اردو: مغلیہ دربار سے سائبر بستیوں تک

ہماری مادری زبان اردو جسے شیریں زبان کہا جاتا ہے لیکن اس میں لچک اور گزرتے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے اور نئے رجحانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی شاندار صلاحیت بھی موجود ہے۔ حالات سے ہم آہنگی کرنے کی خاصیت نے اردو کو مناسب اور پرآشوب حالات میں بھی زندہ رکھا۔ مغلیہ دورحکومت میں جہاں اردو کو درباری شان وشوکت نصیب ہوئی وہیں ہندوستان پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد اس نے پرآشوب دوربھی دیکھا۔

مغل بادشاہ اکبر اعظم کے زمانے میں اردو کو سکوں پر اپنی حکمرانی کرنے کا اعزازحاصل ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام اور انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوستان کے طول و عرض میں اردو کے لئے حالات مشکل ہونے لگے۔1857 میں جب ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی تو اردو نے درباری عیش وعشرت کو خیرباد کہہ کر مجاہد آزادی کا لباس زیب تن کیا۔ تقریباً ایک صدی طویل ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے دوران اردو نے ’’انقلاب زندہ باد‘‘ ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسے نعرے اور نظموں کے ذریعہ ملک میں اپنے مقصد کے حصول کے لئے ماحول سازگار کیا۔ آزادی کے وقت جب عوام میں ایک نئے جوش اور جذبہ کی ضرورت تھی تو مولانا الطاف حسین حالی کے ’’مقدمہ شعرو شاعری‘‘ کی صدا پر اردو نے اپنی کروٹ گل وبلبل سے دوسری جانب بدلتے ہوئے اپنے دامن میں معاشرے کے دیگر مسائل کو سمونا شروع کیا۔

آزادی کی جنگ جب آخری مراحل میں داخل ہوئی تو اردو نے بھی جدیدیت اور مابعد جدیت کی چادریں اوڑھنی شروع کیں۔ ہندوستان سے باہر کی دنیا میں جب دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ جن کے درمیان دنیا کے سپر پاور کی کرسی پر قبضہ کے لئے رسہ کشی بڑھنے لگی اور ان ممالک کے شعبہ دفاع کی جانب سے مواصلاتی نظام میں عقل کو حیران کردینے والی ایجادات ہونے لگی تو اردو کو ہندستان میں قومی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ عالمی سطح پر خود کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان کے طور پر منوانے کا چیلنج پریشان کرنے لگا۔ 1947 ہندوستان کی آزادی اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد جہاں ہمارے ملک اور عالمی سطح پر زندگی نہ صرف معمول کی طرف گامزن تھی بلکہ مواصلاتی دنیا میں نئی نئی ایجادات نے ترقی کے نئے ابواب کا آغاز کریا تھا۔ 1975 میں جب دنیا پرسنل کمپیوٹر سے واقف ہوئی تو اردو کو اپنی بقا کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہوا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اس نے پھر ایک مرتبہ ثابت کردیاہے کہ گل وبلبل کے بعد اس نے جہاں خود کو معاشرتی زبان بنایا وہیں اب وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ (سائبر ٹیکنالوجی یا سائبر دنیا) کی زبان ہے۔

اردو آج سائبر دور میں اپنا نیا علاقہ آباد کرچکی ہے جو سائبر بستیاں کہلانے کا حقدار ہے۔ سائبر بستیاں آباد کرنے میں جہاں اردو کو ایک جانب ہندوستان اور پاکستان کے کئی مخلص افراد کا بے لوث تعاون حاصل رہا تو دوسری جانب تجارتی اغراض سے کئی عالمی تنظمیں اپنے مقاصد کے لئے ہماری مادری زبان کے قافلہ میں شامل ہوئیں۔ اردوآج اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کے علاوہ اس طرح کے عصری مواصلاتی آلات سے انٹرنیٹ پر اپنے وجود کا لوہا منواچکی ہے۔ اردو کی سائبر بستیوں کی سیر کا ارادہ کیاجائے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اسمارٹ فون سے لےکر سوشل میڈیا تک اردو موجود ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا بھر کے عوام کو آپسی رابطے کا آسان ذریعہ فراہم کردیا ہے وہیں اردونے خود کو سوشل میڈیا کی زبان بنالیا ہے۔

