انتہاپسندی، مسلمان اور خدشات
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 25 / اکتوبر / 2016
- 5293
نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں جنگ کے خلاف سرگرم عمل ہوں۔ امن کے لئے کام کریں اور تعلیم کی طرف توجہ دیں۔ یہ ایک عام سا بیان ہے جسے یورپ اور پاکستان یا مسلمان ملکوں کے روشن خیال حلقوں میں خوش آمدید کہا جائے گا، جبکہ دین کے نام پر سیاست کرنے والے حلقے ، اس بیان میں سازش اور مغرب کی اسلام دشمنی کی بو سونگھتے، ملالہ کے خلاف اپنی جدوجہد مزید تیز کر دیں گے۔ انہیں اس بات سے بھی رنج ہو گا کہ ملالہ نے جنگ کے خلاف جدوجہد کرنے کو اسلام کا پیغام بتایا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو طاقت اور لشکر کشی کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں۔
اس بیان سے مغرب میں رہنے والے مسلمان اس تقسیم اور آسان مقصد کی تفہیم کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ بدنصیبی سے افکار کی یہ تقسیم شدت اختیار کر رہی ہے اور عام زندگی میں بھی اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ ناروے اور یورپ کے بیشتر ملکوں میں آباد مسلمانوں کی اکثریت ان مسائل کو بخوبی سمجھتی ہے لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسی واضح اور صاف نصب العین سے محروم ہے۔
ایک طرف مغربی ممالک کے ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی رائے ہے جو شدت پسندی، دہشت گردی اور عقیدہ کا نام لے کر جنگ کرنے والوں کے خلاف اقدام کے لئے مسلمانوں پر دباؤ ڈالتے ہیں اور انہیں اس بات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ مغرب میں مسلمانوں کے ہاں پیدا ہونے والی نئی نسل میں بہت سے لوگ ان نعروں اور پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر تخریب کاری یا خوں ریزی پر آمادہ ہو جاتے ہیں جو داعش جیسے گروہ جدید طریقہ ہائے مواصلت کے ذریعے عام کر رہے ہیں۔ ان میں ایک طاقتور آواز امریکہ میں صدارتی انتخاب میں شریک ری پبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو ایک صدارتی مباحثہ کے دوران امریکی مسلمانوں سے یہ تقاضہ کر چکے ہیں کہ انہیں انتہاپسند عناصر کے بارے میں حکام کو بروقت مطلع کرکے اچھے امریکی شہریوں کے طور پر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا چاہئے۔ گویا اگر مسلمان بطور فرد یا ادارہ ۔۔۔۔ ان کے مراکز یا مساجد بوجوہ شرپسند عناصر یا دہشت گردی کے منصوبوں اور سلیپنگ سیلز Sleeping Cells کے بارے میں معلومات حاصل نہ کرسکیں اور انہیں کسی ناخوشگوار واقعہ سے پہلے گرفتار کروانے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو مسلمانوں کو ان عناصر کا سرپرست اور محافظ سمجھ کر امریکہ کا دشمن تصور کر لیا جائے۔
جو بات ڈونلڈ ٹرمپ نے سادہ الفاظ میں کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کی ہے، اسی مقصد کو کسی نہ کسی طرح یورپ کے اکثر ملکوں کے مسلسل طاقت پکڑنے والے قوم پرست گروہ بھی کہتے ہیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران سویڈن سے لے کر فرانس تک اور مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک میں جس طرح قوم پرستانہ اور مسلمان و اسلام دشمن عناصر کی قوت میں اضافہ ہوا ہے، وہ اس افسوسناک اور تشویشناک خلیج کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مغربی معاشروں میں اکثریت اور یہاں آباد مسلمان اقلیت کے درمیان پیدا ہو رہی ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ متوازن رائے رکھنے والے اور ہر منفی پیش رفت کا الزام مسلمانوں پر دھرنے والے عناصر کو مسترد کرنے والے ماہرین اور سیاستدان بھی موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی قوت بتدریج کم ہو رہی ہے اور وہ ہر ناخوشگوار واقعہ کے بعد دفاعی پوزیشن میں جانے اور انتہائی نظریات کو کسی نہ کسی حد تک قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ڈنمارک کے سیاسی منظر نامہ میں مستند سیاسی جماعتوں کے بدلتے رویئے اس خطرناک اور سنسنی خیز رجحان کی واضح مثال ہیں۔ دیگر یورپی ملکوں میں بھی خوف کی فضا میں بدلتے ہوئے عوامی موڈ کے پیش نظر اکثر نمایاں اور بڑی سیاسی جماعتیں اور سیاست دان بھی کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کا رشتہ بطور گروہ یا اقلیت انتہا پسند عناصر یا دہشت گروہوں سے جوڑنے کے لئے کوئی ’’متوازن‘‘ راستہ تلاش کرنے کی جستجو میں رہنے لگے ہیں۔
