قوم ، ریاست اور قومی شناخت (2)

اکتوبر1947کے مشروط و محدود (دفاع، خارجہ، مواصلات امور) سطح پر ریاستی الحاق اور اقوام متحدہ میں متنازعہ (جنوری 1948) ہو جانے کے بعد سے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر(بشمول لداخ) کا بھارت سے آئینی رشتہ آرٹیکل 370 کے ذریعے قائم ہے، جو ریاست کی خصوصی حیثیت میں ایک مقامی اسمبلی، حکومت، آئین اور جھنڈے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر طاقت کا منبع مرکزی حکومت (دہلی) ہے۔

1951 میں نیشنل کانفرنس کی کلی اکثریت کےساتھ دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی جس نے پہلے ریاستی اسمبلی کو بااختیار کرتے ہوئے مہاراجہ کو آئینی علامتی سربراہ کی حیثیت دی۔ اسمبلی نے 7 جون 1952 کو متحدہ ریاستی شناخت کا جھنڈا نیشنل کانفرنس ہی کے سرخ رنگ اور سفید ہل کے نشان والے جھنڈے میں تین عمودی سفید پٹیوں کےساتھ ایک نئے منقسم ریاستی جھنڈے کے طور پر منظوری دی۔ یہ جھنڈا آج بھی سرکاری طور پر رائج ہے۔ اس میں سرخ رنگ انقلابی نظریات، ہل (کسان محنت کشی) اور تین پٹیاں تین صوبوں جموں، کشمیر اور لداخ کی وضاحت کرتی ہیں(یاد رہے پاکستان اور ہندوستان کے قومی جھنڈوں میں کانگرس اور مسلم لیگ کے پارٹی جھنڈوں کا ہی عکس پایا جاتا ہے اور وہیں سے شیخ عبداللہ نے بھی اثر لیا ہے) ۔

ریاست میں جموں(صوبہ) کی قوم پرستی مذہب و علاقائی بنیاد پرہے اور اسی لئے وہاں اکثریت (ہندو، سکھ) اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ مانتے ہیں۔ بھارت نواز دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے (پونچھ راجوری کی مشترکہ علاقائی شناخت بھی موجود ہے) ۔ بھارتی زیر انتظام ریاست کی قومی شناخت کے حوالے سے یہی جاننا کافی ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت میں شامل بی جے پی کے جموں سے اراکین اسمبلی اور وزراء نے ریاستی جھنڈے کے استعمال سے انکار کرتے ہوئے صرف بھارتی جھنڈے کو اپنی قومی شناخت تسلیم کیا۔ یہ معاملہ آج بھی کابینہ ، اسمبلی اور عدالتوں کے ذریعے نمٹانے کی کوشش جاری ہے ۔ وادی کشمیر میں بھی مذہبی و ثقافتی(کشمیریت) قوم پرستی فعال ہے، جس میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور مزاحمتی تحریک کی شدت میں مستقبل کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ وہ جموں کے ساتھ ہم قدم بالکل نہیں ہیں۔ اسی لئے وہاں کی تحریک بھی وادی کشمیر تک محدود رہی ہے۔ مزاحمتی تحریک میں پاکستان نواز یاعلیحدگی پسند گروہ پاکستانی اور آزاد کشمیر کے جھنڈوں کے ذریعے اپنے عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ ہند نواز سیاسی جماعتیں( نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی) ریاستی اور بھارتی جھنڈے کا استعمال کرتے ہیں ۔ لداخ بھی مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس میں کرگلی اور لداخی کے علاوہ بدھ، شیعہ و سنی جیسی مذہبی قومی شناختیں کافی واضح ہیں۔ سیاسی مستقبل کے حوالے سے لداخ کی اکثریت صوبہ کشمیر سے الگ اپنا انتظامی ڈھانچہ اور بھارت کا آئینی حصہ بننے کو ترجیح دیتی ہے۔ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کا جھنڈا حد متارکہ کے پار پاکستانی زیر اانتظام آزاد کشمیر کی نمائندگی کرنے سے بالکل بے نیاز ہے۔

