عوام سے یہ کہے کہ اس کا نظام خطرے سے پاک ہے اور عوام کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر ہیکرز کے سائبر جرائم سے دنیا پریشان ہے۔  حال ہی میں بنگلہ دیش میں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مالی دھوکہ دہی ہوئی تھی۔ اس کے مرکزی بنک سے سائبر کرائم کے ذریعے چھ ہزار کروڑ روپے نکال لیے گئے تھے۔ دنیا کے ممالک  اپنے دیگر مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون کی بات کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو یا ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام تو سائبر کرائم کے حل کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر  تعاون وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ صرف یہ کہہ دینے سے کہ حالیہ فراڈ  چین اور امریکہ سے ہوا اور کچھ نہ کرنا، عوامی مفاد کے برعکس  ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ چین اور امریکہ سے سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھائے اور مجرموں کی کھوج لگائی جائے۔   سائبر کرائم کے جرائم کی بروقت کھوج کرنا اور ملزموں کو سخت سزا دینا ضروری ہے۔  اس کے علاوہ بنکوں کو چاہئے کہ وہ ڈیبٹ کارڈ نظام میں پائی جانے والی خامی کو دور کرے۔ اور بائیو میٹرک طرز کو رائج کرے کہ جب تک کوئی فرد اپنی انگلی کا نشان کمپیوٹر اسکرین یا بائیو میٹرک مشین پر نہ لگائے، اس وقت تک  رقم کی منتقلی کا عمل شروع نہ ہو۔ ضروری ہے کہ موجودہ نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا جائے اور ہنگامی طور پر ان کو دور کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