تو بھی ابھی ناتمام.....

کیا ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہم نے کس عزم سے پاکستان کی صبح نو کا خیرمقدم کیا تھا؟ آنے والے دنوں کے لئے کیا کیا خواب دیکھے تھے غیر و اغیار کی صدیوں کی غلامی کا جؤا بالآخر اتار پھینکا تھا اور عزم عالی شان کو جھک کر سلام کیا تھا۔ اُس وقت اس ملک کے بچے بچے کے دل میں نئی امنگیں، نئے ولولے کروٹیں لے رہے تھے۔ کیا آج ہم بھول رہے ہیں کہ ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں اور پاکستان اپنی ہمہ تن مہربانیوں، شفقتوں کے ساتھ ہمارا ہے۔ نہ جانے ہم آج کے دور کو دانستہ یا نادانستہ گردانتے ہیں:

زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی تھی
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احسان جانا

آج جب ہم ہر صبح آنکھ کھولتے ہیں تو چاروں طرف ہمیں افسردہ نظر آتا ہے۔ کم مائیگی نظر آتی ہے۔ احساس کمتری نظر آتا ہے۔ ہم اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں... یہ کیوں... آخر کیوں؟

پانامہ لیکس کے بعد ہمارے حالات تیزی سے انحطاط پذیر ہو رہے ہیں۔ وہ یقین اب جاتا رہا ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے کابینہ کے بھرے اجلاس میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ وہ قانون کی بالادستی کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا دامن داغدار نہیں ہم کسی بھی احتساب کے لئے تیار ہیں۔ قوم نے ان کے الفاظ کا خیرمقدم کیا۔ ہم نے بطور پاکستانی ان الفاظ کو اہل دل کی دھڑکنوں میں جگہ دی اور فخر سے سربلند کیا۔ ہم نے اپنے آپ کو آئس لینڈ سے بالاتر سمجھا۔ ہم نے انگلینڈ کے وزیراعظم کے احتساب کو چشم آفرین سے دیکھا اور سوچا کہ ہم بھی ان کے ہم پلہ ہیں، صا ف گوہیں، صاف کردار ہیں اور صاف دل ہیں۔ ہمارا دامن داغدار نہیں۔ لیکن ہماری ساری برتری اور خوش آئندگی دھیرے دھیرے مایوسیوں کی سیاہ رات میں ڈوبتی گئی اور آج ہماری شاہراہیں پابند سلاسل ہیں۔ آج ہمارے شہر محصور ہیں۔ آج ہم نعمت خداوندی جسے جمہوریت کہتے ہیں اس کے نقاب کے نیچے چھپے وہ منظر دیکھ رہے ہیں جن کو دیکھ کر نظر اپنے آپ پر نایقینی کا گمان کر رہی ہے:

میں خون دیکھ کے آیا ہوں شاہراہوں پر
مجھے یقین دلاؤ بہار آئی ہے

ہمارے وزیر خارجہ مدت سے عنقا ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اندرونی اور بیرونی معاملات میں یکسوئی رہے یا ان کی پالیسیوں میں یکسانیت مقصود ہو اور شاید اسی وجہ نے قوم ہچکچاہٹ کے ساتھ منظور کر رکھا ہے۔
ادھر ہمارے وزیر داخلہ  وزیراعظم کے ساتھ کھٹے میٹھے رویہ کا شکار ہیں۔ اور اچانک بلکہ بہت ہی اچانک وزیراعظم نے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو مستعفی ہونے کا حکلم دیا ہے، جس کی وجہ ایک اخبار کی خبر تھی جو ملکی اور غیر ملکی اخبارات کی زینت بنی۔ جس کی اشاعت پرویز رشید کی کوتاہی گردانی گئی:
بے نیازی سے، مدارات سے ڈر لگتا ہے
جانے کیا جاتا ہے ہر بات سے ڈرتا ہے

نہ جانے یہ ہمارے میڈیا کی چشم پوشی ہے یا رواداری ہے کہ کھل کر بات نہیں کی۔ لیکن پرویز رشید کی علیحدگی کی اخبارات اور ٹی وی پر خوب تشہیر ہوئی۔

بالآخر کسی نے کہہ ہی دیا کہ پرویز رشید کی برطرفی افواج پاکستان کا منشا تھا اور وزیراعظم نے حکم نامہ جاری کر دیا۔ اب بات ضرور آگے بڑھے گی کیونکہ افواج پاکستان اس تفتیش investigation کا اہم حصہ ہوں گی۔

یہ اقدام ایک بے حد نازک موقع پر وجود میں آیا۔ اس وقت وزیراعظم نے پانامہ لیکس کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کابینہ کی تقریر کے بعد وزیراعظم کیوں اور کس کے اشارے پر اتنی مدت انتظار کرتے رہے؟ بالآخر عدالت عظمی نے انہیں بطور ملزم عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ ادھر عمران خان اور تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دو نومبر کو دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اور لاکھوں پاکستانیوں کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے رکھی ہے۔ قافلے روانہ ہو رہے ہیں۔ حکومت بوکھلاہٹ میں چھوٹے پیمانے پر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کر رہی ہے۔ ہماری شاہراہیں بند کر رکھی ہں۔ دفعہ 144 کا اعلان ہو چکا ہے ۔ پولیس کی بھاری نفری کو جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی روانہ ہونے کا حکم نامے مل چکے ہیں۔

حزب اختلاف کے سربراہین کو بڑی حد تک گھروں میں نظربند کیا ہوا ہے اور ان کی ملاقاتوں پر غیر قانونی طور پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے اسلام آباد آنے پر زیر زمین لاوا ابل پڑا ہے۔ سخت اقدامات ہونے کا گمان ہے۔ ان غیر مصدقہ اطلاعات نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو برافروختہ کر رکھا ہے اور وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے پر اتر آئے ہیں جو کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو زیب نہیں دیتے۔
پاکستان کے ہر شہری کے پیش نظر سوالات کا ایک کارواں رواں دواں نظر آ رہا ہے:

* کیا نواز شریف عدالت  کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر اعتراف کریں گے یا پاکی داماں کی حقیقت بیان کریں گے۔

* کیا دو نومبر سے قبل یا دو نومبر کو عمران خان اور تحریک انصاف کے سربراہان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

* کیا جنرل راحیل شریف کی جگہ دوسرے کمانڈر ان چیف کی تعیناتی کا اعلان چند ہی دن میں آ جائے گا۔

* کیا وزیر اطلاعات پرویز رشید کو قلمدان وزارت دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

* کیا وزیر دفاع واپس لوٹ آئیں گے۔

* کیا وزیراعظم اور ان کی فیملی دو نومبر سے قبل پاکستان چھوڑ جائیں گے۔

اندھیرے گہرے ہوتے جا رہے ہیں:

اگر گھنا ہو اندھیرا، اگر ہو دور سویرا
تو یہ اصول ہے میرا، کہ دل کے دیپ جلاؤ