پاکستانی زیر انتظام متنازعہ خطے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں سیاسی نظریات، قوم پرستی اور قومی شناخت کے حوالے سے گروہی، فروعی اور پیچیدہ قسم کے ابہام پائے جاتے ہیں۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ دونوں خطے ایک منصوبہ بند فوجی بغاوت اور قبائلی حملے کا ثمر ہیں۔ تاہم انتظامی طور پر ان دونوں خطوں کو1947سے ہی الگ کر دیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان میں تو سیاسی شعور کی بیداری میں کافی عرصہ لگا کیونکہ وہاں سارے سیاسی و انتظامی امور حکومت پاکستان کی وزارت امور کشمیر کے ذریعے براراست چلائے جاتے رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین عشروں کے دوران مرحلہ وار وہاں نظام میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پاکستانی مذہبی و سیاسی جماعتیں مقبول ہیں اور وہ پاکستانی قوم پرستی کی نمائندہ ہیں۔ اس کے علاوہ چند گروہ ایسے بھی ہیں جو گلگت بلتستان کی مشترکہ شناخت کو لےکر اسی خطے کے آئینی و سیاسی حقوق کی جدوجہد کے تناظر میں علاقائی قوم پرستی کے دعویدار ہیں۔  یہ گروہ ابھی تک عوامی سیاست میں زیادہ کامیاب نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر گلگت میں مقامی علاقائی اور مسلکی قوم پرستی کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ جس میں کسی مثبت تبدیلی کا امکان مستقبل قریب میں تو نہیں ہے۔  لیکن عوام کی فرقہ واریت سے بڑھتی ہوئی بیزاری  شاید کبھی اس تفرقہ کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ گلگت بلتستان میں قومی شناخت بھی ابہام کا شکار ہے۔ گلگت سکاؤٹس اور ریاستی فوج کے مسلمان اہلکاروں کی بغاوت (1947) کہ جس میں یکم نومبر1947کو باغی حکومت کا اعلان اور اس دوران پاکستان و آزادکشمیر کے جھنڈوں کی نمائش بھی کئی مغالطوں کی بنیاد ہے۔ مجموعی آبادی کی اکثریت پاکستان کو ہی اپنا قومی ملک اور پاکستانی جھنڈے سمیت دیگر قومی شناختوں کو ہی اپناتی ہے ۔ گلگت بلتستان میں تاریخی و مذہبی بنیادوں پر ہی ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو اس خطے کو ماضی و مستقبل میں بھی ریاست جموں کشمیر ہی کا لازمی حصہ تسلیم کرتا ہے۔

آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کی سربراہی میں بننے والی آزادکشمیر حکومت کا سرکاری یوم تاسیس24 اکتوبر 1947 کو مانا جاتا ہے( یہاں بھی ابہام ہے کہ چند افراد یا گروہ مسلم کانفرنس ہی کے اعلان کردہ4 اکتوبر 1947کے اعلان کو خودمختار ریاستی حکومت مانتے ہیں)۔ آزادکشمیر میں بھی ایک مقامی اسمبلی اور ریاستی حکومتی ڈھانچہ دستیاب ہے لیکن بھارتی زیر انتظام خطے کی طرح علاقے میں اکثرسیاسی و انتظامی امور پر زیادہ اختیار مرکزی حکومت (اسلام آباد) کے پاس ہے۔ آزاد کشمیر کا بھی سبز، زرد اور تین سفید پٹیوں و چاند ستارہ پر مشتمل مستطیل جھنڈا موجود ہے جو صرف آزادکشمیر کی نمائندگی تک محدود ہے۔ جس میں سبز رنگ و چاند ستارہ مسلم اکثریت، زرد رنگ غیر مسلم اقلیت اور افقی پٹیاں برف و پانی کی غمازی کرتی ہیں (اس جھنڈے کے تخلیق کار جی کے ریڈی یاعبدالحق مرزا پر بھی ابہام ہے)۔ سوائے چند افراد یا گروہوں کے آزادکشمیر کے تمام سیاسی و سماجی گروہ آزاد کشمیر کے جھنڈے کو قومی شناخت تسلیم کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی قوم پرستی مجموعی طور پرمذہبی، نسلی اور علاقائی عناصر پر مشتمل ہے۔ عوامی و پارلیمانی سیاست پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہے اور ایسی مختلف سیاسی جماعتوں میں نسلی گروہ زیادہ فعال ہیں۔ آزاد کشمیر میں چونکہ سو فیصد مسلم آبادی ہے لہذا انہی پاکستانی جماعتوں کو مقبولیت بھی حاصل ہے اور ان کی قوم پرستی ریاست کے الحاق پاکستان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ آزادکشمیر میں ترقی پسند، انقلابی اور آزادی پسند کہلانے والے گروہ بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور نوجوان طبقہ اکثر انہی گروہوں کےساتھ منسلک ہے جو خود کو حقیقی قوم پرست سمجھتے ہیں۔

ایسے قوم پرست گروہوں کی عوامی یا انتخابی سیاست میں پزیرائی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہ گروہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کو رد کرتے ہوئے پوری ریاست کی 1947 والی کیفیت میں مکمل آزادی وخودمختاری کے ساتھ بحالی کے بعد قائم ہونے والے سیاسی و معاشی نظام پر اکثر بحث و تکرار میں مصروف رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے اپنے خطے کے معروضی حالات سے بے بہرہ ہوتے ہوئے پوری ریاست کی آزادی و خودمختاری کی بحالی کےلئے کسی عملی لائحہ عمل کی ترتیب، تحریر، تحریک و تشہیر میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ جس پر ان کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ اندرونی طور پر ان گروہوں میں بھی روایتی سیاست کی طرح کہیں کسی حد تک نسلی ، مذہبی ، علاقائی بنیادوں پرمشتمل قوم پرستی اور نظریاتی گروہ بندی کے آثار کافی حد تک نمایاں ہیں۔ ان میں سے اکثر گروہ آزادکشمیر کے جھنڈے کو قومی شناخت تسلیم کرتے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں میں خصوصاٌ فروری 2014 میں ایک طلباء تنظیم کی طرف سے 1947 کے ریاستی جھنڈے کی بحثیت قومی شناخت کی مہم اور ایسی مختلف قوم پرست جماعتوں میں موجود افراد میں 1947 والے ریاستی جھنڈے کی تشہیر نے، ان گروہوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف جماعتوں میں موجود اس نئی سوچ کے حامل اس غیر اعلانیہ قوم پرست گروہ کا موقف منطقی دلائل کےساتھ سامنے آیا ہے۔ کہ منقسم ریاست کی دونوں جانب دو مختلف جھنڈے ریاست کی تقسیم کی علامات ہیں اور نہ ہی یہ جھنڈے بحیثیت قومی شناخت 84471 مربع میل پر مبنی ریاست کے موجودہ منقسم و متنازعہ حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چونکہ قوم پرست گروہ ریاستی وحدت کی بحالی و خودمختاری کے نظریات کا پرچار کرتے ہیں تو نظریاتی طور پر اس تحریک کو مضبوط کرنے میں پوری ریاست کی مشترکہ قومی شناخت کےلئے دو طرفہ جھنڈوں میں سے ایک یا فی الوقت کسی نئے جھنڈے کی تخلیق کی بجائے اسی جھنڈے کو قومی شناخت بنایا جائے جو 1947میں قبل از تقسیم پوری ریاست جموں کشمیر و لداخ کی نمائندگی کر رہا تھا ۔

