کشمیر پر ہندوستانی قبضے کا سیاہ دن
- تحریر
- جمعہ 28 / اکتوبر / 2016
- 5794
27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج ہوائی جہازوں کے ذریعے سرینگر ایئر پورٹ اتری اور اس وقت سے اب تک بھارت مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ڈوگرہ راج، بھارت سے آزاد تو ہو گئے لیکن ریاست کے باقی علاقوں پر بھارت کا قبضہ ہو گیا۔ ریاستی مسلمانوں کو رائے شماری کے ذریعے حق خود ارادیت دینے کی عالمی (جس میں بھارت اور پاکستان کی تحریری رضامندی بھی شامل ہے) یقین دہانی پر کشمیر میں جنگ بندی ہوئی۔
جنگ بندی لائن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ ، پرامن حل کی طرف پہلا قدم تھا۔ لیکن جنگ بندی لائن کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم ہر عنوان سے انسانیت سوز ہے۔27 اکتوبرکا دن ریاست جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے عوام کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ 26سال سے مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں کے خلاف ہر طرح کے مظالم اور جنگی جرائم کے باوجود کشمیریوں کے عزم آزادی اور ان کی جدوجہد کو روکنے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔
برٹش حکومت، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کانگریس کی ملی بھگت اورسازشوں کے تحت 27اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج ہوائی جہازوں کے ذریعے کشمیر میں داخل ہوئی۔ 22 اکتوبر 47 کو ہی آزاد فوج نے قبائلی مجاہدین کی مدد سے مظفرآباد شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ 26 اکتوبر کے دن آزاد افواج نے بارہ مولہ پر قبضہ کیا اور27 اکتوبر کو سری نگر سے تین میل دور شالہ ٹیگ کے نزدیک پہنچ گئیں۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ڈوگرہ آرمی کا تقریباً خاتمہ کیا گیا۔ ڈوگرہ آرمی کے چیف آف سٹاف بریگیڈیئر راجندر سنگھ بھی میدان جنگ میں کام آئے۔ 28 اکتوبر کو بھارتی افواج سری نگر پہنچیں۔ یہ فوج جدید اسلحہ سے لیس تھی۔ ان کا کمانڈر کرنل ڈی آر رائے بارہمولہ کی لڑائی میں کام آیا۔7 نومبر 1947 کی شام کو شالہ ٹینگ کے مقام پر ایک ''فیصلہ کن'' لڑائی ہوئی۔ اس میں ایک انداز ے کے مطابق 500 قبائلی مجاہدین اور دوسرے رضا کار کام آئے۔
قبائلی مجاہدین نے 8 نومبر 1947 کی شام تک بارہ مولہ تک کا علاقہ خالی کر دیا اور اسی دن شام کو بھارتی فوج بارہ مولہ میں داخل ہوئی۔ 14 نومبر 1947 کو بھارتی فوج نے اوڑی پر قبضہ کیا ۔ شالہ ٹیگ کی لڑائی کے بھارتی کمانڈر بریگیڈیئر ایل پی سپین (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) اپنی کتاب "Slender was the thread" کے صفحہ 83,82 اور 84 پر لکھتے ہیں کہ ''میں نے شالہ ٹیگ کی لڑائی سے قبل شیخ عبداللہ ، بخشی غلام محمد اور ڈی پی دھر سے صلاح مشورہ کیا، جو نیڈوز ہوٹل کے قریب ایک چھوٹے مکان میں موجود تھے۔ ہم نے شالہ ٹیگ کی لڑائی کے لئے 10 نومبر 1947 کی تاریخ طے کی۔ لیکن 5 نومبر سے ہی قبائلی واپس جانے لگے تو ہم نے 7 نومبر 1947 کی شام کو ہی تین اطراف سے ان پر حملہ کر دیا۔ ہمیں ائرفورس کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس طرح بارہ گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہم نے شالہ ٹیگ کی لڑائی جیت لی اور قبائلی 500 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ 8 نومبر کو ہم نے بارہ مولہ پر قبضہ کر لیا اور 14 نومبر 1947 کو بھارتی فوج اوڑی میں داخل ہوگئی ۔ 17 نومبر کو بھارتی فوج نے دومیل (مظفرآباد) پر قبضہ کرنے کے لئے پیش قدمی شروع کی''۔
