یہ دائمی بحران حل کیسے ہوگا

ہم بچپن سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ ہمارا ملک بحران سے گزر رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ نوید سنائی دیتی ہے کہ ہم جلد اس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ مگر بحران ہے کہ ہر دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ ایسا کیوں ہے؟  نہ تو ہماری کوئی حکومت آج تک اس بحران کو قابو کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی بیچارے عوام ۔ خیر عوام تو بحران کو شاید پہچانتے بھی نہیں۔

میں نے ایک بار بینظیر بھٹو مرحومہ سے اس بحران کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنی مجبوری کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ہمسائے میں ہیں۔ وہ جو بھی ٹینک یا اسلحہ خریدتے ہیں، ہماری  مجبوری ہے کہ  ہمیں بھی خریدنا پڑتا ہے۔  مجھے بات کی کچھ کچھ سمجھ آئی۔ لیکن پوری سمجھ ابھی تک نہیں آسکی کہ ہمارا اصل مسلہ کیا ہے۔  ہر نئی آنے والی حکومت (90 دن یا 3 سال والی نہیں ) یہی اعلان کرتی ہے کہ ہمیں ورثے میں تباہ حال ملک ملا ہے، خزانہ مکمل طور پر خالی ہے،  بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہمیں دیوالیہ کرنے ہی والے تھے۔ ملکی ادارے انحطاط کا شکار ہیں۔ پی آئی اے ، سٹیل ملز اور ریلوے کا خسارہ ملکی مجموعی پیداوار سے بھی بڑھنے کو ہے۔ بین الاقوامی برادری میں ہم بالکل تنہا کھڑے ہیں، بلکہ کٹہرے میں کھڑے ہیں  وغیرہ وغیرہ ۔

یہ تو شکر کریں کہ حکومت ہمیں ملی ہے اور اب ہم بہت جلد وطن عزیز کو ان تمام مسائل سے نجات دلا کر بحران پر قابو پا لیں گے۔ پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیں گے ۔ لیکن 5 سال کے لئے منتخب ہونے والی حکومت پہلے ہی مہینے اس بات کا ورد شروع کر دیتی ہے کہ ہم اپنے 5 سال ضرور پورا کریں گے اور تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ یہ سازشیں کون کر رہا ہے تو وہ بہت مشکل سے اگر کسی کا نام لے سکیں تو شیخ رشید کا نام لیتے ہیں اور بس اس سے آگے راستہ بند ہوتا ہے ۔  پھر بس باقی  وقت وہ ان سازشوں کا مقابلہ کرنے میں اور اپنی حکومت بچانے اور کچھ آئیندہ آنے والی زندگی اور انتخابات کے لئےبچانے میں جت جاتے ہیں ۔ لیکن آج تک کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ہمیں اس بحران میں دھکیلا کس نے تھا اور نکلنے کون نہیں دیتا۔

البتہ ہمارے مذہبی جماعتوں کے قائدین کبھی کبھی اغیار کی سازشوں کا ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہماری ریلوے (جسے برطانوی راج میں بچھایا گیا تھا ) اس کو تباہ کرنے میں جرمنی کا ہاتھ ہو،  جیسا کہ  ہماری قومی ائیر لائن کو اس حال میں پہچانے میں فرانس کا ہاتھ ہو، جیسا کہ ملک کے طول و عرض پر پھیلی دہشتگردی کا ذمہ دار چین ہو،  جیسا کہ اسرائیل کے ایجنٹ ہمارے بینکوں سے قرضے لےکر بھاگ گئے ہوں،  جیسا کہ ہماری ہر چیز میں ملاوٹ میں انڈیا ملوث رہا ہو،  جیسا کے ہمارے تعلیمی نظام کے ساتھ امریکہ نے ہاتھ کر دیا ہو وغیرہ وغیرہ ۔

لیکن یہاں بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ اغیار کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کی ذمہ داری کس کی تھی اور اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو سکا؟  کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے پاس دنیا کی نمبر ون ایجنسیز ہیں؟  تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟  کیا  سب قصور عوام کا ہے؟  حالانکہ عوام بیچاروں تک تو کوئی سچی بات پہنچ ہی نہیں سکتی اور اگر کوئی غلطی سے یہ کارنامہ سر انجام دے ہی دے تو وہ غفلت کا مرتکب قرار پاتا ہے ۔ عوام تو صرف نعرے لگانے میں ہی مصروف ہیں۔ کوئی نعرہ لگاتا ہے کہ شیدا ساڈا آوے ہی آوے اور دوسرے نعرہ بلند کرتے ہیں کہ تہاڈا شیدا جاوے ہی جاوے ۔ عوام بیچارے تو اس نعرے کے سحر سے بھی نکل نہیں پاتے۔ پھر اس بحران سے نکلنے کا طریقہ کہاں ہے؟  ایک طرف ہمارا ہر سیاستدان تمام مسائل کا حل اپنی جیب میں لئے پھرتا ہے تو دوسری طرف ہمارے پاس دنیا کی نمبر ون ایجنسیز اور عقل کل کی مالک اسٹیبلشمنٹ اور مشرق بعید اور انتہائی جنوب اور شمال کے دور دراز سے کوڑیاں لانے والے دانشوروں کی بہتات ہے۔  پھر بھی ہم بحران سے اپنی کشتی کو نکالنے کی صلاحیت سے محروم کیوں ہیں؟ 

مجھے اس بحران سے نکلنے کی ایک بار امید پیدا ہوئی تھی۔ 27 دسمبر 2009 میں پاکستان کے صدر آصف زرداری  نے بینظیربھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ بینظیر کے قاتل کون ہیں۔  تب میں نے سوچا تھا کہ بہت جلد ہم ان قاتلوں تک پہنچ جائیں گے اور ان کے تمام جرائم سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ کیوں کہ یہ وہیں قاتل ہیں جن کے پاس لیاقت علی خان کے قتل کا راز بھی ہے،  جو پاکستان کے دولخت ہونے کی وجوہات بھی جانتے ہیں، جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر سے بھی پردہ فاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ضیاء الحق کو کیسے ہوا میں معلق کیا گیا یہ بھی جانتے ہوں گے ۔ اگر وہ قاتل تب ہی گرفتار ہو جاتے تو پھر اسامہ کو بھی ہم خود ہی گرفتار کر سکتے تھے۔ اور اس کے مارے جانے کی ہزیمت سے بھی بچا جا سکتا تھا ۔

لیکن ۔۔۔ لیکن زرداری صاحب ایسے خاموش ہوئے  کہ اب تک وہ ان قاتلوں کا بھید اپنے دل میں ہی دبائے بیٹھے ہیں ۔ تو پھر میں کس سے پوچھوں کہ ہم اس بحران سے کب تک نکل جائیں گے ؟ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب تک ہم اس بحران سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوتے اس وقت تک ہمارا میڈیا اور ہمارے سیاستدان اصل ایشوز اور مسائل کے بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ ہمیں انتہائی غیر ضروری معاملات میں الجھائے رکھیں گے ۔ کیوں کہ مجھے علم ہے کہ قوموں کے کردار میں میڈیا کا رول بنیادی ہوتا ہے۔ قوموں کی تقدیر سنوارنا لیڈروں کا کام ہوتا ہے۔