ڈنمارک میں پاکستانیوں کےلیے دوہری شہریت

ڈنمارک میں پاکستانیوں کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت نے انہیں دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دینے کے لیے ٹھوس اقدام لیے ہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اب وہ وقت دور نہیں جب ڈینش شہریت رکھنے والے کم و بیش پچیس ہزار پاکستانی ڈینش شہریت کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی وطن پاکستان کی شہریت بھی رکھ سکیں گے ۔

ایک مجوزہ ضابطے کے تحت اس معاملے کو  حل کرنے کے لیے ایک سمری وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بھیجی گئی ہے اور اب یہ معاملہ ان کی میز پر ہے ۔  یہ معاملہ ایک عرصے سے وفاقی حکومت اور اس کی مختلف متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان لٹکا رہا تھا۔ تاہم ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر جناب مسرور احمد جونیجو کی  کوششوں سے اب اسے حل کرنے کے لیے تمام اقدامات لیے جا چکے ہیں۔  امید کی جا رہی ہے کہ ڈنمارک میں پاکستانیوں کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دے دی جائے گی اور ان کا یہ دیرینہ مطالبہ جلد پورا ہو جائے گا ۔

پاکستان کے کمشنر برائے ’’اوورسیز پاکستانیز‘‘ کے مشیر اعلیٰ حافظ احسان احمد کھوکھر نے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد اب اِس معاملے کو ایک طرح سے حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک ’’ سمری‘‘ تیار کی جا چکی ہے جو وزیر اعظم کی حمتی منظوری کے لیے انہیں روانہ کردی گئی ہے اور اُن کی منظوری کے بعد ڈنمارک وہ انیسواں ملک ہو جائے گا جہاں پر رہنے والے پاکستانی النسل افراد دوہری شہریت رکھ سکیں گے ۔ یعنی  وہ  ایک ساتھ پاکستانی و ڈینش پاسپورٹ رکھ سکیں گے ۔  فی الوقت پاکستان کا اٹھارہ ملکوں کے ساتھ دہری شہرت کا معاہدہ ہے ۔ ان میں آسڑیلیا، بحرین، بلجیئم، برطانیہ، کینیڈا، مصر، فن لینٖ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، اردون، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، شام،  سویڈن، سویٹزرلینڈ اور امریکہ شامل ہیں ۔

ڈنمارک میں پاکستانیوں کو دہری شہریت دیئے جانے کے حوالے سے پچھلے دنوں کوپن ہیگن میں پاکستان کے سفیر مسرور احمد جونیجو نے ایک مقامی ریڈیو ’’ ہموطن ‘‘ کو اپنے ایک مختصر انٹرویو کے دوران دوسری باتوں کے علاوہ  بتایا تھا کہ ڈنمارک میں پاکستانیوں کے لیے دوہری شہریت رکھنے کا ان کا دیرینہ مطالبہ جلد ہی پورا ہوگا۔  اس سلسلے میں انہوں نے اپنی طرف سے تمام ضروری اقدامات لیتے ہوئے جو سفارشات وزارت خارجہ  اور  وزارت داخلہ کو ارسال کی تھیں، ان پر یہ وازرتیں اور متعلقہ حکام غور کر رہے ہیں اور اب وہ وقت  دور نہیں جب ڈنمارک کے پاکستانی اپنے ڈینش پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی وطن پاکستان کا پاسپورٹ بھی رکھ سکیں گے یعنی وہ دونوں ملکوں کی شہریت رکھ سکیں گے ۔

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے اب اس معاملے پر ایک حتمی اور فیصلہ کن سمری‘ تیار کرکے منظوری کے لیے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو ارسال کردی ہے۔ وہ اس کی جلد ہی منظوری دے دیں گے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر جناب مسرور احمد جونیجو نے ڈینش شہریت رکھنے والے کم و بیش پچیس ہزار پاکستانیوں سے متعلق اس معاملے پر پاکستانی حکام سے جلد اقدامات کے لیے بہت زور ڈالا اوراب نتیجتاً وفاقی محتسب اعلیٰ  نے یہ معاملہ وزارت داخلہ کو پیش  کرتے ہوئے اسے فوری طور پر حل کرنے کی تاکید کی ۔ ڈینش حکومت نے پچھلے سال ایک قانون منظور کیا تھا جس میں ہر ایک ڈینش کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ جس ملک سے تعلق رکھتا ہے، وہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ وہاں کا قانون اسے یہ حق دیتا ہے ۔ اس طرح پاکستانی النسل ڈینش شہریت رکھنے والوں کو بھی یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ شریت یعنی اپنے آبائی وطن پاکستان کی شہریت بھی رکھ سکتے ہیں ۔  یہی وجہ تھی کہ وہ ڈینش شہریت کے ساتھ ساتھ  اپنی پاکستانی شہریت کی بحالی کے لیے زور دے رہے تھے جو کہ اب دور کی بات نہیں رہی اور اب انہیں دوہری شہریت مل جانے کے قوی آثار ہیں ۔

اسلام آباد میں کے مطابق، وزیر اعظم محمد نواز شریف کے معاون عملے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ڈنمارک میں پاکستانیوں کے لیے دوہری شہریت کے معاملہ کو وزیر اعظم بہت اہم سمجھتے ہیں۔ اب  تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں۔ ڈینش شہریت رکھنے والے پاکستانی النسل افراد کو عنقریب  یہ خوشخبری بھی سنا دی جائے گی کہ وہ ڈینش شہریت کے ساتھ  اپنے آبائی وطن پاکستان کی شہریت بھی رکھ سکتے ہیں ۔

( نصر ملک ‘اردوہمعصر ڈاٹ ڈی کے،  کے مدیر ہیں)