سرینگر شہر کے دروازے شالہ ٹیگ کی لڑائی کے بارے میں جنگ آزادی کشمیر (1947-48 ) کے جنرل طارق بریگیڈیئر اکبر خان اپنی کتاب " Readers in Kashmir" کے صفحہ 54-53 اور 56 پر لکھتے ہیں کہ '' 27 اکتوبر کو ہی ہماری طرف سے جموں کو نظرانداز کیا گیا جس کے نتیجے میں ہندوستان تمام تر طاقت سرینگر پر مرکوز کر رہا تھا۔ دو روز بعد 29 اکتوبر کے روز قبائلیوں کو سرینگر سے باہر چوتھے سنگ میل پر روک دیا گیا ۔ یہ آخری موقعہ تھا کہ انہیں بکتر بند گاڑیوں کی یا ایسی ہی کوئی موثر مدد دی جاتی۔ انہیں کوئی مدد نہ دی گئی بلکہ انہیں ایسی زمین پر اور ایسے حالات میں تنہا چھوڑ دیا گیا جہاں لڑنا ان کے بس سے باہر تھا۔ ہرگھڑی سرینگر میں اترنے والی ہندوستانی فوجوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے باوجود قبائلی چار پانچ دن جائزہ لیتے رہے کہ شاید کامیابی کی کوئی صورت نکل آئے مگر انہیں ااحساس ہوگیا کہ صوتحال ان کے خلاف ہے۔ اگر ہندوستانی فوج نے حملہ کر دیا تو پیچھے کوئی موزوں علاقہ نہیں ہے جہاں قبائلی پسپا ہوکر دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ۔ علاقہ میدانی تھا جو قبائلی طریقہ جنگ کےلئے موزوں نہیں تھا۔ اگر قبائلی وادی سے پہاڑی علاقے میں چلے جاتے تو لڑ سکتے تھے لیکن وہاں لڑائی بے مقصد تھی۔ وہاں ہندوستانی فوج انہیں گھیرے میں لے سکتی تھی ۔ اصل مقصد سرینگر میں داخلہ تھا جو ممکن نہیں ہو رہا تھا ۔ قبائلیوں نے وادی میں لڑنے کو بے معنی سمجھا ۔ قبائلی جب غائب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو حیران کن تیزی سے غائب ہوتا ہے۔ جیسے ابھی یہاں تھا اور ابھی غائب ہوگیا۔ کشمیر میں انہیں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ وہ ایک اجنبی ملک میں تھے جہاں کے عوم ابھی پوری طرح مسلح ہو کر نہیں اٹھے تھے، نہ ہی ان کے پاس ایسے ذرائع تھے کہ قبائلیوں کی کوئی مدد کرتے۔ نہ ہی وہ ایسے جنگی حالات اورقبائلیوں کی طرح لڑنے اور مشکلات برداشت کرنے کے عادی تھے۔ پسپائی کے دوران قبائلیوں کو کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جہاں وہ اپنی لاریاں روک کر چھپا دیتے اور ہندوستانی فوج کی پیش قدمی روکتے۔ اس کے لئے پہاڑی علاقہ ضروری تھا جو وہاں نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ لڑنے کے لئے مووزوں جگہ نہیں ہے۔ لاریوں میں بیٹھے انتظار کرتے رہنے سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ لہذا پیچھے چلے جانا بہتر ہے۔ وہ کشمیر سے نہیں بھاگنا چاہتے تھے لیکن وہ انتظار کسی اور جگہ کرنا چاہتے تھے۔ لہذا5 نومبر 1947 کی رات تک قبائلی لشکر کا بیشتر حصہ اوڑی تک پیچھے ہٹ آیا۔ اوڑی سرینگر سے 65 میل دور اور بارہ مولہ سے 30 میل پیچھے ہے۔ اگلی صبح 6 نومبر 1947 کو قبائلی ٹولیوں میں کشمیر سے نکلنے لگے''۔
نومبر 1947 کے پہلے ہفتے میں بھارتی فوج اور آزاد مجاہدین میں ہر محاذ پر باقاعدہ جنگ شرو ع ہوئی ۔ بھارتی افواج جدید ترین اسلحہ سے مسلح تھی اور آزاد مجاہدین ان کے مقابلہ میں تقریباً نہتے تھے۔ مگر انہوں نے بھارتی آرمی کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ یوں آآزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے اور آزاد کشمیر کی حکومت کے بنیادی کردار کی بحالی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لئے بنیادی نوعیت کی اہمیت کا معاملہ ہے۔ تاہم آزاد کشمیر حکومت کا یہ کردار محض خواہشات سے بحال نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے لئے آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے مضبوط مطالبہ کیا جانا ناگزیر ہے۔ اس کردار کے حصول کے لئے آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے قبائیلی اور علاقائی ازم کی نفی بھی از حد ضروری ہے۔ یہی وہ چیلنج ہے جس کا سامنا وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی حکومت کو کرنا ہے۔ اگر پاکستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہوتے ہوئے بھی آزاد کشمیر حکومت کا کشمیر کاز کے لئے کردار بحال نہیں ہوتا تو مقامی امور و مسائل میں محدود اختیار المیہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