جھنڈے کے اس نئے مدعے پرحقیقی قوم پرست کہلانے والے گروہوں میں ہلچل سی پیدا ہوئی ہے اور مختلف نوعیت کے اعتراضات میں مشترکہ پہلو معاہدہ امرتسر کے ذریعے متحدہ ریاست کا قیام، اس وقت کا شخصی ڈوگرہ شاہی نظام اور ریاست کے حکمران کا ہندو اور ایک مخصوص سماجی گروہ سے منسلک ہونا ہے ۔ ایسے مباحث میں بعض اوقات ایسی شدت دکھائی دیتی ہے کہ جس میں نام نہاد ترقی پسندی، آزادی پسندی، ریاستی وحدت اور قوم پرستی جیسی اصطلاحات اپنے مفہوم سمیت خود شرما جاتی ہیں۔ ریاستوں کے قومی جھنڈے تو قومی شناخت ہوا کرتے ہیں نہ کہ کسی حکمران کی نمائندگی کرنے والے اہلکار۔ دنیا میں آج بھی بے شمار ترقی یافتہ اور جمہوری ممالک ہیں جن کے جھنڈے سابق کسی بادشاہی یا آمرانہ حکومتوں کے ادوار سے چلے آرہے ہیں۔ مالٹا ( 1091۔1964) ڈنمارک( 1219) آسٹریا(1230 ۔ 1918) ، ہالینڈ(1572) ، نیپال (1743)، فرانس (1794)، برطانیہ(1801)، چلی (1817)، ارجنٹینا (1812، 1818)، پیرو (1822)، تیونس (1831)، ترکی (1793،1844)، جاپان (1870۔ پہلی بار آٹھویں صدی میں استعمال ہوا)، سویٹزرلینڈ (1470، 1889) جنوبی کوریا (1882)، کیوبا (1868، 1902)، اردن (1920)، مراکش (1244۔ 1915) جرمنی (1918)، پولینڈ (1831-1919) اٹلی (1796۔1948) لٹویا (1280، 1921)، روس(1700۔ 1991) اور دیگر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں سابقہ ادوار کے جھنڈے قائم رہے۔ یا بعض ممالک میں سابقہ ادوار کے جھنڈے مختلف ادوار میں بحال بھی ہوئے ہیں۔ اگر جھنڈے کسی سیاسی و معاشی نظام ہی کی نمائندگی کرتے ہیں تو برطانیہ، جاپان، جرمنی، سویٹزرلینڈ سمیت ایسے بعض ترقی یافتہ اقوام نے آج تک ان کو اپنانے ، بدلنے یا بحال کرنے میں اس ماضی کے سیاسی یا معاشی نظام سے منسلک کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟

جموں کشمیر و لداخ جیسی ریاستوں کی تشکیل و ارتقا کی تاریخ کا فلسفیانہ تجزیہ تخلیق آدم، ڈارون تھیوری یا غاروں میں رہنے والے انسان سے شروع کرنے کی بجائے اسے انیسویں صدی کے چوتھے عشرے کے دوسرے دورانیہ کے معروضی حالات میں ہی جانچا اور پرکھا جائے۔ کیونکہ یہاں تک تو انسانی شعور معاشی ، سیاسی و سماجی اطوار و اخلاقیات کی کئی سیڑھیاں عبور کر چکا تھا۔ جب یورپ کے فارغ التحصیل طلباء روزگار اورسیاسی تبدیلیوں کےلئے سڑکوں پر موجود تھے ، لندن میں مقیم کارل مارکس کا اشتراکی فلسفہ تحریر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے برعکس برصغیر میں برطانیہ کا نو آبادیاتی نظام مضبوط تر ہو رہا تھا۔ ایسے بعض حادثات کسی مہم جوئی میں غیر ارادی اور غیر متوقع طور بھی پیش آجاتے ہیں (ہیگل کا فطرتی وقوع) جنہیں پھر شاطر طاقتوں کی طرف سے اپنے حق میں استعمال کرنے کےلئے معروضات کے مطابق کوئی انجام دے دیا جاتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل ایک ایسا حادثہ ہے جس کے اسباب و محرکات خود کسی اور مہم جوئی کا حصہ تھے جس میں فاتح کی طاقت اور منصوبہ بندی سے زیادہ آغاز سے انجام تک خود مفتوح کی حماقتوں کا دخل ہے۔ اس کے نتائج کو خطے کی سیاسی طاقتوں نے اپنے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، چاہے وہ سکھ، انگریز یا ڈوگرہ گلاب سنگھ ہی کیوں نہ ہو ۔

