آئی ایم ایف کا مشورہ ، کرپشن اور سیاست

  • تحریر
  • جمعہ 28 / اکتوبر / 2016
  • 3731

محاورے کی حد تک ہی سہی، آپس میں تعلق نہ بھی سہی لیکن یہ اتفاق ایسے ہی رونما ہوا، اِدھر پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی، آئی ایم ایف کی  صدر کرسٹین لاگارڈ نے مشورہ دیا کہ کرپشن حقیقت ہے یا محض تاثر، اسے ختم کرنا ہو گا۔ پانامہ ہو یا بہاماس، شفافیت اور احتساب سے ہی کرپشن ختم ہو گی۔ اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیرمین نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا نیا فرنٹ مین ڈھونڈ ڈالا۔ بلکہ اب تک کی موٹی موٹی کرپشن کا حساب کتاب چھبیس ارب روپے لگا کر الزام میڈیا اور وزیر اعلیٰ کے حوالے کیا۔ اللہ دے اور بندہ لے ، اس کے بعد چوکس میڈیا تھا ، شام تھی ، یہ خبر تھی اور گھمسان کا رن تھا۔

سیاست اور میڈیا کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں۔ یہ الزامات سیاسی معرکہ آرائی کا حصہ تھے اور ان الزامات سے سیاست کی کڑھی میں مزید ابال آیا۔ میڈیا خوش ہوا کہ نیوز سائیکل میں بوریت کا قلع قمع ہو گیا ، اپنی اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق کسی کو اس میں انکشاف نظر آیا اور کسی کو سراسر سیاسی جھوٹ ۔ دو نومبر کو اسلام آباد مکمل طور پر بند کرنے کے سیاسی منظر نامے پر اس قدر ہیجان برپا ہے کہ پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی آئی ایم ایف کی صدر کرسٹین لاگارڈ کی جانب سے پاکستان کی معیشت پر ان کے تبصرے اور پاکستانی معیشت کے لیے ان کے مشوروں پر شاذ ہی کسی کو کان دھرنے کا وقت ملا۔ ایکسپریس نے ان کے تبصرے پر ایک مبسوط اداریہ بھی لکھا لیکن ٹی وی میڈیا نے ان کے تبصرے اور تجزیے پر کوئی با معنی بحث سے دامن بچائے ہی رکھا۔

کرپشن دنیا بھر کی معیشت اور عالمی معاشی نظام کے لیے ناسور ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے پانامہ لیکس کے بعد ٹیکس ہیون مقامات کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ کرپشن کا ناسور عالمی نظام میں اس درجہ نفاست سے سرایت کر چکا ہے کہ بسا اوقات اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں، بنک اور ان کے ماہر قانونی رفقا ایسے ایسے راستے ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ حکومتیں سر پیٹتی رہ جاتی ہیں۔ چند ہفتے قبل امریکہ کی سب سے بڑی فون کمپنی پر یورپین یونین نے لگ بھگ چودہ ارب ڈالر کا جرمانہ کیا کہ کمپنی نے آئرلینڈ میں اپنا ہیڈ آفس رکھتے ہوئے ٹیکس قوانین کو یوں استعمال کیا کہ ٹیکس کے نام پر تھوڑی بہت رقم دکھاوے کے لیے جمع کروائی اور اربوں ڈالر کا فائدہ جیب اور کتابوں میں ڈال یہ جا وہ جا۔ ایسے اور بھی بے تحاشا واقعات اور مثالیں ہیں۔

ماہرین اس طرح کی ٹیکس چوری یا ٹیکس چھپائی کا تخمینہ لگاتے ہیں تو معاملہ اربوں نہیں کھربوں ڈالرز تک جا پہنچتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس کی جہتیں مختلف ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں اس کا پھیلاؤ اور جہتیں اور طرح کی ہیں۔ اسی لیے اس کا علاج بھی اپنے اپنے حالات اور مسائل کی بنیاد پر مختلف تجویز کیا جاتا ہے۔ جو چند امور سب علاج ہائے چارہ گراں میں مشترک ہیں ان کے مطابق کرپشن کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے یعنی زیرو ٹالرنس، قانونی سوراخ بند کیے جائیں اور قابو آنے والوں کو بلا امتیاز سخت سزائیں دی جائیں۔

پاکستان کے دورے پر آنے والی کرسٹین لاگارڈ نے پاکستان کے مالیاتی کرتا دھرتا لوگوں کے ساتھ دو مصروف دن گزارے۔ انہوں نے کمال مہارت سے اپنے بے لاگ تبصرے اور مشورے ارباب اقتدار اور متعلقہ اداروں کو یوں دیے کہ اپنا دامن فروعی مسائل سے بچائے رکھا۔ اور تلخ سے تلخ بات خالص پیشہ ورانہ انداز میں کی۔ انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ پاکستان کے مالیاتی اشارے اب بہتر ہیں بلکہ مستحکم ہیں۔ لیکن معیشت کو درپیش چیلنجز اپنی جگہ قائم ہیں۔ گو زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت ریکارڈ سطح پر ہیں لیکن ان کے نیچے کی زمین سرک بھی سکتی ہے۔ کیسے ؟ وہ یوں کہ بیرونی ترسیل زر کے ممکنہ ذرائع میں برآمدات کا رول سب سے کلیدی ہے۔ اس کے بعد بیرون ملک سے زر مبادلہ کی ترسیلات ہیں اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری۔ بیرونی قرضے بھی بیرونی ترسیلات کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن ابھی پاکستان کم از کم آئی ایم ایف کے پاس کسی نئے قرضے کے لیے جانے کا متکلف نہیں اور نہ ضرورت ہے۔

