عمران خان کے لئے مفت مشورہ
- تحریر سلطان حسین
- بدھ 26 / اکتوبر / 2016
- 5447
کہتے ہیں کہ عمران خان قومی ہیرو ہیں۔ انہوں نے دنیا میں ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ پاکستان کے لیے پہلا ورلڈ کپ حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بقول عمران خان کے کہ یہ ورلڈ کپ ان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تکمیل کا مقصد حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری تھا۔ سو انہوں نے اس کی تکمیل بھی کرکے دکھا دی۔ صرف یہی نہیں کراچی اور پشاور میں بھی اس منصوبے کا ارادہ کیا اور اس پر کام بھی شروع کر دیا جو قوم کی ایک بڑی خدمت ہے۔
یہ بات صرف ہم ہی نہیں پوری قوم تسلیم کرتی ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے جو دولت بھی کمائی وہ اس ملک میں ہے جبکہ جولوگ حکمران رہے یا اب بھی ہیں انہوں نے غیر ملکی بنک بھرے۔ اس کو بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ حقیقت سب کے سامنے ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں کرپشن، لوٹ مار اورجو موجودہ استحصالی نظام چل رہا ہے، وہ اس کے خلاف ہیں اور اس کو بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس قوم کی نیا پارلگا کر اسے خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں اسی لئے وہ گزشتہ تیس سال سے جدوجہد کررہے ہیں اور لوگوں میں شعور کی بیداری کا کام کررہے ہیں۔ جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ اسی کامیابی کا ایک حصہ خیبرپختونخوا میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔ پنجاب میں بھی ان کو کسی حد تک کامیابی مل جاتی اگر ان کے ساتھ ہاتھ نہ ہوگیا ہوتا۔
پختونخوا میں ان کی حکومت کامیاب ہے یا ناکام، اس وقت یہ ہمارا موضوع نہیں۔ ہمارا موضوع عمران خان ہے۔ جہاں تک ان کے کردار کا تعلق ہے اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ تاہم جہاں تک ان کی سیاسی جدوجہد کا تعلق ہے اس حوالے سے مخالفین ان پر تنقید ضرور کرتے ہیں اور کررہے ہیں۔ جس طرح لوگ کسی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ساری خدائی ایک طرف اور ' وہ ' دوسری طرف، اسی طرح عمران خان کے بارے میں بھی یہ کہا جائے کہ ساری اپوزیشن و سیاستدان ایک طرف اور عمران خان دوسری طرف، تو بے جا نہیں ہوگا۔ اس وقت ملک میں جتنے بھی سیاستدان ہیں سب ان کے خلاف ہیں۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ جمہوریت کو بچاناچاہتے ہیں۔
اصل حقیقت کیا ہے یہ سب جانتے ہیں اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سب سیاستدانوں نے ان کے خلاف ایکا کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ہی ڈگر پر جارہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حق کی بات کوئی نہیں سنتا لوگ حق بات کہنے والوں کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ غالباََ عمران خان کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان گزشتہ پانچ سال سے جو سیاست کررہے ہیں کیا وہ درست ہے؟ گزشتہ ساڑھے تین سال سے پی ٹی آئی کے چیئرمین احتجاجی سیاست پر گامزن ہیں۔ کبھی مارچ اور کبھی دھرنے ۔ان مارچ اور دھرنوں کا جواز یقیناہوگا لیکن گزشتہ ساڑھے تین سال میں ان کی ساری توجہ صرف اسی پر مرکوزرہی۔ مارچ اور دھرنوں کے علاوہ انہوں نے کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔
شروع شروع میں تو مارچ اور دھرنوں میں عوام دلچسپی لیتے رہے۔ کارکنوں میں بھی ایک جوش وجذبہ تھا۔ لیکن اب وہ مسلسل مارچ اور دھرنوں سے اکتا چکے ہیں۔ ان کے اپنے کارکنوں میں بھی اب وہ پہلے سا جذبہ نہیں رہا۔ ان کے کارکن بھی مارچ اور دھرنوں ان کا ساتھ دینے سے گریز کررہے ہیں کیونکہ ہر فرد کی اپنی مجبوریاں اور ضروریات ہوتی ہیں۔ اس مشکل دور میں ان دھرنوں اور مارچوں سے انہیں کچھ ملتا نہیں بلکہ ان کی گھریلو ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔ انہیں مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انتخابات سے قبل اور انتخابات کے بعد عمران خان ایک مقبول سیاستدان تھے لیکن غلط مشیروں اور ساتھیوں کے غیرمناسب مشوروں کے باعث ان کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے اور مزید متاثر ہورہی ہے، جس سے ان کے مقاصد کو تو دھچکا لگے گا اور اس طرح پوری قوم متاثر ہوگی۔ قوم کو اس وقت مخلص سیاستدانوں کی ضرورت ہے جوان کے مسائل اور مشکلات کو حل کرسکیں۔ ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالیں۔ اس وقت قوم انہیں ملک وقوم سے مخلص سیاستدان سمجھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اب سنجیدہ سیاست کریں۔ غیر مناسب مشیروں اور ساتھیوں سے جان چھڑائیں جو ان کو غلط مشورے دے رہے ہیں۔ یہ ساتھی اور مشیران کے دوست نہیں بلکہ ان کے پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔ جو غلطیاں ہوگئیں ان کی اصلاح کے لیے اب اگلے انتخابات پر توجہ دیں۔ کرپٹ حکمرانوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس کی کرپشن اور فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد ضرور کریں۔ عوام کو متحرک ضرور کریں۔ ان میں شعور بیدار کریں۔ لیکن اس کے لیے مارچ اور دھرنے چھوڑ کرمناسب راستہ اختیار کریں۔
خیبر پختونخوا کی طرف توجہ دیں، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ۔ اس صوبے میں کام کریں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی نے اس صوبے میں کچھ کام ضرور کیا ہے۔ لیکن اس صوبے میں ابھی بہت کام کرنا ہے کیونکہ دہشتگردی سے جتنا یہ صوبہ متاثر ہوا ہے اتنا کوئی اور صوبہ متاثر نہیں ہوا۔ اس صوبے کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں جو بھی آیا اس نے ایک ہی بار حکومت کی۔ اگر پی ٹی آئی نے اس صوبے میں دوبارہ حکومت کرنی ہے تو اس پر توجہ دینی ہوگی۔ اس صوبے میں کچھ کریں اور اسے ملک کے عوام کو دکھائیں تواگلے انتخابات میں نہ صرف اس صوبے میں حکومت بنائیں بلکہ ملک بھر میں بھی کامیابی حاصل کریں۔
اس کے لیے ابھی سے کمر کس لیں کیونکہ کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