کتے اوربھوربن کی سیر
- تحریر منور علی شاہد
- ہفتہ 05 / نومبر / 2016
- 6563
سپریم کورٹ اس وقت ملکی اور غیر ملکی اداروں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ اس میں وقت چند انتہائی اہم نوعیت کے کیسوں کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ ان مقدمات میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین و عمائدین ملوث ہیں۔
یہ بات کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اگر ان مقدموں کا فیصلہ میرٹ پر ہوا اور نظریہ ضرورت آڑے نہ آیا تو پاکستان کا موجودہ سیاسی نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے مستقبل کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدموں میں سب سے اہم ترین کیس پانامہ لیکس کا ہے جس میں وزیراعظم پاکستان اور ان کی فیملی کی کرپشن بارے درخواستوں پر یکم نومبر سے کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ دوسرا کیس عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی سے متعلق ہے ۔ سوموار سے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ اس کی سماعت کرے گا۔ یہ درخواست مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے حلقے این اے110سیالکوٹ کے انتخابی تنازعہ کی سماعت آٹھ نومبر کو ہوگی۔ اس کا فیصلہ بھی دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ لیکن اس میں تاخیر سے خواجہ آصف کو فائدہ جب کہ دوسری پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ معاملہ کافی دیر سے زیر التوا ہے۔
ایک اور اہم ترین کیس میں سپریم کورٹ نے چند ماہ قبل وزیراعظم کے اس صوابدیدی اختیار کو کالعدم قرار دیا تھا جس میں موبائل فون پر ٹیکس میں اضافہ کے لئے وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار استعمال کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی لیکن کل جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نظر ثانی اپیل کو بھی مسترد کر دیا اور اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین میں وزیراعظم کی سولو فلائٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پارلیمانی طرز حکومت میں مالیاتی بلوں کی منظوری کابینہ سے لینا لازمی ہے۔ کابینہ وزیرعظم اور وفاقی وزیروں پر مشتمل ہوتی ہے اور اسی کو وفاقی حکومت کہا جائے گا۔ فیصلے وفاقی حکومت کرتی ہے کوئی ایک شخص نہیں۔ اس سے قبل جمعہ کو سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مضبوط حکومت کے لئے مضبوط وزیراعظم ہونا ضروری ہے فوری اور غیر معمولی نوعیت کے معاملات میں وزیراعظم کو خصوصی حثیت حاصل ہے۔ قواعد کے تحت وزیراعظم کے خصوصی اختیارات کے تحت ایس آر او جاری کرکے بعد میں منظوری لی جا سکتی ہے۔ سرکاری وکیل کا یہ بیان ان کے موکل کی ذہنی کیفیت اور سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ بالکل بادشاہوں والی سوچ ہے کہ حکمران کے منہ سے نکلنے والی ہر بات پر من و عن عمل ضروری ہے۔ اس سوچ سے کابینہ محض ایک ڈمی بن جاتی ہے۔
تین رکنی بنچ نے وفاقی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ قواعد آئین کی روح سے متصادم ہوں تو وہ کالعدم ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری وکیل کی دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تووزیراعظم کابینہ کی منظوری کے بغیر جو چاہے کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک اہم فیصلہ ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے سب صوابدیدی فیصلوں کو کالعدم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے جمہوری اصولوں کو پنپنے کا موقع ملے گا اور کابینہ اچھے فیصلے کرسکے گی۔ جس میں سب کی رائے شامل ہوگی ۔ خاص طور پر مالی معاملات میں تمام صوبائی اور وفاقی اداروں کے سربراہوں کے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ کرپش اور بے راہ روی کاآغاز ایسے ہی اختیار سے ہوتا ہے۔ کھیل کا میدان ہو یا کوئی اور حادثہ، وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کی طرف سے لاکھوں روپے کے فنڈز کا اعلان ایک غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقہ ہے۔ اس کی ادائیگی میں پھر نچلی سطح پر کرپشن ہوتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی بڑے مہذب ملک کو دیکھ لیں کہیں بھی ایسے صوابدیدی اختیارات نہیں نظر آئیں گے۔ سب کچھ وہاں قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں دولت کمانے اور ناجائز فوائد پہنچانے کے لئے نت نئے ذرائع اور طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان کے بیرون ممالک عیاشیوں کی داستانیں ایسے ہی اختیارات کا شاخسانہ ہیں۔ ایک قصہ یاد آیا جو اسی قسم کی کرپشن اور ناجائز سہولت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اس کو نام کچھ اور دیا جاتا ہے۔ ایک انکم ٹیکس آفیسرایک سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن پڑھتے پڑھتے چونک گیا۔ سیٹھ بھولا کے نام سے مشہور تھا۔ انکم ٹیکس ریٹرن پر لکھا تھا کہ کتوں کا کھانا 75000 روپے۔ تین دن مغز ماری کے بعد یہ پہلا نکتہ تھا جس پر سیٹھ کی چوری پکڑی گئی تھی۔ انکم ٹیکس آفیسرحیران تھا کہ انکم ٹیکس بچانے کے لئے لوگ کیسے کیسے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ اللہ معاف فرمائے۔ اب دیکھتا ہوں یہ کیسے قانون سے بچتا ہے۔ چنانچہ اگلے ہی دن اس نے سیٹھ کو دفتر طلب کر لیا۔ سیٹھ صاحب تشریف لائے تو انکم ٹیکس آفیسر نے ٹیکس کی اہمیت اور ملک و قوم کے لئے اس کی اہمیت بارے ایک طویل لیکچرجھاڑا۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کا پرسکون رویہ دیکھ کر آفیس کا پارا اور چڑھ گیا اور پھر کتوں کے کھانے بارے بتا کر اسے مزید شرمندہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
آخر کار افسر کے خاموش ہونے پر سیٹھ نے مسکرایا اور پھر بولا: صاحب آپ آفیسر ہو حکم کرو ہم کیا کرسکتے ہیں آپ کے لئے۔ آفیسر اس کی بات سن کر زیر لب مسکرایا کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے۔ چنانچہ انکم ٹیکس آفیسر نے کہا کہ سیٹھ جی، آپ ایک ذمہ دار انکم ٹیکس افسر کو رشوت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ “ارے نہیں صاحب“ سیٹھ نے جواب دیا میں نے کب کہا کہ میں رشوت دوں گا، میں نے آج تک زندگی میں رشوت نہیں دی۔ بلکہ کاروباری ڈیلز کی ہیں۔ آپ اسے ایک بزنس ڈیل سمجھ سکتے ہیں“۔ “وہ کیسے سیٹھ جی“، آفیسر نے پوچھا۔ سیٹھ ہولے سے مسکرائے اور کہا کہ “اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھابی اور بچوں کے لئے میری طرف سے بھوربن مری میں سیر، شاپنگ کا پیکج قبول فرمائیں۔ تمام خرچہ میرے ذمہ ہوگا اور اس عرصہ میں ایک گاڑی بھی ان کے استعمال میں رہے گی۔ جس کا انتظام بھی میں ہی کروں گا“۔
تھوڑی سی سوچ بچارکے بعد آفیسرنے پیکج کی منظوری دے دی اور سیٹھ جی کے جاتے ہی بیگم کو فون کیا اور اس ڈیل بارے بتایا۔ ایک سا ل کاوقت دیکھتے ہی دیکھتے گزر گیا اور آفسر بھی سیٹھ کو اور اس کی ڈیل کو بھول گیا۔ ایک دن پھر اسی سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن اس کے سامنے میز پر پڑی تھی۔ ایک صفحہ پر لکھا ہوا تھا: “کتوں کو بھوربن کی سیر کرائی۔ خرچہ ایک لاکھ روپے۔“