سائنسی لیبارٹری میں تجربے کے دوران جیسے غیر متوقع حادثات میں اسپرین ، پنسیلین، کوکا کولا، پلاسٹک، ایکسرے، مائیکرو ویو ، دیا سلائی جیسی ان گنت حادثاتی مگر مفید ایجادات ہوئیں، کچھ ایسا ہی انجام1809کے امن معاہدہ کی خلاف وزی کرتے ہوئے خود سکھ خالصہ دربار کی طرف سے انگریزوں پر مسلط کی گئی جنگ کے متوقع انجام کے برعکس عبرتناک شکست کےساتھ خالصہ سلطنت کے اختتام سے پہلے خطے میں جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بنا۔  ایک نئی ریاست کا ظہور ہوا جسے جموں کشمیر و لداخ یا ڈوگرہ شاہی ریاست سے منسوب کیا جاتا ہے (یوں کہہ لیں کہ اگر وہ جنگ نہ ہوتی تو نہ یہ ریاست ہوتی اور نہ مسئلہ کشمیر اور نہ ہی قوم پرستی کے مغالطے ہوتے)۔ حقیقت تو یہی ہے کہ1846 میں ریاست کے قیام سے پہلے بھی ان تینوں خطوں کے عوام کسی تخیلاتی یا آفاقی نظام سے آراستہ جنت کے مکین ہرگز نہیں تھے جو ان سے چھین لی گئی یا انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا میں ایسی جنت سے ہی نکال دیا گیا ہو۔ 1846کے اس واقعہ کو اسی وقت کے معروضی حالات اور مروجہ دستور کے مطابق دیکھا جائے نہ کہ اس کے سو سال اورجنگ عظیم دوم کے بعد ابھرنے والی نئی طاقتوں کے تخلیق کئے گئے سماجی و سیاسی اٖخلاقیات و اقدار یعنی انسانی وسیاسی حقوق، حق خودارادیت اور جمہوری نظام میں تولتے ہوئے2016 میں تقابلی اور فلسفیانہ جائزہ لیا جائے۔

