عمران خان، سیاسی دیوتا
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 29 / اکتوبر / 2016
- 6086
کیا عمران خان، پاکستان میں انقلاب کے بانی قرارپائیں گے کہ وہ جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ نظام اور کالونیل ریاست کے ڈھانچے کا متبادل نظام پیش کرکے اس پر کامیابی حاصل کرلیں گے؟ ایک ایساپاکستان جو سٹیٹس کو توڑکر فلاحی ریاست کی جانب گامزن ہو؟ وہ اپنی تقریروں اور بیانات میں نئے پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ پنجاب کی نئی ابھرتی مڈل کلاس ممکن ہے اُن کو اِسی انقلاب کا رہبر تصورکررہی ہے۔
یہ نئی مڈل کلاس، پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی جدوجہد سے ایک نئے پاکستان کا ظہور دیکھ رہی ہے۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ خواب پنجاب کی مڈل کلاس سے پھیل کر نچلے اور محنت کش طبقات تک امید کی کرن بن جائے اور عمران خان مروجہ ووٹوں کے نظام میں مزید مقبول رہنما بن کر سامنے آجائیں۔ ایک مسیحا کے طورپر۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس سٹیٹس کو، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ سماج کو توڑنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں یاکہ یہ سب وسوسے اورمغالطہ ہے جو اُن کے حامیوں میں زورپکڑتا جارہا ہے۔ چوں کہ وہ حکمران جماعت اور اس کی قیادت کو دبنگ اندز میں چیلنج کررہے ہیں، اُن کی اس طرزِ سیاست نے ایک سیاسی دیوتا کا تصورضرور ابھارا ہے لیکن کیا سیاسی دیوتا قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں؟ کیا صرف ایک جماعت اورحکمران قیادت کو دبنگ انداز میں چیلنج کرنے سے آپ انقلاب برپاکرسکتے ہیں؟ یا یہ کہ آپ ایک حکومت اورحکمرانوں کو کرپٹ کہہ کر سٹیٹس کو توڑسکتے ہیں؟
کسی ایک شخص اورحکومت کے خلاف کرپشن کے الزامات پر انقلابات کبھی برپا نہیں کیے جاسکتے۔ جدید دنیا میں سیاسی، معاشی وسماجی انقلابات ایک مسلسل نظریاتی سیاسی جدوجہد کے سبب برپاہوتے ہیں۔ کیا عمران خان کا سیاسی فلسفہ اورمنشور حکمران جماعت کے مقابلے میں انقلابی ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شخصیت کی مخالفت کے علاوہ اُن کی جدوجہد کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں۔ وہ اس نظام کو بدلنے میں کہیں بھی اپنی سیاسی جدوجہد میں پورے نہیں اترتے جس میں کہاجاسکے کہ وہ ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جو کرپشن کے راستے ہی نہیں روکتا بلکہ پاکستان میں مروجہ سماجی وریاستی سٹیٹس کو کا بدل نظر آرہا ہے ۔ اُن کی جدوجہد نواز شریف کو اقتدارسے باہر کرنے کے حوالے سے تو پوری طرح سے بھرپور ہے۔ لیکن کہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ وہ جاگیردارکے معاشی و سماجی نظام کو برباد کرکے دہقان اور کسان کا راج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یا یہ کہ عالمی سرمایہ داری کو مسترد کرکے قومی صنعت، مزدورکے حقوق اور کالونیل ریاست کے ڈھانچے کو توڑکر عوامی یا فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اُن کا سیاسی فلسفہ حکمران جماعت سمیت مروجہ تمام مقبول جماعتوں کے عین مطابق ہے۔ توپھر انقلاب کہاں سے برپا ہوگا؟ یقیناً ایسے میں عوام ایک نئے سراب میں پیاسے ہی صحرامیں بھٹکیں گے۔