اردو سوشل میڈیا کی زبان: فیس بک آج ایک مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ ہے، جو 4 فروری 2004  کو متعارف ہوئی۔  مارک ذکربرگ اس کے بانیوں میں شمار کئے جاتے ہیں، جنہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے دوران اپنے کمرے کے ساتھی ایڈورڈو سیورین کے ساتھ اس ویب سائیٹ کو تیارکیا تھا جو ابتدا میں ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کےلئے فراہم کیا گیا تھا ۔ عوام کی اکثریت اسی تفصیلات سے واقف ہے لیکن فیس بک کے منظر عام پر آنے سے قبل اس کے درپردہ بھی ایک کہانی موجود ہے۔ کیونکہ فیس بک سے قبل 28 اکتوبر 2002  کو ’’فیس ماش‘‘ کے نام سے ایک ویب سائیٹ مارک ذکربرگ نے اپنی جماعت کے تین ساتھیوں اینڈریو میک کالم ، کرس ہاگس اور ڈسٹن موسکو وٹس کے ساتھ شروع کی تھی ۔ مارک ذکربرگ نے ’’فیس ماش‘‘ نامی ویب سائیٹ کےلئے سافٹ ویر تیار کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویب سائیٹ یونیورسٹی کے طلبہ میں مقبول ہوتی چلی گئی۔ لیکن 25 اکتوبر 2001  کو فیس ماش ڈاٹ کام 30,201 ڈالر میں فروخت کردیا گیا۔ جس کے بعد جنوری 2004  میں مارک ذکربرگ نے ’’دی فیس بک‘‘ نامی ویب سائیٹ کےلئے کوڈ تحریر کرنا شروع کیا ۔ مارک نے 4 فروری 2004  کو فیس بک کا پہلا ورژن متعارف کیا جو "the Facebook.com"  کہلایا۔

فیس بک کے بانیوں میں شامل ڈسٹنگ ماسکو وٹس جو کہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران مارک کے کمرہ کے ساتھی تھے، انہوں نے فیس بک کو متعارف کرنے کی ابتدائی کوششوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب مارک نے ویب سائیٹ مکمل کرلی تو اس کے متعلق اپنے چند دوستوں کو واقف کروایا جن میں سے ایک دوست نے کہا کہ اس ویب سائیٹ کو ’’کرک لینڈ ہاؤس‘‘ کی آن لائن میلنگ فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے، کیونکہ وہاں 300 افراد موجود ہیں۔ ڈسٹن نے مزید کہا کہ جب ہم نے اس مشورہ کو قبول کرتے ہوئے فیس بک کو کرک لینڈ ہاؤس کی آن لائن فہرست پر شامل کیا اور اس پر آنے والے آن لائن صارفین کی مصروفیات کا مشاہدہ کرنے لگے۔ رات گئے تھے ہم رجسٹریشن کی مصروفیات کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے 24 گھنٹوں کے اندر 1200 تا 1500 افراد نے اس پر رجسٹریشن کیا۔ فیس بک آج عوام میں انتہائی مقبول ترین سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ہے۔ اس کے اعداد و شمار میں سرفہرست 10 ممالک بھی قابل ذکر ہیں جہاں اس کے سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ امریکہ وہ علاقہ ہے جہاں فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 99 ملین ہے۔ اس فہرست میں ہندوستان 78 ملین صارفین کے ساتھ دوسرے مقام پر موجود ہے۔ برازیل ، انڈونیشیا ، میکسیکو ، برطانیہ ، ترکی ، فلپائن ، فرانس اور جرمنی بالترتیب تیسرے سے دسویں مقام پر موجود ہیں۔

مختلف ممالک میں عوام مختلف زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے فیس بک نے بھی ا پنی خدمات دنیا بھر کی زبانوں میں فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی اور مختلف ممالک سے آئی ٹی ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فیس بک نے انگلش کے علاوہ کئی زبانوں میں اپنی سہولیات فراہم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جوکہ ہنوز جاری ہے۔ فیس بک کی فہرست میں اس وقت 107 زبانیں موجود ہیں اور صارفین ان زبانوں میں فیس بک کی تمام ترسہولیات استعمال کرسکتے ہیں۔ مارک ذکربرگ نے جب مئی2008  میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا تو یہاں کے آئی ٹی ماہرین سے ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں فیس فک سہولیات کو فراہم کرنے پر کام شروع کیا ۔ فیس بک کی زبانوں کی فہرست میں ہندی کو 48 واں مقام حاصل ہے جبکہ زبانوں کی اس فہرست میں ہندوستان کی علاقائی زبانیں ہندی، پنجابی ، بنگالی ، تلگو ، تامل ، ملیالم اور اڑیا کے علاوہ اردو بھی شامل ہے ۔ سیدھے سے بائیں جانب لکھی جانے والی زبانوں میں اردو ، عربی ، پشتو ، پارسی اور عبرانی شامل ہیں۔

فیس بک پر اردو کی عمر صرف تین سال ہی ہے۔ دسمبر 2013 میں دنیا بھر کے اردو داں افراد کو یہ خوش خبری ملی کہ ان کے مقبول عام سماجی رابطے کے ویب سائیٹ فیس بک میں اردو کوشامل کردیا گیاہے۔ فیس بک کی ٹرانسلیشن ٹیم نے ہزاروں الفاظ کا درست اردو ترجمہ کرتے ہوئے فیس بک کو اردو کے قالب میں ڈھالا اور اس طرح جہاں 2014 کے آغاز کے موقع پر دنیا بھر کے فیس بک صارفین نئے سال کی نیک تمناؤں کا اظہار کررہے تھے تو اردو والوں کے لئے فیس بک میں ان کی اپنی مادری زبان نئے سال کا تحفہ ثابت ہوئی۔ صارفین کے روزانہ فیس بک پر ارسال کئے جانے والے پیغامات کے دیگر ممالک کے صارفین اور ان کی مادری زبان میں انہیں سمجھنے کے لئے ترجمہ کی سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے۔ فیس بک کے پیغامات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ فراہم کرنے کےلئے کمپنی نے ’’ملٹی لنگیول کمپوزر‘‘ متعارف کیا ہے۔

