بے یار و مددگار روہنگیا مسلمان

ایک حالیہ خبر کے مطابق میانمار کے دارالحکومت میں پولیس کے سربراہ جنرل زاؤن نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل میانمار کی سرحدی چوکی پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں 10 پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس دہشت گردا حملے میں 11 مسلح دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

جنرل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا حملہ آوروں نے حملے کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’ہم روہنگیا سے ہیں‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ داخین کی ریاستی انتظامیہ کے اہم اہلکار ٹن مانگ سو نے خبر رساں ادارے اے پی ایف کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس حملے کے ذمہ دار 1980 اور 1990 کی دہائی میں سرگرم تنظیم روہنگیا سولیڈیرٹی آرگنائزیشن (آر ایس او) ہے۔ میانمار کی ریاست داخین میں حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس چوکیوں سے 50 بندوقیں اور ہزاروں گولیاں بھی لوٹ لیں ہیں۔

داخین میں روہنگیا مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں میں کشیدگی اور دشمنی کافی عرصہ سے جاری ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ 2012 میں داخین ریاست میں دہشت گردوں کے پھیلائے ہوئے نسلی فسادات کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو کر پناہ گزیں بن گئے تھے۔ میانمار میں بدھ مت آبادی ملک میں موجود لگ بھگ 12 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش مہاجرین یا دخل انداز سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے  روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے اور ماضی میں متعدد حملوں اور دہشت گردی کا ذمہ دار آر ایس او کو ٹھہرایا ہے۔

ایک خبر کے مطابق عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ نے جہاں پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی کسی مسلم ملک کی طرف سے مدد یا امداد اور نہ ہی کسی اسلامی کانفرنس یا عرب لیگ کی طرف سے ان کے قتل عام کو روکنے کے لئے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے جبکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے حکومت برما (میانمار) سے روہنگیائی مسلمانوں کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مسلم ممالک کی اس بے حسی کی تحقیقات، چھان بین اور وجوہات جاننے کیلئے پوپ نے ایک خفیہ کمیٹی قائم کی ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ مسلمان اتنے بے حس کیوں ہو چکے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ مسلم ممالک نے کسی بھی پلیٹ فارم سے مناسب انداز میں روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوام عالم کے سامنے پیش نہیں کیا۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان کو جلاوطن کرنے کی کارروائی اور ان پر حملے ایسے وقت ہوئے جب بیشتر اسلامی ملک اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کر رہے تھے اور ان کے درمیان تیزی سے اختلافات اجاگر ہو رہے تھے۔ غریب مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مفلوک الحال تھے (اور ہیں) امیر ممالک اپنے حال میں مگن تھے( اور ہیں) ان ممالک کی بین الاقوامی وابستگیاں آج بھی اسی طرح بٹی ہوئی ہیں جس طرح میانمار سے بے دخل کئے گئے روہنگیا مسلمانوں کے دنوں میں تھیں۔ ان مسلم ممالک کے سفارتی، اقتصادی، مالی، سیاسی، جمہوری اور دفاعی تعلقات آج بھی انہی پرانے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ رشتوں اور تعلقات کی یہ نوعیت دیکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ عالم اسلام روہنگیا کے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں فعال یا غیر فعال کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام رہا۔ سیاسی مسائل سے ہٹ کر بھی کچھ وجوہات ہوں گی اور روہنگیا مسلمان آخر ہیں کون اور ان کا ’’مقدمہ‘‘ بے پناہ دولت رکھنے والے مسلم ممالک کیوں نہیں لڑتے۔

یہ جانا اور مانا جاتا ہے کہ روہنگیا بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) سے یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ انگریزوں نے انہیں خاص طور پر سری نامی کانوں کی طرح 18 ویں صدی میں یہاں بسایا تھا۔ بعد میں روہنگیا مزید دو موقعوں پر یہاں خود آ کر آباد ہوئے تھے۔ پہلے 1947 میں آزادی کے وقت اور دوسرے 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی کے وقت۔ لیکن میانمار کے مغربی حصے میں رہنے والے اس اقلیتی طبقے کے یہاں بسنے کو مقامی لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ لوگ (روہنگیا) حال ہی میں یہاں آ گھسے ہیں لہٰذا انہیں میانمار کی شہریت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن دوسری طرف روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سینکڑوں سال سے آباد ہیں اور یہیں کے شہری ہیں جنہیں حکومت ٹارچر کر رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بنگلہ دیش میں 25 ہزار روہنگیا گزشتہ 22 برس سے پناہ لئے ہوئے ہیں لیکن انہیں ابھی بھی سرکاری طور پر پناہ گزین کی حیثیت نہیں دی گئی۔ یہ ملک بھی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پناہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں مستقل پناہ دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا جب بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگ رہا ہے۔

اس سے قبل مئی 1982 میں ایک بودھ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد روہنگیا مسلمانوں اور اکثریتی آبادی والے بودھوں کے درمیان فسادات اور قتل و غارت شروع ہو گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے عصمت دری کے اس واقعہ نے ایسی شکل اختیار کرلی کہ اقوام متحدہ کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ روہنگیا مسلمانوں کے ہاتھوں اجتماعی عصمت دری اور خاتون کا قتل فسادات  کا باعث بن گیا۔ پولیس نے 4 مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 3 جون 2012 کو بدھسٹوں کے ایک گروہ نے توتاپ نام کی ایک جگہ پر ایک بس پر حملہ کر دیا۔ ان کو شک تھا کہ بس میں عصمت دری کرنے والے ملزمان جا رہے ہیں اس حملے میں دس افراد مارے گئے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ جس کے جواب میں روہنگیا مسلمانوں نے بھی بدھسٹوں پر حملے شروع کر دیئے اور یہیں سے اس ملک میں فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

ان فسادات میں صرف روہنگیا ملسمانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ ملک کے دوسرے حصے میں رہنے والے مسلمان بھی اس کی زد میں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان فسادات کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد روہنگیا ملسمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر پناہ گزین کیمپوں میں غیر انسانی طریقے سے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ ان کیمپوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ لوگ یہاں سے کسی طرح بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ وہ پڑوسی مسلم اکثریتی والے ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی طرف نہ صرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ موقع ملنے پر فرار ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس کوشش میں بہت سے روہنگیا نے اپنی جان بھی گنوا دی ہے اور بہت سے کھلے سمندر میں کشتیوں پر رہنے لگے ہیں کیونکہ کوئی اسلامی ملک ان کو پناہ دینے کےلئے تیار نہیں ہے اور یہ حکومت میانمار کا ٹارچر سہنے پر مجبور ہیں۔

میانمار میں مسلمانوں اور بدھسٹوں کے درمیان موجود نفرت طالبان کی طرف سے بامیان میں بدھ کی مورتی اور بدھ مت کی تعلیمات کی سلیں توڑنے کے بعد سے شروع ہو گئی تھی۔ ان فسادات کے پیچھے سوچی سمجھی سازش لگتی ہے جس میں انتہا پسندوں اور طالبان کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔  ایسے فسادات راتوں رات نہیں ہوتے۔ اس کے لئے پہلے سے ماحول تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اب قابل رحم ہو گئی ہے اور اس قابل رحم حالت کا دہشت گرد اور انتہاپسند فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دونوں ہی سے رشتہ رکھ دونوں سے ہوشیار رہو
انسانوں کی جان کا دشمن لوہا بھی ہے سونا بھی!