ترکی میں سیکولرازم کا خاتمہ؟

پاکستان میں ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد عوامی، سیاسی اورصحافتی حلقوں میں لاتعداد سوال ابھررہے ہیں۔ یہ بغاوت اگرلاطینی امریکہ کے کسی ملک میں برپا ہوتی تویقینا یہ بحث اس قدردیکھنے کونہ ملتی۔ ترکی، پاکستان کا ایک ایسا دوست ہے جس سے دوستی کے رشتے ناتے قیام پاکستان کے بعد نہیں بلکہ قراردادِ لاہورسے قبل سے قائم ہوئے۔ خلافت تحریک کے دوران ، برصغیرکے لوگوں نے ترکی پرغیرملکی حملہ آوروں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی۔ اسی لیے ترکی کے مشکلات کے دن ہوں یا خوشی کے، دونوں ممالک کے غم اور خوشیاں سانجھی ہیں۔

تاہم ہمارے ہاں ترکی چند سالوں سے مزید اہم سیاسی موضوع بنتاجارہا ہے۔ اس حوالے سے لاتعداد سوالات بھی اٹھائے جارہے اورکئی جوابات بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔ زیادہ تر سیاسی اورصحافتی حلقوں میں یہ سمجھاجارہا ہے کہ ترکی نے اپنی اصل اساس سیکولرازم جو کہ جدید اورموجودہ ریاست کا بنیادی ستون ہے، گراکرنیا سیاسی نظام قائم کرلیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑاطبقہ یہ باورکروانے کی دِن رات تگ و دوکررہا ہے کہ سیکولرازم اوراتاترک اب قصۂ پارینہ ہے، خصوصاً جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے بعد، جوکہ سراسر غلط ہی نہیں بلکہ ایک طے شدہ پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

لہٰذامیں اس حوالے سے چند گزارشات اپنے پاکستانی بہن بھائیوں سے کرناچاہتا ہوں جوکہ تجزیہ کی بنیاد پرنہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پرہیں۔ پہلے تومیں واضح الفاظ میں یہ کہناچاہتا ہوں کہ ترکی میں سیکولرازم موضوعِ سیاست ہے ہی نہیں۔ یعنی سیکولرازم کارہنا یانہ رہنا، یہ تو ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ ہے جولوگوں کوجان بوجھ کرمعلوماتی حوالے سے گمراہ کرناچاہتا ہے اور اس طبقے کا تعلق اُن لوگوں سے ہے جن کے عقیدے پرچلنے والے لوگوں نے مشرقِ وسطیٰ کوفرقہ وارانہ بنیادوں پرتقسیم کرنے میں پچھلے چند سالوں میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ یہ طبقہ کسی طرح بھی ترکی یاترکوں کاخیرخواہ نہیں۔ ترکی کے موجودہ صدررجب طیب اردوآن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے منشورمیں لکھاہے کہ اُن کی پارٹی سیکولرازم پریقین رکھتی ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے منشور میں جس بات پر زور دیا گیا ہے، وہ حرف بہ حرف درج ذیل ہے:
"Our party constitutes a ground where the unity and the integrity of the Republic of Turkey, the secular, democratic, social State of law, and the processes of the civilianization, democratization, freedom of belief and equality of opportunity are considered essential."
اورانہوں نے یہ باربارکہا ہے کہ
"We are not an Islamic party and we refuse labels as Muslim-Democrats."

انہوں نے مصرمیں مرسی کے صدرمنتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مجھے فخر ہے کہ میں ایک سیکولرریاست کامسلمان وزیراعظم ہوں۔ ‘‘ نہ جانے ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ اپنی خواہشات کوترکی پرکیوں ٹھونسنے پر تلاہوا ہے۔ اورحیرانی اس بات کی کہ ہمارے ہاں اس طبقے نے یہ بھی باورکرانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی کہ ترکوں کے بانی قائد اب سیاسی طورپردفن کردئیے گئے ہیں۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ گھٹیا پن ہونہیں سکتا۔ افسوس کہ ہم اپنے دوست ملک کا تجزیہ کرتے ہوئے حقائق کوتوڑ مروڑ اور مسخ کررہے ہیں کہ اگر وہ ترکی میں ترجمہ ہوکرپہنچ جائیں تو یقینا ایسے لوگ ترکوں میں صرف ناپسندیدہ ہی نہیں بلکہ ان کے خلاف وہ قوانین کارروائی کرنے پرمجبورہوسکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں دوست ملک کاتجزیہ کرتے ہوئے اکثرخواہشات کے مارے تجزیہ نگارترکی کوفرقوں میں تقسیم کرکے ترک سماج میں باہم کشمکش کا نظارہ پیش کررہے ہیں کہ وہاں علویوں اورسنیوں کے مابین ایک نفرت کی خلیج ہے۔ ترکی میں ایساکوئی منظر نہیں اورنہ ہی ترک سماج انسانوں کو فرقوں میں تقسیم کرکے دیکھتا ہے، وہ پہلے ترک ہیں، اس کے بعد دیگر شناختیں۔ علوی اورسنی کی تقسیم ہمارے کالم نگاروں کی ذہنی اختراع اورامریکی سامراج اور برطانوی انٹیلی جینس MI5, MI6 کی منصوبہ بندی ہے۔ اور یہ اختراع کرنے والے اپنے آپ کویہاں بڑامسلمان مفکرہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جب کہ امریکی سامراج اسی فرقہ وارانہ سوچ کومشرقِ وسطیٰ میں عام کرکے اسلامی دنیا کے اس خطے کو کھنڈر میں بدلنے کے درپے ہے۔ اس حوالے سے ایسی صورتِ حال ترکی کی مکمل تباہی کے سواکچھ نہیں ہو سکتی۔