ناروے یا دیگر مغربی معاشروں میں امن سے زندگی گزارنے اور سکون سے رہنے والے اکثر لوگوں کو سیاسی سطح پر رونما ہونے والے اس درپردہ طوفان سے شاید کوئی خطرہ محسوس نہ ہوتا ہو لیکن فہم رکھنے والے لوگ اور سیاسی طور سے متحرک عناصر جانتے ہیں کہ اس سماجی و معاشرتی رجحان کی روک تھام کے لئے اگر موثر اور فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آزادی اور جمہوریت کے نام پر قائم معاشروں میں مسلمان اقلیتوں کا جینا دشوار ہو جائے گا۔ انہیں نہ صرف سفری سہولتوں کے سلسلہ میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے بلکہ روزگار، کاروبار، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی مزاحمت اور تعصب سے نمٹنا پڑے گا۔ کسی گروہ یا عقیدہ کے خلاف تعصبات جب بڑھنے لگیں اور عوام کی اکثریت انہیں کسی نہ کسی شکل میں قبول کرنے لگے تو سیاسی فیصلے کرنے والے لوگوں پر بھی اس کا اثر مرتب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بدنصیبی سے جمہوری عمل تعصبات کی روک تھام صرف اس وقت تک کرتا ہے جب اس کا اظہار محدود اقلیتی گروہوں کی جانب سے کیا جائے۔ لوگ جب عام طور سے اس قسم کی سوچ کو قبول کرنا شروع کر دیں تو لامحالہ اس کا اثر کسی بھی جمہوری ملک کے سیاسی فیصلوں پر بھی مرتب ہو گا۔
میں یہ بات امریکہ میں گزشتہ برس کے دوران سامنے آنے والی صورت حال کی روشنی میں زیادہ یقین سے کہہ سکتا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور سے ایک متعصب اور خطرناک سیاسی نظریات کا حامل شخص ہے۔ وہ مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کرنے کے علاوہ ملک میں آباد سپینش آبادی کو جرائم پیشہ قرار دے چکا ہے۔ معاشرے کے کمزور طبقوں ، جن میں خواتین کے علاوہ معذور افراد بھی شامل ہیں، کے بارے میں اس کے خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ اس کے باوجود اپنی نعرے بازی اور نفرت انگیزی کی وجہ سے، وہ ری پبلکن پارٹی کی دانشور قیادت کی خواہش کے برعکس پرائیمریز میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ یہ درست ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اسے اپنے انہی خیالات کی وجہ سے شاید امریکہ کا صدر بننے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔ لیکن اس بات کو کیوں کر فراموش کیا جا سکے گا کہ اس مقابلے میں اسے 38 سے 40 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل تھی۔ گویا 350 ملین آبادی کے حامل امریکہ کی، ایک تہائی سے زیادہ آبادی اس زہریلے متعصب اور نفرت انگیز رویہ کو قبول کرتی ہے جس کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ کرتا رہا ہے۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کی ساخت ہی امیگریشن پر ہے اور وہاں پر آباد زیادہ لوگ ترک وطن کر کے ہی وہاں پہنچے تھے۔ لیکن اب ان لوگوں کی بڑی تعداد نئے آنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک خاص طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ اس رویہ کو صرف نفرت اور عدم قبولیت کا ہی نام دیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ میں تعصبات کی بنیاد پر اس قدر کثیر آبادی رائے قائم کر سکتی ہے تو یورپ میں اس قسم کے تصورات اور احساسات کا فروغ زیادہ آسان ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کے اکثر ملکوں میں پارلیمانی نظام جمہوریت مروج ہے۔۔ یعنی اقلیتوں اور مسلمانوں کے خلاف رائے رکھنے والے لوگ اگر واضح اکثریت نہ بھی حاصل کر سکیں تو بھی وہ پارلیمنٹ میں نمائندگی یا مخلوط حکومت سازی کے ذریعے سیاسی فیصلوں پر زیادہ طاقتور طریقے سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناروے میں گزشتہ انتخابات سے پہلے کون یہ کہہ سکتا تھا کہ ایک روز فریم اسکرتس پارٹی حکومت کا حصہ بنے گی اور ملک میں امیگریشن کے معاملات پر فیصلے کرنے کی مجاز ٹھہرے گی۔
ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف ناروے سمیت مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کی اکثریت بدلتے ہوئے سیاسی ماحول اور پھیلتے ہوئے تعصبات سے بے خبر ہے۔ ابھی تک مسلمان بطور اقلیت یہ ادراک کرنے میں ناکام ہیں کہ انہیں ان ملکوں میں شدید مشکلات اور سنگین حالات کا سامنا ہو سکتا ہے، جنہیں انہوں نے اپنے وطن کے طور پر چنا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو اسی اصطلاح میں مضمر ہے جسے وطن کہا جاتا ہے۔
ہم نے ناروے یا کسی دوسرے یورپی ملک کو اپنی معاشی (یا بعض صورتوں میں سیاسی) مجبوریوں کی وجہ سے رہنے کے لئے ضرور منتخب کیا ہے اور پھر یہاں کی شہریت لے کر مقامی شہری بھی بن گئے ہیں۔ لیکن ہمارے دل بدستور پاکستان یا اسی ملک کے لئے دھڑکتے ہیں، جہاں سے ہم آئے تھے۔ ہم وہاں کے سماجی، سیاسی اور انسانی مسائل اور صورت حال کے بارے میں فکرمند اور باخبر رہتے ہیں اور اپنے اہل وطن کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا قصد اور عزم بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے وطن ثانی یعنی ناروے یا دیگر مغربی ممالک کے لئے اپنے دلوں میں محبت اور انسیت کا احساس پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ ہم ان ملکوں کی تاریخ، ثقافت، ادب اور روایات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ مقامی زبان بھی نہایت مجبوری کے عالم میں سیکھتے ہیں اور اس میں گزارا کرنے کے قابل ہو کر یوں سمجھتے ہیں جیسے ہم نے اس معاشرہ پر احسان کیا ہے۔ حالانکہ جس ملک نے ہمیں پناہ، روزگار اور وطن کا سکون دیا ہے ، تو وہی اب ہماری شناخت بھی ہونا چاہئے۔ ہمیں ناروے کا شہری ہوتے ہوئے اس ملک کی محبت کا دم بھرنا چاہئے اور یہاں کی روایات خواہ وہ لسانی ہوں، ثقافتی ہوں یا سماجی، کو قبول کرتے ہوئے اپنے روزمرہ کا حصہ بنانا چاہئے۔ اس کے برعکس ہم ناروے کو اپنا وطن کہتے ہوئے بھی ’’شرمندگی‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس میں استثنی ضرور موجود ہیں لیکن عام طور سے بات عمومی مزاج اور رویہ کی ہی کی جاتی ہے۔
یہ کہنا بھی مقصود نہیں ہے کہ ناروے کو اپنا وطن مان کر پاکستان یا جس بھی ملک سے ہمارا تعلق رہا ہو اسے بھلا دیا جائے۔ کوئی شخص اگر ایک سے زیادہ زبانوں اور علوم پر عبور حاصل کر سکتا ہے تو وہ ایک سے زیادہ ملکوں سے اپنا تعلق بھی استوار کر سکتا ہے۔ لیکن کسی یورپی ملک کو وطن ثانی کے طور پر اختیار کرنے والےپاکستانی مسلمانوں کے بارے میں بلاخوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس رویہ کا اظہار کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ جب پاکستانی سفیر یا ملک سے آئی ہوئی کوئی شخصیت ہمیں بتاتی ہے کہ ان کی نارویجن حکام اور سیاستدانوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے ناروے کے لئے پاکستانیوں کی خدمات کی بے حد تعریف کی ہے۔۔۔۔ اس توصیف پر ہمیں فخر اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ کیوں کہ ناروے کے ساتھ ہمارا تعلق صرف مادی ہے، روحانی نہیں۔ ہم جسمانی لحاظ سے یہاں رہتے ہیں لیکن ذہنی اور قلبی لحاظ سے خو دکو پاکستانی ہی سمجھتے ہیں۔
یہ مزاج صرف تارکین وطن کی پہلی نسل تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ دوسری اور تیسری نسل تک بھی پہنچ رہا ہے۔ اس لئے مقامی معاشرے سے ہمارا تعلق گہرا ہونے میں رکاوٹ حائل ہے۔ یہاں رونما ہونے والی صورت حال کو ہم اس تناظر میں دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں جو عقیدہ سے قطع نظر مقامی لوگ محسوس کرتے ہیں اور جس سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں انتہا پسند سوچ اور عناصر کے بارے میں ہمارا طرز عمل مقامی آبادی سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ مسلمان تارکین وطن جو اکثر صورتوں میں مقامی شہری بن چکے ہیں۔۔۔ مذہبی انتہاپسندی کے بارے میں واضح اور دوٹوک رویہ اختیار کرنے اور اس کے خلاف گرمجوشی سے سرگرم عمل ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔
جس طرح مقامی ماہرین اور لوگ تمام مسلمانوں اور ان کے عقائد اور طرز عمل کو بعض شدت پسند، دہشت گرد گروہوں کے اعلان اور عملی اقدامات کے ساتھ خلط ملط کرنے اور دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کرنے کی غلطی کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان بالکل متضاد رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ان اندیشوں کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھتے جو بعض مسلمان گروہوں کی گمراہی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ہم عام طور سے یہ تجربہ کرتے ہیں کہ اگر یورپ میں کہیں کوئی دہشت گرد حملہ ہو تو سب سے پہلے یہ دعا ہمارے لبوں پر ہوتی ہے کہ ’’اللہ کرے یہ کوئی مسلمان نہ ہو‘‘ یا ’’خدا کرے یہ کوئی پاکستانی نہ ہو‘‘۔ یہ احساس کسی حد تک اس خوف کی وجہ سے بھی پیدا ہوا ہے جو معاشرے کی اکثریت میں بڑھنے والے تعصبات سے جنم لیتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ناروے کے مسلمان 2011 میں آندرس برائیوک کے حملوں کے فوری بعد دیکھ بھی چکے ہیں۔ اسی طرح جون میں اورلانڈو کے ایک گے کلب پر ایک مسلمان کے حملہ کے نتیجہ میں 49 افراد ہلاک ہونے کے بعد امریکہ میں مسلمانوں اور مساجد پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ اسی قسم کے تجربات فاصلہ اور غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالات میں مواصلت اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔
یورپ میں آباد مسلمان، دہشت گردوں سے صرف اس حد تک پریشان ہوتے ہیں کہ ان کی تخریب کاری کی وجہ سے مسلمانوں کو تنقید اور تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ ہم خود کو ان معاشروں کا حصہ بنانے کی تہہ دل سے کوشش نہیں کرتے اس لئے دہشت گردی کے حوالے سے بھی ہمارے نظریات اور احساسات مقامی لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہم اگر اس طریقہ کار کو غلط بھی سمجھتے ہیں تو ہمارے روزمرہ میں یہ دلائل عام طور سے سنے جا سکتے ہیں کہ:
(1) امریکہ کی جارحیت کی وجہ سے یہ عناصر پیدا ہوئے ہیں۔
(2) سوویت یونین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے جو غلطیاں کی گئی تھیں، موجودہ انتہاپسندی اسی کا نتیجہ ہے۔
(3) یہ لوگ ایک دھماکہ سے گھبرا گئے، عراق کا حال دیکھو، وہاں روز دھماکے ہوتے ہیں۔
(4) انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے لاکھوں مسلمان مار دیئے، اس کا تو احساس نہیں۔ اپنے چند لوگ مر جائیں تو بدحواس ہو جاتے ہیں۔
(5) یہ سب مغرب کی ناانصافی پر مبنی سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ الزام مسلمانوں پر دھرا جاتا ہے۔
ان مشاہدات میں بہت سے عوامل حقائق پر مبنی ہو سکتے ہیں لیکن انہیں دہشت گردی کے کسی حملہ کے بعد دلیل کے طور پر استعمال کرنا یا اس مسئلہ پر مباحث میں حجت بنانے سے۔ شدت پسندی کے خلاف مزاحمت کی فطری صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ہم یہ تبصرے کرتے ہوئے شاید اس بات کا احساس نہ کر سکتے ہوں لیکن جب ان چھوٹے چھوٹے فقروں سے ترتیب پانے والے رویئے ملکی سطح پر ایک مزاج بن کر سامنے آتے ہیں تو مسلمانوں اور مقامی آبادیوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اور مسلمان انفرادی اور گروہی طور پر دہشت گردی کی روک تھام کرنے کے عمل میں موثر کردار ادا کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔
دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا رویہ اور طرز عمل فعال یا پرو ایکٹو Proactive کی بجائے دفاعی ہے۔ ہمیں صرف یہ فکر ہے اگر ایک مسلمان انتہا پسند، کوئی کارروائی کرتا ہے تو ہم یا اسلام بدنام نہ ہوں۔ ہم اس سے زیادہ سوچنے اور کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صورت حال کے حوالے سے یہ مزاج مسئلہ حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کا سبب ہے۔ اس لئے جب بھی دہشت گردی کی بات ہوگی تو معاشرہ مسلمانوں کو فریق بنانے کی کوشش کرے گا اور ہم بھی اپنی دلیل اور سوچ کے ذریعے فوری طور پر فریق بننے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ہماری سب سے مضبوط دلیل یہ ہوتی ہے کہ اسلام تو قتل و غارت گری سے منع کرتا ہے۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، جیسے دلائل مسلمانوں کے نوک زبان پر ہیں ۔۔۔ لیکن دنیا کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور یورپی مسلمانوں کی بے عملی کی وجہ سے یہ دلائل اپنا وزن اور اہمیت کھو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن و احادیث یا شرعی احکامات کی روشنی میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مسترد کرنا درست نہیں ہے لیکن ان دلائل کی حکمت کو ہمارے عملی رویوں کا حصہ بھی بننا چاہئے۔ جب تک زبانی جمع خرچ اور عملی اقدامات میں تال میل پیدا نہیں ہو گا اور ہمارا کردار ہمارے اقوال کی گواہی نہیں دے گا ۔۔۔۔ اس وقت تک انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے مسلمان قابل ذکر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کا حکم یا حدیث و سنت رسول میں آئی ہوئی باتیں ، مسلمانوں کے لئے حجت یا حکم کا درجہ رکھتی ہیں۔ غیر مسلم معاشروں کے لئے ان باتوں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی، جب تک مسلمان اپنے رہن سہن، طرزعمل، بول چال، میل جول اور ملنے برتنے سے ان احکامات کا عملی نمونہ نہیں بنتے جن کا اعلان وہ دہشت گردی کو رد کرتے ہوئے کرتے ہیں ۔۔۔۔ یہ بھی تصویر کا ایک اہم پہلو ہے کہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس مسلمان مرد یا خاتون جیسا حلیہ اختیار کر لیا جائے جو ہمارے سماجی تصور میں ایک اصل مسلمان کا ہونا چاہئے۔ یا نماز پابندی سے ادا کی جائے، شراب جوا وغیرہ سے پرہیز کیا جائے اور مساجد میں قرآن کے درس میں شامل ہونے کی کوشش کی جائے۔ دین کے پیغام پر عمل کرنے کا یہ رویہ ہمیں سماج کے فرد کے طور پر فرائض ادا کرنے کے لئے تیار نہیں کرتا۔ ہم جھوٹ سے پرہیز کرتے ہیں لیکن ٹیکس چوری کرنے یا سرکاری اداروں کے ساتھ معاملات میں غلط بیانی کرتے ہوئے ان احکامات کو بروئے کار لانے پر غور نہیں کرتے۔ خوش خلقی یا میزبانی صرف اپنے حلقے تک محدود ہوتی ہے۔ اپارٹمنٹس میں رہتے ہوئے ہم صفائی و قواعد پر عملدرآمد اور کاروبار کرتے ہوئے ملک کے قوانین اور مسلمہ سماجی ضابطوں کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسی صورت حال میں اکثریت اور اقلیت کے درمیان جو فاصلہ کم ہونا چاہئے، اس میں اضافہ ہوتا ہے اور مسلمان اقلیت کے کسی ایک فرد کی کسی ایک کمزوری یا برائی کو اجتماعی تصویر کے طور پر پیش کرنے کا رویہ فروغ پاتا ہے۔ اس کے مظاہر بھی ہم روز دیکھتے ہیں۔
دہشت گردی اور انتہاپسندی ایک مشکل، پیچیدہ اور وسیع موضوع ہے۔ اس کا دائرہ کسی دور دراز یورپی ملک کے کسی قصبے میں ہونے والے حملے سے لے کر شام، عراق، یمن، لیبیا، افغانستان اور پاکستان میں ہونے والی جنگ تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن اس سے نبردآزما ہونے کے لئے کام کا آغاز ہر شخص کو اپنی ذات سے کرنا ہے۔ خاندان کی اصلاح سے معاشرے میں بہتری کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہماری سماجی گفتگو اور اجتماعی مکالمے میں انتہاپسندی کو ایک مسئلہ کے طور پر قبول کر لیا جائے، تب ہی اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کی کوئی صورت تلاش کی جا سکے گی۔
(یہ مضمون گزشتہ اتوار کو لاہور فیملی نیٹ ورک، ناروے کے زیر اہتمام ‘انتہا پسندی اور اس کا سدباب× کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھا گیا)