دھرنے، فرلانگ مارچ اور مسخرے رہبر
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 01 / نومبر / 2016
- 9153
2نومبر کو پاکستان تحریک انصاف، اسلام آباد میں وزیراعظم کو استعفیٰ پر مجبورکرنے کے لیے دھرنے کا اعلان کرچکی ہے جس میں پی ٹی آئی کے رہبر عمران خان دس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد میں اکٹھا ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس دھرنے سے قبل ہی اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے حمایتی اکٹھا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
حکومت نے ان مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائی کا آغازکردیا ہے۔ گرفتاریاں اورپولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے راستے کنٹینر رکھ کر بند کردئیے گئے ہیں۔ صوبہ خیبرپختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی صوبے سے اپنے حمایتیوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے۔ وفاقی حکومت نے اُن کو روکنے کے لیے صوبہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کو ملانے والے پُل اٹک پررکاوٹیں لگانے کا آغازکردیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی نے 2نومبر کو اسلام آباد میں خون خرابے کے منصوبہ بندی کر رکھی ہے، جب کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ وہ سراسر پراُمن احتجاج کرے گی۔ دونوں طرف سے دعوے اور بیانات اپنے دفاع اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لیے جاری ہورہے ہیں۔ اس دوران شیخ رشید نے اپنے ذاتی ملازمین کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوارہوکر دفع 144کوتوڑتے ہوئے سڑک پر آکر مختصر خطاب کیا۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جو کنویں میں سیلاب برپاکرنے کے خواب دیکھتا ہے، اس کے لیے یہ کسی انقلابی کارروائی سے کم نہیں۔ جبکہ شیخ صاحب کا یہ ’’اندازِ انقلاب‘‘ کسی مسخرے کی کارروائی سے ذیادہ نہیں تھا۔ کیاا نقلاب، انقلابی جدوجہد اور اندازِ انقلاب ایسا ہی ہوتا ہے؟ اسی سے ہمارے ’’افلاطونی میڈیا‘‘ کی عقل ومطالعے کی معراج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اوریہ بھی کہ انقلاب کسی ایک شہر خصوصاً دارالحکومت میں اکٹھے ہوکر برپا کیا جاتا ہے، بھی ایک اہم سوال ہے۔
جلسے جلوس، عوامی تحریک اور دیگر سیاسی احتجاج اورمظاہرے دنیابھر میں ایک جیسی ہی تشریحات رکھتے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد سابق سوویت ریاستوں ، جارحیا، یوکرائن اور دیگر ممالک میں ٹیولپ انقلاب، پنک انقلاب سمیت مختلف اصطلاحیں اور انقلابات کی شکلیں دیکھنے کو ملی ہیں، جس میں امریکی سی آئی اے اور اُن کے ڈونر جارج سورس وغیرہ نے سرمائے کے زوراورمنصوبہ بندیوں سے مختلف دارالحکومتوں میں لوگوں کو اکٹھا کرکے حکومتوں کو گرنے پر مجبور کیا۔ یعنی ایک ہی شہر خصوصاً دارالحکومت میں اکٹھاہونے کی یہ ترکیب امریکی سی آئی اے کی پرانی منصوبہ بندی کا ایک طے شدہ ہتھیار ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اپوزیشن، نظامِ مصطفی کے نام پر تحریک چلارہی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو باربار اسے ایک غیرملکی سازش قراردے رہے تھے۔ اور اس پر غیرملکی فنڈز لینے کا الزام بھی لگارہے تھے تو اسی دوران پی این اے کی ایک اہم رکن جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ (اسلامی جمعیت طلبہ) نے پہیہ جام اور لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پر اپنا ردِعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا، Wheel Jam کی یہ اصطلاح مقامی اورپاکستانی نہیں، بلکہ یہ اصطلاح اورحکمتِ علمی اس سے پہلے بھی استعمال میں اور بروئے کار لائی گئی۔
لاطینی امریکہ کے اہم ملک چلی میں جب ایلاندے کو امریکی سی آئی اے نے ایک منصوبہ بند انقلاب "Planned Revolution" کے ذریعے ہٹاناچاہا تو انہوں نے یہی حکمتِ عملی اپنائی، جس میں ایک عالمی مشروب کی ایک کمپنی کے فنڈز سے اس تحریک کی سرپرستی کی گئی۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے اس حکمتِ عملی کا جواب دینے کے لیے بیان یا پریس کانفرنس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ ایک کھلی جیپ میں بیٹھ کر راولپنڈی کے راجہ بازار آ گئے۔ اور وہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سائرس وانس کا وہ خط لہرایا جس میں بھٹو حکومت کو معاملات طے کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ پی این اے کی تحریک یقیناً ملک کے شہروں اور قصبات میں پھیل گئی لیکن وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو گرانے میں ناکام ہوئی۔ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے جب نتیجے پر پہنچے تو پھر سے فوج آگئی۔ درحقیقت یہی ڈیزائن تھا اس تحریک کا اور ڈرامے کا ڈراپ سین بھی۔
