سیاست میں انتہا پسندی اور جھنجلاہٹ

  • تحریر
  • جمعہ 04 / نومبر / 2016
  • 4413

عالمی سیاست میں اس سال دو غیر متوقع واقعات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ برکسٹ Brexit یعنی یورپین یونین چھوڑنے کے غیر متوقع نتیجے نے عالمی سیاست اور مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دوسری طرف امریکی صدارت کے لیے ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے ایک غیر متوقع امیدوار دوڑ میں آیا اور پارٹی کے تمام جغادری سیاست دانوں کو روندتا ہوا نامزدگی لے اڑا۔ ری پبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا تمام تر نا پسند یدگی کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی کا راستہ نہ روک سکے۔ جسے اکثریت سنجیدہ لینے پر تیار نہ تھی، وہی بالآخر صدارت کا امیدوار ٹھہرا۔

ملکوں ملکوں ابتہائی دائیں بازو کی Far right جماعتوں کو ہلکا سمجھنے والوں کو خطرہ یک دم اپنے نزدیک لگا۔ ان سر پھرے نیشنسلٹ سیاست دانوں کو دنیا نے سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش شروع کر دی۔ برطانیہ کے نیگل فراج، فرانس کی لی پین، آسٹریا کے ہینز سٹراش سمی، ہالینڈ، جرمنی ، اٹلی، ڈنمارک، ہنگری سمیت ایسے نیشنلسٹ لیڈرز کے نام دیکھتے دیکھتے ہی یورپ اور دنیا میں زباں زد عام ہو گئے۔ انتہا پسند نیشنلسٹ سیاست نے روایتی سیاست کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ نہ صرف آج کے لیے بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی۔ برطانیہ کو اپنی جمہوریت پر بھی ناز ہے اور اپنے ووٹرز کی اجتماعی دانش پر بھی۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ووٹرز کے سامنے سادہ سا سوال رکھا ، یورپی یونین میں رہا جائے یا نکلا جائے۔ انتہائی مشکل اور جذباتی مہم کے باوجود میڈیا، مارکیٹوں اور حکومت کے ایوانوں میں سکون تھا کہ سبھی کو یونین میں رہنے کے نتیجے کا یقین تھا۔ لیکن نتیجہ سامنے آیا تو سب کو حیران کر گیا۔ برطانوی پاؤنڈ میں راتوں رات ریکارڈ کمی آئی۔ کل تک کے با اعتماد ماہرین اب ان دیکھے کل کی ہولناک تعبیر کرتے نہیں تھکتے۔ ڈیوڈ کیمرون کو گھر جاتے ہی بنی۔ اس غیر متوقع نتیجے نے یورپ اور دنیا کی سیاست کو بدل ڈالا۔

امریکہ میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت اس کا پراپرٹی بزنس بھی ہے اور اس کا چودہ سال تک جاری رہنے والا امریکہ میں مقبول ترین ریالٹی ٹی وی شو بھی ہے۔ پراپرٹی کی دنیا میں ٹرمپ کی شہرت ایک عیار اور شاطر بزنس میں کی رہی ہے۔ ٹی وی پر ایک ریالٹی شو میں مقابلے میں سبقت نہ لے جانے والے کو فارغ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص سٹائل میں کہتے، you are fired ۔ ان کا یہ فقرہ اور کہنے کا انداز ان کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ گیا۔ ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں ان کی بطور بزنس مین شہرت اور ایک سخت گیر منتظم کی حیثیت نے کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کے بزنس مین اور سخت گیر منتظم ہونے کی شہرت نے انہیں ابتدائی سبقت دلانے میں ضرور مدد کی لیکن اصل کمال ان کے غیر روایتی خیالات کا تھا۔ انہوں نے ترک وطن کرکے آنے والے تارکین وطن کو سفید فام عام امریکی کے معاشی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا۔ میکسیکو کے لاکھوں مہاجرین ان کا خصوصی ہدف رہے۔ انہوں نے اس کا ایک انوکھا حل تجویز کرکے سب کو چونکا دیا یعنی امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کا عزم۔ مسلمانوں کے بارے میں بھی ان کے خیالات انتہاپسندانہ رہے۔

گلوبلائزیشن نے روایتی اکونومی کو نا قابل تلافی زک پہنچائی ہے۔ امریکہ میں شہروں کے شہر ایک یا چند بڑی صنعتی کمپنیوں سے وابستہ رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے دھڑا دھڑ یہاں سے بڑے بڑے صنعتی یونٹ  بیرون ملک شفٹ ہوئے تو اپنے پیچھے بے روزگاری کا جنگل چھوڑ گئے۔ سیاہ فام اور ہسپانوی طبقوں میں بے روزگاری اور معاشی ابتری اپنی جگہ ، صنعتوں کی بڑے پیمانے پر بیرون ملک منتقلی نے سفید فام متوسط طبقے  کی بھلی چنگی زندگی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ کئی علاقوں میں تو سفید فام طبقے میں بے روزگاری ایک چوتھائی سے بھی زیادہ ہے اور اس کی طوالت مہینوں سے پھیل کر سالوں تک پہنچ چکی ہے ۔ ان مسائل کا حل سادہ نہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مسائل کے حل ویسے ہی تجویز کیے جو عام آدمی کی زبان پر تھے۔ میکسیکو سے آنے والوں نے ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے، ان سے جان چھڑاؤ۔ چین نے گلوبلائزیشن کی آڑ میں ملازمتیں بھی چھین لیں اور کاروبار بھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ چین سے دو دو ہاتھ کیے جائیں۔ اسلام سے امریکیوں کو خطرہ ہے۔۔۔ اور اسی طرح بہت کچھ ، بلکہ کئی ایک اخبارات اور ویب سائیٹس نے تو ان کے ایسے نادر فرمودات کو عوامی تفریح طبع کے لیے یکجا بھی کر دیا ہے۔

