کردستان کا پس منظر و پیش منظر(1)

سلطنت عثمانیہ کے دوران اور اس سے پہلے بھی کرد کمیونٹی کا اس خطے میں اہم کردار رہا ہے۔ تاریخ عالم کے ایک نامور سپہ سالار صلاح الدین ایوبی بھی ایک کرد تھے، جنہوں نے مغربی حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ کرد لوگ ایک جنگجو قوم کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ اسی وجہ سے برطانیہ اور فرانس نے ہر دور میں ان پر کڑی نظر رکھی ہے۔

یوں تو پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے انہدام کے نتیجے میں یہ پورا خطہ تقسیم ہو گیا تھا لیکن اس خطے کی جس کمیونٹی کے سب سے زیادہ خاندان تقسیم ہوئے ہیں وہ کرد کمیونٹی ہے۔ ترکی، شام، عراق اور ایران کی نئی سرحدیں قائم کرکے برطانیہ اور فرانس نے اس خطے کو جب آپس میں بانٹ لیا تو کرد کمیونٹی ان چار ملکوں میں تقسیم ہو گئی۔ جس کی وجہ سے کرد خاندانوں کا آپس میں ملنا جلنا مشکل ہو گیا ۔ کرد کمیونٹی آج ایک بار پھر اس خطے میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے لیکن آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ کرد ہیں کون اور یہ کہاں سے آئے؟

کرد ستان کے پس منظر کے بارے میں مختلف محققین نے مختلف کہانیاں بیان کی ہیں۔ کردوں پر پہلی کتاب ایک کرد مصنف آبو حنیفہ دنواری نے 847 میں شائع کی جس کا عنوان تھا انصاب الآخراد یعنی کردوں کی نسل۔ اس کتاب میں کردوں کو ایران کے شمال مغرب میں بسنے والے لوگ قرار دیا گیا۔ لفظ کرد اسلام سے پہلے بھی استعمال ہوتا رہا ہے ۔ اس کا مطلب خانہ بدوش بتایا جاتا ہے۔ شیریفکسن بدلس نے سوہلویں صدی میں دعوی کیا کہ کرد کمیونٹی چار قبائل پر مشتمل ہے جن کے نام اس نے کمرانی، لوہر، کلہور اور گوران بتائے ہیں۔ پول نامی ایک مصنف نے 2008 میں لوہر نسل کے بارے میں دعوی کیا کہ ان کا تعلق جنوب مغربی ایران سے تھا اور ان کی زبان بھی مختلف تھی۔ انیسویں صدی کے ایک سکالر جارج رولنسن کا دعوی ہے کہ لفظ کردستان آرمینین زبان سے نکلا ہے جبکہ یہودی تاریخ دان کردوں کا تعلق حضرت سلمان سے جوڑتے ہیں جنہوں نے اپنے ملازموں یا اس وقت کی زبان کے مطابق غلاموں کو اپنے حرم کے لیے یورپ سے پانچ سو خواتین لانے کے لیے روانہ کیا۔ اس دور میں یہ سفر طے کرنے کے لیے ایک طویل مدت درکار تھی لہذا یہ قافلہ جب پانچ سو خوبصورت خواتین لے کر اسرائیل پہنچا تو یہودی مصنفین کے مطابق حضرت سلمان وفات پا چکے تھے۔ نتیجتا غلاموں نے ان یہودی خواتین کے ساتھ خود شادیاں کرکے پہاڑوں میں بسیرا کیا۔ اس وجہ سے کردوں کو پہاڑی لوگ بھی کہا جاتا ہے۔

ایک کرد سیاسی رہنما نے میرے ساتھ  گفتگو میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کردوں کو پہاڑی لوگ کہا جاتا ہے۔ لیکن حضرت سلمان کے حرم کے لیے یورپ سے لائی جانے والی پانچ سو خواتین کے دعوی کی تحقیق ابھی باقی ہے۔ آج کی کردستانی زبان کا تعلق حضرت نوح علیہ سلام کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملک کردمی سے جوڑا جا رہا ہے۔ کرد زبان کا تعلق جہاں کہیں سے بھی ہو، آج اہم سوال یہ ہے کہ ترکی، شام، عراق اور ایران میں بسنے والے کردوں کے لیے کردستانی زبان پہلے سے بھی زیادہ کیوں اہمیت اختیار کر گئی ہے؟ کیا اس کی وجہ کرد نیشنل ازم ہے یا وقت کی ضرورت ہے؟ کردوں کا موقف ہے کہ یہ خطہ جب متحد تھا تو کردستانی زبان کی اہمیت اور ضرورت کم تھی۔ کیونکہ وہ سب عربی یا عثمانوی ترک زبان بولتے تھے۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب اس خطے کو مغربی اتحادیوں نے جبری طور پر تقسیم کرکے مصنوعی سرحدیں ٹھونس دیں تو شامی، ترک، عراقی اور ایرانی کرد خاندانوں اور ان کی اولاد کو مقامی زبانیں سیکھنا پڑیں۔

