بھوک اور بھوکوں میں خطرناک اضافہ
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 01 / نومبر / 2016
- 6463
گزشتہ دنوں اٹلی کے دارالحکومت روم میں اقوام متحدہ کی عالمی خوراک کانفرنس نے ’’اعلان خوراک‘‘ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2020 تک دنیا بھر میں بھوکوں کی تعداد میں پچاس فیصد تک کمی کر دی جائے گی۔ دنیا کے ایک ارب افراد کو بھوک سے بچانے کیلئے موثر پروگرام ترتیب دیا جائے گا، خوراک کی پیداوار میں اضافے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی اور دنیا بھر میں کسانوں کو اناج کی کاشت کےلئے ترغیبات دی جائیں گی۔ اس موقع پر ممبر ملکوں اور عالمی اداروں کی جانب سے عالمی خوراک پروگرام کو کامیاب بنانے کےلئے ساڑھے چھ ارب ڈالر کے فنڈز کی فراہمی کے وعدے کئے گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے اپنے بیت المال سے ڈیڑھ ارب، ورلڈ بینک نے اپنے خزانے سے ایک ارب بیس کروڑ اور افریقی ترقیاتی بینک نے اپنے جھولے سے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی وزیرخوراک اور ای یو کے سیکریٹری نے اس موقع پر کہا ہے کہ امریکہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کےلئے اپنا ’’کردار‘‘ ادا کرنے کو تیار ہے۔
دنیا کی 6.6 بلین (ارب) آبادی کا 12 فیصد حصہ قحط سالی کا شکار ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مختلف ممالک کی حکومتوں کو متبادل ایندھن کی جانب توجہ مبذول کرنی پڑ رہی ہے جس کے نتیجہ میں بائیو فیول پودوں کی پیداوار میں اضافہ کر دیاگیا ہے۔ اور غذائی اجناس کیلئے زمین کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بائیو فیول پودوں کی پیداوار کے نتیجہ میں غذائی اجناس مثلاً گیہوں، سویا بین، چاول، مکئی اور پام آئل کی پیداوار میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دنیا آج معاشی و قحط سالی کے بحران کا شکار ہے، مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ، ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا کی قلت، قدرتی وسائل کاغیر ضروری استعمال، اشیا کی قیمت کے تعین پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری، فصلوں کی پیداوار میں گراوٹ جیسے امراض نے پوری معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسی لئے پوری انسانیت مسائل اور پریشانیوں میں مبتلا ہو چکی ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے اور عالمی خوراک و معاشی بحران کے خاتمہ کیلئے سوشلسٹ نظام معیشت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ آج دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام پر مشتمل صدیوں پرانا نظام معیشت زمین دوز ہو رہا ہے اور ایک ایسے نظام معیشت کا طلبگار ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو لغت سے نکال کر تمام لوگوں کو معاشی ترقی کے یکساں مواقع فراہم کر سکے۔ آج دنیا میں 33 ممالک ایسے ہیں جہاں لوگوں کو غذا نہ ملنے کی وجہ سے فسادات ہو رہے ہیں۔ ان میں پاکستان بھی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم و بیش نصف پاکستانی مہنگائی میں اضافہ کے باعث خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ بھوک و افلاس کا شکار افراد کی تعداد میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال یہ تعددا 6 کروڑ کے لگ بھگ تھی جو آج بڑھ کر 7 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ غریب آدمی کی قوت خرید تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں30 ملین ٹن آٹا (سالانہ) استعمال ہوتا ہے جو اب نایاب یا کمیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک سرزمین کے 35 اضلاع کے باشندے غذائی قحط سالی کا شکار ہیں۔ یہ گھمبیر صورت حال صرف پاکستان ہی میں نہیں پائی جاتی۔ آسٹریلیا جو گیہوں برآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست تھا اسے بھی 60 سالہ تاریخ کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔ وہاں 2012 میں 22.5 ملین ٹن گیہوں کے مقابلے میں 2013 کے دوران 15.5 ملین ٹن گیہوں پیدا ہوئی۔ امریکہ کو بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ ترکی میں تو گزشتہ سال 15.5 ملین ٹن گیہوں کے مقابلے میں صرف 5 لاکھ ٹن پیداوار ہوئی، یہاں تک کہ کینیڈا، فرانس، برازیل، چین، بھارت، جرمنی اور ارجنٹینا سمیت گندم اور گیہوں اگانے والے تمام ممالک اس خشک سالی و قحط سالی کا شکار ہوئے۔
یہاں میں ملک عزیز کا مقابلہ بھارت سے کرنا چاہوں گا۔ تقسیم ملک کے بعد زرخیز پنجاب ہمارے حصے میں آیا اور بھارت کو بنجر، ناہموار اور غیر زرخیز پنجاب ملا لیکن ہوا یہ کہ بھارتی پنجاب میں 33 لاکھ ایک ہزار ایکڑ رقبہ پر گیہوں کاشت کی جاتی ہے جبکہ مملکت خداداد کے کسان 59 لاکھ 34 ہزار ایکڑ کے رقبہ پر بوائی کرتے ہیں۔ لیکن ہم سے کم رقبہ پر کاشتکاری کے باوجود ’’دشمن ملک‘‘ میں زیادہ اناج پیدا ہوتا ہے۔ بھارتی کسان ایک ایکڑ سے قریباً 5 ہزار کلوگرام گیہوں حاصل کرتا ہے جبکہ پاکستانی کاشتکار قسمت کا دھنی ہو تو پھر بھی پیداوار 2400 کلوگرام فی ایکڑ سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ ہمارے پنجاب کے 2 لاکھ پانچ ہزار 349 مربع کلومیٹر رقبے میں سے ایک کروڑ 11 لاکھ 40 ہزار 368 کلومیٹر رقبے میں سے صرف 42 لاکھ 66 ہزار ایکڑ زمین پر فصل اگائی جا سکتی ہے۔
یہاں میں آسٹریلیا، برازیل، امریکہ، کینیڈا کی بات نہیں کر رہا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کم زرعی رقبہ رکھنے کے باوجود ہم سے زیادہ پیداوار کرنے کا اہل ہے، ہم سے زیادہ فصل حاصل کرتا ہے؟ آخر کچھ تو وجہ ہوگی۔ ان دونوں پنجاب کی آب و ہوا، رہن، سہن، رسم و رواج اور محنت مشقت ایک ہے تو نتائج کیوں ایک سے نہیں آتے؟ کیا ان دونوں پنجابوں کی زمینیں زرخیزی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟ پھر بھارتی پنجاب ہم سے آگے کیوں ہے؟
یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے جو ہم اگلے کالم کےلئے اٹھا رکھتے ہیں۔
چلتے چلتے ایک خبر سن لیجئے۔ سندھ کا کل زرعی رقبہ 11 لاکھ ایکڑ کے قریب ہے جس میں سے قریباً 8 لاکھ ایکڑ سے زائد پانچ بڑے خاندانوں کی ملکیت اور جاگیر ہے۔ ان پنج پیروں میں مخدوم طالب المولی، جتوئی، بھٹو، تالپور اور پیر آف رانی پور شامل ہیں:
بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا
مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے