ستائیس اکتوبر کو ترکی میں یوم سیاہ

ترکی اور پاکستانی عوام کے رشتے لازوال، غیر محدود اور غیر مشروط ہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ان دونوں ممالک کے عوام کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں پرتا۔ ستائیس اکتوبر کو پاکستان اور پاکستان کے حامی کشمیری دنیا بھر میں بھارت کےخلاف یوم سیاہ منا کر دنیا کو بتاتے ہیں کہ کس طرح اس روز سن سنتالیس میں بھارت نے جموں کشمیر پر حملہ کرکے اس ریاست کو دو لخت کیا۔

بھارت خود یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے گیا اور پھر عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو کر جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دیا۔ اقوام متحدہ سامراجی قوتوں کی لونڈی بن گئی اور آج تک انہی کے اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ بھارت یہ بھی الزام لگاتا ہے کہ جموں کشمیر پر پہلے پاکستان نے 22 اکتوبر کوقبائلی حملہ آور بھیجے جس کی وجہ سے مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی تھی۔ اور اس فوجی مدد کو قانونی شکل دینے کے لیے بھارت نے مہاراجہ سے جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ عارضی الحاق کروایا تھا۔

ہر سال کی طرح پاکستان کی سرکاری پالیسی کے تحت اس سال بھی مختلف ممالک میں ستائیس اکتوبر کو یوم سیاہ منایا گیا۔ ترکی میں ایک ہی روز دو پروگرام منعقد ہوئے۔ پہلا پروگرام استنبول یونورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر خلیل طوقار نے کروایا اور دوسراترکی کے ایک تھنک ٹینک ساؤتھ ایشیا سٹرٹیجک ریسرچ سنٹر نے استنبول کے وسیع و عریض علاقے زیتنبرنو میں قائم فاتحی سلطان محمد یو نیورسٹی میں پاکستانی سفارت خانے اور عالمی اسلامی این جی اوز کی یونین کے تعاون سے منعقد کیا۔

دوسرے پروگرام میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود نے جموں کشمیر میں بھارت کے جاری ظلم و ستم کی داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح برہان وانی ایک نوجوان کی شہادت نے تحریک میں نئی روح پھونکی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ گزشتہ سال کے اجلاس میں بھی نواز شریف نے جموں کشمیر سے فوجی انخلا کی تجویز دی تھی لیکن اس پر کشمیری قیادت کسی قسم کی پیش رفت نہیں کروا سکی ۔

سفیر پاکستان اپنے سٹاف کے ہمراہ خصوصی طور پر انقرہ سے تشریف لائے تھے جبکہ استنبول میں قائم پاکستان قونصلیٹ کا تمام عملہ بھی موجود تھا۔ پاک ترک فرینڈ شپ کے صدر اور ترک رکن پارلیمنٹ جناب میمت بالتا نے اپنی طویل تقریر میں مسئلہ کشمیر کے پس منظر و پیش منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ عالمی اسلامی این جی اوز یونین کے سیکرٹری جنرل علی کرد اور پینل کے دوسرے اراکین صحافی و تجزیہ نگار مروی شبنم عروج، اسلان بالجی، پروفیسر سلام اغوت اور مصطفی اوزان نے بھی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔ سامعین کی اکثریت اعلی تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل تھی۔ انتظامی معاملات کی دیکھ بھال مذکورہ این جی اوز یونین کے نوجوان پاکستانی رہنما وقار بادشاہ کر رہے تھے۔ پاکستانی سفیر نے انگریزی میں جبکہ باقی تمام مقررین نے ترکی زبان میں تقریریں کیں۔

پروگرام میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے مطالبات تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اس مسئلہ پر کسی نے بات کی، نہ کوئی بات کرنے والا تھا کہ آیا کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد میں شگاف کیسے پڑے اور اب یہ اتحاد کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔ یکم جنوری سن انچاس کو پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ سر ظفر اﷲ کی درخواست پر منظور ہونے والی قرارداد نے مسلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو پاک ہند علاقائی جھگڑے میں تبدیل کرنے کا آغاز کیا تھا۔ پھر پاکستانی حکومتوں نے تاشقند اور شملہ معاہدے کر کے ہندوستان کے ہاتھ مزید مضبوط کر دئیے۔ انہی معاہدوں کی بنیاد پر ہندوستان کہتا ہے کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیر کو عالمی سطع پر نہیں اٹھا سکتا۔ پاکستان کے سابق سفارت کار اور موجودہ صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے بھی اب کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کرکے غلطی کی تھی۔ جبکہ بے شمار کشمیری یہ بھی کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتسستان کو الگ اورمحدود کرکے پاکستان نے باالواسطہ بھارت کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔

کوئی کشمیری پاکستان کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا لیکن پاکستانی حکمرانوں کو کشمیریوں کے اس جائز مطالبہ پر غور کرنا چاہئے کہ جب تک آزاد کشمیرحکومت کی کوئی عالمی حیثیت نہیں تب تک مسئلہ کشمیر کی کوئی حیثیت نہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی معتمد جناب کے ایچ خورشید مرحوم کو اسی مطالبہ کی بنیاد پر صدارت سے ہاتھ دھونے پڑے تھے کہ جب تک خود کشمیری اپنی نمائندگی نہیں کرتے تب تک ہر کوئی مسئلہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کا علاقائی جھگڑا تصور کرتے ہوئے نظر انداز ہی کرتا رہے گا۔ ہر سال محض زبانی اظہار یکجہتی سے کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم میں کمی نہیں آئے گی۔

فاتحی سلطان میمت یونیورسٹی میں ہونے والے پروگرم میں بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری موجود تھے لیکن کسی کو بھی محض اس لیے اظہار خیال کی دعوت نہیں دی گئی کہ جہاں کہیں کوئی پاکستانی نمائندہ بات کرے گا وہاں کسی کشمیری کے بولنے کی ضرورت نہیں۔ یہی وہ پالیسی ہے جس سے بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اسی طرح اسلامی حکومتیں جب تک ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے سامراجی منصوبوں کا حصہ بنی رہیں گی تب تک مسلمانوں کے درمیان اتحاد ایک خواب ہی رہے گا۔

اس وقت ترکی اور پاکستان سمیت کسی بھی مسلمان ملک کے اپنے پڑوسی اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ ان تعلقات کو ٹھیک کرنے کا آغاز کل کے بجائے آج ہی شروع ہو جانا چائیے ورنہ روائتی تقریروں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