برطانیہ اور فرانس کے نکل جانے کے بعد بھی ترکی، شام، عراق اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہوسکے۔ اب تو کئی سالوں سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں جس کی وجہ سے ان چار ممالک میں بسنے والے کرد خاندانوں کا اپس میں ملنا جلنا مزید دشوار ہو گیا ہے ۔ اگر ملیں بھی تو وہ ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھ سکتے جس کی وجہ سے کردوں کے لیے اپنی زبان کی بحالی ناگزیر ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے کردستانی زبان کا مطالبہ قوم پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشرتی ضرورت کے تحت کیا جا رہا ہے۔

کردوں کی تیس ملین آبادی کی بڑی اکثریت ترکی میں آباد ہے۔ طیب اردگان کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکوں اور کردوں کے تعلقات میں کافی بہتری آ گئی تھی جس کی وجہ اردگان کی دانشمندانہ پالیسی کے ساتھ ساتھ کردوں کے اس اعلان کا بھی عمل دخل تھا کہ وہ ایک الگ ریاست نہیں بلکہ صرف اپنے سیاسی و معاشرتی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ترک حکومت نے کردوں کے کئی مطالبات تسلیم بھی کیے جس کی وجہ سے ترکوں اور کردوں کے درمیان بہت حد تک اعتماد قائم ہو گیا تھا۔ چار سال قبل جب میں دو ہفتوں کے لیے ترکی آیا تو ترک لوگ کردوں کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات پر جہاں خوش تھے۔ تاہم وہ اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے تھے کہ مشرق وسطی کی بگڑتی ہوئی صورت حال ترکی میں زیادہ دیر تک امن قائم نہیں رہنے دے گی۔ اس وجہ سے ترکی کی ترقی کا پہیہ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف مڑ جائے گا۔ ترک عوام کے یہ خدشات بالکل درست ثابت ہوئے ہیں۔ کسی ایک بھی پڑوسی ملک کے ساتھ ترکی کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور اس کی وجہ اس خطے میں امریکہ اور برطانیہ کا بڑھتا ہوا عمل دخل بتایا جاتا ہے۔

بد قسمتی سے ترکی کے اندرونی حالات بھی کافی خراب ہیں ۔ گو ترک عوام نے کمال جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت کو فوج کے ایک باغی گروپ کی طرف سے تختہ الٹنے کی کوشش سے بچا لیا ہے، لیکن تناؤ برقرار ہے۔ مستقبل قریب میں اس خطے سے امریکہ اور برطانیہ کے نکلنے کے کوئی آثارر نظر نہیں آ رہے۔ تین سال قبل جب میں یہاں آیا تو ترکی لیرے کی قیمت ترپن روپے تھی جبکہ آج گر کر ت33 روپے ہو گئی ہے۔ ترک حکومت اور کردوں کی پارلیمانی پارٹی ایچ ڈی پی کے درمیان تعلقات بھی دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ترک حکومت کا الزام ہے کہ ایچ ڈی پی کردوں کی عسکری تنظیم پی کے کے کی پشت پناہی کر رہی ہے جبکہ ایچ ڈی پی کہتی ہے کہ ترک حکومت کردوں کی جمہوری قوت میں اضافہ کو برداشت نہیں کر رہی۔

کردوں کی سابق پارلیمانی پارٹی کا نام پی ڈی پی تھا جو ایک ریجنل پارٹی تھی لیکن 2012 میں قائم ہونے والی ایچ ڈی پی جس کا مطلب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بنتا ہے،  اب ایک قومی پارٹی بن گئی ہے ۔ کرد شکوہ کرتے ہیں کہ ترک حکومت ان کی بڑھتی ہوئی جمہوری قوت کو برداشت نہیں کر رہی۔ حقائق جو بھی ہیں ہم دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالی اس اہم خطے میں امن بحال کرے تاکہ ترکی کی ترقی جاری رہ سکے۔ اور کئی دہائیوں سے منقسم خاندانوں کو آپس میں ملنے کا موقع نصیب ہو۔