امن اور سلامتی کا دین
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- اتوار 30 / اکتوبر / 2016
- 7080
اسلام ایک آفاقی دین ہے اور عالم گیر مذہب ہے۔ اسے اللہ تبارک وتعالی کے پیارے پیغمبر رسول عربی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ لے کر آئے ۔ اور یہ دین پورے کرہ ارض کے انسانوں اور جنوں کے لیے ابد الآباد تک کے لیے ہے ۔ اس دین میں جامعیت اور کاملیت ہے اور ساتھ سا تھ لچک بھی ہے کہ یہ ہر طبقہ کے انسانوں کے لیے اور کرہ ارض کے ہر باسی کے لیے قابل عمل ہے ۔
قرآن کریم میں واضح طور پر ارشاد ہے ۔ ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَدِینِ الْحَقِّ لِیظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِےْدَا۔ اللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت کا پیغام دے کر بھیجا تاکہ ان کا لایا ہوا دین تمام ادیان پر غالب آجائے ۔ اور پھر اعلان کیا کہ یہ دین کونسا ہے ؟ فرمایا اِنَّ الدِّےْنْ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامَ بے شک دین اللہ تعالی کے نزدیک اسلام ہے۔ اور دین اسلام کے ماننے والوں کا نام مسلمان رکھا اور اعلان کیا ھو سمکم المسلمین ( سورہ حج آیت نمبر 78)۔ حضور اکرم ﷺ نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ارشاد فرمایا اَلْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسْلِمُ اور ہر مسلمان کی نشانی یہ بتلائی اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہِ وَ یدِہِ کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے سلامتی کا نشان بننے کے لیے ایک سبق دیا کہ جب بھی کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرے تو کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُمْ اور دوسرا مسلمان جواب میں فورا کہے وَعَلَیکُمُ السَّلَامُ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے بہت سے خطبات میں اس بات کی بار بار تلقین فرمائی کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں پوری وضاحت فرما دی کہ کسی بھی مسلمان کو کسی دوسرے مسلمان پر قومیت کی وجہ سے علاقائیت کی وجہ سے رنگ و نسل کی وجہ سے زبان کی وجہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ اور آپ کا یہ فرمان اللہ تبارک و تعالی کے فرمان عالی کی تشریح تھی ۔ ہر مسلمان کی آبرو ایک جیسی ہے۔ کسی مسلمان کی عزت مال جان کے نقصان کی کسی دوسرے کو کسی صورت میں اجازت نہیں ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جاہلیت کی تمام رسوم اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالی ہیں ۔ یہ اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ وعم نوالہ کے فرمان کی تشریح تھی جو سورہ حجرات کی آیت نمبر 113 میں ہے ۔ یااَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرِ وّْاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبَا وَّ قَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْاِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہِ عَلِیمُ خَبِیرَ اے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت (حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا ) سے پیدا کیا ہے ۔ تمہارے خاندان اور قبیلے صرف ایک پہچان کی خاطر ہیں۔ بےشک تم میں سب سے بڑا عزت والا شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ۔ بے شک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ۔
