حریت قیادت سے مذاکرات کی کوشش

  • تحریر
  • بدھ 26 / اکتوبر / 2016
  • 6170

مقبوضہ کشمیر میں 108دن سے جاری ہڑتال اور بھارت مخالف مظاہروں کے تسلسل کو رکوانے کے لئے بھارت کا ایک پانچ رکنی وفد تین روزہ دورے پر منگل کو سرینگر پہنچا ۔ وفد کے سربراہ 'بی جے پی ' کے سابق وزیر یشونت سہنا  کے علاوہ سابق کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سابق انڈین ایئر چیف مارشل کپل کاک، معروف صحافی کپل بھوشن اور سینٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ری کنسیلیشن کی ڈائریکٹر سشوبھا بریو شامل ہیں۔

یہ تمام افراد کشمیر کے بارے میں بھارتی ٹریک ٹو مذاکرات میں شامل رہے ہیں۔ سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے بھارتی وفد کے اس دورے کے حوالے سے کہا ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کے خلاف کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کی27اکتوبر1947ء کی سازش پر عملدرآمد کے لئے وی پی مینن کو 25 اکتوبر1947ء کو جموں و کشمیر بھیجا گیا تھا۔ اتفاق ہے کہ آج بھارتی وفد کی کشمیر آمد کی تاریخ بھی 25 اکتوبر ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے'بی بی سی' کے مطابق اس بار میرواعظ، یاسین ملک اور سید علی گیلانی مذاکراتی ایجنڈے کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر ہیں۔ تینوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ہند  کشمیر کو ایک منتازعہ خطہ تسلیم نہیں کرتی مذاکرات کی سبھی کوششیں وقت کا ضیاع ہو گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وفد کا یہ دورہ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لئے سرد مہری کے خاتمے کے لئے ہے۔

سید علی گیلانی سے ملاقات کے بعد  یشونت سہنا نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ بھارتی وفد نے میر واعظ عمر فاروق سے بھی ملاقات کی جو دوماہ کی قید کے بعد ایک دن پہلے ہی جیل سے رہا کئے گئے۔ میر واعظ عمر فاروق نے ملاقات کے بعد کہا کہ  ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ جاکر حکومت ہند کو بتا دیں کہ لوگ یہاں آزادی چاہتے ہیں اور اس مطالبے کے جواب میں حکومت نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے اسی لیے رہا کیا گیا ہو کہ میں ان سے بات کروں ۔ میری بات گیلانی صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وفد سے بات چیت کی ہے اور مجھے بھی بتایا کہ میں ان پر واضح کردوں کی ہم لوگ کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا، جب واجپائی جی نے کہا کہ بھارتی آئین نہیں بلکہ انسانیت کے دائرے میں بات ہوگی۔ آج کل تو آپ بچوں کو اندھا کرنے، انہیں قید کرنے اور ہلاک کرنے کا فوجی آپریشن کررہے ہیں۔ یہ نہ تو ہندوستان کے آئین کا دائرہ ہے اور نہ ہی انسانیت کا۔

ساڑھے تین ماہ سے جاری ہڑتال پر نظرثانی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر میر واعظ نے کہا کہ کشمیر کی سو روزہ جدوجہد بھارت کے جبر کے خلاف لوگوں کی اخلاقی فتح ہے اور اس تحریک سے حاصل سفارتی اور اخلاقی فوائد کو اب مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب گرفتاریوں، پابندیوں اور ظلم و جبر کی دوسری صورتوں کا سلسلہ بند کیا جائے گا تو متحدہ قیادت تمام طبقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔ بھارتی وفد کی طرف سے ملاقات کی کوشش پر یاسین ملک نے ہسپتال سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ہلاکتوں، گھروں کی توڑ پھوڑ ، گرفتاریوں، پابندیوں اور لوگوں کو ہراساں کرنے کی حکومتی پالیسی کے درمیان دہلی سے آنے والے کسی بھی وفد سے مذاکرات فضول مشق ہوگی۔


مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے تین ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے عوام کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں سوا سو کے قریب جاں بحق،  ہزاروں زخمی، سینکڑوں اندھے ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ قید ہیں۔ بھر پور بھارتی مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں مطالبہ آزادی کے لئے ہونے والے عوامی مظاہروں نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ خود بھارت میں کشمیریوں کے حق میں کچھ آوازیں بلند ہوئیں۔ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں کی گئیں۔ بھارت کی طرف سے اوڑی حملے کے واقعہ کو استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کے بجائے دنیا کی توجہ پاکستان بھارت کشیدگی کی طرف منتقل کرنے، کشمیریوں کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کو سازشوں کی دھول سے چھپانے کی کوشش کی گئی۔

کشمیریوں کی وکالت تو شاید پاکستان نے کسی حد تک کی ہے لیکن پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے فریق کے طور پر کردار کی ادائیگی پر توجہ نہیں دی گئی۔ آزاد کشمیر میں اس مرتبہ 24 اکتوبرکا دن 24اکتوبر 1947ء کو تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ حکومت کے قیام کی تاسیس  کے حوالے سے خصوصی سرکاری جوش و خروش سے منایا گیا۔ باوجود اس کے کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر عرصہ دراز سے آزاد کشمیر حکومت بن چکی ہے اور آزاد کشمیر حکومت بننے کے بعد سے مسلسل اختیارات حاصل کرنے کے لئے 'کاسہ گدائی' پھیلائے ہوئے ہے۔ مظفر آباد میں منعقدہ مرکزی تقریب میں پرچم کشائی، پولیس پریڈ کا معائنہ، صدر و وزیر اعظم کے خطابات جبکہ تمام اضلاع میں بھی یوم تاسیس کی تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔

اب یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ کشمیریوں کے لئے سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد و حمایت کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ کشمیریوں سے مشاورت کو لازمی امر سمجھا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے آزادی کی جدوجہد کی صورتحال کا بھی تقاضہ ہے کہ اب یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ آزاد کشمیر میں آزاد کشمیر حکومت ہے یا آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر؟ اگر یہ حکومت تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ حکومت ہے تو اس کے اس کردار کی بحالی میں پاکستان کی حکومت، فوج کے لئے کیا امر مانع ہے؟ پاکستان کے اس اہم اقدام سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو علاقائی اور عالمی سطح پرموثر تقویت پہنچائی جاسکتی ہے۔ کیا پاکستان کی حکومت، ادارے کشمیر کاز کو تقویت پہنچانے کے اس اہم اقدام کو نظر انداز کرتے رہیں گے؟