پاکستا ن میں ہر دس پندرہ سال کے بعد ایک عوامی جدوجہد (Mass Movement) یا انقلابی طرز کی خواہش عوام میں جنم لیتی ہے اور اس صورتِ حال میں کوئی نہ کوئی رہبر کی شکل میں لوگوں کے ذہنوں میں سیاسی مسیحا کے طورپر ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔ ایک ایسے سماج کے لوگ جن کا اجتماعی شعورصدیوں سے بت پرستی سے اٹھا ہے، اُسے ایک دیوتا مان لیتے ہیں کہ ہونہ ہو، یہی ہے وہ جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا۔ اوریوں سماج کے تضادات سے قدرتی طورپر جنم لینے والی Pre-Revolutionary صورتِ حال یا عوامی تحریک کی صورتِ حال ایک نئے سیاسی دیوتا کے گرداب میں داخل ہوجاتی ہے۔ لوگ مسیحا کے نعرے لگاتے ہیں۔ وہی ہے جس کاانتظارتھا۔ کبھی ... جاں نثارجاں نثار، اور کبھی ...آئی ہے اور انقلاب لائی ہے۔ ہم پاکستان کی تاریخ اٹھاکر دیکھ سکتے ہیں کیسے انقلابی صورتِ حال نے سماجی تضادات سے جنم لیا اور دیوتائی سیاست نے اس کا قتل کردیا۔ 1966-67ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی قیادت میں پاکستان میں انقلاب برپا ہوگیا، لیکن بقول ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دوطبقات کے درمیان مفاہمت کے تجربے نے اس جدوجہد کو آخرکار شکست ہی نہیں دی بلکہ حکمران طبقات نے اُن کو پھانسی گھاٹ تک پہنچا دیا۔ (پڑھیے، ذوالفقارعلی بھٹو کی موت کی کوٹھڑی میں لکھی اُن کی کتابIf I Am Assassinated)۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے تحت 1977ء میں انتخابات منعقد ہوئے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی و منتخب حکومت نے کروائے۔ لیکن اپوزیشن کے پاس ایک ایسا موقع آیا کہ وہ ملک کو مزید جمہوریت (More Democratization) کی جانب لے جاسکتا تھا۔ اپوزیشن پی این اے (پاکستان قومی اتحاد) نے بھٹودشمنی میں انتہائی موقف اختیار کیا اور اسے نظامِ مصطفی کی تحریک میں بدل کر لوگوں کو یہ باورکروادیا کہ پاکستان اسلامی انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ لیکن ذرا انجام دیکھیں اس تحریک نظامِ مصطفی کا، ایک سنگین مارشل لاء پاکستان کا مقدر بن گیا۔
پاکستان کے عوام نے پھر جدوجہد کی، مشکل ترین جدوجہد۔ آمریت اور سٹیٹس کو کے خلاف 1983ء میں ایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کی بحالی کی تحریک نے سندھ کو انقلاب کے مرکزمیں بدل دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم آرڈی جمہوریت کی جدوجہد کررہی تھی جبکہ سندھ انقلاب تک چلاگیا۔ فوجی حکمران کے ایوان ہی نہیں لرزے بلکہ وہ جاگیردارقیادت بھی خوف زدہ ہوگئی جو جمہوریت بحال کرواکر حکومت میں آنا چاہتی تھی۔ ایم آر ڈی کی جاگیردارقیادت نے تحریک کو کال آف کردیا۔ جمہوری تحریک انقلابی تحریک میں بدل چکی تھی، عوام قیادت سے آگے نکل آئے تھے۔ اوراہم بات یہ ہے کہ اس انقلابی لہرکا مرکز پنجاب نہیں بلکہ سندھ بن چکا تھا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں جنرل ضیا نے 1985ء میں الیکشن کروائے اورایک سندھی ( محمدخان جونیجو) کو وزیراعظم بنانے پر مجبورہوا۔ اس کے بعد پھر سماجی بغاوت اور عوامی جدوجہد نے پاکستان کو ایسے انقلابی دہانے پر لا کھڑاکیا کہ کہ ایک تنگ نظر اور مردانہ معاشرے نے تیس سالہ لڑکی بے نظیر بھٹو کو اپنا مقبول رہنما مان لیا۔ اور یہ نعرہ پاکستان کی فضا میں گونجنے لگا، بے نظیر آئے گی، انقلاب لائے گی۔
جاگیردارانہ اورمرد سماج میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے جلوس نے لوگوں کے انقلاب کے خوابوں میں بے نظیربھٹو کا استقبال کیا۔ پھر کیا ہوا، سب کو معلوم ہے۔ مفاہمت، مفاہمت اورمفاہمت ۔ باربار مفاہمت، 1988ء کی حکومت مفاہمت، 1993ء کی حکومت مفاہمت اور اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو خودساختہ جلاوطن ہوگئیں۔ اس دوران لوگ ایک بارپھر اسی موڑ پر پہنچے جہاں وہ ہر دس پندرہ سال کے سیاسی تجربے کی بنیا د پر پہنچتے ہیں۔
پہلے ایک تحریک نے جنم لیا، وکلاء تحریک۔ ایک شخص کی نوکری بحال کرنے کو لوگوں نے انقلاب تصورکرلیا۔ تحریک ختم ہوئی۔ نوکری بحال ہوگئی ۔ بیچ میں سے کیا نکلا، فریب، دھوکہ اور کچھ نہیں۔ اس دوران محترمہ بے نظیر شہید خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں، اپنی نئی کتاب کے ہمراہ، "Reconciliation"۔ مفاہمت کے ایجنڈے کے ہمراہ۔ اُن کے اِس مفاہمت کے ایجنڈے میں اُن کے حصے شہادت آئی اور اہل خانہ کے حصے میں حکومت۔ عوام اورپارٹی فارغ ۔ پاکستان کے عوام اِن وسوسوں اور سراب سے باہر نکلے تو عمران خان ایک مقبول لیڈر کے طورپر ابھرنے لگے۔ ’’نیا پاکستان‘‘ اُن کا نعرہ ۔ ایک نئی مڈل کلاس اُن کے اس کاروانِ سیاست میں ابھر کر سامنے آئی جس سے لگا کہ بس تبدیلی آئی کہ آئی۔ روایتی تاجر طبقے کے مقابلے میں شہروں کی پڑھی لکھی نئی مڈل کلاس۔ لیکن افسوس ایک ایسی جدوجہد جس کا سیاسی ایجنڈا اجتماعی یا انقلابی تبدیلی کی بجائے نواز شریف اوران کے خاندان کو صرف اقتدار سے باہر کرنے تک محدود ہے۔ ایک ایسی جدوجہد جو نظریاتی سیاست سے نابلدہے ۔ کیا یہ غیرشعوری طورپر ایسے ہے۔ یقیناً ایسا نہیں۔
اگر ایم آرڈی کی قیادت اپنی ہی چلائی ہوئی جمہوری تحریک کو انقلابی تحریک میں ڈھلتے دیکھ کر خوف زدہ ہوسکتی ہے تو عمران خان کی جماعت اوراُن کے رفقائے کار شعوری طورپر ایسا پاکستان بنانا یا دیکھنا نہیں چاہتے ہوں گے جو 95 فیصد کا پاکستان بن جائے۔ بس وہ اسی گاڑی کو ٹھیک ٹھاک کرکے چلانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اس نظام کو گرانے پر یقین رکھتے تو اُن کے پاس اس کا منشور ہوتا اورانقلابی قیادت۔ وہ نظام کی رفوگیری کرنا چاہتے ہیں بس۔ اس کے لیے کرپشن کا نعرہ کافی ہے۔ عمران خان کی پارٹی اور ان کے اتحادی، ذرا نظر تو دوڑائیں، کیا یہ قیادت پاکستان میں انقلاب کا ہراول دستہ ثابت ہوسکتی ہے؟