ان تمام فرمودات عالیہ سے واضح ہوتا ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔اور کسی بھی مسلمان کو جو عزت و عظمت حا صل ہے وہ صرف تقوی و پرہیزگاری ہے جو کہ قرب خدا وندی اور حضور اکرم ﷺ کا سبب ہے ۔ علاوہ ازیں کوئی بھی چیز کسی دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے۔ مختلف زبانیں جو مختلف ممالک میں اور مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں، ان کے متعلق بھی واضح طور پر کہہ دیا کہ ان زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہے ۔ سورہ روم کی آیت نمبر 22 میں ارشاد فرمایا وَ مِنْ آیاتِہِ خَلَقَ السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَ اَلْوَانِکُمَ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لِاَیاتِ لِّلْعٰلَمِینَ بے شک آسمانوں اور زمین کی خلقت میں اور زمین پر بولی جانے والی مختلف زبانوں میں اور انسانوں کے رنگوں میں جو فرق ہے یہ اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔ حضو راکرم ﷺ نے صرف عربی زبان کو دوسری زبانوں پر فضیلت بخشی ہے وہ بھی اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی باوجود کہ تمام زبانوں کے خالق ہیں لیکن وہ خود عربی زبان میں کلام فرما تے ہیں ۔ قرآن کریم اس کا کلام ہے جو عربی میں ہے ۔ فرشتوں کی زبان بھی عربی ہے ۔ اور جب سب لوگ جنت میں جائیں گے تو جنت کی زبان عربی ہوگی جو خود بخود سب کو آ جائے گی ۔
ان تمام وضاحتوں کی بنا پر ہی اللہ تبارک و تعالی نے حکم دیا وَاعْتَصِمُوْ بِحَبْلِ اللّٰٰہِ جَمِیعَا وَّلاَ تَفَرَّقُوْ اے ایمان والو تم سب کے سب متحد ہو کر اللہ تعالی کی رسی کو یعنی دین اسلام کو تھام لو اور آپس میں تفرقہ بازی مت کرو یعنی مذہب کے طور پر یاعلاقائیت کی بنا پر یا زبانوں کے اختلاف کی بنا پر یا رنگ و نسل کی بنا پر یا امارت اور غربت کی بنا پر یا کسی بھی اور وجہ سے آپس میں تفرقے مت ڈالو اور جدا جدا ٹولیوں میں تقسیم نہ ہونا بلکہ سب کے سب ایک ہی سچے نبی ﷺ کی ایک ہی امت بن کر زندگی گذارنا ۔
کتنے دکھ اور افسو س کی بات ہے کہ امت مسلمہ آج انہی تعصبات میں پڑ کر گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ کہیں علاقے کی شناخت کی بنا پر۔ا پٹھان، سندھی، بلوچی، پنجابی یا سرائیکی کہلوانا کوئی عیب نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی زبان بولنا جیسے عربی، فارسی، انگریزی، اردو، پنجابی، سرائیکی یا دنیا بھر کی کوئی بھی زبان بولنا کوئی عیب ہے ۔ کیونکہ یہ تمام خطے اللہ تبارک و تعالی نے ہی بنائے ہیں اور تمام زبانوں کا خالق بھی اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس کی حکمت کے راز ہیں کہ اس نے اپنی پوری زمین کو آباد رکھنے کے لیے یہ تقسیم فرمائی۔ مگر ان میں سے کوئی بھی چیز دوسرے پر باعث فضیلت نہیں ہے۔ جو شخص جس علاقے سے بھی تعلق رکھتا ہے یا جو بھی زبان بولتا ہے، وہ عزت والا ہے عظمت والا ہے ۔ اور ہر زبان بولنے والا اور ہر خطے میں رہنے والا دوسرے کا احترام کرنے کا از روئے دین وایمان پابند ہے ۔
آج کل افسوس کی بات یہ بھی ہے لوگوں کے ذہنوں میں لوکل مہاجر کی بھی ایک تفریق پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ بات کسی طرح بھی باعث فخر نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام جب مکہ مکرمہ میں تھے تو سب کے سب لوکل تھے جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو سب کے سب مہاجرین کی صف میں شامل ہو گئے ۔ مدینہ طیبہ کی آبادی انصار یعنی لوکل کہلائی ۔ اس بنا پر اللہ تعالی نے قراٰن کریم میں متعدد بار مہاجرین و انصار کا لفظ استعمال فرمایا اور سب کے لیے اپنے انعامات کا وعدہ فرمایا۔ دین اسلام کی ترقی میں مہاجرین و انصار کا حصہ برابر ہے ۔ آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کو آپس میں الفت و محبت سے اور ایک دوسرے کا مکمل احترام کرنے کا سبق دیا۔ اس بات کی تاکید کی اور زندگی مبارک کے آ خری لمحات تک یہ سبق دیتے رہے ۔ آپ نے تمام عصبیتوں کو بالکل برا جانا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک غزوہ سے واپسی پر فوج دوپہر کو ایک جگہ آرام کر رہی تھی۔ ایک کنویں سے پانی لینے کے لیے دو شخص گئے ان میں سے ایک شخص وہ تھا جو حجرت کر کے مدینہ طیبہ آ یا ہوا تھا اور ایک شخص مدینہ طیبہ کا ہی باشندہ تھا ۔ وہاں ان کا جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے اپنے اپنے رشتہ داروں کو آواز دی اور دہاں چند منافقین نے اسے لوکل مہاجر کا جھگڑا بنانے کی کو شش کی۔ حضور اکرم ﷺ جلدی سے وہاں پہنچے اور فرمایا کہ یہ کیا فضول باتیں میں سن رہا ہوں۔ میں نے جس جاہلیت کو اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالا تھا تم اسی کو دوبارہ زندہ کرنا چا ہتے ہو ۔ اور فرمایا چھوڑ دو ان باتوں کو یعنی لوکل مہاجر کے نعروں کو۔ تحقیق یہ گندی اور بدبو دار با تیں ہیں۔ آپ سب بھائی بھائی ہیں پھر آپ نے سب کی صلح کرا دی ۔