عملی صور ت کچھ یوں ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی کا رجحان جان ہی نہیں چھوڑ رہا۔ اس میں کچھ کیا دھرا عالمی منڈی میں کموڈٹیز میں قیمتوں کی کمی کا ہے اور کچھ طلب میں کمی کا۔ ہماری برآمدات کا انحصار بدستور ٹیکسٹائل اور چند کم قیمت اور بنیادی اشیاء پر ہے۔ صدر آئی ایم ایف نے بجا کہا کہ برآمدات میں اضافے کے ملین نئے آئیڈیاز ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی آئیڈیا ہمارے ذہنوں میں ابھی تک تو جگہ نہیں پا سکا، کل کا کچھ کہہ نہیں سکتے۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ ان کا غالب حصہ مشرق وسطیٰ سے آتا ہے۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے ان ممالک کی اپنی معیشتوں کی چولیں ہلا دی ہیں، لہٰذا ان کے ہاں سے ترسیلات میں کمی آئی ہے بلکہ مزید کمی کا امکان ہے۔ رہا بیرون ملک سے براہ راست سرمایہ کاری کا امکان تو انتظار کی نبض کبھی ڈوبتی ہے کبھی بھڑکتی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں براہ راست سرمایہ کاری میں 38 فی صد کمی آئی ہے۔ لے دے کر تان سی پیک پر ہی ٹوٹتی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ منصوبہ سیاست کی کوتاہ نظری اور الزام تراشی کی نظر نہ ہو۔

کرسٹین لاگارڈ کا مشورہ تھا کہ پاکستان کو اپنی گروتھ یعنی بڑھوتری جاری رکھنے کے لیے اپنے مالیاتی معاملات کو مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے۔ محصولات میں اضافہ اور اخراجات میں توازن لایا جائے۔ اصلاحات کا با معنی عمل جاری رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت یہ عالم ہے کہ قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم ترقیاتی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ یہ صورتحال گروتھ کے امکانات کے لیے کسی بھی صورت معاون نہیں۔ سبسڈی کے بارے میں ان کا نقطہ نظر تھا کہ زیادہ تر سبسڈی کا فائدہ وہ طبقات بھی اٹھاتے ہیں جن کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔ ایک دلچسپ بات انہوں نے یہ بھی کہی کہ ترقی کا عمل Inclusive ہونا چاہئے یعنی ترقی کے ثمرات وسیع البنیاد ہوں نہ کہ فوائد کا غالب حصہ اشرافیہ کی جھولی میں ہی گرے۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ بھی کیا کہ دنیا میں اسکول سے باہر بارہ بچوں میں سے دو کا تعلق پاکستان سے ہے۔

کرسٹین لاگارڈ تو اپنا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکیں ۔ ہمارے ہاں ان احباب کی کمی نہیں جو ملک کے تمام معاشی مسائل کا ذمہ دار آئی ایم ایف کو ہی گردانتے ہیں لیکن خدا لگتی یہی ہے کہ ان تمام تبصروں اور مشوروں میں غلط کیا ہے۔ یہی باتیں ماہرین سال ہا سال سے کہتے آ رہے ہیں لیکن سننے والا کوئی نہیں۔ اپوزیشن میں ہوں تو بات بات پر حکومت کو طعنے کہ محصولات کو بڑھانے میں ناکام رہی۔ اگر اصلاحات کی کوشش ہو تو سیاسی مفادات اور کشاکش کا میدان سج جاتا ہے۔ یہی اپوزیشن جب حکومت میں آتی ہے تو اسے بھی انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ کہیں دور لمبی تان کر سو جاتا ہے۔ بات بات پر حکومت کو برآمدات میں کمی، اصلاحات میں کاہلی اور پبلک سیکٹر کمپنیوں میں مسلسل خسارے کے طعنے دینے والے جب خود حکومت میں آتے ہیں تو معاملہ بقول صوفی غلام مصطفٰے وہی رہتا ہے:

سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

دو نومبر کے ماحول میں معیشت پر سنجیدہ بحث کرنا شاید ویسے ہی بے وقت کی راگنی ہے۔ لہٰذا ہمیں خدشہ ہے کہ یہ مشورے اور تجزیے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ان دنوں اگر شور و غوغا رہے گا تو یہ کہ کون کس کا فرنٹ مین ہے یا نہیں۔ اس جوش ملامت میں تو یہ بھی یاد نہیں کہ یہ اربوں روپے کے کمیشن جن کمپنیوں سے منسوب کیے جارہے ہیں ان کا تعلق ایک دوست ملک سے ہے۔ انگلیوں کی زد میں آنے والے چند منصوبے سی پیک کے بھی ہیں، اس پر دوست ملک اور وہاں کے سرمایہ کاروں کا رد عمل کیا ہوگا؟