عمران خان ملک بھر کے شہروں اور قصبات میں بیک وقت تحریک برپاکرنے کی طاقت حاصل نہیں کرپائے۔ اسی لیے وہ دارالحکومت میں ہی اپنی مکمل طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ بیس کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ دس لاکھ لوگوں کے احتجاج کے ذریعے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 2نومبر کو اس دھرنے میں کوئی لمبا سفرنہیں کرنا۔ وہ اسلام آباد کی بلندیوں پر واقع اپنی سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی رہائش گاہ میں قیام پذیر ہیں۔ اس سے وہ ملک بھر سے آئے اپنے حمایتیوں سے سینہ چاک آملیں گے۔ کتنا آسان اور پُرآسائش راستہ ہے انقلاب کا۔ ماؤزے تنگ، لینن اوراتاترک کی روحیں مسرت سے دیکھیں گی اس انقلاب کے بانی کو کہ انہوں نے انقلاب کے لیے گھربارہی نہیں لٹائے بلکہ ہزاروں میل سفر کیے۔ اُن کی روحیں اس پاکستانی انقلاب، انقلاب کے بانی کی رہائش گاہ اورجدوجہد کو دیکھ کر رشک کریں گی۔ کاش اُن کو ایسی آسائشیں میسرہوتیں، ایسے وسائل میسر ہوتے اور افسوس ایسے لوگ میسر نہیں ہوئے۔
مگر نہیں، اُن کے پاس وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی قوموں کا مقدر بدل دیا، ایسے سیاسی نظریے تھے جنہوں نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا، ایسی دلیر اور مشکلات کا سامنا کرنے والی قیادت تھی جس نے طاقت وروں کو شکست دی۔ ذرا تصورکریں، عمران خان و شیخ رشید بمقابلہ ، ماؤزے تنگ ، لینن، اتاترک۔ ذرا تصور کریں ماؤزے تنگ کا دس ہزار میل طویل لانگ مارچ اور اتاترک کا تین دن مسلسل گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر سمسون سے اپنی افواج اور کسانوں کی قیادت کرتے ازمیر پہنچنا جہاں یونانیوں نے شہر پرقبضہ کرکے اسے راکھ کردیا تھا اور ترک عوام کا قتل عام کیا۔ اور اس کے مقابلے میں شیخ رشید صاحب کی اپنے چار ملازمین کے ہمراہ دوفرلانگ موٹرسائیکل سواری، پھولے سانسوں کے ساتھ احتجاج، کوئی مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟ مسخرہ پن ہے، اس کے سوا کچھ نہیں اور ہماراا لیکٹرانک میڈیا اُن مسخروں کو جس طرح ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ کروڑوں لوگوں کے ذہنوں کو کمزوراورقابو کرنے کے لیے، بس!
عمران خان اور شیخ رشید کے پاس کس انقلاب کا نظریہ ہے، صرف یہ کہ ایک وزیراعظم مستعفی ہوجائے۔ ٹھیک ہے آپ کا حق ہے احتجاج کرنا اور استعفیٰ مانگنا بھی۔ لیکن اسے انقلاب اور تبدیلی نے تعبیر نہ کریں۔ اور یہ جو کہاجارہا ہے کرپشن ختم پاکستان سے ۔ کیا دھوکہ ہے کروڑوں لوگوں سے۔ یقیناً کرپشن ختم ہونی چاہیے۔ لیکن ذرا مجھے سمجھائیں کہ کرپشن کیسے ختم ہوگی اگر بنیادی نظام نہ بدلا جائے اور آپ تجربہ کر دیکھیں جوبھی اس نظام کے ذریعے حکمرانی کرے گا، وہ کرپشن ہی کرے گا۔ جب سارا سماج ناانصافی پر کھڑاہو، جہاں طاقت ورکا حق استحصال کرنا اورکمزور کا استحصال زدہ ہونا روایت بنادی جائے، جہاں پیداوارکرنے والامحکوم اور غیر پیداواری Non-Productery طبقہ حکمران ہوجائے، وہاں آپ چند سولوگوں کی حکمرانی بدل کر کس طرح کرپشن اور استحصال ختم کرسکتے ہیں۔
افسوس ابھی سفر بہت طویل ہے۔ انقلاب یا تبدیلی تب برپاہوگی ، جب کرپشن کے ساتھ ساتھ استحصال کے خلاف تحریک برپاہوگی، جس میں حکمرانوں اور حکمران طبقات کی کرپشن ازخود مٹ جائے گی۔ کوئی تو ہو جو اس تبدیلی کا بانی بنے۔ ایسے احتجاج کی قیادت کرے جو پیداواری طبقات کو بغاوت پر آمادہ کرے۔ تب معلوم ہوگا کہ یہ دھرنے اورنام نہاد فرلانگ مارچ حکمران طبقات کے مزاحیہ ڈراموں کے سواکچھ نہیں۔ پنڈی کی تین گلیوں میں موٹرسائیکل کی پچھلی سیٹ پر حواس باختہ، پھولے سانسوں والے، جن کو آج ایک انقلابی اور حیران کر دینے والے لیڈر کے طورپر پیش کیا جاتا ہے، کامیڈین نظر آئیں گے۔