ان باتوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ میں جو اختلافی امور پائے جا رہے ہیں جس بنا پر قتل و غارت تک نوبت پہنچ رہی ہے، یہ سرا سر دین مذہب کے خلاف با تیں ہیں ۔ مسالک میں جو اختلاف ہے اگر علمی حد تک رہے، اختلاف مخالفت میں تبدیل نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان عالی ہے اختلاف امتی رحمۃ میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہوتا ہے تو اہل تحقیق کتب دینی پر زور دیتے ہیں اور کثرت سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس مسئلے کا علمی حل تلاش کیا جاتا ہے ۔ اس قسم کے علمی اختلافات اصحاب رسول اللہ ﷺ تابعین اور فقہائے عظام کے درمیان بھی رہے ہیں۔ لیکن باہمی عزت و عظمت میں کبھی کوئی فرق نہ آ یا اور نہ ہی ایک دوسرے کے مقام و مرتبے کو پہچاننے میں کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پوری امت کو ایسے اختلافات سے محفوظ رکھے جو باعث نزاع و مخالفت ہوں جس بنا پر جھگڑا فساد اور قتل و غارت کی نوبت پہنچے۔ آمین۔
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کے احکامات اور اس کے پیارے پیغمبر ﷺ کی تعلیمات میں امن کا نمایاں درس ملتا ہے ۔ تمام انبیاء کرام صلوۃ اللہ علیھم اجمعین امن کے ہی داعی رہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو کہ بہت بڑی ہستی ہیں، جد الانبیاء ہیں، اللہ تبارک و تعالی نے ان کے سات امتحانات لیے تھے۔ جن میں وہ پوری طرح کامیاب ہوئے ۔ جب انعامات خداوندی پانے کے لیے دعائیں کیں تو ان میں ایک اہم دعا یہ تھی وَاِذْقَالَ اِبْرَاھِیمُ رَبِّ الجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ آمِنَا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنَّ نَعَبُدَ الْاَصْنَامَ ( سورہ ابراھیم آیت نمبر 35) آپ نے مالک الملک سے مکہ مکرمہ میں امن و سلامتی کے لیے درخواست کی ۔ اور سا تھ ہی بتوں سے اپنی اولاد کے بچنے کے لیے درخواست کی۔ اس لیے کہ توحید وحدانیت کا درس دیتی ہے ۔ اور بت برستی اختلاف افتراق کی واضح علامت ہے ۔ انہی کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام جب مصر میں اپنے لخت جگر سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ یہ دو دور تھا جب کہ پوری دنیا میں قحط تھا اور ان حالات میں جو نتائج نکلتے ہیں یعنی چوریاں ڈکیتیاں قتل و غارت فتنہ دفساد برپا ہوتا ہے، وہ بھی سب جانتے ہیں۔ ان دنوں میں مصر میں غلے کی فراوانی تھی ۔ جب والد محترم مصر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا وَقَالَ الدْخُلُوْ مِصْرَ اِنْشَاءَ اللّٰہُ آمِنِینَ ۔ آئیے اس شہر مصر میں تشریف لائیے جو کہ بڑا امن والا ہے ۔ اندازہ لگائیں کہ کھانے پینے کی جو فراوانی وہاں حاصل تھی، ان کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ امن کو ترجیع دی ۔
حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے کہ آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں بیت اللہ شریف اسی طرز پر بناؤں جیسے میرے داد ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا ۔ اس کی سطح زمین کے برابر تھی حطیم شامل تھا دروازے دو تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کے لئے اس میں رکاوٹ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ بد امنی نہ ہو جائے۔ میری قوم قریش یہ نہ کہے کہ ان کا بنایا ہوا بیت اللہ شریف شہید کر دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اتنا بڑا عمل صرف امن کی خاطر چھوڑ دیا۔ آ ج تمام فرقے غو ر کریں کہ ان کے درمیا ن میں جتنے اختلافات ہیں وہ زیادہ تر فروعات پر ہیں۔ اصول دین پر نہیں۔ اگر ہم سب فروعات کو اتنی اہمیت نہ دیں جتنی دی جا رہی ہے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو اتفاق و اتحاد سے رکھے۔