برق مسلمانوں پر ہی کیوں گرتی ہے
- تحریر محمد نواز جنجوعہ جامی
- ہفتہ 05 / نومبر / 2016
- 6501
رشوت ہمارے ملک میں ایك ناسور كی شكل اختیار كر چکی ہے۔ جس سے چھٹكارا ناگزیر ہو گیا ہے۔ رشوت پر قابو پانے كے لیے حكومت نے محكمہ انٹی كرپشن كے ساتھ ساتھ دیگر كئی محكمے بنا ركھے ہیں۔ سركاری و نیم سركاری اداروں میں رشوت عام ہے ۔ ہر چھوٹا بڑا سركاری افسر رشوت كی لعنت كو فرض اول سمجھتا ہے۔ حكومت كو میرا قیمتی مشورہ ہے كہ وہ ان محكموں كو بند ہی كر دے ، تب ہی سو فیصد رشوت ختم ہوگی۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ۔ مگر قابل غور بات ہے كہ اگر سب محكموں كو بند كر دیا جائے یعنی رشوت لینے والوں كو ختم كر دیا جائے تو بیچارے رشوت دینے والوں كا كیا بنے گا۔ كیونكہ ان كی تو عادت بن چكی ہے كہ رشوت دینی ہے۔
ہمارے محلے میں ایك چاچا رہتے ہیں۔ وہ سب كے چاچا ہیں۔ كوئی بھی ان كا نام نہیں جانتا۔ اب تو ایسے لگتا ہے كہ ان كا نام ہی چاچا ہے۔ یہ چاچا حضور چرس كے نشے میں سوئے رہتے ہیں۔ ان سے اگر كوئی سوال كرے كہ چاچا آپ چرس كیوں پیتے ہو تو وہ نیند سے بوجھل آنكھیں كھولنے كی ناكام كوشش كرتے ہوئے فرماتے ہیں، یار میں بھی اكثر سوچتا ہوں كہ میں چرس كیوں پیتا ہوں۔ ہماری بھی مثال ان چاچا كی سی ہے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں كہ ہم رشوت كیوں دیتے ہیں ۔ جائز یا ناجائز كام كے لیے دونوں صورتوں میں رشوت دینا سعادت سمجھتے ہیں اور بڑے فخر كے ساتھ اس كا چرچا بھی كرتے ہیں۔ ہم بغیر ذبح كیے مرغی كو تو حرام كہہ كر چھوڑ دیتے ہیں لیكن كسی یتیم نادار و بے كس كا حق مارتے ہوئے ذرہ برابر بھی خدا كا خوف نہیں كرتے۔
وہ ماں باپ جنہوں ںے اپنی ساری عمر كی جمع پونجی اپنے بیٹے كی پڑھائی پر نچھاور كی ہوتی ہے تاكہ ان كا بیٹا پڑھ لكھ كر بڑا آدمی بن سكے، ان كی امیدوں پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب ان كے بیٹے كا حق كوئی امیر آدمی اپنے نالائق بیٹے كے لیے رشوت دے كر چھین لیتا ہے۔ ان ماں باپ كے برسوں بہائے ہوئے پسینے كا حساب كون دے گا۔ ان كی برسوں كی مشقت ، كڑی آزمائش اور صبر كا حساب كون دے گا۔ ہم ووٹ اس شخص كو دیتے ہیں جو ہمارے بچوں كو ملازمت دلوا دے۔ علاقہ تھانے دار كو چائے پانی پوچھتے رہتے ہیں۔ تاكہ كل اس سے كام نكلوایا جا سكے ۔ ہم اپنے والد محترم كو سلام كرنے میں ججھک محسوس كرتے ہیں جبكہ ایك بڑے آدمی یا افسر كو جس سے ہمیں شاید ساری زندگی كوئی كام ہی نہ بڑے ادب كے ساتھ جھک كر سلام كرتے ہیں ۔
اقربا پروری بھی رشوت كے زمرے میں آتی ہے۔ ہم اجتماعی نہیں ذاتی سوچ ركھتے ہیں۔ ذاتی مفاد اور اپنے كنبے برادری كا مفاد ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہمیں اجتماعی سوچ اپنان پڑے گی۔ كنبے برادری سے نكل كر سوچنا ہوگا۔ ملكی مفاد كو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں اگرچہ یہ بہت مشكل كام ہے لیكن كہیں سے كسی كو تو آغاز كرنا پڑے گا۔ اس كے لیے ہمیں اخلاقی قدروں كو اجاگر كرنا ہو گا۔ جس كا جو حق ہے وہ حق اس سے مت چھینیے ۔ ماں باپ كا حق، بہن بھائی كا حق، رشتے داروں كا حق، اپنی جگہ مگر ایك سب سے بڑا حق ہے انسانیت كا بھی ہے۔ اس كو ادا كرنے كا عہد كرنا ہو گا۔ اپنی عزت كے ساتھ ساتھ دوسروں كو بھی عزت دینا ہو گی۔ كیوں آج ہمارے معاشرے میں كونسلر كی عزت ذیادہ ہے امام مسجد كی نہیں۔ كیوں کہ ہم اپنے سماجی معاشرتی مسائل امام مسجد یا نیک سیرت افراد كی بجائے كونسلر سے حل كرواتے ہیں۔ آج اساتذہ كی وہ عزت نہیں جو ہونی چاہیے كیوں کہ ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار بدل گیا ہے۔ عزت كا معیار پیسہ اور نمود و نمائش بن گیا ہے۔ شرافت اور انسانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ پیسہ كمانے كے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال كیا جا رہا ہے اور اس كے لیے تمام اخلاقی و انسانی قدروں كو پامال كیا جا رہا ہے۔ كہیں عزت بیچی جا رہی ہے كہیں خریدی جا رہی ہے۔ عزت بیچنے والے تو مجبور ہیں، خریداروں كو خریدنے كا شوق لاحق ہو گیا ہے۔ خواہشیں خریدی جا رہی ہیں ارمان بیچے جا رہے ہیں۔ بییچنے والے بھی ہمارے بھائی خریدنے والے بھی ہمارے بھائی۔ الزام كس كو دیں فریاد كس سے كریں۔
ایک ہزار یا اس سے بھی ذیادہ برقی قمقمے والی لڑی كو جب كرنٹ دیا جاتا ہے تو سب سے پہلے بٹن كے قریب والا بلب روشن ہوتا ہے پھر دوسرا اور اسی طرح چلتےچلتے سب سے بلندی والا یعنی آخری بلب روشن ہوتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے نچلی سطح كو ٹھیک كرنا ہے۔ نچلی سطح سے روشنی كی چمک حكمرانوں كی آنكھیں كھول دے گی۔ اگر حكمران پھر بھی اپنی آنكھیں نہ كھولیں تو یہی روشنی ان كو جلا كر راكھ بنا دینے كے لیے كافی ثابت ہو گی۔ سوچنے والی بات یہ ہے كہ یہ روشنی پھیلائے كون؟ اس كا جواب دینا تو انتہائی مشكل ہے لیكن ناممكن نہیں۔ یہ روشنی علم كی روشنی سے پھیل سكتی ہے۔ عام آدمی كی سوچ میں تبدیلی سے پھیل سكتی ہے۔ از راہ كرم میری اس بات سے كہیں یہ نہ سمجھ لیجیے گا كہ میں عام آدمی كو قصور وار سمجھتا ہوں جبکہ یہ بھی قصور وار نہیں ہیں۔ اس کے بعد ذہن میں جو پہلا خیال ابھرتا ہے وہ سسٹم كی خرابی كا ہے۔ كیا سسٹم كی خرابی ہے یا ہم سسٹم كو خراب كرتے ہیں۔ ہم بینک میں بجلی كا بل جمع كرواتے وقت لائن میں كھڑے ہونا گوارا نہیں كرتے اور جو كھڑے ہوتے ہیں وہ لائن توڑنے والوں سے احتجاج گوارا نہیں كرتے۔ كیا ہم ذیادتیاں سہنے كے عادی ہو چكے ہیں۔ اگر ہمارا جواب ہاں میں ہے تو پھر قصور وار بھی ہم خود ہی ہیں۔ ہم كیوں اپنا شناختی كارڈ بنواتے وقت رشوت كا سہارا لیتے ہیں۔ یعنی چھوٹے سے چھوٹا كام بھی رشوت یا سفارش سے كرواتے ہیں۔
ہمارے دین میں رشوت كو انتہائی نفرت كی نگاہ سے دیكھا گیا ہے اور اس كی بیخ كنی كے لیے سخت عذاب سے بھی ڈرایا گیا ہے۔ مگر افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ ہم پھر بھی رشوت خوری سے باز نہیں آتے۔ ہر كوئی جانتا ہے كہ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں گنہگار ہیں، پھر بھی ہم گناہ كیے جا رہے ہیں۔ تو پھر اس بات کا خدا سے شکوہ کیوں کہ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر۔