اورجولوگ ترکی میں اسلام وکفر کے مابین جنگ کا منظر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں ان کے وظائف کی ذمہ داری خطے کے ایک ملک کے ذمے ہے۔ ترکی میں نہ فوجی بغاوت سے پہلے کفروالحاد تھا، نہ سیکولرازم یاغیرسیکولرازم کے مابین لڑائی تھی اورنہ ہی بعد میں۔ حکمران جماعت AKP سے لے کر دیگرتینوں اپوزیشن جماعتوں اوراسمبلی سے باہرکسی ایک سیاسی جماعت کے مابین لڑائی تودرکناریہ موضوع ہی زیربحث نہیں۔ نہ جانے کہاں سے ہمارے غیرملکی وظیفہ خوار اس لڑائی اور کشمکش اوربحثوں کے کشکول اٹھالے آئے ہیں۔

ترکی میں فوجی بغاوت سے پہلے اوربعد میں ایک ہی موضوعِ سیاست ہے۔ وہ ہے قانون کی حکمرانی Rule Of Law۔ اس موضوع اور نکتے نے حکمران اوراپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر بعد ازناکام بغاوت مزید متحد کیا۔ ترکی میں نہ مذہب پر بحث ہے اورنہ ہی غیرمذہب۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ناکام بغاوت سے پہلے صدر طیب اردوآن ایک مذہبی گروہ جو فتح اللہ گلین کے حامیوں پرمشتمل ہے، اس کو نہ صرف غداربلکہ دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ اس کو ترک حکومت اور صدر طیب اردوآن FETO کہتے ہیں، یعنی Fethullah Gulen Terrorist Organization ۔ اگر وہاں کفراور اسلام کی جنگ ہے توپھرحکمران جماعت جو سیکولرازم جوکہ ریاست کابنیادی ستون ہے، پر کھڑی ہے اور غدار اور دہشت گرد قرار دئیے جانے والے ایک مسلمان مبلغ کے پیروکار۔ لیکن حقیقت بالکل ایسی ہے ہی نہیں۔ وہاں پر پچھلے چند سالوں میں قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ عوامی حاکمیت کا تصورِحکومت زیادہ مقبول ہوا ہے۔ اسی لیے جولائی 2016ء کی فوجی بغاوت کو جس طرح تمام سیاسی جماعتوں نے حکمران جماعت کے ساتھ مل کرمسترد کیا اسی طرح بغاوت کے بعد، حکومت کی طرف سے اور صدر طیب اردوآن کی طرف سے پورے ترکی میں ایک بینربھی یہ نہیں لگا کہ اسلام چھا گیا اور الحاد ہار گیا۔ تمام سرکاری اشتہارات میں شہیدوں کو شہیدانِ جمہوریت، ملت (ترک عوام) کی بالادستی اور ڈیموکریسی کے علاوہ کوئی ایک بینر اگرکوئی خواہشاتی تجزیہ نگار دکھادے تومیں سزاوار ہوں۔

فوجی بغاوت کے بعد عوامی حاکمیت کے سیاسی فلسفہ نے مزید تقویت پکڑی ہے۔ لوگ کسی عسکری اور مذہبی گروہ کو یکجہتی کے ساتھ مستردکررہے ہیں۔ بغاوت کے بعد صدر طیب اردوآن، اتاترک بانئ قوم کی تصاویر کے سائے میں کھڑے ہوکرخطاب کرتے ہیں۔ بلکہ کئی سالوں کے بعد بانئ قوم اتاترک کے اس قدر بڑے اور زیادہ تعداد میں بینر دیکھنے کو مل رہے ہیں ، جو حکومت کی سرپرستی میں لگائے جارہے ہیں۔ ترکی میں پچھلی تین دہائیوں سے دوہی اہم ترین موضوعات ہیں، ایک یہ کہ مضبوط معیشت اور زیادہ جمہوریت (More Democracy)۔ فوجی بغاوت کے بعد More Democracy کا تصور مزید زورپکڑگیا ہے۔ ترکی کی 93 سالہ تاریخ جمہوریت اوربانئ ریاست اتاترک کے افکار سے عبارت ہے۔ وہ لوگ جو خاندانی بادشاہت کے پیروکار ہیں، اُن کے نزدیک ترکی کو ایک ریپبلک اورجمہوریت قرار دیا جانا 93 سالوں سے کانٹے کی طرح کھٹکتاہے۔ ایک ایسی ریاست جولوگوں کو بنیادی آزادیاں اورتخلیق کاروں کو تخلیقی آزادیاں دینے پر یقین رکھتی ہے۔ تیل کی دولت کے بغیر ترقی کی حیران کردینے والی منازل، ترکی نے ترقی اور تخلیق کاری کا ایک شان دار قومی سفر کیا ہے۔ منطق ، دلیل اورروشن خیالی سے سائنسی بنیادوں پر سماج اورریاست کی ترقی۔