دونوں عالمی جنگوں کے اختتام پر پوری دنیا کو نئی ابھرنے والی فاتح طاقتوں نے ایسے ہی آپس میں بانٹ لیا جیسے ڈکیتوں کا گروہ مال مسروقہ کی تقسیم کرتا ہے۔ اگر کسی کو1846کے معاہدہ امرتسر کے ذریعے متحدہ ریاست جموں کشمیر کی تشکیل پر اعتراض ہے تو پھر وہ اسی ریاست کی بحالی کا دعویٰ کس بنیاد پر کرتا ہے اورایسی جبری ریاست کی وحدت کی بجائے اسے برطانیہ ، چین ، جاپان ، روس ، جرمنی ، پرتگال ، یوگوسلاویہ  اورسویت یونین جیسی سلطنتوں کا انجام کیوں نہیں دینا چاہتے؟ اگر ریاستی جھنڈا بحیثیت قومی شناخت قبول نہیں تو باشندے ریاست جیسی قومی شناخت پر کیوں اتراتے ہیں؟ نام نہاد ترقی پسند و خودساختہ انقلابی قوم پرست منقسم 84471 مربع میل کی سرحدوں میں ہی ریاست کو تلاش کرنے کی بجائے چی گویرا کی طرح غیرطبقاتی عالمی سماج کی جدوجہد میں شامل کیوں نہیں ہوتے جو متعدد ممالک میں عملی طور پر جاری ہے (مضبوط سرمایہ دار ممالک ہی میں ہجرت ضروری تو نہیں)۔  ڈوگرہ حکمران اگر آپ کی مذہبی، علاقائی، لسانی یا نسلی قومیت سے مطابقت نہیں رکھتا تو اس کی قومیت کے افراد کےساتھ اس علاقے (جموں) پر حق جتانے کی روش ترک کیوں نہیں کرتے ؟ نام نہاد آزادکشمیر کی مشکوک آزادی میں اگر ہر علاقے کی قوم، قومیت اور قبیلوں کے اجداد کی قربانیوں اور ڈھائی اضلاع کے اس اپاہج اقتدار پر قبضے کا ناز بھی ہے تو اسے آزاد ماننے میں کیا امر مانع ہے؟ اگر ریاستی قوم پرستی یہی ہے تویہ پردہ کب سے چاک ہو چکا ہے۔

مذہبی قوم پرستی (دو قومی نظریہ ) کی بنیاد پرتقسیم ہند کی آندھیوں میں ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی تقسیم کےساتھ اس کا سارا نظام بھی درہم برہم ہو گیا تھا جس میں ریاست کی قومی شناختوں کو بھی معدوم کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ متنازعہ و منقسم ریاست کے تمام حصے اپنے ریاستی مرکز کی عدم موجودگی میں سیاسی و نظریاتی طور پر فکری انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ تاریخ کے ہچکولے نے ایک بار پھر کچھ دھول اڑائی تو اس کے چہرے سے مسخ شدہ نقوش (مشترکہ ریاستی شناخت) تھوڑا ابھرے ہی ہیں کہ گروہی قوم پرستی کے کھونٹے سے بندھے چند نام نہاد ترقی پسند و آزادی پسند اپنی پھٹی ہوئی قبا سے ہی باہر نکلے جا رہے ہیں۔ میں زاتی طور پر منقسم ریاست کی ایک مشترکہ قومی شناخت کا حامی ہوں اور1947 تک کے مروجہ ریاستی جھنڈے کو ریاستی وحدت کی علامت اور ریاستی شناخت ماننے میں بھی مجھے اعتراض نہیں ہے۔ تاہم میں ریاست کے دونوں حصوں کے پرچموں کو یکسر رد بھی نہیں کرتا۔ کیونکہ دونوں پرچم دونوں ہی ریاستی حصوں کی منفرد و خصوصی آئینی و سیاسی حیثیت کا واضح ثبوت بھی ہیں۔

متحدہ ریاست کے سابقہ جھنڈے پرسیاسی و معاشی نظام کے پردے میں مذہبی، علاقائی و قبیلائی تیراندازی کی بجائے اسے باقی ترقی یافتہ دنیا کی طرح کسی فرد یا نظام سے زیادہ کسی ملک و قوم کے اقتدار اعلیٰ، آئینی حیثیت اور وقار کا قومی نشان سمجھا جانا چاہئے۔ منقسم و متنازعہ ریاست کے تینوں ریاستی جھنڈوں میں سے آپ جس بھی پرچم کو اپنی قومی شناخت سمجھیں، اس کے تقدس کا بھرم بھی رکھئے۔ کیونکہ جن قوموں میں اپنی قومی شناخت (پرچم) اور قومی وقار کے تقدس کا ادراک اور سلیقہ نہیں وہ تاریخ کے کوڑا دان میں گم ہو کر بھسم ہوجاتی ہیں۔ پھر کوئی نظریہ، کوئی سیاسی و معاشی نظام یا تاریخی فلسفہ انیں ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہے ۔