عمران خان کا دھرنا

پاکستان کی سیاست کے ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔ سیاسی مداریوں کا میلہ پھر سے سجنے لگا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 2نومبر کو پورا اسلام آباد بند کرنے والے ہیں جبکہ حکومت نے اس کو موجودہ جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قانونی طور پر سخت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ یہ وزیر داخلہ چودھری نثار کا بھی کڑا امتحان ہے۔

دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس دھرنے کو کنٹرول کرنے کےلئے حکومت کو 40کروڑ کا بل پیش کردیا ہے۔  حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ جب پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں جاچکا ہے تو دھرنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے  30 اکتوبر تک پانامہ لیکس کے معاملہ پر وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق اور دیگر وزراء سمیت کو قانونی نوٹس جاری کئے تھے۔ جبکہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی اتھارٹی نہیں ہے اور ہمارا احتجاج حکومت اور ان اداروں کے خلاف ہے جو پانامہ لیکس کے معاملہ کو دبا رہی ہیں۔ اس میں حکومتی ادارے بُری طرح کرپشن میں مبتلا ہیں جس سے ملک کی معاشی حالت ابتر ہو رہی ہے۔

حکومت کے وزرا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس دھرنے کےلئے عمران خان نے کالعدم تنظیموں سے رابطہ اور مدد لی ہے اور مولانا سمیع الحق کے مدرسہ اکوڑہ خٹک جس میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں، وہ ان کو اس دھرنے کےلئے استعمال کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبہ سرحد نے اس مدرسہ کو 30کروڑ کی امداد  دی تھی۔ اسی طرح لال مسجد اسلام آباد کے لوگ بھی اس میں شامل ہوں گے جس کی وجہ سے بڑی تصادم  کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پچھلے دھرنے کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس دھرنے کا فائدہ مذہبی جماعتیں اُٹھاتی ہیں۔ خاص کر فضل الرحمن مذہبی لیڈر جوڑ توڑ کے ماہر انہوں نے اپنی بڑی قیمت لگائی تھی۔  اب بھی وہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کا رویہ اس ضمن میں محتاط ہے۔ وہ دھرنے اور کرپشن کے احتسابی عمل میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔ بات واضح ہے ان کے دور میں بے انتہا کرپشن ہوئی اور ان کے کئی وزرا کے نام پانامہ لیکس میں ہیں اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات ہیں۔ لہٰذا وہ اس معاملہ میں کسی پارٹی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ ویسے بھی وہ میثاق جمہوریت پر دستخط کرچکے ہیں۔ البتہ ان کی پارٹی کے لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاست کرنا نہیں آتی اور نواز شریف کو حکومت کرنا نہیں آتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دھرنے کی ٹائمنگ درست ہے کہ نہیں۔ عوامی لیگ کے سربراہ مولانا طاہر القادری لاہور سے تحریک قصاص شروع کرکے واپس کینیڈا چلے گئے۔

گزشتہ دھرنے اسلام آباد میں ایمپلائر کی انگلی نہ اُٹھنے کی وجہ عمران خان مطلوبہ افراد کو اکٹھا نہ کرسکے تھے۔ اب دیکھنا ہے کہ ایمپائر کا کیا فیصلہ ہوگا۔ ویسے بھی نومبر کا مہینہ ملکی تاریخ میں بڑا امتحان اور کٹھن ہوگا۔ اس ماہ بڑے بڑے اہم فیصلے ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتے۔ البتہ فوج میں بڑی سطح پر ردوبدل کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ آرمی چیف اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی تعیناتی کےلئے سپریم کورٹ میں رائج طریقہ کار کو اپنایا جائے۔ یاد رہے ہیں جب جنرل راحیل شریف کو چیف آف آرمی مقرر کیا تھا ان سے پہلے سینئر جنرل تھے۔ اس طرح سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آؤٹ آف ٹرن بنا دیا گیا تھا۔ اُمید ہے کہ اب اس بار وزیر اعظم اپنی یہ روایت نہ دہرائیں ؟ راحیل شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل راشد محمود اس ماہ ریٹائر ہورہے ہیں۔