ٹویٹر پر اردو: ٹویٹر ایک مقبول عام سوشل نیٹ ورکنگ یا سوشیل بلاگ ہے جس کی بنیاد21 مارچ 2006  میں جیاک ڈارسے، ایون ولیمس ، بیز اسٹون اور نوہا گلاس نے ڈالی تھی۔  جس کے بعد 15 جولائی 2006  کو اسے متحرک کیا گیا۔ 2012  تک اس کے صارفین کی تعداد 100 ملین سے زائد ہوچکی تھی اور 2013  میں 1.6 بلین یومیہ سرچ درخواستیں بھیجی جاتی تھیں جبکہ مارچ 2016  میں جب اس کی 10 ویں سالگرہ کی دھوم تھی تو اس وقت ٹویٹر پر ماہانہ متحرک رہنے والے صارفین کی تعداد 310 ملین ریکارڈ کی گئی۔ سوشل نیٹ ورکنگ کی یہ مقبول عام ویب سائیٹ اپنے صارفین کو 140 حرفوں میں اپنا خیال یا بیان جاری کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس وقت ٹویٹر دنیا کی 48 زبانوں میں اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے جس میں بین الاقوامی انگریزی کے علاوہ عربی ، جرمن ، فارسی ، فرانسیسی ، عبرانی ، ہندی ، بنگالی اور اردو قابل ذکر ہیں۔ ہندوستانی زبانوں کا تذکرہ کریں تو ٹویٹر مراٹھی، ہندی، بنگالی، گجراتی، تمل اور کناڈا میں دستیاب ہے۔

ٹویٹر نے مختلف زبانوں کے ذریعہ اس ویب سائیٹ کو استعمال کرنے والے صارفین کےلئے یہ سہولت فراہم کی ہے کہ جب ایک صارف اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ فراہم کرتا  ہے تو اس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیٹنگ کی مناسبت سے اسے ٹویٹر کی خدمات اسی زبان میں دستیاب ہوتی ہے ۔ 2012 سے قبل ٹویٹر میں سیدھے سے بائیں جانب لکھی جانے والی زبانوں کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن جنوری 2012 میں باضابطہ طور پر سیدھے سے بائیں جانب لکھی جانے والی زبانوں کو شامل کرنے کے لئے ترجمہ کا کام سنجیدگی سے شروع ہوا۔  مارچ 2012 میں ٹویٹر نے اعلان کردیا کہ اس کی زبانوں کی فہرست میں مزید 4 زبانوں کو شامل کردیا گیاہے جن کا رسم الخط سیدھے سے بائیں جانب تحریر ہوتا ہے اور یہ زبانیں اردو، عربی، فارسی اور عبرانی ہیں۔

ویسے تو سوشل میڈیا میں فیس بک اور ٹویٹر کے علاوہ گوگل پلس، ویڈیو شیرنگ کی مقبول عام ویب سائیٹ ’’یو ٹیوب‘‘ اور اٹسٹاگرام بھی موجود ہیں اور ان پر بھی اردو نے اپنے وجود کے جھنڈے گاڑھ دئے ہیں۔ لیکن فیس بک پر جس آسانی اور طویل تحریوں کی سہولیات موجود ہے وہ سہولت ٹویٹر پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردوداں افراد کی ایک بڑی تعداد فیس بک کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ فیس بک پر اردو والوں کے لئے اپنے ذوق کی تسکین کے لئے صفحہ سازی(فیس بک پیجز) کے علاوہ طویل تحریریں بھی پوسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔

سائبر دنیا میں اردو نے نہ صرف اپنی نئی بستیاں آباد کرلیں ہیں بلکہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی اصطلاحات کو اپنے دامن میں ایسی جگہ دی ہے کہ وہ اردو کے ہی الفاظ بن گئے۔ یہ الفاظ اردو صحافت میں یوں استعمال ہونے لگے ہیں کہ  یہ گمان ہی نہیں ہوتا کے یہ الفاظ قدیم اردو کے لئے غیر مانوس تھے۔ بلکہ سائبر اصطلاحات کے اردو میں استعمال نے اسے زندگی کا حصہ بنادیاہے۔ اردو زبان و ادب میں سائبر اصطلاحات کے استعمالات نے اردو لغت میں داخلہ کی دستک دے دی ہے اور اب یہ ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی ہے کہ اردو لغت کو بھی اپ ڈیٹ کرنے یا طلبہ کو وہی لغت استعمال کرنے کا مشورہ دینا چاہئے جن میں قدیم اردو کے ساتھ سائبر اردو بھی موجود ہو۔