Brexit اور ڈونلڈ ٹرمپ کے انداز سیاست نے یورپ میں سلگتی ہوئی انتہا پسند نیشنلسٹ سیاست کو ہوا دی ہے۔ یورپی یونین کو اپنا وجود بچانے کے لیے نئے سرے سے سر جوڑنے پڑے۔ فرانس، جرمنی، آسٹریا، ہالینڈ سمیت کئی دیگر یورپی ممالک میں حالیہ سالوں میں نیشنلسٹ سیاست کا ووٹ بنک تیزی سے بڑھا ہے۔ اگلے سال میں ہونے والے جگہ جگہ کے انتخابات میں روایتی سیاست دان نیشنلسٹ سیاست کے خلاف سر توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن نا موافق زمینی حالات نے ان کے پاس زیادہ آپشنز نہیں چھوڑے۔ یورپ کے اکثر ممالک میں نوجوانوں میں بے روزگاری دہرے ہندسے میں ہے۔ اس پر یہ عذاب کہ مشرقی یورپ کے شہری بلا روک ٹوک قانون کے مطابق آ کر کم مشاہرے پر ملازمتیں پا رہے ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے ملازمتیں پہلے ہی کم تھیں لیکن اب مزید کم اور مشکل ہو گئی ہیں۔ یورپ میں انتہا پسند نیشنلسٹ سیاست دانوں کے مطابق ترک وطن کرکے آنے والے ملازمتوں پر قابض ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں سے ان کے کلچر اور سیکیورٹی کو خطرہ ہے۔ روایتی سیاست پاپولسٹ رائے مسلسل نظر انداز کرنے پر کمر بستہ ہے۔ مالدار طبقات اور ملٹی نیشنل کمپنیاں عوامی مفادات کا سودا کر رہے ہیں۔ اس بیانیے کا ایک دلفریب نعرہ ان مسائل کا یہ حل پیش کرتا ہے۔۔۔ اپنے بارڈرز کو واپس لو۔
امیگرینٹس کے خلاف اس رد عمل کے ساتھ ساتھ گلوبلائزیشن کے خلاف رد عمل بھی اس نیشنلسٹ سیاست اور اس کے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔ لیکن اب تک روایتی سیاست اور گلوبلائزیشن کے کلیدی علاقائی اور عالمی اداروں کے پاس اس بڑھتی ہوئی بے چینی کا کوئی تسلی بخش حل سامنے نہیں آسکا۔ مرکزی بنکوں، ورلڈ بنک، آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سمیت سبھی کی زنبیل سے بانجھ اور گھسے پٹے خیالات کے سوا کچھ بھی برآمد نہیں ہو پا رہا۔ اور شاید نکلے بھی نہ۔

پولینڈ نژاد برطانوی نوے سالہ دنیا کے ایک بہترین سوشیالوجسٹ پروفیسر زیگ مونٹ باؤمان سالہا سال سے سیاست اور معاشر وں میں تبدیلی کے مطالعے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق گلوبلائزیشن کے موجودہ ڈھانچے میں سیاست کے پاس لوگوں کی توقعات پورا کرنے کی صلاحیت میں بہت کمی آ چکی ہے لیکن سیاست دان یہ نئی حقیقت ماننے کو تیار ہیں اور نہ عوام۔ ان کے خیال میں سیاست کے دو بنیادی مقاصد ہیں ۔ اول ، عوامی فلاح کے لیے کون کون سے کام کیے جائیں؟ دوم ، یہ کام کیسے انجام دیے جائیں ؟ ان کے خیال میں سیاست کے ہاں پہلا مقصد تو قائم ہے لیکن دوسرے مقصد کے لیے درکار طاقت ماضی کی طرح دستیاب نہیں، کیونکہ ریاست کی طاقت کا بہت سا حصہ علاقائی اور عالمی ادارے اور معاہدے لے چکے۔

بقول پروفیسر باؤمان عمل درآمد کی طاقت کا غالب حصہ سیاست کے ہاتھ سے نکل چکا لیکن سیاست سے وابستہ توقعات وہیں کی وہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست دان وعدوں اور کوشش کے باوجود توقعات کے مطابق ڈیلیور نہیں کر پاتے جس سے عوام میں جھجھلاہٹ اور مایوسی جڑ پکڑ رہی ہے۔ یہی جھنجلاہٹ اور مایوسی نیشنلسٹ سیاست کو مظبوط کر رہی ہے لیکن اقتدار مل جانے کی صورت میں ان نیشنلسٹ سیاست دانوں کے پاس بھی ڈیلیور کرنے کی صلاحیت اتنی ہی محدود ہو گی جتنی روایتی سیاست دانوں کے پاس۔ روایتی سیاست کے علم برداروں ، میڈیا اور عالمی اداروں کی دہائی کے باوجود مایوس ہوتے عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد اب ان نئے چہروں کو ایک موقع دینے پر کمر بستہ ہے۔ نیگل فراج ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ، فلپائن کے صد ر روڈریگو ڈیو ٹیرٹ ہوں یا پاکستان کے عمران خان، وہ اس روایتی سیاست سے پیدا ہونے والی جھنجلاہٹ کا رد عمل ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں وہ سسٹم بدلنے کے خواہاں ہیں ۔ ایسے میں جلد بہتری کی امید کیا ہے؟ ہم ایسے امید پرستوں کی توقع کے برعکس کم از کم پروفیسر باؤمان تو زیادہ پر امید نہیں۔