عمران خان کو گالی مت دیجئے

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور سے پی ٹی آئی پنجاب کے سابقہ صدر اعجاز چودھری محض 25 لوگوں کے ساتھ پیدل نکلتے ہیں اور کم و بیش 300 کلو میٹر چلنے کے بعد 5 سے بھی کم لوگوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ اعجاز چودھری سمیت جی ٹی روڈ کی تمام لیڈرشپ کو فی الفورفارغ کر دینا چاہئے۔ سیلفی گروپ ہے سارا۔۔۔ عمران خان اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ساری لیڈر شپ ان کے گھر بیٹھی ٹویٹس کرتی رہی اور ورکر اپنے لیڈروں کی راہ تکتے رہے۔۔۔ بقول ایک کارکن کے، زیادہ تر مقامی لیڈرشپ کو الٹا لٹکا دینا چاہئے۔

ہم نے اسلام آبا د کے موجودہ صدر نعیم صاحب اور اسد عمر صاحب سے بارہا پوچھا کہ بتائیے کیا مدد کریں آپ کی؟ جواب تھا آپ 2 نومبر کا انتظار کریں۔۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ ہماری ٹیم نے 23 فروری 2016 کو اسلام آباد کے سیکٹر ای 11کے کئی سو لوگوں کے ساتھ تن تنہا، بغیر کسی بھی سیاسی یا مذہبی نعرے کے، ایک لوکل اشو پر کامیاب احتجاج کیا تھا۔ لیکن کوئی کیاکہے ان کو۔

آپ کی بغلوں سے معصوم ورکرز گرفتار ہوتے رہیں اور آپ استقامت سے ہاتھ باندھے کھڑے رہیں کہ کہیں کوئی ورکر مرتا مرتا ہاتھ نہ پکڑ لے۔۔۔۔ افسوس ایسی لیڈر شپ پر جہاں ورکر اپنے پیسے خرچ کرکے آپ کا ساتھ دینا چاہے اور آپ کو سلفیوں سے فرصت نہ ملے۔۔۔ کاش آپ ان کی قدر جان سکتے۔  ایسے بے لوث کارکن اور ہمہ وقت سیلفیوں میں گم لیڈرشپ پا رٹی کے لئے ایک بڑا امتحان ہے۔

سلام پرویز خٹک اور ان تمام دوست کارکنوں کو کہ جنہوں نے رات بھر خوب مقابلہ کیا۔۔۔ اسد عمر صاحب کو رات گئے ۔۔ میسج بھی کیا کہ حکم کریں ۔۔ ہم ان بہادر کارکنوں کے لئے " آپ کی" طرف سے ناشتہ پہنچانا چاہتے ہیں۔۔ لیکن شاید وہ سو گئے تھے۔ برہان انٹر چینج پررات بھر لڑنے والے ۔۔۔ خیبر پختونخواہ کے بہادر اور سچے کارکنو۔۔۔ ساری زندگی شرمندہ رہوں گا۔۔ کہ ہم آگے بڑھ کر آپ کو پانی بھی نہ پلا سکے۔ اور نہ ہی ہمارا کوئی بھی مقامی لیڈر سیلفیوں سے فرصت پا سکا، ورنہ وہ ضرور پہنچتا۔ کیونکہ کیمرے تو بہرحال برہان انٹر چینج پر بھی لگے تھے۔

سو عمران خان کو گالی مت دیجئے۔ ایک نظر بلاول بھٹو کے ارد گرد کھڑے مشیران پر بھی ڈال لیجئے اوراپنے ستارے تو آپ کو ہر سیلفی میں نظر آ ہی جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اچھے اور محنتی کارکنوں کو خود سے اکٹھا ہونا ہو گا۔ ہمیں مل کر ان کو مالی تعاون بھی دینا ہوگا اور آگے بڑھنا ہو گا۔ ورنہ اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ جنگ جس کی ابتداء ہو چکی ہے، یہ ہاری نہیں جا سکتی۔ ایک احسان کیجئے گا اور وہ یہ کہ اپنی رائے ضرور دیں۔ کہیں جذبات میں سیلفی گروپ کے ساتھ زیادتی نہ ہو جائے۔

سیلفی گروپ سے پیشگی معذرت کے ساتھ دوست کارکنوں کےلئے ایک آخری بات، جودوست یوم تشکر کی تقریب میں جائیں، اگر ممکن ہو تو شہد پی کر پہنچیں۔ کیونکہ سیلفی گروپ سٹیج پرشاید شہد پی کر ، ایک تازہ دم گلدستے کی مانند موسیقی کی دلفریب دھنوں پر آپ کا پر تپاک استقبال کرے گا۔۔
والسلام
ایک ادنی کارکن۔ پاکستان تحریک انصاف


(نوٹ: ستمبر 2013 میں اسلام آباد کے سیکٹر ای11 میں شروع ہونے والی ٹیم سیکٹر ای11 آج اٹھارہ سو افراد پر مشتمل ہے۔ ہم اب تک 24کروڑ کے منصوبے شروع کروا چکے ہیں اور کمیونٹی اپنی مدد آپ کے تحت مقامی لینڈ مافیا سے بھی عدالتی جنگ لڑ رہی ہے۔)